The Facts Daily Time

  • Home
  • The Facts Daily Time

The Facts Daily Time The facts Daily Times Watch with SARDAR NOMAN KHAN .
(2)

National international News topics With Facts | With Different Political Party Representatives |Climate Change | Tourism | Business | social work |please Subscribe Facebook Instagram youtube Thanks

06/02/2026

شناختی کارڈ اور ذاتی معلومات (NADRA)

8000: شناختی کارڈ کی تصدیق (CNIC Verification)
668: نام پر رجسٹرڈ سموں کی تعداد جاننا
8300: ووٹ کی معلومات اور پولنگ اسٹیشن
8001: فیملی شجرہ کی تصدیق (Family Tree)
8008: شناختی کارڈ کی ایکسپائری ڈیٹ چیک کرنا
8005: قریبی نادرا سینٹر کا پتہ معلوم کرنا

گاڑی کی تصدیق (Excise / Vehicle Verification)

8149: پنجاب گاڑی کی رجسٹریشن چیک کریں
8521: اسلام آباد گاڑی کی رجسٹریشن

ڈراہوینگ لاسنس کی تصدیق ( Driving Licence Verification)

8147: پنجاب ڈرائیونگ لائسنس کی تصدیق
6040: سندھ ڈرائیونگ لائسنس کی تصدیق

پاسپورٹ کی تصدیق ( Passport Verification)

9988: پاسپورٹ بننے کی صورتحال (Passport Status)

مالی امداد اور صحت (Govt Schemes)

8171: بے نظیر انکم سپورٹ / احساس پروگرام میں اہلیت
8500: صحت کارڈ کی اہلیت اور ہسپتال کی معلومات
8123: مفت راشن پروگرام میں رجسٹریشن
8900: وزیراعظم یوتھ لون پروگرام کی اہلیت

موبائل اور انٹرنیٹ (PTA)

8484: موبائل فون کی پی ٹی اے (PTA) سے تصدیق
* #06 #: اپنے موبائل کا IMEI نمبر معلوم کرنا
667: سم کس کے نام پر ہے؟ (سم سے 'MNP' لکھ کر بھیجیں)

ہنگامی حالات اور شکایات (Emergency)

15: پولیس مدد (Police Help)
1122: ایمبولینس اور فائر بریگیڈ
130: موٹروے پولیس ہیلپ لائن
1991: سائبر کرائم (آن لائن فراڈ) کی شکایت (FIA)
1033: اینٹی کرپشن ہیلپ لائن

05/02/2026

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر و سینئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی سردار تنویر الیاس خان کا یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پیپلز سیکرٹیریٹ اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب

مسئلہ کشمیر اور آزاد کشمیر کی قیادت — تلخ حقیقت اور کھوئے ہوئے مواقعتحریر: سردار نعمان خانمسئلہ کشمیر صرف ایک سیاسی تناز...
05/02/2026

مسئلہ کشمیر اور آزاد کشمیر کی قیادت — تلخ حقیقت اور کھوئے ہوئے مواقع
تحریر: سردار نعمان خان
مسئلہ کشمیر صرف ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ لاکھوں کشمیریوں کی امیدوں، قربانیوں اور جدوجہد کی داستان ہے۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جہاں کشمیری عوام قربانیاں دیتے رہے، وہاں آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت عملی میدان میں وہ کردار ادا نہ کر سکی جس کی عوام کو توقع تھی۔ آج اگر سچائی کا سامنا کیا جائے تو سب سے بڑا سوال یہی بنتا ہے کہ آزاد کشمیر کی قیادت نے کشمیر کاز کے لیے عملی طور پر کیا کیا؟
آزاد کشمیر کی قیادت ہمیشہ اس بات کا شکوہ کرتی رہی کہ ان کے پاس وزارت خارجہ نہیں، عالمی سطح پر براہ راست نمائندگی کا اختیار نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے کبھی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے سنجیدہ اور منظم کوشش کی؟ کیا انہوں نے کبھی ایسا سفارتی نظام بنانے کی کوشش کی جس کے ذریعے دنیا تک کشمیریوں کا مقدمہ براہ راست پہنچایا جا سکے؟ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر کوششیں صرف بیانات، سیمینارز اور رسمی پروگراموں تک محدود رہیں۔
سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست میں اکثر کشمیر کاز سے زیادہ اقتدار کی سیاست کو اہمیت دی گئی۔ ہر پانچ سال بعد انتخابی سیاست شروع ہوتی ہے اور ساری توجہ وزارت عظمیٰ، صدارت، وزارتوں یا دیگر عہدوں کے حصول پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ کشمیر کونسل کی نشست ہو یا کوئی اور سیاسی عہدہ، سیاسی قیادت کی توانائیاں زیادہ تر انہی معاملات میں صرف ہوتی نظر آتی ہیں۔ اس دوران کشمیر کاز محض تقریروں، قراردادوں اور کتابوں کے صفحات تک محدود رہ جاتا ہے۔
دوسری طرف کشمیری عوام کی حالت یہ ہے کہ وہ آج بھی ایک مضبوط، باہمت اور عملی قیادت کے منتظر ہیں۔ عوام چاہتے ہیں کہ ان کا مقدمہ دنیا کے ہر فورم پر لڑا جائے، عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جائے، اور ایک مستقل سفارتی مہم چلائی جائے۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ عوام کی امیدیں بار بار ٹوٹتی نظر آتی ہیں۔
یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سخت اقدامات کی خبریں مسلسل سامنے آتی رہی ہیں۔ ایسے میں آزاد کشمیر کی قیادت کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ مگر صرف بیانات جاری کرنا یا مخصوص دنوں پر پروگرام کرنا کافی نہیں ہوتا۔ ایک مستقل، منظم اور مضبوط سفارتی حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے جو بدقسمتی سے واضح طور پر نظر نہیں آتی۔
پاکستان ہمیشہ کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا رہا ہے اور کشمیریوں کی حمایت کرتا آیا ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر آزاد کشمیر کی اپنی قیادت خود مضبوط اور فعال کردار ادا کرے تو کشمیر کاز کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ دنیا کے سامنے آ سکتا ہے۔ صرف پاکستان پر مکمل انحصار کرنا قیادت کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
وقت آ چکا ہے کہ آزاد کشمیر کی قیادت خود احتسابی کرے۔ کشمیری عوام کو اب نعروں، وعدوں اور رسمی بیانات سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر قیادت نے اب بھی اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو تاریخ انہیں ایک کھوئے ہوئے موقع کی علامت کے طور پر یاد رکھے گی۔
کشمیر کا مسئلہ صرف سیاست نہیں بلکہ ایک امانت ہے۔ اور جو قیادت اس امانت کا حق ادا نہیں کرتی، تاریخ اس سے سخت سوال ضرور کرتی ہے۔














پنجاب میں پیپلز پارٹی کی سیاسی جنبش اور گورنر سردار سلیم حیدرپاکستان کی سیاست میں کچھ عہدے محض رسمی سمجھے جاتے ہیں، مگر ...
03/02/2026

پنجاب میں پیپلز پارٹی کی سیاسی جنبش اور گورنر سردار سلیم حیدر
پاکستان کی سیاست میں کچھ عہدے محض رسمی سمجھے جاتے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب یہی عہدے متحرک اور باعمل شخصیات کے پاس آ جائیں تو وہ سیاسی جمود توڑنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے حالیہ کردار کو دیکھا جائے تو گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کا نام نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔
ایک طویل عرصے تک یہ تاثر مضبوط رہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنی سیاسی حیثیت کھو چکی ہے اور اس خلا کو کوئی بھی پر نہ کر سکا۔ مگر لاہور میں پیپلز پارٹی کے حالیہ پروگرام نے اس بیانیے کو سنجیدہ سوالات کے گھیرے میں لا کھڑا کیا۔ کارکنوں کی قابلِ ذکر تعداد، منظم انتظامات اور قیادت کا اعتماد اس بات کا ثبوت تھا کہ پارٹی میں ابھی سیاسی سانس باقی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس اجتماع کی سب سے بڑی اہمیت یہ تھی کہ اس نے پارٹی کارکنوں میں نئی روح پھونک دی۔ وہ کارکن جو برسوں سے مایوسی کا شکار تھے، ایک بار پھر متحرک دکھائی دیے۔ یہ سب کچھ کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے سیاسی عمل کا حصہ تھا، جس کے پیچھے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کی حکمتِ عملی اور ذاتی دلچسپی واضح طور پر محسوس کی گئی۔
دوسری جانب، سیاست کو اگر محض جلسے جلوسوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ سماجی خدمت کے ساتھ جوڑا جائے تو اس کی ساکھ مزید مضبوط ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں 35 مستحق بچیوں کی اجتماعی شادی کا اہتمام اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان بچیوں کو نہ صرف شادی کا موقع فراہم کیا گیا بلکہ گھریلو ضروریات کا مکمل انتظام بھی کیا گیا، جو موجودہ مہنگائی کے دور میں کسی بڑے سہارا سے کم نہیں۔
یہ اقدام پیپلز پارٹی کے اس بنیادی فلسفے کی یاد دہانی بھی ہے جس کی بنیاد عوامی فلاح، سماجی انصاف اور کمزور طبقات کی حمایت پر رکھی گئی تھی۔ سردار سلیم حیدر نے بطور گورنر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آئینی عہدے اگر چاہیں تو پروٹوکول سے نکل کر عوامی خدمت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
بطور گورنر ان کا طرزِ عمل سیاسی محاذ آرائی کے بجائے توازن اور برداشت پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔ وہ اختلافِ رائے کو تصادم میں بدلنے کے قائل نہیں، بلکہ مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کردار صرف پارٹی سطح تک محدود نہیں بلکہ وسیع سیاسی حلقوں میں بھی زیرِ بحث ہے۔
یہ کہنا تو مشکل ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنی ماضی کی سیاسی طاقت مکمل طور پر بحال کر لے گی، تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ حالیہ اقدامات نے ایک سیاسی امید کو جنم دیا ہے۔ جماعت کی تنظیم نو، کارکنوں کا حوصلہ اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے عوام سے رابطہ — یہ سب وہ عناصر ہیں جو کسی بھی سیاسی جماعت کو دوبارہ کھڑا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
آخر میں اگر غیر جانب دارانہ صحافتی تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے نہ صرف اپنے منصب کی ذمہ داری نبھائی بلکہ پیپلز پارٹی کو پنجاب میں دوبارہ متحرک کرنے کی ایک سنجیدہ اور عملی کوشش بھی کی۔ آنے والا وقت ہی ان کوششوں کے نتائج واضح کرے گا، مگر فی الحال یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پنجاب کی سیاست میں پیپلز پارٹی کی دوبارہ موجودگی کے ذکر میں سردار سلیم حیدر کا نام نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

(سردار نعمان خان )





🎉 Just completed level 3 and am so excited to continue growing as a creator on Facebook!
03/02/2026

🎉 Just completed level 3 and am so excited to continue growing as a creator on Facebook!

اپ کی محبتوں کا بہت بہت شکریہ اپ لوگ میرے دل کے بہت قریب ہیں اپ کے قیمتی وقت کا بہت شکریہ جو اپنا وقت نکال کر مجھے دیکھت...
03/02/2026

اپ کی محبتوں کا بہت بہت شکریہ
اپ لوگ میرے دل کے بہت قریب ہیں اپ کے قیمتی وقت کا بہت شکریہ جو اپنا وقت نکال کر مجھے دیکھتے ہیں سنتے ہیں میں ہمیشہ اپ کی محبتوں کا مقروض ہوں ۔

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ، وَلِمَنْ لَهُ حَقٌّ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ، مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِم...
03/02/2026

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ، وَلِمَنْ لَهُ حَقٌّ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ، مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، الْأَحْيَاءِ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتِ۔

تمام اہلِ اسلام کو شبِ برات کی بابرکت رات مبارک ہو۔ دعا ہے کہ یہ مقدس رات آپ کی زندگی میں خوشیاں، امن اور برکتیں لے کر آئے اور یہ سال دنیا بھر میں خوشحالی اور امن کا پیغام بنے۔آمین

02/02/2026

♥️🔥✨⭐ ماشاءاللہ بچے کی ذہانت دیکھیں
Saifullah Abbasi son of Babar Abbasi Class 8th delivered an impressive presentation on a Hydroelectric Power Model during the Annual Prize Distribution Ceremony 2025. His model clearly demonstrated the working principles of hydroelectric energy and highlighted the importance of renewable resources in meeting future energy needs.
The presentation reflected his scientific understanding, creativity, and confidence, and was highly appreciated by the honourable guests, teachers, and audience. Such efforts by our students are truly commendable and encourage practical learning and innovation.
We congratulate Saifullah Babar Abbasi on his excellent performance and wish him continued success in his academic journey.


















01/02/2026

عباس پور فارورڈ کہوٹہ چھٹیال روڈ ۔

یہ صرف ایک دیوار نہیں،
یہ عوام کی جانوں کا معاملہ ہے۔

یہ سب کچھ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ
ٹھیکیدار، محکمے اور بعض حکومتی عناصر مل کر کرپشن کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔







31/01/2026

آج موقع پر سرکاری روڈ کا کام جاری تھا، مگر بدقسمتی سے ٹھیکیدار ناقص مٹیریل استعمال کرتا ہوا پایا گیا—کم معیار کی بجری اور غیر معیاری طریقہ کار۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، اسی ٹھیکیدار نے اس سے پہلے بھی سڑکیں بنائیں جو آج خود اپنی حالت پر سوال بن چکی ہیں۔
یہ کام ٹھیکیدار سردار جمیل عالم کا ہے، جو معروف آزاد کشمیر کے بزنس مین و بڑے کنٹریکٹر سردار الیاس عالم کے بھائی اور حلقہ عباسپور کے سردار سفیر عالم خان کے بھائی ہیں۔
جب عوام نے سوال اٹھایا تو عوام پر ہی الزامات لگا دیے گئے—انہیں چور اور سانگڑے کہا گیا، اور مزید یہ کہ کرائے کے لوگوں کے ذریعے دھمکیاں دلوائی گئیں۔
مجھے خود بھی اس دوران دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حکومتی ادارے مکمل خاموش ہیں۔
نہ کوئی انکوائری، نہ کوئی نوٹس، نہ کوئی عملی ردِعمل۔
کیا سوال اٹھانا جرم ہے؟
کیا عوام کے پیسے سے بننے والا کام سوالوں سے بالاتر ہے؟
ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ جواب چاہیے۔ ایکشن چاہیے۔







31/01/2026

(PM ,PWD DC، XEN، AJK، ٹھیکیدار جمیل عالم — عوامی جان، ناقص میٹیریل اور کھلی دھمکیاں!
آزاد کشمیر، ضلع پونچھ راولاکوٹ
تحصیل عباسپور، یونین کونسل کھلی درمن
تولی پیر کے سامنے جاری سڑک کے کام میں انتہائی ناقص اور دو نمبر میٹیریل استعمال ہو رہا ہے۔
کل بارش اور برف باری میں بنائی گئی دیوار پھٹ کر سلائیڈ ہو گئی—اور اندر سے ناقص میٹیریل سب کے سامنے آ گیا۔
جب عوام نے سوال اٹھایا اور ویڈیو بنائی تو ٹھیکیدار جمیل عالم نے جواب دینے کے بجائے الزام، بدتمیزی اور آج باقاعدہ دھمکیاں دلوانا شروع کر دیں۔
واضح کر دیا جائے:
یہ ویڈیو کسی کی دشمنی نہیں، عوامی ثبوت ہے۔
دھمکیوں کے باوجود حقیقت چھپائی نہیں جا سکتی۔
آج بھی میٹنگ کے بعد لو کوالٹی سیمنٹ استعمال کیا جا رہا ہے، جو اس ویڈیو میں صاف نظر آ رہا ہے۔
تفصیلی ویڈیو ولاگ آج رات ثبوتوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
ہم پرامن مگر سخت مطالبہ کرتے ہیں:
فوری طور پر کام روکا جائے
XEN/محکمانہ انکوائری کی جائے
استعمال شدہ میٹیریل کا لیب ٹیسٹ ہو
عوام کو دھمکانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے
یہ سڑک عوام کی ہے، کسی ٹھیکیدار کی جاگیر نہیں۔
متعلقہ حکام فوری نوٹس لیں۔






Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Facts Daily Time posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to The Facts Daily Time:

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share