imraniyaat

imraniyaat It's all about imraniyaat

کراچی میں فائیو جی (5G) کا سفر اب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اور شہر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو جدید خط استوار کرنے کے لیے ک...
14/09/2026

کراچی میں فائیو جی (5G) کا سفر اب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اور شہر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو جدید خط استوار کرنے کے لیے کام جاری ہے۔
* سائٹس میں ریکارڈ اضافہ: کراچی میں جولائی 2026 کے دوران فائیو جی سائٹس کی تعداد 90 سے چھلانگ لگا کر 279 تک پہنچ گئی ہے۔
* آپریٹرز کی کارکردگی:
* جاز (Jazz): 130 سائٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔
* زونگ (Zong): 122 سائٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔
* یوفون (Ufone): اب تک 27 سائٹس نصب کر چکا ہے۔
* پہلا ہدف: اس منصوبے کے پہلے مرحلے کے اختتام تک کراچی میں کم از کم ایک ہزار فائیو جی سائٹس کی تنصیب کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
* انٹرنیٹ کی رفتار: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے فائیو جی کی ابتدائی میڈین رفتار 50 ایم بی پی ایس (Mbps) مقرر کی ہے، جسے مرحلہ وار بڑھا کر 100 ایم بی پی ایس تک لے جانے کا ہدف ہے۔
یہ پیشرفت کراچی کے صارفین کے لیے انتہائی تیز رفتار انٹرنیٹ اور بہتر ڈیجیٹل سروسز کے حصول کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

زیر زمین سفر: دبئی، ایلون مسک اور مستقبل کی سرنگیں۔زمین کے سینے میں کھدائی ہوتی ہے تو محض مٹی اور پتھر نہیں نکلتے ، بلکہ...
14/09/2026

زیر زمین سفر: دبئی، ایلون مسک اور مستقبل کی سرنگیں۔

زمین کے سینے میں کھدائی ہوتی ہے تو محض مٹی اور پتھر نہیں نکلتے ، بلکہ صدیوں پرانی حدیں اور فاصلے سمٹنے لگتے ہیں۔ دبئی اور ٹیکنالوجی کی دنیا سے جڑی یہی تازہ لہر ایک نئے فکری اور صنعتی سفر کا پتہ دے رہی ہے۔ جہاں انسان نے آسمان کی بلندیوں کوچھونے کے بعد اب زمین کی تہہ میں روشنی اور رفتار کے نئے راستے تراشنے کا عزم کر لیا ہے۔
ایلون مسک کی 'دی بورنگ کمپنی' (The Boring Company) کا دبئی میں حالیہ اقدام کوئی عام کاروباری سودا نہیں ہے، بلکہ یہ اس مستقبل کی معمارانہ جھلک ہے جہاں شہروں کا نظام صرف سطحِ زمین تک محدود نہیں رہے گا۔ تین ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ طے پانے والا یہ وسیع معاہدہ اس بات کا غماز ہے کہ خلیجی خطہ اب محض جدید عمارتوں کا شہر نہیں، بلکہ جدید ترین زیرِ زمین نقل و حمل کی ٹیکنالوجی کا عالمی مرکز بننے جا رہا ہے۔ ڈیڑھ سو کلومیٹر طویل سرنگوں کا یہ جال محض ایک ٹرانسپورٹ پروجیکٹ نہیں، بلکہ اس عزم کا اعادہ ہے کہ ٹیکنالوجی انسان کی زندگی کو کس قدر آسان بنا سکتی ہے۔
دبئی، جو اپنی روایتی چمک دمک، فلک بوس عمارتوں اور تیز رفتار ترقی کے لیے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے، اب نقل و حمل کے ایک بالکل نئے زاویے میں داخل ہو رہا ہے۔ 'دبئی لوپ' (Dubai Loop) جیسی اسکیمیں اور ان کی توسیعی شکلیں اس بات کی علامت ہیں کہ اربوں انسانوں کے اس دنیا میں وقت کی قیمت سب سے بڑھ کر ہے۔ جب سڑکوں کا شور، ٹریفک کے طویل ہجوم اور ایندھن کے ضیاع سے جڑی الجھنیں زمین کے نیچے سرک جائیں گی، تو شہر کا سانس لینا اور بھی آسان ہو جائے گا۔ لاس ویگاس کے تجربات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مسافر بردار زیرِ زمین نیٹ ورک محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک قابلِ عمل حقیقت ہے۔
مگر اس تمام تر تکنیکی ترقی کے پیچھے ایک اور کہانی بھی پوشیدہ ہے، وہ ہے سوچ کی وسعت اور خطرات مول لینے کا حوصلہ۔ جب سرمائے کی راہیں ریگستانوں سے نکل کر ٹیکنالوجی کے افق تک پہنچتی ہیں، تو یہ صرف معیشت کا پھیلاؤ نہیں ہوتا، بلکہ انسانی تخیل کی فتح بھی ہوتی ہے۔ 'عمرانیات' کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تبدیلیاں معاشرتی رویوں، سفر کرنے کے اطوار، وقت اور مسافتوں کو ہمیشہ کے لیے بدل دیتی ہیں۔
آنے والے برسوں میں جب دبئی کے باسی زمین کی تہوں میں بنائی گئی ان جدید سرنگوں سے گزریں گے، تو وہ محض ایک منزل سے دوسری منزل تک کا سفر طے نہیں کر رہے ہوں گے، بلکہ ساتھ ساتھ وہ انسانی عزم، اور سائنس کو حیرانی سے سلامی بھی دے رہے ہوں گے۔ یہ سفر اس بات کا گواہ ہو گا کہ جب عزمِ صمیم اور جدید ٹیکنالوجی ہاتھ میں ہاتھ ڈال لیں، تو فاصلے صرف خیال بن کر رہ جاتے ہیں اور منزلیں قدموں میں سمٹ آتی ہیں۔

13/09/2026

پاکستان میں زنا آسان اور نکاح مشکل بنیا جا رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کا یہ خطاب پاکستان میں اسلامی اقدار، قانون سازی اور مغربی فکری اثرات کے تناظر میں ان کے بیانیے کا عکاس ہے۔ اس حساس موضوع پر ان کے مؤقف کا خلاصہ ایک مختصر پوسٹ کی صورت میں درج ذیل ہے: خطاب کے لیے وڈیو لازمی دیکھیں ۔

مولانا فضل الرحمن کا قومی اسمبلی میں اہم خطاب: جائز نکاح مشکل اور غیر اخلاقی آزادیوں کے لیے راہیں ہموار؟
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے اس دوہرے معیار پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جہاں ایک طرف شریعت کے مطابق کم عمر یا روایتی نکاح کو سخت سزاؤں کے شکنجے میں جکڑا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف لبرل اور ملحدانہ سوچ کے تحت ایسے قوانین کو فروغ دیا جا رہا ہے جو معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔
مولانا نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایوانوں میں قرآن و سنت کی روح کے منافی قانون سازی اور این جی اوز کی خفیہ لابنگ برداشت نہیں کی جا سکتی۔ ریاست کا بنیادی فریضہ دینِ مبین کی پاسداری ہے، نہ کہ ایسے قوانین بنانا جو جائز نکاح کو مشکل اور خاندانی نظام کو کمزور کریں۔


مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ: سعودی عرب کی 1200 کلومیٹر طویل آئل پائپ لائن پر حملہ اور اس کے اثرات:خلیجی خطے میں جاری...
12/09/2026

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ: سعودی عرب کی 1200 کلومیٹر طویل آئل پائپ لائن پر حملہ اور اس کے اثرات:

خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے دوران سعودی عرب کی توانائی کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا ایک بڑا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں عسکری ڈرون حملوں کے نتیجے میں تقریباً 1200 کلومیٹر طویل اہم ترین آئل پائپ لائن کو نقصان پہنچا اور کئی افراد زخمی ہوئے۔ اس حملے کے بعد سعودی حکام نے ہنگامی اور احتیاطی اقدامات کے تحت تیل کی ترسیل عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔

حملے کی تفصیلات اور پس منظر:

سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق، یہ حملے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں متعدد ڈرون طیاروں کے ذریعے کیے گئے۔ ابتدائی تحقیقات اور اطلاعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ڈرون حملے عراق کی حدود سے کیے گئے تھے۔ یاد رہے کے عراق میں امریکا کا قبضہ اور اثر روسوخ ہے ، واقعہ کے بعد جہاں سعودی عرب کی فنی اور ہنگامی ٹیمیں متاثرہ تنصیبات کا جائزہ لینے اور پائپ لائن کو محفوظ بنانے میں مصروف ہیں، وہیں سفارتی سطح پر بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
عراقی حکومت نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر ایک عراقی فوجی کمانڈر کو اس کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ عراقی حکام نے ملک کی سرحدوں پر سکیورٹی بھی سخت کردی ہے تاکہ اس طرح کی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔ سعودی حکومت نے فی الحال عراقی حکومت کو حالات پر قابو پانے اور اپنی سرزمین کو اس طرح کے حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کا موقع دینے کے لیے فوری فوجی ردعمل سے گریز کا اعلان کیا ہے، تاہم ساتھ ہی اپنے دفاع اور خودمختاری کے تحفظ کا حق محفوظ رکھا ہے۔

"ایسٹ ویسٹ پائپ لائن" اتنی اہم کیوں ہے؟

نشانہ بننے والی یہ پائپ لائن، جسے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن (East-West Pipeline یا Petroline) کہا جاتا ہے، عالمی توانائی کی سپلائی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے:
* طول اور راستہ: یہ پائپ لائن تقریباً 1200 کلومیٹر پر محیط ہے جو سعودی عرب کے مشرقی تیل کے ذخائر اور پروسیسنگ سینٹرز (جیسے ابقیق) کو ملک کے مغرب میں بحیرہ احمر پر واقع بندرگاہ "ینبع" سے ملاتی ہے۔

* اس پائپ لائن کے ذریعے یومیہ تقریباً 70 لاکھ بیرل خام تیل منتقل کرنے کی گنجائش ہے، جس میں سے بڑا حصہ برآمد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
* آبنائے ہرمز کا متبادل: خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے بحری راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے بعد سعودی عرب بحیرہ احمر کے اس زمینی راستے پر زیادہ انصرام کر رہا تھا تاکہ عالمی منڈیوں کو بلاتعطل تیل کی فراہمی جاری رکھی جا سکے۔

عالمی منڈی اور معیشت پر ممکنہ اثرات:

پائپ لائن کی اس عارضی بندش نے عالمی مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بندش طویل ہوتی ہے یا خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا سلسلہ نہیں رکتا، تو عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ پاکستان جیسے ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا بڑھنا براہ راست مہنگائی اور درآمدی بل میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کے خدشات اب صرف سمندری گزرگاہوں تک محدود نہیں رہے بلکہ خشکی پر موجود طویل پائپ لائنز اور توانائی کے ذخائر بھی براہِ راست خطرات کی زد میں ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر فوری اور مؤثر سفارتی و سکیورٹی اقدامات کی ضرورت ہے۔

12/09/2026

عسکری 5 میں درد ناک تماشا: جدید فائر بریگیڈ اور بالٹی کا راج!
کراچی کے علاقے عسکری 5 کے بلاکس میں ایک انتہائی دلخراش اور حیرت انگیز منظر دیکھنے میں آیا، جہاں ایک بالکل نئی اور قیمتی ٹویوٹا فارچیونر (Fortuner) دیکھتے ہی دیکھتے شعلوں کی نذر ہو گئی اور لوگ بے بس ہو کر اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کرتے رہے۔
جب طویل انتظار کے بعد ملیر کینٹونمنٹ بورڈ کی فائر بریگیڈ موقع پر پہنچی تو شہریوں کو کچھ دیر کے لیے سکون ملا کہ اب آگ پر قابو پا لیا جائے گا۔ مگر وہاں جو تماشا دیکھنے کو ملا، اس نے ہر عقل مند انسان کو دنگ کر دیا۔
جدید فائر ٹینڈر گاڑی سے پانی کے پائپ کا استعمال کرنے کے بجائے اہلکاروں نے بالٹیوں میں پانی بھر بھر کر آگ پر ڈالنا شروع کر دیا! آگ اپنی پوری شدت کے ساتھ قیمتی گاڑی کو نگلتی رہی اور عملہ بالٹیوں کے ذریعے اپنی موجودگی کا ثبوت فراہم کرتا رہا۔

یہ واقعہ صرف ایک گاڑی کے جلنے کا نہیں، بلکہ ہمارے پورے شہری اور انتظامی نظام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر ایک کینٹونمنٹ جیسے حساس اور ترقی یافتہ علاقے میں فائر ڈپارٹمنٹ کے پاس آگ بجھانے کے لیے بنیادی اور مناسب انتظامات بھی موجود نہ ہوں، تو عام شہری اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے آخر کس دروازے پر دستک دے؟


11/09/2026

منگولیا کے صدر اوخناگین خوریلس (Ukhnaagiin Khürelsükh) نے فوجی دورے کے دوران روایتی جِم کے لباس کے بجائے اپنے رسمی لباس میں ہی ویٹ لفٹنگ کا شاندار مظاہرہ کر کے سب کو دنگ کر دیا۔

* نام: اوخناگین خوریلس (Ukhnaagiin Khürelsükh)
* عمر: 58 سال
انہوں نے فوجی جوانوں اور حکام کی موجودگی میں 100 کلوگرام وزن کے ساتھ مسلسل 20 بینچ پریس لگا کر اپنی غیر معمولی جسمانی طاقت کا لوہا منوایا۔
ان کی اس فٹنس اور پُراعتماد انداز کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جہاں دنیا بھر کے صارفین ان کی چاق و چوبند صحت کی تعریف کر رہے ہیں۔

صات و شفاف شناخت اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے اس دور میں، موبائل فون اب محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ ہماری مالیاتی زند...
10/09/2026

صات و شفاف شناخت اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے اس دور میں، موبائل فون اب محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ ہماری مالیاتی زندگی، ذاتی معلومات اور روزمرہ کے لین دین کا محور بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سم کارڈز کے اجرا اور رجسٹریشن کے نظام کو محفوظ بنانے کے لیے حکومت کی طرف سے ایک اہم اور دور رس قدم اٹھانے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت اب فنگر پرنٹ کے ساتھ ساتھ 'آئرس بایومیٹرکس' (آنکھ کی پُتلی کی شناخت) کو بھی لازمی بنانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
ابتدائی طور پر فنگر پرنٹ یا انگوٹھے کے نشان پر مبنی تصدیق کا نظام ایک انقلابی قدم سمجھا جاتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نظام کی خامیوں اور مجرمانہ نقائص نے اس کی افادیت کو محدود کر دیا ہے۔ خاص طور پر عمر رسیدہ افراد، محنت کش طبقے اور وہ افراد جن کے فنگر پرنٹس کام کرنے کی وجہ سے گھس جاتے ہیں، انہیں اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر، جعلی شناختی کارڈز اور فنگر پرنٹ کی نقل (Silicon Molds) تیار کر کے غیر قانونی سمز کا اجراء ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جو دہشت گردی، مالیاتی فراڈ اور بلیک میلنگ جیسی سنگین وارداتوں کا سبب بنتا ہے۔ جب شناخت کا ایک ہی دروازہ ہو، تو جرائم پیشہ عناصر کے لیے اس میں نقب لگانا آسان ہو جاتا ہے۔
آئرس بایومیٹرکس یا آنکھ کی پُتلی کی اسکیننگ کا نفاذ اس کمزوری کا ایک مضبوط اور جدید ترین متبادل ہے۔ انسانی آنکھ کا پیٹرن دنیا میں ہر فرد کا بالکل منفرد ہوتا ہے، جسے نہ تو کاپی کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی وقت کے ساتھ اس میں کوئی تبدیلی آتی ہے۔ فنگر پرنٹ کے مقابلے میں آنکھ کی پُتلی کی شناخت کی درستگی (Accuracy) ناقابلِ یقین حد تک بلند ہے اور اس میں جعل سازی کی گنجائش تقریباً صفر کے برابر ہے۔ اگر یہ نظام نافذ ہو جاتا ہے، تو سم کارڈ کے حصول کے وقت دھوکہ دہی اور فرضی ناموں پر سمز جاری کرنے کے راستے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے۔
تاہم، اس ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے چند زمینی حقائق اور چیلنجز پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ اس کے لیے ملک بھر بالخصوص دیہی علاقوں میں جدید اسکیننگ آلات کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوام کی رازداری (Data Privacy) کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ اگر ریاست جدید ترین سیکیورٹی پروٹوکولز کے ساتھ اس نظام کو نافذ کرتی ہے، تو یہ نہ صرف ڈیجیٹل اکوسسٹم کو محفوظ بنائے گا بلکہ ملک میں ڈیجیٹل شناخت کے معیار کو عالمی سطح پر بلند کرے گا۔
یہ قدم اس بات کا اعتراف ہے کہ وقت کے ساتھ سیکیورٹی کے روایتی طریقے ناکافی ہو چکے ہیں، اور اگر ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کو تعبیر دینی ہے تو ہمیں سیکیورٹی کے کڑے، جدید اور ناقابلِ تسخیر معیارات کو اپنانا ہوگا۔ آنکھ کی پُتلی پر مبنی یہ بایومیٹریک نظام صرف سمز کی سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہر شہری کے ڈیجیٹل تحفظ کی ضمانت بن سکتا ہے۔

09/09/2026

ایک بے قابو رکشہ ڈرائیور نے روڈ پر خطرناک اور جنونی ڈرائیونگ کرکے راہگیروں اور دوسرے گاڑی والوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیں۔ تیز رفتاری اور لاپرواہی کی انتہا کرتے ہوئے اس نے ٹریفک کے تمام اصولوں کو ہوا میں اڑا دیا، جس کی وجہ سے سڑک پر شدید افراتفری اور خوف و ہراس کا عالم رہا۔ اس غیر ذمہ دارانہ رویے نے سڑک پر چلنے والے تمام افراد کی حفاظت کو سنگین خطرے سے دوچار کر دیا۔


Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when imraniyaat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to imraniyaat:

Shortcuts

Share