17/06/2026
ایک ہی روشنی میں دوسرے
از ڈاکٹر رضا شاہ کاظمی
کاظمی
دیباچے میں کہتے ہیں کہ 2001ء کے بعد کی دنیا میں اسلام کے حوالے سے دو انتہائیں موجود ہیں
اور دونوں غلط ہیں
پہلی انتہا "تنگ و بند نظری" ہے یعنی یہ سوچنا کہ صرف ہمارا مذہب سچا ہے، باقی سب باطل ہیں اور ان سے کوئی روحانی سچائی ممکن نہیں
دوسری
انتہا "لبرل آمیزش و ملاوٹ" ہے
یعنی یہ کہنا کہ تمام مذاہب یکساں ہیں،
عقیدوں میں فرق کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور سب کو ایک ملغوبے میں بدل دو۔
کاظمی کہتے ہیں
دونوں غلط ہیں
اور دونوں خطرناک ہیں
تیسرا راستہ یہ ہے کہ اپنے مذہب کی جڑوں پر قائم رہو لیکن ان جڑوں کی گہرائی سے دوسرے مذاہب میں بھی الٰہی روشنی پہچانو
یہ نہ
"سمجھوتہ" ہے نہ "تعصب"
یہ صوفیانہ بصیرت ہے!
وہ
کہتے ہیں کہ جب تصوف کی گہرائی سے دیکھا جائے تو "دوسرا" یعنی وہ جو ہم سے مختلف ہے
دشمن نہیں بلکہ "واحد" یعنی اللہ کے وجود کا ایک مظہر نظر آتا ہے۔
اگر یہ "تیسرا راستہ" قبول ہو تو دنیا میں نہ مذہبی تشدد رہتا ہے نہ مذہبی بے معنویت بلکہ ایک ایسی روحانی تہذیب ابھرتی ہے جہاں "فرق" کو خدا کی حکمت سمجھا جاتا ہے نہ کہ دشمنی کی وجہ۔
باب اول
کثرت کا مذہبی جواز
قرآن اور مختلف مذاہب
اس
باب کا مرکزی سوال یہ ہے
کیا دنیا میں ایک سے زیادہ مذاہب کا وجود "انسانی غلطی" ہے یا "الٰہی منصوبے" کا حصہ؟
کاظمی
قرآن کریم سے جواب دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قرآن خود اس تنوع کو الٰہی مشیت قرار دیتا ہے۔
وہ
سورۃ المائدہ کی آیت پیش کرتے ہیں
"اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا، لیکن اس نے یہ نہیں کیا تاکہ جو اس نے تمہیں دیا ہے اس میں وہ تمہیں آزمائے"
وہ
سورۃ الحجرات کی آیت بھی پیش کرتے ہیں
"ہم نے تمہیں قبیلوں اور قوموں میں بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو"
کاظمی یہاں ایک نہایت اہم ربط قائم کرتے ہیں
وہ کہتے ہیں کہ قرآن نے جب "پہچانو" کہا
تو "مٹا دو" نہیں کہا
یعنی
فرق کی موجودگی ختم کرنا اللہ کا منصوبہ نہیں
بلکہ فرق کے باوجود پہچان اور احترام قائم کرنا اللہ کا منصوبہ ہے
وہ
یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ قرآن کا
"تمام انبیاء علیہ السلام کو ماننا" ایک منفرد اسلامی موقف ہے مسلمان
آدم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء علیہم السلام کو اپنا مانتے ہیں
یہ "کشادگی" دوسرے ابراہیمی مذاہب میں اس طرح موجود نہیں
کاظمی کہتے ہیں کہ یہ کشادگی "اسلامی کمزوری" نہیں بلکہ "اسلامی طاقت" ہے
جو مذہب تمام انبیاء علیہ السلام کو مانتا ہو وہی سب سے بڑا "بین المذاہب مکالمہ" کا حق دار ہے
یہ باب ایک بہت اہم سوال اٹھاتا ہے
اگر "کثرت" الٰہی منصوبہ ہے تو پھر "ایک سچائی" کا دعویٰ کیسے قائم رہتا ہے؟
کاظمی کا جواب یہ ہے کہ
"ایک سچائی"
اور "کثیر مظاہر"
ایک دوسرے کے مخالف نہیں جیسے سورج ایک ہے لیکن ہزاروں کھڑکیوں سے مختلف انداز میں آتا ہے
کھڑکیوں کا فرق سورج کو ایک سے زیادہ نہیں کرتا
جب
یہ نقطہِ نظر قبول ہو تو
"مذہبی تشدد" کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے
کیونکہ جب "دوسرے مذہب" کا وجود خود اللہ کی مشیت ہو تو اسے ختم کرنا
"اللہ کے منصوبے کے خلاف" ہوگا۔
باب دوم
توحید اور "دوسرا"
اللہ کی وحدانیت میں دوسرے کی جگہ
یہ
کتاب کا سب سے فلسفیانہ باب ہے کاظمی یہاں اسلام کے مرکزی عقیدے "توحید" کو بین المذاہب مکالمے کی بنیاد بناتے ہیں اور یہ
ایک بہت جرات مندانہ فکری قدم ہے
ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر
"لا الٰہ الا اللہ" کا مطلب یہ ہے کہ حقیقتِ اعلیٰ صرف ایک ہے تو پھر "دوسرا" کہاں ہے؟
اور جواب یہ ہے کہ "دوسرا" بھی اسی "ایک" کے وجود کا حصہ ہے وہ "ایک" کا مقابل نہیں بلکہ "ایک" کا مظہر ہے
کاظمی صوفیانہ روایت سے تین اہم ربط قائم کرتے ہیں
پہلا ربط
یہ ہے کہ "توحید" صرف یہ نہیں کہ اللہ کو ایک مانو
توحید یہ بھی ہے کہ تمام وجود کو اسی "ایک" سے جوڑو
دوسرا ربط
یہ ہے کہ جب تمام وجود اسی "ایک" سے ہے تو "دوسرے" سے نفرت دراصل "ایک" سے نفرت کا ایک روپ ہے
تیسرا ربط
یہ ہے کہ صوفیانہ روایت میں "دوسرے" کا احترام عبادت کا حصہ ہے کیونکہ تمام مخلوق میں خالق کی آیات موجود ہیں۔
اگر
توحید کی یہ وسیع تفسیر قبول ہو تو "مذہبی جنگ" محض "فکری غلطی" نہیں بلکہ "توحیدی تناقص" بن جاتی ہے یعنی جو شخص "ایک" کو مانتا ہو وہ "دوسرے" کو مٹانے کی کوشش نہیں کر سکتا۔
باب سوم
ابنِ عربی رح اور وسعتِ قلبی
یہ
باب کتاب کا فکری مرکز ہے
کاظمی یہاں شیخِ اکبر ابنِ عربی رح کے فلسفے کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔
ابنِ عربی رح جو 1165ء تا 1240ء تھے نے کہا کہ اللہ نے ہر ذرے میں اپنی جھلک ڈالی ہے
اور جو دل وسیع ہو وہ ہر جگہ اس جھلک کو پہچان سکتا ہے۔
ان کا مشہور قول ہے
( میرا دل تمام صورتوں کو قبول کر سکتا ہے
غزال کا چراگاہ، راہبوں کی خانقاہ، بتوں کا مندر، حج کرنے والوں کا کعبہ، تورات کی تختیاں اور قرآن کی آیات کیونکہ میرا دین محبت کا دین ہے )
کاظمی
ابنِ عربی رح کی "وسعتِ قلبی" کو تین سطحوں پر بیان کرتے ہیں
پہلی سطح فکری ہے
یعنی یہ سمجھنا کہ ہر مذہب کی اپنی روشنی ہے جو اسی ایک الٰہی ماخذ سے آئی ہے
دوسری سطح
اخلاقی ہے یعنی اس سمجھ کی بنیاد پر دوسروں کے ساتھ احترام اور محبت کا سلوک کرنا
تیسری سطح
روحانی ہے یعنی اس مقام تک پہنچنا جہاں "دوسرے" کو دیکھ کر خدا یاد آئے نہ کہ نفرت
کاظمی
یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ابنِ عربی رح "تمام مذاہب کو یکساں" نہیں کہتے وہ کہتے ہیں کہ تمام مذاہب ایک ہی روشنی کی مختلف کرنیں ہیں لیکن اسلام وہ پر زم ہے جس میں یہ تمام کرنیں اپنے مکمل رنگ دکھاتی ہیں
یہ باب فکری طور پر نہایت گہرا ہے
اگر ابنِ عربی رح کی "وسعتِ قلبی" کو بطور تعلیم پھیلایا جائے تو "مذہبی دشمنی" کی نفسیاتی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔
لیکن یہ "صوفیانہ تعلیم" عوامی سطح پر پہنچنے کے لیے ایک "تبلیغی ڈھانچہ" مانگتی ہے جو ابھی موجود نہیں
باب چہارم
رومی رح صورت سے معنی کا سفر
جلال الدین رومی رح جو 1207ء تا 1273ء تھے اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے شاعرِ عارف ہیں
کاظمی
یہاں رومی رح کی مثنوی اور دیگر کلام سے وہ ابواب منتخب کرتے ہیں جن میں "مذہبی ظاہر" اور "روحانی باطن" کا فرق بیان ہوا ہے۔
رومی رح کی مشہور مثال
"نے" یعنی بانسری کی ہے
جو کاٹی گئی تو نالہ بن گئی
وہ نالہ اصل میں "اصل سے جدائی کا درد" ہے اور یہ درد ہر انسان کو ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہو
کاظمی رومی رح کے فکر سے تین اہم ربط قائم کرتے ہیں
پہلا ربط
یہ ہے کہ "مذہبی رسومات" صورت ہیں نماز، پوجا، دعا
یہ سب صورتیں ہیں
لیکن ان صورتوں کے پیچھے ایک "معنی" ہے
خدا کی طلب، خدا سے قربت کی خواہش
دوسرا ربط
یہ ہے کہ جب صورتیں مختلف ہوں لیکن معنی ایک ہو تو "صورتوں کی لڑائی" حقیقت میں "معنی سے بے خبری" کی لڑائی ہے
تیسرا ربط
یہ ہے کہ رومی رح کا مشہور شعر
"من کجا بودم عجب کو بود من" یعنی میں کہاں تھا
عجیب بات ہے کہ میں کہاں تھا
یہ "خودی سے آزادی" کا بیان ہے جو مذہبی تعصب کی جڑ یعنی "اپنائیت کا مبالغہ" کو کاٹتا ہے۔
سوال یہ ہے کیا "صورت" اور "معنی" کو اس طرح الگ کرنا ممکن ہے؟
کچھ
اسلامی علماء کہتے ہیں کہ نہیں کیونکہ اسلام میں "صورت" اور "معنی" الگ الگ نہیں۔ نماز کی صورت بھی اللہ کا حکم ہے اور معنی بھی
کاظمی کا جواب یہ ہے کہ وہ "صورت کی اہمیت" کم نہیں کرتے وہ صرف کہتے ہیں کہ صورت کو "آخری مقصد" نہ سمجھو، صورت "ذریعہ" ہے
رومی رح کا "صورت سے معنی کا سفر" اگر تعلیمی نصاب میں شامل ہو تو ایک ایسی نسل پیدا ہو سکتی ہے جو "اپنی صورت پر قائم" بھی ہو اور "دوسرے کی صورت سے ڈرتی" بھی نہ ہو
باب پنجم
امام غزالی رح باطنی علم اور نجات
امام غزالی رح جو 1058ء تا 1111ء تھے اسلامی علم کی تاریخ کے سب سے بڑے ناموں میں سے ہیں وہ فقیہ بھی تھے، متکلم بھی اور صوفی بھی۔
کاظمی
یہاں غزالی رح کی "احیاء علوم الدین" اور "مشکٰوۃ الانوار" سے وہ حصے لیتے ہیں جن میں "باطنی علم" اور "نجات" کے تعلق کی بات ہے۔
غزالی رح کہتے ہیں کہ "علم" دو قسم کا ہے ظاہری علم جو فقہ، قانون اور رسومات ہیں اور باطنی علم جو دل کی صفائی، اخلاص اور اللہ سے زندہ تعلق ہے۔
کاظمی
غزالی رح کے فکر سے یہ اہم ربط نکالتے ہیں کہ "نجات" محض ظاہری اعمال سے نہیں آتی بلکہ اس "باطنی سچائی" سے آتی ہے جو دل میں ہو۔
یہاں کاظمی ایک نہایت حساس سوال اٹھاتے ہیں
کیا وہ غیر مسلم جس کے دل میں سچی طلبِ خدا ہے، جو اپنے علم کے مطابق نیکی کرتا ہے اور ظلم سے بچتا ہے کیا وہ اللہ کی رحمت سے بالکل خالی ہے؟
کاظمی
غزالی رح ہی کے حوالے سے جواب دیتے ہیں کہ غزالی نے خود کہا کہ "جن لوگوں تک اسلام کی سچی تعلیم نہیں پہنچی ان کے بارے میں اللہ کا فیصلہ اللہ کے رحم پر ہے"
کیا "نجات کی وسعت" اور "اسلام کی آفاقیت" ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟
کاظمی کا جواب ہے ہاں
لیکن یہ جواب قبول کرنا ان مسلمانوں کے لیے مشکل ہے جو "اسلام قبول کیے بغیر نجات ناممکن" کے عقیدے پر قائم ہیں
کاظمی
یہاں "عقیدہ" اور "رحمتِ الٰہی" کی حدود کو ملاتے ہوئے احتیاط سے چلتے ہیں لیکن ہمیشہ پوری کامیابی سے نہیں،
اگر غزالی رح کا "باطنی علم" بطور پیمانہ اپنایا جائے تو مذہبی امتیاز کا معیار "ظاہری لیبل" نہیں بلکہ "باطنی اخلاص" بن جاتا ہے اور یہ ایک انقلابی فکری تبدیلی ہوگی!
باب ششم
دعوتِ دین کا خوبصورت ترین طریقہ
یہ کتاب کا سب سے "عملی" باب ہے۔ کاظمی
یہاں پوچھتے ہیں اگر "دوسرا" دشمن نہیں تو پھر اس سے بات کیسے کی جائے؟
وہ
قرآن کی آیت پیش کرتے ہیں "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور خوبصورت نصیحت سے بلاؤ اور ان سے بہترین طریقے سے بحث کرو" ( سورۃ النحل )
"بہترین طریقہ" کا مطلب کیا ہے؟ کاظمی کہتے ہیں یہ محض "شائستگی" نہیں یہ ایک مکمل روحانی موقف ہے
کاظمی "خوبصورت دعوت" کے تین اجزاء بیان کرتے ہیں۔
پہلا جزو
"خود کو جاننا" ہے یعنی پہلے اپنی روحانی گہرائی کو سمجھو
جو شخص خود اپنے مذہب کی روح سے ناواقف ہو وہ دوسرے سے کیا بات کرے گا؟
دوسرا جزو
"دوسرے کو سمجھنا" ہے یعنی غیر مسلم کی روحانی پیاس کو سمجھو وہ بھی خدا کو ڈھونڈتا ہے اس ڈھونڈنے کا احترام کرو
تیسرا جزو
"مشترک بنیاد" ہے یعنی وہ جگہ جہاں دونوں ملتے ہیں وہاں سے گفتگو شروع کرو
قرآن نے خود
اہلِ کتاب کو "کلمۂ سواء" یعنی "مشترک بات" کی طرف بلاتی ہے
اگر "خوبصورت دعوت" کا یہ ماڈل مدرسوں اور جامعات میں پڑھایا جائے تو ایک نسل تیار ہو سکتی ہے جو "اپنے مذہب پر مضبوط" ہو اور "دوسروں سے محبت سے بات" کر سکے۔
لیکن یہ "فکری تبدیلی"
ادارہ جاتی تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں
اس کتاب کی
پہلی طاقت "فکری جرات" ہے
کاظمی نے 2001ء کے بعد کے دور میں جب اسلام کو صرف "تشدد" سے جوڑا جا رہا تھا ایک مختلف آواز اٹھائی اور اسلامی روایت کے اندر سے جواب دیا،
دوسری طاقت
دونوں انتہاؤں کا رد"
انہوں نے نہ "بند و تنگ نظری" کو قبول کیا نہ "لبرل ملاوٹ" کو یہ "تیسرا راستہ" ہی اصل علمی کام ہے
تیسری طاقت "اسلامی روایت کے اندر سے جواب دیا ہے
انہوں نے مغربی فلسفے کا سہارا نہیں لیا بلکہ ابنِ عربی رح رومی رح اور غزالی رح سے جواب دیا
یہ "علمی خودمختاری" کی بہترین مثال ہے،
چوتھی طاقت "قرآنی بنیاد" ہے
ہر نکتے کو قرآن سے جوڑنے کی کوشش نے کتاب کو "صوفیانہ فینٹیسی" سے بچایا اور "علمی تحقیق" بنایا
پانچویں طاقت "انسانی دردِ دل" ہے
یہ محض علمی کتاب نہیں اس میں ایک درد ہے کہ مسلمان دنیا کو "محبت کا مذہب" دینے کی بجائے "نفرت کا نمائندہ" کیوں بنتی جا رہی ہے ایسا کیوں دیکھایا بتایا جارہا ہے
کتاب کی کمزوریاں
پہلی کمزوری "عام مسلمان تک نہیں پہنچتی" ہے
کتاب فلسفیانہ اور صوفیانہ زبان میں لکھی ہے عام مسلمان کے لیے بہت مشکل ہے اگر پیغام صرف اشرافیہ تک پہنچے تو تبدیلی نہیں آتی
دوسری کمزوری "ادارہ جاتی سوال سے پرہیز" ہے
کتاب "فکر بدلو" کہتی ہے لیکن یہ نہیں بتاتی کہ وہ ادارے کیسے بدلیں جو "دشمنی کی تعلیم" دیتے ہیں
تیسری کمزوری "سیاسی پہلو کی غیر موجودگی" ہے
بین المذاہب مکالمہ صرف "روحانی سوال" نہیں یہ "سیاسی طاقت کا سوال" بھی ہے
کاظمی اس پہلو کو تقریباً نظرانداز کرتے ہیں
چوتھی کمزوری
"شیعہ سنی اختلاف کی غیر موجودگی" ہے
کتاب "مسلم بمقابلہ غیر مسلم" کا سوال تو اٹھاتی ہے لیکن مسلمانوں کے اندر کی تقسیم کا ذکر نہیں حالانکہ یہ تقسیم اتنی ہی بڑی رکاوٹ ہے،
پانچویں کمزوری "وحدت الوجود کی حد بندی" ہے
ابنِ عربی رح کا فلسفہ متنازع ہے اور بہت سے علماء اسے کلاسیکی اسلامی عقیدے سے باہر مانتے ہیں
کاظمی
اس اختلاف کا کافی سامنا نہیں کرتے
آخری نتیجہ
قرآن اور اسلامی تصوف میں "دوسرے" کے ساتھ رشتے کا ایک ایسا ماڈل موجود ہے جو نہ عقیدے سے سمجھوتہ کرتا ہے نہ نفرت پیدا کرتا ہے
توحید اگر صحیح سمجھی جائے تو وہ "کثرت کا احترام" سکھاتی ہے۔
کثرت اگر الٰہی مشیت ہے تو "فرق" کو ختم کرنا الٰہی منصوبے کے خلاف ہے۔
ابنِ عربی رح کی "وسعتِ قلبی" اور رومی رح کا "صورت سے معنی کا سفر" اس احترام کو روحانی گہرائی دیتے ہیں
اور غزالی رح کا "باطنی علم" یہ بتاتا ہے کہ "اللہ کی رحمت" انسانی لیبلوں سے بڑی ہے۔
اگر یہ فکر عمل میں آئے تو تین بڑی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
پہلی تبدیلی یہ ہے کہ مذہبی تعلیم کا رخ "دفاع" سے "مکالمے" کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔
دوسری تبدیلی یہ ہے کہ "مذہبی تشدد" کی نفسیاتی بنیاد یعنی "دوسرے کا خوف" کمزور ہو سکتا ہے۔
تیسری تبدیلی یہ ہے کہ اسلام کی تصویر دنیا میں "تشدد کے مذہب" سے "محبت کی تہذیب" کی طرف بدل سکتی ہے۔
لیکن
یہ تمام تبدیلیاں صرف "فکری" نہیں ہو سکتیں انہیں "ادارہ جاتی" بھی ہونا ہوگا اور یہی وہ کام ہے جو کاظمی کی کتاب شروع کرتی ہے لیکن مکمل نہیں کرتی اسے آگے بڑھانا ہماری اپنی ذمہ داری ہے!