imraniyaat

imraniyaat It's all about imraniyaat

17 گھنٹے اور 8 کلومیٹر .لاہور کے قدیم دروازوں میں سے ایک، بھاٹی گیٹ,جہاں تاریخ سانس لیتی ہے، جہاں گلیاں کہانیاں سناتی ہی...
31/01/2026

17 گھنٹے اور 8 کلومیٹر .

لاہور کے قدیم دروازوں میں سے ایک، بھاٹی گیٹ,جہاں تاریخ سانس لیتی ہے، جہاں گلیاں کہانیاں سناتی ہیں, وہیں جنوری 2026 میں ایک ایسی چیخ گونجی جس نے پورے شہر کو خاموش کر دیا۔ سعدیہ، ایک عام پاکستانی خاتون، اپنی 10 ماہ کی معصوم بچی ردا کے ساتھ، ایک کھلے مین ہول میں گر کر جان کی بازی ہار گئی۔
یہ کوئی فلمی منظر نہیں تھا۔ نہ ہی کوئی قدرتی آفت۔یہ ایک کھلا گٹر تھا, وہی گٹر جو شاید دنوں سے نہیں، مہینوں سے ، بلکہ برسوں سے “کسی کی ذمہ داری” نہیں تھا۔
ایک ماں، ایک بچی، اور 17 گھنٹے کا انتظار
حادثے کے بعد سعدیہ کی لاش تو کچھ دیر میں نکال لی گئی، مگر ننھی ردا جو ابھی دنیا کو پہچاننا بھی نہیں سیکھ پائی تھی سیوریج کے اندھیرے میں بہتی رہی۔سترہ گھنٹے۔سترہ گھنٹے تک ایک بچی کی ماں کے بغیر لاش تلاش کی جاتی رہی، اور آخرکار , جائے وقوعہ سے آٹھ کلومیٹر دور ملی۔
سوچئے، وہ آٹھ کلومیٹر صرف گٹروں کے نہیں تھے، وہ ہماری بےحسی، نااہلی اور مجرمانہ غفلت کے آٹھ کلومیٹر تھے۔
یہ حادثہ نہیں، قتل ہے
ہم ہر بار ایسے واقعات کو “حادثہ” کہہ کر دفن کر دیتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے, کیا کھلا مین ہول حادثہ ہے؟ کیا وارننگ سائن نہ لگانا حادثہ ہے؟ کیا بار بار شکایات کے باوجود مرمت نہ کرنا حادثہ ہے؟
نہیں۔یہ سب کچھ جان بوجھ کر کی گئی غفلت ہے۔ اور غفلت، جب جان لے لے، تو قتل کہلاتی ہے۔
ایک پاکستانی کی جان کی قیمت کیا ہے؟
پاکستان میں شاید انسان کی جان کی قیمت ایک ڈھکن سے بھی کم ہے۔ہم پل تو بناتے ہیں، مگر نالوں کے ڈھکن نہیں۔ہم میٹرو بس چلاتے ہیں، مگر پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ راستے نہیں۔ہم تقریریں بہت کرتے ہیں، مگر ذمہ داری کوئی نہیں لیتا۔
سعدیہ اور ردا کا قصور کیا تھا؟بس یہی کہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئیں۔

کب تک پاکستانی گٹروں میں گرتے رہیں گے؟کب تک مائیں اپنے بچوں کو کھلے مین ہولز سے بچاتے ہوئے سڑک پار کریں گی؟کب تک لاشیں اٹھیں گی اور فائلیں دبتی رہیں گی؟
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، ہم سب سے ہے۔کیونکہ جس دن ہم نے یہ مان لیا کہ “یہ تو ہوتا رہتا ہے”، اسی دن ہم بھی اس گٹر کے کنارے کھڑے مجرم بن گئے۔
سعدیہ اور ردا واپس نہیں آئیں گی۔لیکن ، اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں،تو کل کسی اور کا نام ہوگا، کسی اور کی بچی ہوگی اور گٹر وہی ہوگا۔
✍️علی عمران

بورڈ آف پیس: امن کا وعدہ یا فریب کی نئی زنجیر؟دنیا میں جب بھی “امن” کو کسی بورڈ، کمیشن یا فورم کی صورت میں پیش کیا جائے ...
23/01/2026

بورڈ آف پیس: امن کا وعدہ یا فریب کی نئی زنجیر؟

دنیا میں جب بھی “امن” کو کسی بورڈ، کمیشن یا فورم کی صورت میں پیش کیا جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاملہ محض امن کا نہیں رہا۔ عالمی سیاست میں امن ایک قدر نہیں بلکہ ایک حکمتِ عملی بن چکا ہے , اور بورڈ آف پیس اسی حکمتِ عملی کا نیا نام ہے۔
یہ بورڈ بظاہر جنگ، تصادم اور بدامنی کے خلاف ایک اجتماعی کوشش دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پسِ منظر میں اصل سوال یہ ہے کہ: امن کی تعریف کون کرے گا؟ اور کن اصولوں ، شرائط و ضوابط پر؟
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہی سوال سب سے زیادہ اہم بھی ہے، اور مستقبل کے لیے خطرناک بھی۔
بورڈ آف پیس کا تصور دراصل اس خیال سے جنم لیتا ہے کہ کچھ ریاستیں خود کو خود ساختہ “ذمہ دار عالمی نگہبان” سمجھتے ہوئے یہ فیصلہ کریں کہ کہاں مداخلت ضروری ہے اور کہاں خاموشی بہتر۔ اس فریم ورک میں طاقتور ممالک منصف ہوتے ہیں، کمزور ممالک مجرم۔
پاکستان اگر اس بورڈ کا حصہ بنتا ہے تو بلاشبہ اسے چند فوری سفارتی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر ایک نرم امیج، دہشت گردی کے بیانیے سے وقتی نجات، اور ممکنہ طور پر کچھ مالی و تکنیکی تعاون۔ مگر تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ عارضی ادھار کے فوائد قوموں کی غیرت اور آزادی کی قیمت مانگتے ہیں۔
اصل خطرہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں “امن کی نگرانی” آہستہ آہستہ کمزور اور وسائل سے بھرے ممالک کی داخلی خودمختاری کی نگرانی میں بدل جاتی ہے۔ جب بیرونی فورمز یہ طے کرنے لگیں کہ انتہاپسندی کیا ہے، بیانیہ کیسا ہونا چاہیے، نصاب میں کیا پڑھایا جائے اور میڈیا کس حد تک آزاد ہو ، تو ریاست آزاد دکھائی دیتی ہے، مگر فیصلے غلام ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں سب سے حساس پہلو کشمیر ہے۔ بورڈ آف پیس جیسے پلیٹ فارمز اکثر تنازعات کو سیاسی جدوجہد کے بجائے “امن و امان” یا “انسانی مسئلہ” بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس عمل میں اصل تنازع غیر نمایاں ہو جاتا ہے اور مظلوم فریق کی آواز محض ایک کیس اسٹڈی بن کر رہ جاتی ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں امن، انصاف پر سبقت لے لیتا ہے، اور یہی سب سے بڑا ظلم ہوتا ہے۔
داخلی سطح پر بھی اس کے اثرات معمولی نہیں ہوں گے۔ پاکستانی معاشرہ اپنی مذہبی، ثقافتی اور نظریاتی ساخت کے ساتھ پہلے ہی حساس اور دباؤ کا شکار ہے۔ اگر “امن کے خود ساختہ عالمی معیارات” کو بغیر مذہبی مقامی سیاق کے لاگو کیا گیا، مثلاً توہین رسالت اور ختم نبوت جیسے متفقہ قانون کو تبدیل کرنے اور ٹرانسجنڈر جیسے ناپاک قانون کو بڑھاوا دینے کی کوشش کی گئی تو ریاست اور عوام کے درمیان ایک نئی خلیج پیدا ہو جائیگی، ایسی خلیج جسے پُر کرنا کسی بورڈ کے بس کی بات نہیں ہوگی۔
چین کے ساتھ دیرینہ تعلقات کے تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد اعتماد کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ ایسے فورمز جن کی سمت واضح طور پر مغربی بیانیے کے گرد گھومتی ہو، وہاں اندھا دھند شمولیت پاکستان کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کر سکتی ہے جہاں ہر قدم حساب مانگے اور ہر خاموشی وضاحت۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں شامل ہو یا نہ ہو۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا پاکستان کے پاس اپنا واضح تصورِ امن موجود ہے؟
جب تک ہم خود یہ طے نہیں کریں گے کہ:
ہمارا امن کیسا ہو گا
ہماری ترجیحات کیا ہیں
اور ہماری سرخ لکیریں کہاں ہیں
تب تک ہر عالمی فورم ہمیں امن کم، ہدایات زیادہ دے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ امن باہر سے درآمد نہیں ہوتا۔امن ریاست کے اندر سے جنم لیتا ہے ،سیاسی استحکام، معاشی خودداری اور صراط مستقیم سے۔
ورنہ تاریخ گواہ ہے:ہر “بورڈ آف پیس”آخرکار فیصلوں کا بورڈ بن جاتا ہے ،اور فیصلے ہمیشہ وہی کرتے ہیں جن کے ہاتھ میں طاقت ہو۔
✍️علی عمران

🔥 *گل پلازہ کی آگ ,  راکھ میں دفن خواب* کراچی کے دل، صدر کے مصروف تجارتی مرکز گل پلازہ میں اچانک بھڑکنے والی آگ نے صرف ا...
21/01/2026

🔥 *گل پلازہ کی آگ , راکھ میں دفن خواب*
کراچی کے دل، صدر کے مصروف تجارتی مرکز گل پلازہ میں اچانک بھڑکنے والی آگ نے صرف ایک عمارت کو نہیں، بلکہ درجنوں خاندانوں کے خواب، محنت اور رزق کو بھی جلا کر رکھ دیا۔ ایک لمحے میں وہ بازار، جو دن رات انسانوں کے شور، روشنیوں اور امیدوں سے گونجتا تھا، راکھ اور دھوئیں میں تبدیل ہوگیا۔
آگ نے صرف دکانوں کا سامان نہیں جلایا، بلکہ ان محنت کشوں کا مستقبل بھی سیاہ کر دیا جنہوں نے برسوں کی مشقت سے اپنی پہچان بنائی تھی۔ کوئی کپڑوں کا تاجر تھا، کوئی جوس والا، کوئی وہ جو صبح سے شام تک ایک دن کی مزدوری کے خواب بُن کر جاتا تھا، مگر صبح جب لوٹی، سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔
یہ سانحہ ہمیں ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے

کہ شہر کی مصروف گزرگاہوں میں حفاظت کے انتظامات کہاں ہیں؟

فائر بریگیڈ کو پہنچنے میں دیر کیوں لگی؟

کون جواب دے گا اُن آنکھوں کو جو صبح روزی کے لیے نکلے تھے اور شام کو اپنے خوابوں کی راکھ اٹھاتے گھر لوٹے؟

پاکستان کے شہری مراکز میں ایسے حادثے اب معمول بنتے جا رہے ہیں، مگر ہر واقعے کے بعد صرف افسوس ہوتا ہے، کوئی ٹھوس قدم نہیں۔ جب تک ہم آگ لگنے کے بعد آنسو بہانے کے بجائے، آگ لگنے سے پہلے اقدامات نہیں کریں گے، تب تک یہ دھواں ہماری اجتماعی غفلت کا گواہ بنتا رہے گا۔

گل پلازہ کی راکھ ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے:

"زندگی کے بازار میں سب سے قیمتی شے انسان کی جان ہے , اور اسے محفوظ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے"

علی عمران

Learn AiOpen ai platform and paste following prompt and see magic. Use your mind and Chang the prompt according to you. ...
23/11/2025

Learn Ai
Open ai platform and paste following prompt and see magic. Use your mind and Chang the prompt according to you.
Now enjoy your time.

        Prompt in comment
20/11/2025



Prompt in comment

          Prompt in comment
20/11/2025



Prompt in comment

(توہینِ عدالت)اپنی توہین پہ بھی چُپ ہیں عدالت والے کِس سے فریاد کریں جا کے شرافت والےظُلم کا نام زمانے میں کہِیں بھی نہ ...
19/11/2025

(توہینِ عدالت)

اپنی توہین پہ بھی چُپ ہیں عدالت والے
کِس سے فریاد کریں جا کے شرافت والے

ظُلم کا نام زمانے میں کہِیں بھی نہ رہے
ایک ہو جائیں جو دُنیا میں مُحبّت والے

چند شیطان ہیں کروڑوں پہ مُسلّط جالبؔ
ایسے جینے سے تو مر جائیں شرافت والے

(شاعرِ انقلاب)
حبیب جالبؔ ¹⁹⁹³-¹⁹²⁸
مجموعۂ کلام :
(ذکر بہتے خون کا)

       Prompt in first comment
19/11/2025






Prompt in first comment

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when imraniyaat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to imraniyaat:

Share