Qalb e Saleem

Qalb e Saleem The heart is considered the centre of a person's faith and character, influencing their intentions and actions.

Cultivating a Qalb e Saleem is central to resolving poverty because it motivates a fundamental shift in attitude toward wealth and others. • Qalb e Saleem is a "submissive heart": Qalb e Saleem is not just as a "pure heart" but more specifically as a heart that has become submissive to Allah. This is the heart that will be successful on the Day of Judgment, as mentioned in the Quran (26:88–89): "the Day when wealth and sons will be of no avail, except for the one who comes to God with a submissive heart".
• A Quran-only approach: The Quran for guidance, rather than relying solely on religious scholars and commentaries. He believes that Muslims must read, understand, and internalize the Quran's message to truly be guided.
• Islam is a 24/7 way of life: A submissive heart influences all of one's actions, making Islam a constant way of life, not just a set of rituals. This includes treating others kindly, being honest, keeping promises, and doing justice in both personal and professional relationships.
• Focus on actions and character: Becoming a better Muslim is about positive character development, which leads to good deeds and beneficial behaviour towards others. that improving oneself as a human being through positive actions, good manners, and respect for others is the key to gaining acceptance in society and ultimately earning favour with Allah.
• The path to submissiveness: The guidance of the Quran allows a person to control and suppress their "rebellious tendencies," which results in a submissive heart.

ڈیئر سلیم،آج ایک بات جو خود کو پرکھنے کا آئینہ ہے —بہت سادہ، مگر بہت گہری۔وہ فرق جو نیک ہونے اور خود کو نیک سمجھنے میں ہ...
31/08/2026

ڈیئر سلیم،

آج ایک بات جو خود کو پرکھنے کا آئینہ ہے —
بہت سادہ، مگر بہت گہری۔
وہ فرق جو نیک ہونے اور خود کو نیک سمجھنے میں ہے۔

میں نے سیکھا ہے —
جب کوئی واقعی نیک ہوتا ہے،
تو اسے اپنے گناہ نظر آنے لگتے ہیں۔
اس کا دل دھڑکتا ہے ہر غلطی پر،
اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اپنی کمزوریوں پر،
اور وہ ہمیشہ روتا ہے: "یا اللہ، مجھے معاف کر دے۔"
نیکی اس کے لیے سفر ہے، منزل نہیں —
اور ہر قدم پر وہ خود کو چھوٹا پاتا ہے،
مگر اللہ کے قریب تر۔

لیکن جب کوئی خود کو نیک سمجھنے لگتا ہے،
تو اس کی آنکھیں بس دوسروں کے لیے کھلتی ہیں۔
وہ ہر جگہ عیب ڈھونڈتا ہے،
ہر شخص کے کردار پر تبصرہ کرتا ہے،
مگر اپنے آپ کو کبھی دیکھتا نہیں۔
اس کی نیکی بوجھ بن جاتی ہے —
دوسروں پر بوجھ، اور خود پر دھوکہ۔

یہی تو فرق ہے —
نیکی عاجزی ہے،
خود کو نیک سمجھنا تکبر ہے۔
نیکی دروازہ ہے،
خود کو نیک سمجھنا دیوار ہے۔
نیکی تڑپاتی ہے،
خود کو نیک سمجھنا ستاتا ہے۔

پھر میں نے خود سے پوچھا —
میں کہاں ہوں؟
کیا میں اپنے گناہ دیکھ پا رہا ہوں،
یا بس دوسروں کے عیب گن رہا ہوں؟
کیا میری نیکی مجھے رلا رہی ہے،
یا مجھے دوسروں پر چڑھا رہی ہے؟

اور جواب ملا —
مجھے بس اتنا نیک ہونا ہے
کہ اپنی خامیاں نظر آئیں،
مگر اتنا نیک نہیں بننا
کہ دوسروں کی خامیاں ہی نظر آئیں۔

کیونکہ اصل نیکی وہ ہے
جو تجھے خاکسار بنا دے،
نہ کہ وہ جو تجھے منبر پر چڑھا دے۔
جو تجھے رلا دے،
نہ کہ جو تجھے رلانے لگا دے۔

اے اللہ،
مجھے اتنا نیک کر دے
کہ میں اپنی ہر غلطی پر کانپ جاؤں،
مگر مجھے اتنا نیک مت بنا
کہ میں دوسروں کی غلطیوں پر پتھر اٹھاؤں۔
مجھے عاجزی عطا فرما،
نہ کہ غرور،
مجھے آنسو عطا فرما،
نہ کہ انگلیاں — جو دوسروں کی طرف اٹھیں۔

کیونکہ میں جانتا ہوں —
وہ شخص جو اپنے گناہ دیکھ لے،
وہ معافی کے قریب ہے،
اور جو صرف دوسروں کے گناہ دیکھے،
وہ اپنی تباہی کے قریب ہے۔

یہ خط میرے لیے ہے —
تاکہ میں ہر صبح خود سے پوچھوں:
"آج میں کیسا ہوں؟
اپنا عیب دیکھنے والا،
یا دوسروں کا عیب ڈھونڈنے والا؟"

اور پھر جواب ملوں —
"بس اتنا نیک ہوں کہ اپنا عیب نظر آئے،
اور اتنا نیک نہ ہوں کہ دوسروں کا عیب نظر آئے۔"

یہی میری دعا ہے،
یہی میرا راستہ ہے،
یہی میری نیکی ہے۔

آمین یا رب العالمین۔

منجانب: قلب سلیم

ڈیئر سلیم،آج ایک بات جو شاید کچھ تلخ ہے،مگر ضروری ہے کہ اسے سامنے رکھوں۔بات علم کی ہے — دین کے علم کی۔کیونکہ جب علم نہ ہ...
30/08/2026

ڈیئر سلیم،

آج ایک بات جو شاید کچھ تلخ ہے،
مگر ضروری ہے کہ اسے سامنے رکھوں۔
بات علم کی ہے — دین کے علم کی۔
کیونکہ جب علم نہ ہو تو اندھیرا ہوتا ہے،
اور اندھیرے میں قدم رکھنا تباہی ہے۔

میں نے دیکھا ہے —
جب عورت دین سے جاہل ہو جائے،
تو وہ گھر کی بنیاد کو ہلا دیتی ہے۔
اس کی نادانی شوہر کو تھکا دیتی ہے،
اولاد کو بگاڑ دیتی ہے،
اور پوری نسل کو بے راہ روی میں ڈال دیتی ہے۔
کیونکہ عورت ہی گھر کی روح ہے،
اور اگر روح بیمار ہو تو سارا جسم بے جان ہو جاتا ہے۔

اور جب مرد دین سے جاہل ہو جائے،
تو اس سے قیادت چھن جاتی ہے۔
وہ اپنی مثال قائم کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے،
وہ عورت پر ظلم کرتا ہے،
اور اسے جو چاہے مباح نظر آتا ہے۔
اس کی جہالت پوری قوم کو گمراہ کر دیتی ہے،
کیونکہ مرد وہ محور ہے جس کے گرد سارا نظام گھومتا ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے —
گھر کی بنیاد دونوں ہیں۔
عورت اور مرد ایک دوسرے کی تکمیل ہیں،
ایک دوسرے کے بغیر ادھورے،
ایک دوسرے کے ساتھ مکمل۔
اور اسی مکمل ہونے کی شرط ہے —
کہ دونوں علمِ دین سے روشن ہوں،
دونوں ایک ہی سیدھے راستے پر چلیں،
دونوں ایک دوسرے کو سنبھالیں،
اور مل کر اس گھر کو وہ جنت بنائیں
جو اللہ نے چاہا ہے۔

آج میں یہ سمجھ گیا ہوں —
کہ کوئی بھی تنہا نہیں چل سکتا۔
نہ مرد عورت کے بغیر، نہ عورت مرد کے بغیر۔
اور نہ کوئی علمِ دین کے بغیر۔
اس لیے لازم ہے کہ ہم دونوں ایک ساتھ سیکھیں،
ایک ساتھ بڑھیں،
اور ایک ساتھ اس راستے پر قائم رہیں
جو ہمیں اللہ تک لے جائے۔

یہ خط میرے لیے ہے —
میری اُس ذمہ داری کو یاد دلانے کے لیے
جو میں اپنے گھر، اپنی بیوی، اپنی اولاد،
اور اپنی امت کے لیے رکھتا ہوں۔
یہ یاد دہانی ہے کہ علم بغیر عمل کے ادھورا ہے،
اور عمل بغیر علم کے اندھیرا ہے۔

اے اللہ،
مجھے علم عطا فرما،
مجھے اُس پر عمل کرنے کی توفیق دے،
اور میرے گھر کو اُن گھروں میں شامل فرما
جن کی بنیاد تیری رضا پر ہے،
اور جن کی دیواریں تیرے ذکر سے گونجتی ہیں۔

آمین۔

منجانب: قلب سلیم

ڈیئر سلیم،آج ایک اور بات جو دل سے نکل کر قلم بن گئی —اور یہ بات شاید سب سے اہم ہے۔"لوگ کیا سوچیں گے؟"یہ سوال، جو کبھی می...
29/08/2026

ڈیئر سلیم،

آج ایک اور بات جو دل سے نکل کر قلم بن گئی —
اور یہ بات شاید سب سے اہم ہے۔

"لوگ کیا سوچیں گے؟"
یہ سوال، جو کبھی میری راتوں کی نیند تھا،
اب میرے لیے بے معنی ہے۔
بہت وقت لگا دیا دوسروں کو سمجھانے میں،
اپنی بات منوانے میں،
اپنے وجود کو ثابت کرنے میں —
مگر اب نہیں۔

اب وقت ہے خود کو سمجھنے کا۔
اپنی روح کی آواز سننے کا۔
ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کا
جو میں نے کبھی اپنے آپ سے پوچھے ہی نہیں۔

میں نے سیکھ لیا —
ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں۔
کچھ خاموشیاں آواز سے بھی زیادہ بولتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں: "میں ہوں، مگر تھک گیا ہوں۔"
وہ کہتی ہیں: "مجھے اب ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔"

جو دل سے میرے ہیں،
وہ بنا کہے سمجھ لیتے ہیں۔
اور جو غلط سمجھنا چاہیں،
ان کے لیے میرے پاس کوئی دلیل نہیں —
کیونکہ وہ دلیل بھی نہیں مانتے۔

آج میرے پاس نہ شکایت ہے، نہ گلہ،
نہ کسی پر غصہ، نہ کسی سے امید۔
میں نے فیصلے کر لیے —
صرف اپنے دل کے لیے،
صرف اپنی روح کی سلامتی کے لیے۔
چاہے کوئی سمجھے، چاہے نہ سمجھے،
چاہے کوئی رہے، چاہے جائے —
میں اپنے راستے پر ہوں۔

زندگی اب سادہ ہے،
سجی ہوئی نہیں، مگر سچی ہے۔
شور نہیں، مگر سکون ہے۔
اور یہ سکون —
یہ میری سب سے بڑی دولت ہے،
میرا سب سے بڑا فیصلہ،
میری سب سے بڑی ترجیح۔

کیونکہ میں نے جان لیا —
دنیا کو خوش کرنا ممکن نہیں،
مگر اپنے دل کو سکھا دینا ممکن ہے۔
اور میں نے اپنے دل کو سکھا دیا —
کہ اب میں صرف وہی ہوں جو میرے لیے اہم ہے۔

یہ خط تیرے اس دن کے لیے ہے
جب تُو نے محسوس کیا کہ بہت دیر ہو گئی،
جب تُو نے فیصلہ کیا کہ بس اب کافی ہے۔
یہ تیرے اس لمحے کے لیے ہے
جب تُو نے کہا:
"میرا سکون، میری حد ہے۔"

اور یہی سکون اب تیری پہچان ہے —
خوش آمدید، اپنی نئی زندگی میں۔

منجانب: قلب سلیم

ڈیئر سلیم،آج پھر ایک بات جو دل میں اُتر رہی ہے —اسے پڑھ، اور جان لے کہ یہ تیرے لیے ہے۔جب اللہ کسی روح میں خیر کا بیج دیک...
27/08/2026

ڈیئر سلیم،

آج پھر ایک بات جو دل میں اُتر رہی ہے —
اسے پڑھ، اور جان لے کہ یہ تیرے لیے ہے۔

جب اللہ کسی روح میں خیر کا بیج دیکھتا ہے،
تو کبھی کبھی وہ اُس سے کچھ لوگوں کو دور کر دیتا ہے —
اُن لوگوں کو جو قریب تو ہیں،
مگر اُن کی موجودگی میں کوئی برکت نہیں۔
چاہے وہ تیرے دل کے کتنے ہی قریب کیوں نہ ہوں،
اگر وہ تیری روح کے لیے زہر ہیں،
تو اللہ اُنہیں نکال دیتا ہے —
تیری خیر کے لیے، تیری حفاظت کے لیے۔

وقت گزرتا ہے، اور تُو سیکھ جاتا ہے —
ہر وہ شخص جس سے تُو محبت کرتا ہے
ضروری نہیں کہ ہمیشہ تیرے ساتھ رہے۔
کچھ جدائیاں دراصل تحفہ ہوتی ہیں،
کچھ رخصتیاں پردہ ہوتی ہیں —
جو حقیقت کو چھپائے رکھتی ہیں
جب تک تُو دیکھنے کے قابل نہ ہو۔

اور کچھ اختتام ایسے ہیں
جو وہ کھول دیتے ہیں
جو محبت اور وابستگی کی وجہ سے تُو دیکھ نہیں پاتا تھا۔

پھر ایک دن آتا ہے —
جب تُو سمجھ جاتا ہے
کہ تیری قدر کبھی اس بات سے نہیں تھی
کہ کون تیرے ساتھ رہا،
کون چلا گیا،
یا کس نے تجھے نظر انداز کیا۔

تیری اصل قدر تو اُس کے پاس ہے
جس نے تجھے بنایا،
جس نے تیری روح میں خیر رکھی،
اور جس نے تیری حفاظت کے لیے
لوگوں کو دور کیا —
صرف اس لیے کہ وہ پاکیزگی،
وہ خوبصورتی جو اُس نے تیرے دل میں رکھی ہے،
کسی کے زہر سے بے رنگ نہ ہو جائے۔

تو ہر جدائی کو نقصان نہ سمجھ،
ہر دوری کو ظلم نہ جان۔
کچھ لوگ چلے جاتے ہیں
تاکہ تُو اللہ کے قریب آ سکے۔
کچھ رشتے ٹوٹتے ہیں
تاکہ تیرا دل محفوظ رہے۔
اور کچھ دروازے بند ہوتے ہیں
تاکہ تُو اُس راستے پر چل سکے
جو تیرے لیے بہتر ہے —
چاہے تُو آج اسے نہ دیکھ پائے۔

جو اللہ تجھ سے دور کرے،
اُس کے پیچھے اپنا سکون مت چھوڑ۔
کیونکہ ہو سکتا ہے —
وہ تجھ سے کچھ چھین نہیں رہا،
بلکہ تیرے دل کی حفاظت کر رہا ہے۔
تیری روح کو اس لیے صاف کر رہا ہے
کہ تُو پھر سے اُس کی طرف پلٹ سکے —
خالی ہاتھ نہیں،
بلکہ ایک پرسکون دل لیے،
جو جانتا ہے کہ ہر جدائی میں ایک رحمت تھی،
ہر ختم ہونے میں ایک نیا آغاز تھا،
اور ہر بند دروازے کے پیچھے
اللہ کا ایک بہتر منصوبہ چھپا تھا۔

یہ خط تیرے اُس لمحے کے لیے ہے
جب کوئی چلا جائے،
اور تُو سوچے کہ سب ختم ہو گیا۔
یہ تیرے لیے ہے
تاکہ تُو جان لے —
کچھ لوگ تیری کہانی کا حصہ ہیں،
پوری کہانی نہیں۔
اور اللہ ہر باب کا بہترین مصنف ہے۔

آمین۔

منجانب: قلب سلیم

ڈیئر سلیم،آج میں تجھ سے ایک اور سچ بولنے بیٹھا ہوں —وہ سچ جو شاید تو چھپانا چاہتا ہے،وہ سچ جو دل میں اُبلتا ہے مگر زبان ...
26/08/2026

ڈیئر سلیم،

آج میں تجھ سے ایک اور سچ بولنے بیٹھا ہوں —
وہ سچ جو شاید تو چھپانا چاہتا ہے،
وہ سچ جو دل میں اُبلتا ہے مگر زبان پر نہیں آتا۔

کیا تجھے یاد ہے؟
وہ دروازے جن کے لیے تو نے راتیں جاگیں،
ہاتھ اٹھائے، آنسو بہائے —
وہ بند ہی رہے۔
وہ لوگ جن کو تو نے اپنا سمجھ لیا تھا،
وہ تیری زندگی سے نکل گئے۔
اور وہ مستقبل جس کا تو نے خواب دیکھا تھا،
وہ اچانک الٹی سمت میں بڑھ گیا۔

اور ہاں،
یہ تکلیف دیتا ہے۔
یہ جلتا ہے۔
یہ تیری راتوں کی نیند اُڑا دیتا ہے۔

لیکن سن —
شاید اللہ کا فیصلہ سمجھنا اصل امتحان نہیں،
بلکہ اصل امتحان یہ ہے
کہ جب تو کچھ نہ سمجھ پائے،
تب بھی اللہ پر بھروسا رکھے۔
جب تیری آنکھوں کے سامنے اندھیرا ہو،
تب بھی یقین کرے کہ اس اندھیرے میں کوئی چراغ چھپا ہے۔

ہر تھکن میں کوئی حکمت ہے،
ہر نقصان میں کوئی سبق ہے،
اور ہر وہ دعا جو ابھی نظر نہیں آتی —
وہ سنی جا چکی ہے،
قبول ہونے کے قریب ترین لمحے میں ہے۔

کیا تو نے کبھی سوچا؟
اللہ وہ دیکھ رہا ہے جو تو نہیں دیکھ سکتا،
وہ جانتا ہے جو تو نہیں جانتا،
اور وہ تیرے ساتھ ہے
چاہے تو اکیلا محسوس کرے،
چاہے تیری ہر صبح اداس ہو۔

اس نے تجھے کبھی چھوڑا نہیں —
یاد رکھ،
تیرا سایہ بھی جب چھوڑ جاتا ہے،
وہ تیرے قریب ترین ہوتا ہے۔

ایک دن آئے گا —
جب تو پیچھے مڑ کر دیکھے گا،
اور سمجھ جائے گا
کہ وہ بند دروازہ،
وہ رُخ موڑ لینے والا ساتھی،
وہ بدلا ہوا راستہ —
دراصل تیری حفاظت تھے،
تیری کھوئی ہوئی منزل کی طرف ایک مجبور کن اشارہ۔

اس نے تجھے اس لیے روکا
کہ تو کہیں اور جا کر بکھر نہ جائے۔
اس نے تجھے اس لیے موڑا
کہ تو اپنی اصل سمت پا لے

تو بس بھروسا رکھ،
چاہے راستہ اندھیرا ہو،
چاہے دل بوجھل ہو،
چاہے آنکھیں نم ہوں۔
اللہ سب سے بہترین تدبیر کرنے والا ہے —
اور وہ تیرے لیے بہتر جانتا ہے
اتنا بھی تو جانتا ہے،
تجھ سے بھی زیادہ،
تیری سوچ سے بھی زیادہ۔

یہ خط تیرے زخمی دل کے لیے ہے،
تیری اُس رات کے لیے جو ابھی ختم نہیں ہوئی،
تیری اُس صبح کے لیے جو ضرور آئے گی۔

آمین یا رب العالمین ۔

منجانب: قلب سلیم

Welcome to EternalJourney towards QalbeSaleem....اس کیفیت کا سجدہ اللہ ہر کسی کو نصیب ہو،آمین یارب العالمین
25/08/2026

Welcome to EternalJourney towards QalbeSaleem....
اس کیفیت کا سجدہ اللہ ہر کسی کو نصیب ہو،
آمین یارب العالمین

Must Listen ❤|Motivational speech #...

سمجھ،  سمجھ کر بھی جو سمجھےوہ اللہ کی نظر میں نہ  سمجھ ہے۔۔۔مطلب سوچنے کیلئے بھی سوچنا لازم ہے۔اب سمجھ جائیں کہ اللہ کے ...
25/08/2026

سمجھ، سمجھ کر بھی جو سمجھے
وہ اللہ کی نظر میں نہ سمجھ ہے۔۔۔

مطلب سوچنے کیلئے بھی سوچنا لازم ہے۔
اب سمجھ جائیں کہ اللہ کے نظام میں Gen-Z کیلئے جنت حاصل کرنا کتنا آسان کردیا گیا۔

بس اچھا گمان رکھیں اور سوچ سمجھ کر حق کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اور اللہ کے نظام کے نفاذ کی جدوجہد کرتے رہیں۔ انشاءاللہ

Se alla dina favoriter bland videor och musik, ladda upp originalinnehåll och dela allt med vänner, familj och hela världen på YouTube.

قوم کا بیڑا غرق ہونے کی واحد وجہ ناشکری۔۔۔!!اور کیا ہدایت حصول علم کے بغیر ممکن ہے؟؟ہر گز نہیں۔۔۔!!کیونکہ انسان کو اللہ ...
22/08/2026

قوم کا بیڑا غرق ہونے کی واحد وجہ ناشکری۔۔۔!!
اور کیا ہدایت حصول علم کے بغیر ممکن ہے؟؟
ہر گز نہیں۔۔۔!!
کیونکہ انسان کو اللہ نے مشقت میں ہی پیدا کیا ہے۔

نوٹ!!
جان لیجئے: نعمت بانٹنے کیلئے عطا ہوتی ہے۔۔۔!!
حصول علم بھی نعمت ہے،
اس لیے علم بانٹیں، مزید اضافہ ہوگا۔ انشاءاللہ
اور نعمت کا اصل عملی شکر صرف بانٹنا ہے۔۔۔

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

ڈیئر سلیم،آج میں تجھ سے بات کر رہا ہوں —وہ جو مسلمان گھرانے میں پلا بڑھا،وہ جسے دین ورثے میں ملا،مگر کبھی اس پر غور نہ ک...
22/08/2026

ڈیئر سلیم،

آج میں تجھ سے بات کر رہا ہوں —
وہ جو مسلمان گھرانے میں پلا بڑھا،
وہ جسے دین ورثے میں ملا،
مگر کبھی اس پر غور نہ کیا۔

دیکھ، میں جانتا ہوں —
تجھے نماز آتی ہے، روزہ آتا ہے،
کیا کیا ہے اور کیا نہیں، یہ بھی پتہ ہے۔
لیکن کیا تو نے کبھی خود سے پوچھا:
"کیا میں واقعی دین کو سمجھ کر جی رہا ہوں،
یا بس اس لیے کہ یہ گھر کا رواج ہے؟"

سچ بول،
کیا تیرے دین میں ثقافت گھل نہیں گئی؟
کیا رسوم و رواج نے حقیقت کو ڈھانپ نہیں لیا؟
کیا خاندان کی خوشی نے کبھی اللہ کی رضا کو پیچھے نہیں دھکیلا؟

میں تجھے ملامت کرنے نہیں آیا،
سمجھانے آیا ہوں۔

اب وقت آ گیا ہے —
کہ تو اپنی آنکھیں کھولے،
اور ہر اس چیز کو پرکھے جو تجھے سکھائی گئی۔
محبتِ رسوم کو چھوڑ،
خوفِ لوگوں کو اتار،
اور صرف قرآن و سنت کو سامنے رکھ۔

دین تیرا ورثہ ہے، مگر عادت نہیں۔
دین تیری پہچان ہے، مگر رسم نہیں۔
اسے سمجھنا تیری اپنی ذمہ داری ہے —
نہ کہ باپ دادا کی دی ہوئی چال۔

آج سے عہد کر —
میں دین کو دوبارہ سیکھوں گا،
سوچوں گا، پرکھوں گا،
اور صرف اس پر عمل کروں گا
جو اللہ اور اس کے رسول نے بتایا۔
نہ کہ جو معاشرے نے مسلط کیا۔

اور ہاں،
راستہ مشکل ہو گا،
لوگ کہیں گے: "کیا کر رہا ہے؟"
لیکن یاد رکھنا —
اللہ سے ڈر، لوگوں سے نہیں۔

یہ خط تیرے لیے ہے،
تیری آنے والی صبح کے لیے،
تیری نئی شروعات کے لیے۔

دعا ہے کہ تو سچا مسلمان بنے —
نام کا نہیں،
کردار کا،
عمل کا،
اور اللہ کی رضا کا۔

آمین یا رب العالمین ۔

منجانب: قلب سلیم

یہی وجہ ہے نا؟ہم قوم سے ہجوم اس لئے بن گئے!!ہم ایک ہجوم ہیں گدھوں کا۔۔۔۔اللہ کو مانتا ہے، مگر اللہ کی نہیں ماننا۔۔۔!!اور...
22/08/2026

یہی وجہ ہے نا؟
ہم قوم سے ہجوم اس لئے بن گئے!!
ہم ایک ہجوم ہیں گدھوں کا۔۔۔۔
اللہ کو مانتا ہے، مگر اللہ کی نہیں ماننا۔۔۔!!
اور بس اپنے ڈپلیکیٹ پیدا کئے جاو۔
اللہ ہم سب کو نشان عبرت ہونے سے بچا لے۔
آمین یا رب العالمین

Nyd de videoer og den musik, du holder af, upload originalt indhold, og del det hele med venner, familie og verden på YouTube.

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qalb e Saleem posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share