Express Urdu News

Express Urdu News Express Urdu live News
updates
(1)

02/09/2025

Welcome

Assalamualaikum everyone 🌟👈
11/04/2025

Assalamualaikum everyone 🌟👈

ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ پرینیتی چوپڑہ کا شادی کا کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔بالی وڈ اداکارہ پرینیتی چوپڑا اور  عام ا...
07/09/2023

ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ پرینیتی چوپڑہ کا شادی کا کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

بالی وڈ اداکارہ پرینیتی چوپڑا اور عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی راگھو چڈھا کی شادی کا کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔

پرینیتی چوپڑہ کے دلہا اور عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ راگھو چڈھا کے خاندان کی جانب سے جاری ریسپشن کے کارڈ کے مطابق شادی کا ریسپشن 30 ستمبر کو چندی گڑھ کے 5 اسٹار ہوٹل میں ہوگا۔

مزید پڑھیں: پرینیتی چوپڑا کی شادی کی تاریخ کنفرم، رسمیں 23 ستمبر سے شروع ہوں گی

جوڑے کی شادی کی تقریبات 23 اور24 ستمبر کو راجستھان کے شہر ادے پور میں ہوں گی۔ پرینیٹی چوپڑہ اور راگھو چڈھا کی شادی میں بھارت کے مشہور سیاستدانوں سمیت بالی ووڈ انڈسٹری کے متعدد اسٹارز کوبھی مدعو کیا گیا ہے۔

The post پرینیتی چوپڑا کی شادی کا کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل appeared first on ایکسپریس اردو.

شادی میں سیاستدانوں اور بالی ووڈ اسٹارز کو مدعو کیا گیا ہے

ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر اور بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سربراہ جے شاہ کو سابق چیف سلیکٹر اور کپتان شا...
07/09/2023

ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر اور بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سربراہ جے شاہ کو سابق چیف سلیکٹر اور کپتان شاہد آفریدی نے کرارا جواب دیدیا۔

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر (ایکس) پر ٹوئٹ کرتے ہوئے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر جے شاہ کو پاکستان میں سیکیورٹی کے حوالے سے دیئے گئے بیان کے جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ‘جے شاہ کا پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال سے متعلق بیان دیکھا تو ان کی یادداشت تازہ کرنے کے لیے بتا دوں کہ پاکستان نے گزشتہ 6 سال میں کئی غیر ملکی ٹیموں اور کھلاڑیوں کی میزبانی کی ہے’۔

شاہد آفریدی پوسٹ میں بتایا ہے کہ 2017 سے 2023 کے دوران کون کون سی بین الاقوامی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کرچکی ہیں۔

I came across Mr ’s statement about security situation in Pakistan. Just to refresh his memory, Pakistan has hosted the following foreign players/teams in the past six years:

2017 – ICC World XI & SL
2018 – WI
2019 – WI (W), BD (W) & SL
2020 – BD, PSL, MCC & Zim
2021 –…

— Shahid Afridi () September 6, 2023

ٹوئٹ کے اختتام پر شاہد آفریدی نے جے شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ‘مسٹر شاہ کوئی شک نہیں کہ پاکستان 2025 کی چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کی میزبانی کیلئے بھی تیار ہے’۔

قبل ازیں گزشتہ روز جے شاہ نے ایشیاکپ کے میچز پاکستان میں نہ کروانے پر بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ براڈ کاسٹرز، میڈیا رائنٹس ہولڈرز پاکستان میں ایشیاکپ کے تمام میچز کروانے سے ہچکچارہے تھے جبکہ سیکیورٹی مسائل اور معاشی حالات بھی انکی بڑی وجہ تھی۔

مزید پڑھیں: ایشیاکپ؛ تمام میچز پاکستان میں کیوں نہیں کروائے گئے، جے شاہ کا بیان سامنے آگیا

انہوں نے اپنی ای میل کے ذریعے کہا تھا کہ بطور اے سی سی صدر کی حیثیت سے میں ٹورنامنٹ کروانے کیلئے پرعزم تھا، اس لیے سری لنکا کو مشترکہ میزبان بنایا اور ہائبرڈ ماڈل کے تحت پاکستان میں بھی کروائے گئے۔

مزید پڑھیں: ایشیاکپ کے معاملے پر ایشین کرکٹ کونسل اور پی سی بی میں سرد جنگ شروع

دوسری جانب ایشیاکپ کے میچز کیلئے میزبان پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو بتائے بغیر پہلے کولمبو سے ہمبنٹوٹا اور بعدازاں دوبارہ کولمبو میں ہی کروانے کا فیصلہ کیا گیا جس پر پاکستان نے تشویش کا اظہار کیا اور احتجاج ریکارڈ کروایا۔

مزید پڑھیں: ’ہمیں بادشاہوں کی طرح رکھا گیا‘ راجر بنی بھی پاکستانی مہمان نوازی پر بول اُٹھے

واضح رہے کہ ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ جے شاہ ایشیاکپ کے متنازعہ شیڈول کے سبب تنقید کی زد میں ہیں کیونکہ کولمبو اور کینڈی میں بارشوں کے باعث پاک بھارت میچز متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ایشیاکپ میں پاک بھارت ٹیمیں 10 سمتبر کو ایک مرتبہ پھر سپر فور مرحلے میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں گی۔

The post ایشیاکپ؛ شاہد آفریدی نے ’جے شاہ‘ کو کرارا جواب دے ڈالا appeared first on ایکسپریس اردو.

2017 سے 2023 میں کتنی غیر ملکی ٹیموں نے پاکستان دورہ کیا، شیڈول بتادیا

کراچی:  کراچی میں چینی کی قیمتوں میں کمی آنے لگی ہے، بدھ کو کراچی کی تھوک مارکیٹ جوڑیا بازار میں فی 50 کلوگرام چینی کی ...
07/09/2023

کراچی: کراچی میں چینی کی قیمتوں میں کمی آنے لگی ہے، بدھ کو کراچی کی تھوک مارکیٹ جوڑیا بازار میں فی 50 کلوگرام چینی کی قیمت 8750 روپے سے گھٹ کر8600 روپے کی سطح پر آگئی ۔

جس سے فی کلوگرام چینی کی قیمت 3 روپے کمی سے 172روپے پر فروخت کی جارہی ہے جبکہ چینی کی ایکس مل قیمت بھی بشمول ٹرانسپورٹ لاگت کے گھٹ کر 170روپے وصول کی جارہی ہے لیکن دلچسپ امر یہ ہے خوردہ سطح پر فی کلوگرام چینی 180 سے 190 روپے میں فروخت کی جارہی ہے، جس کی قیمت میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔

جوڑیا بازار میں چینی کے ایک ہول سیلر شفقت محمود نے بتایا کہ سپہ سالار کی مہنگائی پر کنٹرول کے اقدامات اور معیشت سدھارنے کے لیے میدان میں آنے سے چینی کی قیمتوں میں کمی کا رحجان پیدا ہوگیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ چند ہفتوں سے چینی کی قیمتوں میں یومیہ بنیادوں پر اضافے کی وجہ سے اسکی فروخت میں بھی واضح کمی آگئی ہے لہذا یہ عوامل بھی چینی کی قیمتوں میں کمی کا باعث ہیں، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند ماہ قبل 90 سے 100روپے کلو میں فروخت ہونے والی چینی کی قیمت دْگنی ہوچکی ہے۔

The post کراچی میں چینی کی قیمتوں میں کمی آنے لگی، 172روپے میں دستیاب appeared first on ایکسپریس اردو.

جوڑیا بازار میں فی 50 کلوگرام قیمت 8750 روپے سے گھٹ کر 8600 روپے ہوگئی

کراچی: بینک دولت پاکستان نے ایکسچینج کمپنیوں کے شعبے میں بنیادی اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔زرِ مبادلہ کا کاروب...
07/09/2023

کراچی: بینک دولت پاکستان نے ایکسچینج کمپنیوں کے شعبے میں بنیادی اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

زرِ مبادلہ کا کاروبار کرنے والے صف اول کے بینک عوام کی جائز ضروریات پوری کرنے کیلیے ایکسچینج کمپنیاں بنا سکیں گے۔

موجودہ ایکسچینج کمپنیوں اور ان کی فرنچائز شاخوں کو یکجا کرکے ایکسچینج کمپنیوں کے واحد زمرے میں تبدیل کردیا جائے گا۔جس کا مقررہ دائرہ کار ہوگا۔ مزید براں ایکسچینج کمپنیوں کیلیے کم از کم سرمائے کی شرط 200 ملین روپے سے بڑھا کر 500 ملین روپے کردی گئی ہے۔ ’بی‘ زمرے کی ایکسچینج کمپنیوں (ای سی بی) اور ایکسچینج کمپنیوں کی فرنچائز شاخوں کو مکمل ایکسچینج کمپنیوں میں تبدیل ہونے کیلئے درج ذیل پیشکش کی گئی ہے۔

زمرہ ’ب‘ کی ایکس چینج کمپنیاں تین ماہ میں تقاضے پورے کرنے کے بعد ایکس چینج کمپنی کی حیثیت حاصل کرسکتی ہیںورنہ لائسنس منسوخ کردیے جائیں گے۔فرنچائز شاخیں تین ماہ میں قواعد وضوابط پورے کرنے کے بعددوسری کمپنی میں ضم ہو سکتی ہیں یا پھر اپنا کاروبار متعلقہ فرنچائز کو بیچ سکتی ہیں۔

اس کیلیے زمرہ ’ب‘ کی ایکس چینج کمپنیاں اور ایکسچینج کمپنیوں کی فرنچائز شاخیں تبدیلی کا منصوبہ جمع کرائیں گی اور ایک ماہ میں سٹیٹ بینک سے اجازت نامہ حاصل کریں گی۔



The post بینکوں کو ایکسچینج کمپنیاں بنانے کی اجازت، سرمائے کی شرط50 کروڑ کر دی appeared first on ایکسپریس اردو.

ایکسچینج کمپنیوں اور انکی فرنچائز شاخوں کو یکجا کرکے ایکسچینج کمپنیوں کے واحد زمرے میں تبدیل کردیا جائے گا

صحت مند زندگی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کے ساتھ ہی یہ ایک بڑی امانت بھی ہے۔ اس بات کا تعلق جب بچوں کی صحت سے ہو تو اسکی ا...
07/09/2023

صحت مند زندگی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کے ساتھ ہی یہ ایک بڑی امانت بھی ہے۔ اس بات کا تعلق جب بچوں کی صحت سے ہو تو اسکی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیوں کہ بچوں کی صحت کے معاملات، غذائیت، نشوونما کے معاملات مکمل طور پہ ان کے والدین پر منحصر ہوتے ہیں۔

لہٰذا والدین کو غذائیت کے ساتھ بنیادی صحت کے اصولوں پر بھی مکمل اور درست راہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے تا کہ وہ اس ذمہ داری کو بہترین طریقے سے ادا کرکے مستقبل کیلئے ایک جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پہ صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ حفظان صحت کے بنیادی اصولوں کی فہرست اور مختصر تفصیل ذیل میں بیان کی جارہی ہے۔

ماں کا دودھ، ایک مکمل غذا

پیدائش سے لے کر چھ ماہ کی عمر تک ماں کا دودھ بچے کی مکمل جسمانی اور ذہنی نشوونما کیلئے اشد ضروری ہے، اس دوران کسی بھی قسم کی دیگر خوراک، حتی کہ پانی کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔

تحقیقات اور تجربات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ وہ بچے جن کو ماں کا دودھ ملتا ہے وہ ایک صحت مند زندگی گزارتے ہیں، ماں کا دودھ غذا کی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں بیشتر اقسام کے جراثیم، انفیکشن اور بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ جب کہ وہ بچے جو باہر کے کھلے دودھ یا فارمولا فیڈ پہ پلتے ہیں ان میں الرجیز، کان کے انفیکشن، موشن، سینے کے انفیکشن زیادہ ہوتے ہیں۔

نرم اور ٹھوس غذا کا آغاز

چھ ماہ کی عمر کے بعد اب دودھ کے ساتھ نرم غذائیں شروع کرنا ضروری ہوتا ہے، شروع کرنے سے پہلے یہ نشانیاں دیکھ لیں کہ بچہ نرم غذا لینے کیلئے تیار ہے یا نہیں۔ اس میں بچے کا پیٹ نہ بھرنا اور بار بار بھوک کی وجہ سے رونا، آس پاس موجود لوگوں کو کھانا کھاتے دیکھ کر منہ کھولنا اور ہاتھ بڑھانا شامل ہوتا ہے۔

بچوں کو ٹھوس غذا دینے کے لیے چاول کی کھیر، ساگو دانہ، ابلے ہوئے آلو کھلانے سے آغاز کرنا چاہیئے۔ جب تک بچے کا ذائقہ اس حساب سے بن جائے اور ٹھیک سے ہضم کرنے کے قابل ہو تو پھر دوسری چیزیں شامل کرنی چاہئیں۔

اس حساب سے ایک اندازے کے مطابق بچے کی غذائی ضرورت چھ سے نو ماہ کے عرصے میں 70 فیصد ماں کے دودھ سے اور 30 فیصد نرم غذا سے اور نو سے بارہ ماہ میں 50 فیصد ماں کے دودھ اور 50 فیصد نرم غذا سے اور ایک سے دو سال کی عمر میں 75 فیصد گھر میں پکے ہوئے ہر قسم کے کھانے اور 25 فیصد ماں کے دودھ سے غذائی ضرورت پوری کرنا ضروری ہے۔

جنک فوڈز

جنک فوڈ، ہر قسم کے بازاری کھانے، پیکڈ فوڈز کے ذریعے بطورِ خاص بچوں کے استحالے(میٹابولزم) میں منفی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ کیونکہ اس میں مضر چکنائیاں، مصنوعی مٹھاس اور دیگر مضر صحت اجزاء شامل ہوتے ہیں۔

ان کے استعمال سے نہ صرف بچوں میں وزن ان کی عمر سے زیادہ بڑھ جاتا ہے بلکہ انکے اندر سستی، دماغی کمزوری اور دیگر بیماریاں بھی ہوسکتی ہیں۔ اس لیے ہر ممکن کوشش کریں کہ بڑھتی عمر میں ان چیزوں سے بچوں کو دور رکھا جائے۔

حفاظتی ٹیکوں کا استعمال

بچوں میں پیدائش سے لے کر پندرہ ماہ کی عمر تک حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کروائیں۔ اس سے بچے مختلف قسم کی جان لیوا بیماریوں سے بچ سکتے ہیں، اور بچوں کو ان بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ البتہ کسی مسئلے یا بیماری کی صورت میں، یا کسی ٹیکے سے ری ایکشن کی صورت میں فوری اپنی قریبی ڈاکٹر سے مدد لینا لازمی ہوگا۔

عمر کے لحاظ سے بچوں کی نشوونما

عمر کے لحاظ سے بچوں کی عام نشوونما کے سنگ میل (Developmental Mile Stones) ہوتے ہیں۔ جن میں عمر کے لحاظ سے ان کا چلنا، پھرنا، بات کرنا، اور مہارت والے کام کرنا شامل ہوتا ہے۔ اس حساب سے اگر بچہ اپنی عمر کے دیگر بچوں سے پیچھے لگے، یا مخصوص عمر تک بیٹھنا یا بات کرنا نہ شروع کرے، تو بروقت بچوں کے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا اور معائنہ کروانا لازمی ہے۔

بچوں کی صفائی کا خیال

بچوں کی صفائی ستھرائی کا خیال انہیں بہت سے جراثیم اور وائرس سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب بچہ پیٹ یا گٹھنوں کے بل چلنے لگے تو دھیان رہے کہ فرش مکمل طور پہ صاف ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ بچے کے بستر کو صاف رکھنا، روز کپڑے تبدیل کروانا، نہلانا،کمرے کی صفائی رکھنا بھی ضروری ہے۔

جب بچے تھوڑے بڑے ہوجائیں تو ان کو جسمانی صفائی و صحت کا خیال رکھنے کی تربیت دینا بھی ضروری ہے۔ گھر میں داخل ہوتے ہوئے، کھانا کھانے سے پہلے، بیت الخلاء سے باہر نکل کر ہاتھ دھونے کی عادت ڈالیں۔ گھر کے اندر کوڑا کرکٹ جمع کرنے سے گریز کیا جائے بلکہ اسے باقاعدگی سے نکالا جائے۔ گھر ہوا دار ہو اور سورج کی روشنی بھی آتی ہو تو اس سے بھی صحت پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

بچے کی ذہنی اور جذباتی صحت

بچے کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ اس بات کا خیال رکھنا بھی انتہائی اہم ہے کہ وہ ذہنی و جذباتی طور پہ بھی صحت مند زندگی گزارے۔ بچوں سے بات چیت کرتے رہنا، دوستانہ رویہ رکھنا، گھر کے لڑائی جھگڑوں سے بچانا ضروری ہے۔ وقتاً فوقتاً ان سے ان کے مسائل، معاملات پہ دوستوں پہ بات کرتے رہیں۔ یاد رہے کہ والدین کے باہمی جھگڑوں کا بچوں پہ شدید اثر ہوتا ہے۔

بچوں کیساتھ امتیازی سلوک کرنا یا کم تر ہونے کا احساس دلانا، تضحیک کرنا، ان کی شخصیت کو مسخ کردیتا ہے۔ ایسے بچے بڑے ہوکر بھی بکھری شخصیت کے حامل ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر سے بروقت رہنمائی

ہر قسم کے مسئلے، بیماری، الجھن کی صورت میں ڈاکٹر سے بروقت راہنمائی حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ خود سے دوائیوں کا استعمال کرنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، نیز غیر ضروری دوائیوں کے استعمال سے مزید مضر صحت اثرات بھی واقع ہوسکتے ہیں۔ یہ وہ چند بنیادی باتیں ہیں جن کا جاننا، سمجھنا اور ان پہ بروقت عمل کرنا بچوں کی نشوونما کیلئے ضروری ہے اور آپ اسطرح اپنے بچے کی ہر طرح کی نشوونما میں بہتر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

(ڈاکٹر ہدیٰ ظہیر، سول ہسپتال سکھر میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ آپ پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کی رکن ہیں)

The post بچوں کی صحت کیسے یقینی بنائیں؟ appeared first on ایکسپریس اردو.

اچھی نشوونما کے بنیادی اصولوں سے آگاہی ضروری ہے

انسان کے جسم میں اربوں ننھے منے حیوان… جراثیم، وائرس، فنگی، پروٹوزا وغیرہ پائے جاتے ہیں۔ سائنسی اصطلاح میں یہ ’’خرد نامی...
07/09/2023

انسان کے جسم میں اربوں ننھے منے حیوان… جراثیم، وائرس، فنگی، پروٹوزا وغیرہ پائے جاتے ہیں۔ سائنسی اصطلاح میں یہ ’’خرد نامیات ‘‘(Microorganism)کہلاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی تعداد ہمارے خلیوں جتنی ہے۔ جدید سائنس ان ننھے جانداروں کو ایک عضو‘‘(organ)قرار دے چکی۔ وجہ یہی کہ یہ خرد نامیات خصوصاً انسان دوست جراثیم ہماری جسمانی و ذہنی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مثال کے طور پہ جب کوئی صحت دشمن جرثومہ یا وائرس انسانی جسم میں داخل ہو جائے تو یہی ننھے جاندار پہلے پہل اسے مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دورا ن وہ ہمارے مدافعتی نظام کے خلیوں کو بھی ہوشیار خبردار کر دیتے ہیں۔

یوں خلیے حملہ آور کو مارنے دوڑ پڑتے ہیں۔ یہ جاندار کھائی گئی غذا ہضم کرنے میں ہماری بھرپور مدد کرتے ہیں۔ یہ ایک اہم فعل ہے کیونکہ اسی کے ذریعے انسانی خلیے توانائی، وٹامن، معدنیات اور دیگر غذائیات (Nutrients) پاتے اور خود کو کام کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

انسانی بدن میں نظام ہاضمہ (حلق کی نالی، معدہ اور آنتیں)، منہ، جلد، اعضائے تناسل اور پھیپھڑے انسان دوست جراثیم کی آماج گاہیں ہیں۔ ان میں اہم ترین نظام ہاضمہ اور منہ ہیں جہاں جراثیم کی دس ہزار سے زائد اقسام کے اربوں ارکان پائے جاتے ہیں۔ یہ سبھی غذا ہضم کرنے میں اپنی ذمے داری انجام دیتے اور یوں انسان کو تندرست وتوانا رکھتے ہیں۔

ماہرین کی رو سے انسانی جسم میں پائے جانے والے 99 فیصد جراثیم ہمارے دوست ہیں۔ یعنی وہ طبی طور پہ انسانوں کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ جبکہ 1 فیصد جراثیم انسان کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کر سکتے ہیں۔

ناقص غذا، خراب طرز ِزندگی، دھوئیں سے پُر فضا اور بعض دیگر منفی عوامل انسانی بدن میں صحت دشمن جراثیم کی تعداد بڑھا دیتے ہیں۔ اس باعث انسان زیادہ آسانی سے ان کی پیدا کردہ بیماریوں کا نشانہ بننے لگتا ہے۔

سائنسی تحقیق وتجربات سے دریافت ہوا ہے کہ جراثیم کی تخلیق کردہ بیماریوں کا قلع قمع کرنے والی مخصوص ادویہ … اینٹی بائیوٹکس بھی انسان دوست جراثیم کے لیے نقصان دہ ہیں۔ وجہ یہ کہ یہ ادویہ اچھے اور بُرے جراثیم کے درمیان تمیز نہیں کرتیں اور جب کھائی جائیں تو سبھی کا صفایا کر ڈالتی ہیں۔

انسان پچھلی ایک صدی سے اینٹی بائیوٹکس ادویہ استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی مدد سے کروڑوں انسانوں کی جانیں بچائی جا چکیں۔ یہ ادویہ مگر دو نمایاں منفی اثرات بھی رکھتی ہیں۔ اول یہی کہ وہ نظام ہاضمہ میں داخل ہو کر وہاں بستے انسان دوست جراثیم بھی مار دیتی ہیں۔ دوم یہ کہ وہ بچ جانے والے صحت دشمن جراثیم کی اولاد میں مدافعت پیدا کر دیتی ہیں۔

مطلب یہ کہ جراثیم کی اولاد قدرتی ارتقائی عمل سے گذر کر اپنے اندر ایسے جین پیدا کر لیتی ہے جنھیں اینٹی بائیوٹک دوا مار نہیں پاتی۔ یوں وہ دوا بے اثر ہو کر ان کے خلاف ناکارہ ہو جاتی ہے۔

گویا یہ بڑی ستم ظریفی کی بات ہے کہ جو اینٹی بائیوٹکس ادویہ ہر سال لاکھوں انسانوں کی قیمتی زندگیاں بچاتی ہیں، وہی اب نظام ہاضمہ کے باسی انسان دوست جراثیم کو مار کر کروڑوں انسانوں کی صحت خراب کر رہی ہیں۔یہ عجوبہ جنم لینے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں لوگ اینٹی بائیوٹکس ادویہ پہلے کی نسبت زیادہ استعمال کرنے لگے ہیں۔

پاکستان ہی کو دیکھ لیجیے۔ ہمارے ملک کے گلی کوچوں میں کھلے میڈیکل اسٹوروں میں اینٹی بائیوٹکس ادویہ عام دستیاب ہیں۔ ہر کوئی انھیں آسانی سے خرید لیتا ہے۔ آسانی سے میسّر آ جانے کے باعث ہی طبعیت ذرا سی خراب ہو تو اینٹی بائیوٹک دوا کھا لی جاتی ہے۔

اس چلن کی وجہ سے کئی اینٹی بائیوٹکس بیکار ہو چکیں کیونکہ زیادہ استعمال کے باعث صحت دشمن جراثیم میں ان کے خلاف مدافعت نے جنم لے لیا۔ لہٰذا اب یہ ادویہ جراثیم کی کئی اقسام پہ اثر نہیں کرتیں اور وہ بیماریاں پھیلا کر کروڑوں انسانوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

نئے قسم کی انسان دشمن جراثیم ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اینٹی بائیوٹکس ادویہ کی نئی قسمیں تیار کی جائیں تاکہ وہ دشمنوں کے خلاف موثر ثابت ہوں۔ مگر ایک نئی اینٹی بائیوٹک دوا تیار کرنا بڑا مہنگا اور طویل عمل ہے۔ اس کی تشکیل میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ اسی لیے بیشتر ادویہ ساز کمپنیاں اینٹی بائیوٹکس بنانے سے کتراتی ہیں۔

جب ایک جنگل صاف کرنا ہو تو مشینیں چلا کر سارے درخت کاٹے جاتے ہیں۔ اسی طرح جب ایک اینٹی بائیوٹک انسانی معدے میں پہنچے تو وہ وہاں بستے تمام جراثیم ہلاک کر ڈالتی ہے۔ یہ ان ادویہ کا آج سب سے بڑا نقصان بن چکا۔ ماضی میں طبی سائنس داں خصوصاً نہیں جانتے تھے کہ ہمارے نظام ہاضمہ کے جراثیم کئی انسان دوست سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔

اسی لیے وہ یہ بھی نہ جان پاتے کہ بہت سے مردو زن اینٹی بائیوٹکس کھانے کے بعد معدے کے مسائل کا کیوں نشانہ بن جاتے ہیں۔ اب جدید تحقیق و تجربات نے افشا کیا ہے کہ نظام ہاضمہ کے اچھے جراثیم چل بسیں تو انسان مختلف امراض میں گرفتار ہو جاتا ہے۔

اسی لیے ماہرین طب اب ایسی اینٹی بائیوٹکس ادویہ ایجاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو صرف بُرے اور بیماریاں جنم دینے والے جراثیم کو ٹارگٹ کریں۔ انسان دوست جرثوموں کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچائیں۔ اگر ایسی ادویہ تیار ہو گئیں تو یہ انسان کا ایک اور اہم کارنامہ ہو گا۔

حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ نظام ہاضمہ کے جراثیم انسانی جذبات و احساسات پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ معنی یہ کہ اگر انسان دوست جراثیم کی حالت خراب ہے تو لامحالہ انسان بھی خود کو پژمردہ، مایوس اور ناامید محسوس کر سکتا ہے۔ لیکن جراثیم کی حالت اچھی ہے تو انسان پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وہ خود کو تازہ دم، پُرامید اور متحرک پاتا ہے۔

ماہرین طب کہتے ہیں کہ ہمارے نظام ہاضمہ میں اچھے جراثیم کی جتنی زیادہ اقسام ہوں ، اتنا ہی صحت کے لیے اچھا ہے۔ ان کی مدد سے انسان تندرست اور امراض سے دور رہتا ہے۔ یہ اقسام بڑھانے کے لیے تازہ سبزیاں، پھل، اناج اور دہی کھائیے۔ مزید براں اینٹی بائیوٹکس صرف اشد ضرورت کے وقت استعمال کیجیے۔ انھیں بے وجہ نہ لیں کہ یہ انسان دوست خردنامیات کی سب سے بڑی دشمن بن چکیں۔ انھیں ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں۔

The post اینٹی بائیوٹکس اور انسان دوست جراثیم appeared first on ایکسپریس اردو.

ان ادویہ کا غلط استعمال آپ کو بہت سی بیماریوں کا شکار بنا سکتا ہے

پروفیسر حمزہ علوی ایک حقیقی سوشل سائنٹسٹ ہیں۔ انھوں نے انیسویں اور بیسویں صدی میں ہندوستانی سماج میں ہونے والی تبدیلیوں ...
07/09/2023

پروفیسر حمزہ علوی ایک حقیقی سوشل سائنٹسٹ ہیں۔ انھوں نے انیسویں اور بیسویں صدی میں ہندوستانی سماج میں ہونے والی تبدیلیوں کا بغور مطالعہ کیا اور ہندوستان میں چلائی جانے والی تحریکوں کے پس پردہ محرکات کا بغور جائزہ لیا، یوں حمزہ صاحب نے آل انڈیا مسلم لیگ‘ انڈین نیشنل کانگریس کے پس منظر اور ان جماعتوں میں متحرک قوتوں کے مفادات کا تجزیہ کیا۔

پروفیسر حمزہ علوی نے اپنی تحقیق میں ہندوستان کی سیاسی جماعتوں، بیوروکریسی کے بارے میں جو حقائق پیش کیے ان موضوعات پر تحقیق کرنے والے محققین ان حقائق پر توجہ نہیں دے سکے تھے۔ حمزہ صاحب نے ان موضوعات پر جامع تحقیقی مشاہدات تحریرکیے ہیں۔

ڈاکٹر ریاض احمد شیخ نے سوشیالوجی میں پوسٹ گریجویشن کرنے کے بعد سول بیوروکریسی کو اپنا کیریئر بنایا مگر مارکسٹ ہونے کی بناء پرنوکری میں ان کا دل نہ لگا اور تدریس و تحقیق کی دنیا میں آگئے۔ ڈاکٹر ریاض شیخ نے حمزہ صاحب کے ریسرچ پیپر کو اردو میں منتقل کیا، یوں پاکستان کے حالات میں ایک کتاب’’ پاکستانی سیاست اور نوکر شاہی کا کردار‘‘ مرتب کی۔

معروف دانش ور ڈاکٹر سیدجعفر احمد نے اس کتاب کی تقریب رونمائی میں کہا کہ پروفیسر حمزہ علوی نے 90ء کی دہائی کے آخری برسوں میں یہ پیپر تحریر کیا مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ پیپر اس سال لکھا گیا۔

مؤرخ ڈاکٹر مبارک علی نے کتاب کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ حمزہ علوی نے اس مختصر مضمون میں فوج اور نوکرشاہی کی ابتدائی تاریخ کو بیان کیا ہے۔ حمزہ صاحب کا خیال ہے کہ ہندوستان اور پاکستان میں بیوروکریسی کے گٹھ جوڑ اور سیاست دانوں کے ساتھ ان کے تعلقات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے تاریخی پس منظر میں جا کر ان دونوں کے تعلقات کے قیام اور خصوصاً اس گٹھ جوڑ کے پیمانہ پر حاصل شدہ خودمختاری کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دے کر باریک بینی سے جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ بیوروکریسی کے طاقتور ہونے کی ایک وجہ انگریز دور میں برطانیہ کی طرف سے عائد کردہ طرزِ حکمرانی جس کے تحت عوام کا اپنے روزمرہ کاموں کے لیے ہروقت سرکاری اہلکاروں سے رابطہ پڑتا تھا۔ مسلم لیگ کی سیاست جوکہ اپنے قیام سے لے کر کم از کم ایک دہائی تک مسلمان اقلیتی صوبوں تک محدود رہی تھی اس میں مسلمان اکثریتی صوبے (موجودہ پاکستان) نظرانداز کیے گئے تھے۔

وہ اب تک مسلمان اقلیتی صوبوں کی تنخواہ دار، پیشہ ور اور جاگیر دار طبقوں تک محدود تھی لیکن پالیسی میں نمایاں تبدیلی مونٹیگو چمس فورڈ اصلاحات کے بعد آئی۔ مسلم لیگ کی سیاست کا محور اقلیتی صوبوں سے (مثلاً یوپی) سے منتقل ہو کر مسلمان اکثریتی صوبوں کی طرف منتقل ہوگیا۔ اس صورتحال میں نمایاں تبدیلی اس وقت آئی جب دوسری جنگ عظیم میں برطانوی سرکار سے برسر اقتدار کانگریس حکومت (جس نے 1937کے انتخابات میں واضح برتری حاصل کر کے ہندوستان کے اکثریتی صوبوں میں حکومت قائم کرلی تھی) سے مشورہ کے بغیر جنگ عظیم میں شمولیت کا اعلان کیا۔

برطانوی حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف احتجاجاً کانگریس نے صوبائی حکومتوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ ہندوستانیوں کو برطانوی سرکار سے عدم تعاون اور خصوصاً فوج میں بھرتی ہونے سے منع کردیا تھا۔ کانگریس کا یہ فیصلہ انتہائی غیر متوقع اور پریشان کردینے والا تھا۔ اس بناء پر انگریز بیرسٹر محمد علی جناح اور مسلم لیگ کے قریب ہوئے۔ مسلم لیگ والے کانگریس کی حکومت سے سخت خفا ہوئے۔

اس مرحلہ پر برطانوی سرکار اور مسلم لیگ نے ایک دوسرے کو رعایتیں دینے کا فیصلہ سوچا۔ برطانیہ کی مجبوری تھی کہ مسلم لیگ برطانیہ کی جنگ میں شمولیت کی حمایت کرے۔

حمزہ علوی مزید لکھتے ہیں کہ 1946 کے انتخابات میں سندھ اور پنجاب کے پیروں اور گدی نشینوں کے لیے مسلم لیگ ن کی حمایت میں واضح کردار کو دیکھتے ہوئے کچھ تاریخ دان غلطی سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ پاکستان کی تحریک کے پس پشت مذہب کام کررہا تھا۔ پیر اور گدی نشین کانگریس کی زرعی اصلاحات کے ایجنڈا سے سخت پریشان تھے۔

کتاب کے باب اول کا عنوان ’’پاکستانی سیاست ،فوج اور نوکر شاہی کا کردار ہے۔ حمزہ علوی اس باب میں لکھتے ہیں کہ آزادی کے بعد نئے وجود میں آنے والے ملک کی سیاسی تاریخ میں فوج اور نوکرشاہی نے ملک کی سیاست میں انتہائی کلیدی کردار ادا کیا۔

اگرچہ 1958میں اس بحرانی کیفیت میں ملک کے سیاست منظرنامہ میں فوج ایک مضبوط قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی لیکن بیوروکریسی پاکستان کے وجود کے ساتھ ہی اول دن سے پھر سیاسی منظرنامہ میں سب سے بااثر کردار کے طور پر حاوی تھی۔

بعداز آزادی پہلی دہائی میں پاکستان کی پارلیمانی حکومت پر سول بیوروکریسی مکمل طور پر حاوی تھی ۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ حکومت بیوروکریسی کی نامزد کردہ تھی اور اس کے رحم و کرم پر ہی تھی۔

50ء کی دہائی کے اواخر میں متشدد سیاست کا آغاز ہوا اور یہ مطالبہ زور پکڑنے لگا کہ ملک میں فوری طور پر عام انتخابات کرائے جائیں۔ اس مطالبہ نے بیوروکریسی کی بالادستی کو خطرہ میں ڈال دیا اور انھوں نے پارلیمانی نظام کو اپنی لپیٹ میںلے کر اقتدار پر براہِ راست قبضہ کرلیا۔

عموماً تصور کیا جاتا تھا کہ ملک کی اقتصادی تباہی کے ذمے داری سیاست دان ہی ہیں، ملک کی ترقی کا کام صرف بیوروکریسی کے ذریعہ ہی ممکن ہوتی ہے۔ حمزہ علوی ایک اور تاریخ دان خالد بن سعید کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ 1951 میں پاکستان کی بیوروکریسی انتہائی طاقتور بن کر ابھری اور بیوروکریسی اتنی طاقتور تھی کہ انگریزوں کے دور میں بھی نہیں تھی۔

قائد اعظم اور ان کے جانشین لیاقت علی خان کی حامی شخصیتوں کے زیرِ سایہ نوکرشاہی نے صوبوں کے انتظامی امور پر گرفت حاصل کرلی۔ جب صنعت کاری کے عمل کا آغاز ہوا تو مختلف علاقوں ،ثقافتوں اور لسانی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد نے دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی طرف نقل مکانی کی۔

حمزہ مشرقی پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس وقت مشرقی پاکستان کے کاشت کاروں کی ایک واضح اکثریت کا تعلق چھوٹے کاشت کاروں سے تھا۔ وہاں اوسط زمینی ملکیت ساڑھے 3 ایکڑ پر مشتمل تھی، 51 فیصد کے پاس سوا دو ایکڑ سے کم زمین تھی۔ مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کی طرز کا نمبردار کا کوئی ادارہ نہیں تھا۔

وہاں کسان اور حکومت کے درمیان رابطہ کا روایتی رواج نہیں تھا۔ زمیندار جو زیادہ تر ہندو تھے بڑی وسیع زمینوں کے مالک تھے۔ حمزہ علوی لکھتے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں جہاں تعلیم یافتہ درمیانہ طبقہ نے دیہی معاشرہ کے لیے روابطہ برقرار رکھے تھے ان کے توسط سے بنگالی زبان کی تحریک کو تقویت حاصل ہوئی۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1954 کے انتخابات میں جگتو فرنٹ نے بے مثال کامیابی حاصل کی۔ حکمراں جماعت مسلم لیگ 309 میں سے 10نشستیں حاصل کرسکی تھی ۔ حمزہ علوی پاکستان کے امریکا سے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پاکستان میں امریکی سرمایہ دار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ امریکا نے پاکستان میں سرمایہ کاری صنعت کی فروغ کے لیے نہیں کی تھی بلکہ یہ سرمایہ کاری دراصل دفاعی اخراجات کی مد میں تھی۔

ترقیاتی اخراجات حکومت پاکستان نے ہمیشہ خود برداشت کیے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد صوبائی سیکریٹریوں نے بھی اپنی پرانی روایات کو نظراندازکرتے ہوئے متعلقہ وزیر کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے فیصلوں کی منظوری گورنر صاحب سے حاصل کرنا شروع کی۔ حمزہ علوی نے آزادی کے بعد اعلیٰ ملازمتوں میں تقرریوں کے طریقہ کار کا بھی تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ بعد از آزادی پاکستانی گورنر جنرل کو لامحدود اختیارات حاصل تھے۔

درحقیقت انڈیا آزادی ایکٹ 1947 کی شق کے تحت عبوری عرصہ کے لیے جس کی مدت سات ماہ تھی گورنر جنرل کلی اختیارات کے مالک تھے۔ گورنر جنرل ان اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے 1935 کے قانون کو بھی تبدیل کرسکتے تھے۔

گورنر جنرل کے ان اختیارات کا خاتمہ 29 مارچ 1948 کو ہونا تھا لیکن اس کی مدت میں ایک سال کی توسیع کردی گئی۔

وہ لکھتے ہیں کہ یہ پاکستانی سیاست دان تھے جن کو بیوروکریسی کی خدمت کرنی پڑی اور 1958کے بعد جب سیاست دان یہ مقصد پورا کرچکے تو ان کو منظرنامہ سے ہٹادیا گیا۔ حمزہ علوی کے ریسرچ پیپر پر مبنی یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو اس ریاست کے بحران کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔

The post پاکستانی سیاست اور بیوروکریسی کا کردار appeared first on ایکسپریس اردو.

پروفیسر حمزہ علوی ایک حقیقی سوشل سائنٹسٹ ہیں۔ انھوں نے انیسویں اور بیسویں صدی میں ہندوستانی سماج میں ہونے والی تبدیلیوں کا بغور مطالعہ کیا اور ہندوستان میں چلائی جا....

سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ سب کے لیے پیغام ہے کہ وہ جھوٹ بولنا چھوڑ دیں۔ انھوں نے سپریم ک...
07/09/2023

سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ سب کے لیے پیغام ہے کہ وہ جھوٹ بولنا چھوڑ دیں۔ انھوں نے سپریم کورٹ میں پریس ایسوسی ایشن کی تقریب حلف برداری میں مزید کہا آئین کے مطابق معلومات تک رسائی ہر شخص کا حق ہے اور جج اور صحافی دونوں سچ کی تلاش میں نکلتے ہیں۔

جج کا کام صحافت سے زیادہ مختلف نہیں، سچ تبدیل نہیں ہوتا۔ رائے دینے کا ہر ایک کو حق اپنی جگہ مگر سچ سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ نامزد چیف جسٹس نے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہر موقع پر سچ بولیں اور جھوٹ بولنا چھوڑ دیں میرا ہر ایک کے لیے یہی پیغام ہے اور ہمارے نبیؐ نے بھی فرمایا ہے کہ مومن بزدل یا کنجوس تو ہو سکتا ہے مگر جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ سچ سچ ہی رہتا ہے اور ذمے دارانہ صحافت وقت کی ضرورت ہے۔

یہ بھی سو فیصد حقیقت ہے کہ سب سے زیادہ جھوٹ سیاست میں ہی بولا جاتا ہے اور سیاستدان ہی سب سے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں، جب سچ بولا جاتا ہے تو سچ بولنے کی تکلیف سب سے زیادہ پی ٹی آئی اور اس کے چیئرمین سمیت حکومتی ذمے داروں کو ہوتی ہے اور وہ سچ پر بھی سیاست شروع کر دیتے ہیں اور پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا ٹرول سچ بولنے والوں کے خلاف نئی مذموم مہم شروع کر دیتا ہے کہ ہمیں سچ بولنے کا مشورہ دینے والے سیاست کر رہے ہیں حالانکہ ایسا کرنا سیاست نہیں سچ ہوتا ہے۔

ججوں اور صحافیوں سے زیادہ سچ بولنے کی ضرورت تمام سیاست دانوں اور خصوصاً پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو ہے کہ جنھوں نے ملکی سیاست میں جھوٹ پہ جھوٹ بولنے، غلط و بے بنیاد الزامات لگانے، یوٹرن لینے کا ریکارڈ قائم کیا ہے اور اس کے چیئرمین نے جھوٹ بولنے، عوام کو گمراہ کرنے اور سچ چھپانے کی نہ صرف ترغیب دے رکھی ہے بلکہ اس سلسلے میں اپنا بھی منفرد ریکارڈ بنا رکھا ہے اور پی ٹی آئی کی سیاست میں جھوٹ بولنا، بے بنیاد الزام تراشی،گمراہ کن خبریں پھیلانا اور اپنے مفاد کے لیے سچ چھپانا اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنا اپنا فرض اولین بنا رکھا ہے اور دیگر سیاسی جماعتیں اور سیاسی و مذہبی رہنماؤں سمیت کوئی ایک بھی ایسا رہنما نہیں ہے جو جھوٹ نہ بولتا ہو۔

جس نے حصول اقتدار کے لیے عوام سے جھوٹ نہ بولا ہو۔ جھوٹے وعدے نہ کیے ہوں اور ان کی پارٹی نے جھوٹے وعدوں کو اپنے منشور کا حصہ نہ بنایا ہو۔ بدقسمتی سے ایک سابق چیف جسٹس نے ملک کے سب سے بڑے جھوٹے سیاستدان کو صادق و امین ہونے کا سرٹیفکیٹ دے رکھا ہے۔

عدلیہ میں ججوں کے ساتھ وکیلوں کے بغیر مقدمات چل ہی نہیں سکتے اور مقدمات جیتنے کے لیے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنائے بغیر وکلا حضرات کا کاروبار چل ہی نہیں سکتا اور اسی چیز کی وہ بھاری فیس وصول کرتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں سردار لطیف کھوسہ نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی لفٹ بند ہونے کی تحقیقات کرائی جائے۔

کچھ کا خیال ہے کہ یہ تکنیکی مسئلہ تھا کہ جب دس کی جگہ لفٹ میں 19 افراد داخل ہو جائیں تو پرانی لفٹ نے خراب تو ہونا ہی ہے اور یہ معمول ہے کہ کسی لفٹ میں اگر گنجائش سے زیادہ لوگ سوار ہو جائیں گے تو لفٹ نے اضافی وزن برداشت نہیں کرنا۔ لفٹ میں لطیف کھوسہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ 40 منٹ لفٹ میں پھنسے رہے ،انھوں نے اس واقعے کو اپنے قتل کی سازش قرار دے دیا اور چیف جسٹس پاکستان سے لفٹ خراب ہونے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

سچ کی ضد جھوٹ اور جھوٹ کی ضد سچ ہے مگر سیاست میں جھوٹ اتنا سرائیت کر چکا ہے کہ جھوٹ کے بغیر سیاست کی ہی نہیں جا سکتی۔ اسی لیے ہر پارٹی کے منشور میں جھوٹے وعدے ضرور ہوتے ہیں اور سیاستدان اگر جھوٹے دعوے نہ کریں تو ان کی پارٹی کو مقبولیت مل ہی نہیں سکتی اور عوام بھی زیادہ سے زیادہ جھوٹ بولنے والے رہنماؤں کے دعوؤں اور تقاریر پر تالیاں بجاتے ہیں خواہ وہ سب جھوٹ ہو۔

پاکستانی سیاست میں پی پی کے قیام کے وقت ذوالفقار علی بھٹو نے ہر شخص کے لیے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا تھا جس پر نہ صرف وہ وزیر اعظم بنے اور پیپلز پارٹی 50 سالوں میں بیس پچیس سال اقتدار میں رہی مگر منشور پر عمل نہ ہوا۔

پی پی کے بعد پی ٹی آئی کے چیئرمین نے عوام کو خواب دکھایا کہ وہ اقتدار میں آ کر لوگوں کو 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دیں گے۔ پونے 4 سالوں میں وہ کچھ نہ کرسکے۔ کرپشن کا خاتمہ بھی ان کا منشور تھا اور اب وہ خود کرپشن کے الزام پر جیل میں ہیں۔

تیسری بار وزیر اعظم بننے کے لیے نواز شریف نے 2013 میں ملک کو لوڈ شیڈنگ سے نکالنے کا وعدہ کیا تھا جو پورا بھی ہوا مگر شہباز شریف کی حکومت میں سردیوں میں بجلی ہوتی تھی نہ گرمیوں میں گیس اور پونے چار سالہ پی ٹی آئی حکومت نہ کرپشن ختم کرا سکی نہ لوگوں کو یکساں انصاف ملا البتہ مہنگائی و بے روزگاری میں ضرور اضافہ ہوا۔

جھوٹ کے بغیر سیاست چل سکتی ہے نہ وکالت۔ اور جب جج پاناما کے بجائے اقامہ پر وزیر اعظم کو نااہل کردیں اور پاناما میں نام ہونے کے باوجود نام نہ ہونے والے نواز شریف کو سزا اور بھٹو کو پھانسی کی سزا دیں تو جھوٹ کیسے ختم ہو سکتا ہے۔

The post سب سے زیادہ جھوٹ سیاست میں کیوں؟ appeared first on ایکسپریس اردو.

سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ سب کے لیے پیغام ہے کہ وہ جھوٹ بولنا چھوڑ دیں۔ انھوں نے سپریم کورٹ میں پریس ایسوسی ایشن کی تقریب حلف برداری میں...

آج 7ستمبر ہے، اس دن کو مسلمانان پاکستان یوم دفاع عقیدہِ ختم نبوت کے طور پر مناتے ہیں، ملک گیر سطح پر اس عنوان سے جلسے ج...
07/09/2023

آج 7ستمبر ہے، اس دن کو مسلمانان پاکستان یوم دفاع عقیدہِ ختم نبوت کے طور پر مناتے ہیں، ملک گیر سطح پر اس عنوان سے جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی جاتی ہیں، جن کا مقصد نسل نو کو عقیدہِ ختم نبوت اور اس کے دفاع کے لیے کی جانے والی جدوجہد کے بارے میں آگاہی دینا ہوتا ہے۔

ہمارے آج کے کالم کا مقصد بھی یہی ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ کے منصبِ رسالت اور ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کی اساس اورمسلمانوں میں وحدتِ اْمت کی علامت ہے۔ جھوٹے نبیوں کی ایک پوری تاریخ ہے۔ انکارِ ختمِ نبوت پر مبنی فتنوں نے ظہور اسلام کے وقت سے ہی سراٹھانا شروع کردیا تھا، ہندوستان میں بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیاگیا۔

علمائِ اْمت کے علاوہ ڈاکٹر علامہ اقبال مرحوم جیسی جدید تعلیم یافتہ شخصیات نے عقیدہِ ختم نبوت کے تحفظ کے مورچے کو سنبھالا۔ بے شمار دینی جماعتوں نے شعبہ تبلیغ :تحفظ ختم نبوت قائم کرکے پورے ہندوستان میں امت مسلمہ کو عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور اس کے دفاع کے لیے کھڑا کیا۔

پھر پاکستان معرض وجود میں آگیا تو یہاں مجلس احرار اسلام کے قائد اور شعلہ بیان خطیب امیر شریعت مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاری ؒ نے تمام مکاتب فکر کے علمائ، مشائخ، آئمہ و خطباء اور ممتاز شخصیات کو اکٹھا کیا اور ’’کْل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت‘‘ کے مشترکہ پلیٹ فارم سے جدوجہد کا آغاز کیا اور حضرت مولانا ابو الحسنات قادریؒ کے سر پر مجلس عمل کی سربراہی کا تاج رکھا، سید عطا اللہ شاہ بخاری نے اپنی ولولہ انگیز تقاریر کے ذریعے کراچی سے خیبر تک مسلمانان پاکستان کے دلوں میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا جذبہ بیدار کیا۔

پھر دنیا نے دیکھا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار میں پارلیمنٹ نے 13 دن کی طویل بحث اور فریقین کا مؤقف سننے کے بعد آئین میں ترمیم کرکے بالاتفاق قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ پارلیمنٹ کے اندر یہ لڑائی وقت کے درویش صفت سیاستدان شیخ الحدیث مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ نے لڑی، ان کا ساتھ دینے والوں میں مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا ظفر انصاری، پروفیسر غفور احمد، پروفیسر خورشید احمد، اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار جیسی قدآور شخصیات شامل تھے۔

پاکستان اقلیتوں کی جنت ہے، یہاں مسیحی، ہندواور سکھ بھی رہتے ہیں، دیگر مذاہب کے لوگ بھی آباد ہیں، سب کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو اسلام اور پاکستان کے آئین نے انھیں دیے ہیں۔ سب کو یہاں مذہبی، سیاسی، معاشی و معاشرتی آزادیاں حاصل ہیں کیونکہ وہ سب پاکستان کے آئین کو مانتے ہیں۔

اسلام کی بنیاد توحید، رسالت اور آخرت کے علاوہ جس بنیادی عقیدہ پر ہے، وہ ہے ’’عقیدہ ختم نبوت‘‘۔ حضرت محمد ﷺ پر نبوت اور رسالت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ آپﷺ سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہیں۔ آپﷺ کے بعد کسی شخص کو اس منصب پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ یہ عقیدہ اسلام کی جان ہے۔

ساری شریعت اور سارے دین کا مدار اسی عقیدہ پر ہے‘ قرآن کریم کی ایک سو سے زائد آیات اور آنحضرت کی سیکڑوں احادیث اس عقیدہ پر گواہ ہیں۔ اہل بیت، تمام صحابہ کرام تابعین عظام، تبع تابعین، آئمہ مجتہدین اور چودہ صدیوں کے مفسرین، محدثین، متکلمین، علماء اور صوفیاء (اللہ ان سب پر رحمت کرے) کا اس پر اجماع ہے۔

چنانچہ قرآن کریم کی سورہ احزاب میں ارشاد ہوا ہے ’’حضرت محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں‘‘۔

تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ ’’خاتم النبیین‘‘ کے معنیٰ ہیں کہ: آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپﷺ کے بعد کسی کو ’’منصب نبوت‘‘ پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ عقیدہ ختم نبوت جس طرح قرآن کریم کی نصوص قطعیہ سے ثابت ہے۔ اسی طرح حضور کی احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے۔ چند احادیث ملاحظہ ہوں:

1۔ میں خاتم النبیین ہوں‘ میرے بعد کسی قسم کا نبی نہیں۔ (ابوداؤد ج:2 ، ص:228)

2۔ مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ (مشکوٰۃ: 512)

3۔ رسالت ونبوت ختم ہوچکی ہے پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔ (ترمذی‘ج:2، ص:51)

4۔ میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ (ابن ماجہ:297)

5۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ (مجمع الزوائد‘ج:3 ص: 273)

ان ارشادات نبوی میں اس امرکی تصریح فرمائی گئی ہے کہ آپﷺ آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپﷺ کے بعد کسی کو اس عہدہ پر فائز نہیں کیا جائے گا۔

آپﷺ سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام تشریف لائے ان میں سے ہر نبی نے اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت دی اور گزشتہ انبیاء کی تصدیق کی۔ آپ نے گزشتہ انبیاء کی تصدیق تو فرمائی مگر کسی نئے آنے والے نبی کی بشارت نہیں دی۔

بلکہ فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ 30 کے لگ بھگ دجال اور کذاب پیدا نہ ہوں، جن میں سے ہرایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ اس لیے جو بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے گا وہ اس حدیث مبارکہ کی زد میں کھڑاہوگا۔ اس لیے یہ ’’ختم نبوت‘‘ امت محمدیہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم رحمت اور نعمت ہے۔

اس کی پاسداری اور شکر پوری امت محمدیہ پر واجب ہے۔ مسلمانوں میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور منکرین ختم نبوت کی سازشوں سے امت کو بچانے کے لیے کئی جماعتیں کام کررہی ہیں ان میں سر فہرست عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہے، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ اور مجلس احرار اسلام پاکستان ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار دینی جماعتیں اپنے اپنے پلیٹ فارم سے اس کاز پر کام کررہی ہیں۔ سال بھر بالعموم اور ماہ ستمبر میں بالخصوص ختم نبوت کے عنوان پر جلسے، کانفرنسیں، سیمینارز، تربیتی ورکشاپس اور ریلیوں کا انعقاد ہوتا ہے۔

اتوار کو پشاور میں عظیم الشان انٹرنیشنل ختم نبوت کا انعقاد ہوا جس میں پاکستان اور بیرون ملک سے علماء و مشائخ، آئمہ و خطباء نے شرکت کی۔ 6ستمبر کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک بڑی کانفرنس کا انعقاد وحدت کالونی گراؤنڈ لاہور میں ہوا جس میں ملک بھی کی دینی جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے۔ اسی طرح مجلس احرار اسلام کی دو روزہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں ماہ ربیع الاول میں ہوگی۔

ایک فقیدالمثال سالانہ ختم نبوت اجتماع ضلع صوابی کے معروف علمی خانوادے شیخین کریمین شاہ منصور کی مشہور و معروف خانقاہ میں اعزاز الحق صاحب کے زیر صدارت اور مفتی اعظم ساؤتھ افریقہ مفتی رضا الحق شاہ منصور کے زیر نگرانی ہر سال منعقد ہوتا ہے اس سال انشاء اللہ اجتماع 25 و 26 نومبر بروز ہفتہ اور اتوار کو منعقد ہورہا ہے۔جس میں شمع ختم نبوت کے لاکھوں پروانے اور نامور علمائے کرام، مشائخ اور ختم نبوت کے مبلغین فرزندان امت کی تربیت کا اہتمام کریں گے۔ ان اجتماعات کا مقصد رضائے الٰہی و شفاعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، ختم نبوت کا دفاع کرنا اس تحریک کا نصب العین ہے۔

اللہ کریم ختم نبوت کے عنوان پر ہونے والے ان تمام پروگراموں کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے۔ آمین

The post یوم دفاع عقیدہ ختم نبوت appeared first on ایکسپریس اردو.

آج 7ستمبر ہے، اس دن کو مسلمانان پاکستان یوم دفاع عقیدہِ ختم نبوت کے طور پر مناتے ہیں، ملک گیر سطح پر اس عنوان سے جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی جاتی ہیں، جن کا مقصد نسل نو ...

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Express Urdu News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Express Urdu News:

Share