31/08/2026
ڈیئر سلیم،
آج ایک بات جو خود کو پرکھنے کا آئینہ ہے —
بہت سادہ، مگر بہت گہری۔
وہ فرق جو نیک ہونے اور خود کو نیک سمجھنے میں ہے۔
میں نے سیکھا ہے —
جب کوئی واقعی نیک ہوتا ہے،
تو اسے اپنے گناہ نظر آنے لگتے ہیں۔
اس کا دل دھڑکتا ہے ہر غلطی پر،
اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اپنی کمزوریوں پر،
اور وہ ہمیشہ روتا ہے: "یا اللہ، مجھے معاف کر دے۔"
نیکی اس کے لیے سفر ہے، منزل نہیں —
اور ہر قدم پر وہ خود کو چھوٹا پاتا ہے،
مگر اللہ کے قریب تر۔
لیکن جب کوئی خود کو نیک سمجھنے لگتا ہے،
تو اس کی آنکھیں بس دوسروں کے لیے کھلتی ہیں۔
وہ ہر جگہ عیب ڈھونڈتا ہے،
ہر شخص کے کردار پر تبصرہ کرتا ہے،
مگر اپنے آپ کو کبھی دیکھتا نہیں۔
اس کی نیکی بوجھ بن جاتی ہے —
دوسروں پر بوجھ، اور خود پر دھوکہ۔
یہی تو فرق ہے —
نیکی عاجزی ہے،
خود کو نیک سمجھنا تکبر ہے۔
نیکی دروازہ ہے،
خود کو نیک سمجھنا دیوار ہے۔
نیکی تڑپاتی ہے،
خود کو نیک سمجھنا ستاتا ہے۔
پھر میں نے خود سے پوچھا —
میں کہاں ہوں؟
کیا میں اپنے گناہ دیکھ پا رہا ہوں،
یا بس دوسروں کے عیب گن رہا ہوں؟
کیا میری نیکی مجھے رلا رہی ہے،
یا مجھے دوسروں پر چڑھا رہی ہے؟
اور جواب ملا —
مجھے بس اتنا نیک ہونا ہے
کہ اپنی خامیاں نظر آئیں،
مگر اتنا نیک نہیں بننا
کہ دوسروں کی خامیاں ہی نظر آئیں۔
کیونکہ اصل نیکی وہ ہے
جو تجھے خاکسار بنا دے،
نہ کہ وہ جو تجھے منبر پر چڑھا دے۔
جو تجھے رلا دے،
نہ کہ جو تجھے رلانے لگا دے۔
اے اللہ،
مجھے اتنا نیک کر دے
کہ میں اپنی ہر غلطی پر کانپ جاؤں،
مگر مجھے اتنا نیک مت بنا
کہ میں دوسروں کی غلطیوں پر پتھر اٹھاؤں۔
مجھے عاجزی عطا فرما،
نہ کہ غرور،
مجھے آنسو عطا فرما،
نہ کہ انگلیاں — جو دوسروں کی طرف اٹھیں۔
کیونکہ میں جانتا ہوں —
وہ شخص جو اپنے گناہ دیکھ لے،
وہ معافی کے قریب ہے،
اور جو صرف دوسروں کے گناہ دیکھے،
وہ اپنی تباہی کے قریب ہے۔
یہ خط میرے لیے ہے —
تاکہ میں ہر صبح خود سے پوچھوں:
"آج میں کیسا ہوں؟
اپنا عیب دیکھنے والا،
یا دوسروں کا عیب ڈھونڈنے والا؟"
اور پھر جواب ملوں —
"بس اتنا نیک ہوں کہ اپنا عیب نظر آئے،
اور اتنا نیک نہ ہوں کہ دوسروں کا عیب نظر آئے۔"
یہی میری دعا ہے،
یہی میرا راستہ ہے،
یہی میری نیکی ہے۔
آمین یا رب العالمین۔
منجانب: قلب سلیم