Al Ansar Media House

Al Ansar Media House ہمارا پیغام درس انسانیت عام

قسط نمبر 4ایک عہد ساز شخصیتمیرے والد، میرے استاذاستاذالعلماء حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہبانی معہد ابی ی...
10/06/2026

قسط نمبر 4
ایک عہد ساز شخصیت
میرے والد، میرے استاذ

استاذالعلماء حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ

بانی معہد ابی یوب الانصاریؓ

آخری ایام، حسنِ خاتمہ اور جدائی کا منظر

گزشتہ قسط میں حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ کی امامت، خطابت، خدمتِ خلق، علماء سے تعلق اور روحانی وابستگی کا ذکر کیا گیا۔ اب اس قسط میں ان کی زندگی کے آخری ایام، آخری جمعہ، نصیحتیں اور وصال کے لمحات کو ترتیب سے بیان کیا جا رہا ہے۔

---

طویل بیماری اور استقامت

حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ تقریباً 2003ء سے دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔ وقتاً فوقتاً طبیعت بگڑتی اور ہسپتال میں داخل ہونا پڑتا، مگر اس کے باوجود آپ کی دینی مصروفیات میں کوئی کمی نہ آتی۔

بیماری کے باوجود آپ نے تدریس، امامت، خطابت اور دینی رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھا۔ جسمانی کمزوری بڑھتی جا رہی تھی، مگر روحانی قوت اور دینی جذبہ پہلے سے زیادہ مضبوط تھا۔

2016ء میں رمضان المبارک سے کچھ عرصہ قبل دل کی تکلیف میں شدت آگئی۔ علاج کے دوران دل کی شریانوں میں اسٹنٹس ڈالے گئے۔ اس کے بعد بھی آپ کا معمول یہ تھا کہ کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے اور حتیٰ المقدور مسجد اور ادارے کی خدمات انجام دیتے رہے۔

---

وہ جمعہ جو آخری تھا

23 ستمبر 2016ء بمطابق 21 ذوالحجہ 1437ھ، بروز جمعہ وہ دن تھا جو حضرت مولانا کی زندگی کا آخری جمعہ ثابت ہوا۔

اس دن طبیعت انتہائی کمزور تھی، مگر اس کے باوجود آپ نے جمعہ کی تیاری فرمائی اور خطبہ دینے کے لیے مسجد تشریف لائے۔

آپ کا خطبہ تقریباً پینتالیس منٹ پر محیط تھا۔ موضوع نوجوان نسل کی اصلاح، معاشرتی برائیوں سے بچاؤ، بدنگاہی، بے حیائی، غیر شرعی تعلقات اور اسلامی طرزِ زندگی تھا۔

حاضرین کے مطابق اس دن آپ کے الفاظ میں غیر معمولی درد، گہرائی اور تاثیر تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ایک مشفق مربی اپنی آخری نصیحتیں اپنی مصلیوں مقتدیوں کے سامنے رکھ رہا ہو۔

اس کے بعد آپ نے خود نمازِ جمعہ کی امامت فرمائی۔

---

نکاح کی مجلس میں آخری نصیحت

اسی دن ایک شاگرد کے نکاح کی تقریب بھی تھی۔ حضرت مولانا حسبِ معمول اس میں شریک ہوئے اور نکاح کے بعد مختصر مگر نہایت بامعنی نصیحتیں فرمائیں۔

جب تقریب اختتام کے قریب پہنچی اور لوگ مبارکباد دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت مولانا نے اچانک مائیک سنبھالا اور فرمایا:

"بیٹھ جاؤ! میں ایک اہم بات کہنا چاہتا ہوں۔ شاید یہ میری آخری بات ہو۔"

مجلس میں مکمل خاموشی چھا گئی۔

آپ نے نوجوانوں کو خاص طور پر مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ گھروں میں دین کو زندہ کرو، نماز قائم کرو، اپنی نظر اور کردار کی حفاظت کرو اور خاندانوں کو فتنوں سے بچاؤ۔

یہ جملے بعد میں ان کی آخری عوامی نصیحتوں کے طور پر یاد کیے جاتے رہے۔

---

آخری ملاقات اور وصیتیں

عصر سے کچھ دیر قبل حضرت والدصاحبؒ نے مجھے بذریعہ کال کرکے بلایا اور فرمایا:

"بیٹا! طبیعت کچھ ٹھیک محسوس نہیں ہو رہی۔"

میں نےعرض کیا کہ ہسپتال چلتے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا:

"نہیں، مجھے ڈر ہے کہ وہاں بے ہوشی کی حالت نہ ہو جائے اور شاید کلمہ نصیب نہ ہو۔"

اس جملے میں آپ کی آخرت کی فکر اور ایمان پر خاتمے کی تمنا صاف جھلکتی ہے۔

اس کے بعد آپ نے کچھ ضروری نصیحتیں اور مدرسہ مسجد گھریلو امور سے متعلق ہدایات دیں۔

---

آخری لمحات

رات کے وقت عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد آپ گھر تشریف لائے۔ کچھ دیر بعد طبیعت میں مزید کمزوری محسوس ہوئی۔

آپ نے فرمایا:

"سینے پر ذرا بام لگا دو۔"

بام لگایا گیا اور مالش کی گئی۔ اس کے بعد آپ آرام کے لیے بستر پر تشریف لے گئے۔

والدہ محترمہ سے شہد طلب کیا
والدہ محترمہ نے محبت سے شہد پیش کیا۔ آپ نے شہد نوش فرمایا اور زبان پر کلمۂ طیبہ جاری تھا۔

اسی حالت میں آپ نہایت سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔

یہ منظر ایک طرف جدائی کا غم تھا اور دوسری طرف حسنِ خاتمہ کی روشن مثال۔

---

جنازہ اور عوامی محبت

24 ستمبر 2016ء بمطابق 22 ذوالحجہ 1437ھ، بروز ہفتہ بعد نماز ظہر آپ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔

جنازے میں علماءِ کرام، طلبہ، شاگرد، اہلِ محلہ اور مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

یہ محض ایک جنازہ نہیں تھا بلکہ ایک پوری علمی، تربیتی اور دینی زندگی کا عملی اعتراف تھا۔

ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل دعائے مغفرت میں مشغول تھا۔

---

بحیثیت والد — ایک ذاتی جدائی

اگرچہ حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ ایک بڑے عالم، خطیب اور مربی تھے، لیکن میرے لیے وہ سب سے پہلے "والد" تھے۔

ان کی شفقت، ان کی دعائیں، ان کی نصیحتیں اور ان کی موجودگی ایک ایسا سایہ تھیں جس کے بغیر زندگی کا تصور مشکل تھا۔

انہوں نے ہمیں صرف پڑھا لکھا انسان نہیں بلکہ ایک اچھا مسلمان بنانے کی کوشش کی۔

---

حسنِ خاتمہ — ایک روشن مثال

حضرت مولانا کی زندگی کا اختتام بھی ان کی پوری زندگی کی طرح باوقار، پُرسکون اور ایمان افروز تھا۔

زبان پر کلمہ، دل میں اطمینان، اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا سکون — یہ سب حسنِ خاتمہ کی وہ علامات ہیں جو ہر مومن کی تمنا ہوتی ہیں۔

---

اختتامی کلمات (جاری ہے)

اس قسط کے بعد آخری قسط میں ان شاء اللہ:

- شخصیت کے جامع اوصاف
- اہلِ علم و احباب کے تاثرات
- صدقۂ جاریہ (ادارہ، طلبہ، خدمات)
- علمی و دینی وراثت
- اور اختتامی دعا و خراجِ عقیدت

تفصیل سے شامل کیا جائے گا۔

08/06/2026

قسط نمبر 3
ایک عہد ساز شخصیت
میرے والد، میرے استاذ

استاذالعلماء حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ

بانی: معہد ابی ایوب الانصاریؓ

خطابت، قیادت، خدمتِ خلق اور تعلقاتِ اکابر

گزشتہ قسطوں میں حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ کے علمی سفر، تدریسی خدمات، تربیتی فکر اور معہد ابی ایوب انصاری کے قیام کا تذکرہ کیا گیا۔ اس قسط میں آپ کی زندگی کے ان پہلوؤں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کا تعلق امامت و خطابت، دینی قیادت، خدمتِ خلق اور اکابرین سے تعلقات سے ہے۔

---

جامع مسجد بیت المکرم اور چھبیس سالہ خدمت

حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا ایک بڑا حصہ جامع مسجد بیت المکرم سے وابستہ رہا۔ تقریباً چھبیس سال تک آپ نے یہاں امامت و خطابت کی ذمہ داریاں انجام دیں۔

یہ محض ایک منصب نہیں تھا بلکہ ایک مسلسل دعوتی، اصلاحی اور تربیتی جدوجہد تھی۔ پانچ وقت نماز کی امامت، جمعہ کے خطبات، عوامی رہنمائی، نکاح، جنازے، گھریلو تنازعات کا حل اور دینی مسائل میں رہنمائی، یہ سب ذمہ داریاں آپ برسوں تک خاموشی اور اخلاص کے ساتھ ادا کرتے رہے۔

اہلِ محلہ آپ کو صرف امام مسجد نہیں بلکہ اپنے گھر کا بزرگ، خیر خواہ اور راہنما سمجھتے تھے۔

---

ایک معتدل اور بصیرت افروز خطیب

حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی خطابت کا انداز منفرد تھا۔

آپ کی گفتگو میں نہ جذباتی نعروں کا غلبہ ہوتا تھا اور نہ غیر ضروری سختی کا۔ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں معاشرے کے مسائل بیان کرتے اور اصلاح کا راستہ دکھاتے تھے۔

آپ کی تقاریر کا ایک نمایاں موضوع نوجوانوں کی اصلاح تھا۔

آپ نوجوانوں کو نماز، حیا، پاکیزگی، والدین کی خدمت، اسلامی اقدار اور نیک صحبت کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔

بدنگاہی، فحاشی، بے حیائی اور غیر شرعی تعلقات کے خطرات پر آپ خصوصی توجہ دلاتے تھے کیونکہ آپ سمجھتے تھے کہ یہی فتنے نوجوان نسل کے ایمان اور کردار کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

---

عوامی اعتماد کا مرکز

حضرت مولانا کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ لوگ ان پر اعتماد کرتے تھے۔

محلے کے لوگ اپنے گھریلو مسائل، خاندانی جھگڑے، کاروباری معاملات اور دینی سوالات لے کر آپ کے پاس آتے تھے۔

آپ تحمل کے ساتھ دونوں فریقوں کی بات سنتے اور پھر قرآن و سنت اور انصاف کی روشنی میں فیصلہ یا مشورہ دیتے۔

بہت سے ایسے تنازعات جو عدالتوں تک جا سکتے تھے، آپ کی حکمت، بردباری اور حسنِ تدبیر سے حل ہو جاتے تھے۔

---

خدمتِ خلق کا جذبہ

حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی خدمتِ خلق سے عبارت تھی۔

وہ ضرورت مندوں کی مدد، بیماروں کی عیادت، غمزدہ لوگوں کی دلجوئی اور مستحقین کی معاونت کو عبادت سمجھتے تھے۔

بہت سے لوگ ایسے تھے جن کی مدد آپ خاموشی سے کرتے تھے اور کسی کو خبر تک نہ ہوتی تھی۔

آپ ہمیشہ یہ کوشش کرتے تھے کہ کسی ضرورت مند کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔

---

جمعیت علماء اسلام سے وابستگی

حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق جمعیت علماء اسلام پاکستان سے نہایت مضبوط اور مخلصانہ تھا۔

آپ نے جماعت کو کبھی ذاتی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اسے دین کی خدمت اور اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ سمجھا۔

آپ تقریباً پندرہ سال تک یونین کونسل کی سطح پر امیر رہے اور جماعتی ذمہ داریوں کو امانت سمجھ کر ادا کرتے رہے۔

آپ کی سیاسی وابستگی دراصل دینی وابستگی کا تسلسل تھی۔ مقصد اقتدار نہیں بلکہ دین، تعلیم اور عوام کی خدمت تھا۔

---

دوستوں کا دوست

حضرت مولانا کی دوستی اور تعلق داری بھی مثالی تھی۔

جو شخص ایک مرتبہ آپ کے قریب آ جاتا، وہ عمر بھر آپ کی محبت اور خلوص کو یاد رکھتا۔

آپ تعلقات نبھانے والے انسان تھے۔ دوستوں کی خوشی اور غم میں شریک ہوتے، بیماروں کی عیادت کرتے اور دور دراز کے احباب سے بھی رابطہ برقرار رکھتے تھے۔

آج بھی آپ کے پرانے رفقاء اور دوست احباب جب آپ کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

---

علماءِ کرام سے خصوصی محبت

حضرت مولانا کی شخصیت کا ایک درخشاں پہلو علماءِ کرام اور مشائخِ عظام سے محبت تھا۔

آپ علماء کی مجالس کو باعثِ رحمت سمجھتے تھے اور ان کی خدمت کو سعادت تصور کرتے تھے۔

گھر کے مالی حالات جیسے بھی ہوں، اگر کوئی عالمِ دین تشریف لاتے تو آپ حتی المقدور بہترین مہمان نوازی کا اہتمام فرماتے۔

آپ فرمایا کرتے تھے:

"علماء کی دعائیں دنیا کی ہر دولت سے زیادہ قیمتی ہیں۔"

یہ محض ایک جملہ نہیں تھا بلکہ آپ کی پوری زندگی کا عملی اصول تھا۔

---

ایک یادگار واقعہ

ایک مرتبہ ایک بزرگ عالمِ دین تشریف لائے۔ اس وقت گھریلو مالی حالات بہت بہتر نہیں تھے، لیکن حضرت مولانا نے بعض دوستوں سے رقم ادھار لے کر ان کی ضیافت کا اہتمام فرمایا۔

جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے جواب دیا:

"بیٹا! آج یہ بزرگ کھانا کھا کر جو دعا دیں گے، اگر اس دعا کے حصول کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے بھی خرچ کرنے پڑیں تو کم ہیں۔"

یہ جواب دراصل حضرت مولانا کے قلبی یقین، علماء سے محبت اور دعاؤں کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

---

علماء کی مجالس میں یاد کیا جانے والا نام

آج بھی جب علماءِ کرام، قدیم رفقاء اور احباب کی مجالس میں حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ آتا ہے تو لوگ ان کی مہمان نوازی، خلوص، محبت اور حسنِ اخلاق کو یاد کرتے ہیں۔

متعدد علماءِ کرام ایسے ہیں جو آج بھی ان کی میزبانی اور محبت بھرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی ہو جاتے ہیں۔

یہ وہ سرمایہ ہے جو نہ کسی بینک میں جمع ہوتا ہے اور نہ کسی دستاویز میں محفوظ کیا جا سکتا ہے، بلکہ یہ دلوں میں محفوظ رہتا ہے۔

---

روحانی تعلق اور اصلاحِ باطن

حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی علماءِ ربانیین، مشائخِ عظام اور اہلِ اللہ کی محبت سے عبارت تھی۔

آپ مختلف بزرگوں سے قلبی تعلق رکھتے تھے اور ان کی صحبتوں سے روحانی فیض حاصل کرتے تھے۔

اگرچہ آپ خود ایک صاحبِ علم، مدرس اور خطیب تھے، لیکن اس کے باوجود اصلاحِ نفس اور تعلق مع اللہ کی فکر ہمیشہ آپ کے پیشِ نظر رہتی تھی۔

زندگی کے آخری دور میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت شیخ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم کی صحبت اور تعلق سے بھی نوازا۔

آپ نے ان کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور ان سے روحانی و اصلاحی استفادہ حاصل کیا۔

یہ تعلق اس بات کا مظہر تھا کہ آپ علمِ ظاہر کے ساتھ علمِ باطن، تزکیۂ نفس اور اخلاص کو بھی دین کا لازمی حصہ سمجھتے تھے۔

آپ کی پوری زندگی اس حقیقت کی گواہ تھی کہ علم کی اصل زینت تقویٰ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق ہے۔

---

شخصیت کا نمایاں وصف

اگر حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ کی پوری شخصیت کو چند الفاظ میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہیں:

اعتدال، امانت داری، دیانت، سادگی، اخلاص، حسنِ اخلاق، علماء سے محبت، طلبہ کی خیر خواہی اور دین کی بے لوث خدمت۔

یہ اوصاف ان کی گفتگو میں بھی نظر آتے تھے، ان کے فیصلوں میں بھی، ان کی دوستیوں میں بھی اور ان کی دعوتی و تربیتی جدوجہد میں بھی۔

(جاری ہے...)

07/06/2026

قسط نمبر 2
ایک عہد ساز شخصیت
میرے والد، میرے استاذ

استاذالعلماءحضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ
بانی: معہد ابی ایوب الانصاریؓ
قسط نمبر 2

معمارِ ادارہ، مربیِ نسل اور محسنِ طلبہ

پہلی قسط میں حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ کے خاندانی پس منظر، ابتدائی زندگی، علمی سفر اور اساتذۂ کرام کا تذکرہ کیا گیا۔ اب ہم آپ کی عملی زندگی کے اس دور کا ذکر کرتے ہیں جس میں آپ نے تدریس، تربیت اور دینی خدمت کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا۔

---

معہد ابی ایوب انصاری کا قیام

ہر بڑے ادارے کے پیچھے کسی صاحبِ درد انسان کا خواب، اخلاص اور قربانی ہوتی ہے۔ معہد ابی ایوب انصاریؓ بھی محض اینٹوں اور پتھروں سے تعمیر ہونے والی عمارت نہیں بلکہ حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ کے اخلاص، محنت اور دینی فکر کا عملی مظہر تھا۔

1990ء میں علی محمد بروہی گوٹھ، لانڈھی کراچی میں آپ نے معہد ابی ایوب انصاریؓ کی بنیاد رکھی۔ اس وقت علاقے میں دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت کے ایسے منظم مراکز بہت کم تھے۔ حضرت مولانا کے دل میں عرصے سے یہ خواہش موجود تھی کہ ایک ایسا ادارہ قائم ہو جہاں بچوں اور نوجوانوں کو قرآن و سنت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بہترین اخلاق اور صالح کردار بھی دیا جا سکے۔

ابتدائی دور آسان نہ تھا۔ وسائل محدود تھے، مالی مشکلات تھیں اور مختلف قسم کی رکاوٹیں بھی سامنے آتی تھیں، لیکن حضرت مولانا نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ وہ فرمایا کرتے تھے:

"دین کا کام وسائل سے نہیں، اخلاص اور توکل سے چلتا ہے۔"

اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص میں ایسی تاثیر رکھی کہ آہستہ آہستہ یہ ادارہ علاقے کی ایک معتبر دینی درسگاہ بن گیا اور سیکڑوں طلبہ و طالبات نے یہاں سے علمی اور تربیتی فیض حاصل کیا۔

---

بحیثیت استاد

حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ بنیادی طور پر ایک معلم اور مربی تھے۔ تدریس ان کی زندگی کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔

آپ کے نزدیک استاد کا کام صرف کتاب پڑھانا نہیں بلکہ شخصیت سازی کرنا تھا۔ آپ طلبہ کو صرف سبق یاد کروانے پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیتے تھے۔

آپ کے درس میں علمی وقار کے ساتھ شفقت بھی ہوتی تھی۔ طلبہ کو سوال کرنے کی مکمل آزادی ہوتی تھی اور آپ نہایت تحمل اور محبت کے ساتھ ان کے اشکالات دور فرماتے تھے۔

کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ تسدریس ختم ہونے کے بعد بھی طلبہ آپ کے گرد جمع رہتے اور مختلف مسائل پوچھتے رہتے۔ حضرت مولانا کبھی اکتاہٹ کا اظہار نہ فرماتے بلکہ ہر طالب علم کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتے تھے۔

---

علم کے ساتھ عمل کی تعلیم

حضرت مولانا کا عقیدہ تھا کہ علم اگر عمل سے خالی ہو تو وہ اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔

اسی لیے آپ طلبہ کو بار بار یہ نصیحت فرماتے:

"صرف علم حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو، عامل بننے کی کوشش کرو۔"

آپ کے نزدیک نماز، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور سچائی وہ بنیادی صفات تھیں جن کے بغیر علمی عظمت ادھوری رہتی ہے۔

---

بحیثیت مربی

حضرت مولانا کی اصل عظمت شاید ان کی تربیتی بصیرت میں تھی۔

وہ طلبہ کی ظاہری تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کے کردار، عادات اور روزمرہ زندگی پر بھی نظر رکھتے تھے۔

نماز میں غفلت، جھوٹ، بدتمیزی، بے ادبی یا اخلاقی کمزوریوں پر فوراً توجہ دلاتے تھے۔

لیکن ان کی اصلاح کا انداز نہایت حکیمانہ ہوتا تھا۔ سختی بھی ہوتی تھی مگر اس میں شفقت چھپی ہوتی تھی۔

طلبہ جانتے تھے کہ حضرت کی ناراضی ذاتی نہیں بلکہ ہماری اصلاح کے لیے ہوتی ہے۔

---

نظم و ضبط اور امانت داری

حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے نمایاں اوصاف میں امانت داری اور نظم و ضبط شامل تھے۔

وہ وقت کی پابندی کو ایمان داری کا حصہ سمجھتے تھے۔

ادارے کے مالی معاملات ہوں یا دیگر انتظامی امور، آپ ہمیشہ شفافیت اور دیانت داری کا عملی نمونہ تھے۔

آپ طلبہ کو بھی یہی تعلیم دیتے تھے کہ مسلمان کی پہچان اس کی امانت داری اور سچائی سے ہونی چاہیے۔

---

بحیثیت والد

حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ اپنے بچوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے، لیکن تربیت کے معاملے میں کبھی مداہنت سے کام نہیں لیتے تھے۔

اگر کوئی غلطی ہوتی تو فوراً اصلاح فرماتے تھے۔

آپ چاہتے تھے کہ اولاد محض دنیاوی ترقی حاصل نہ کرے بلکہ دین، اخلاق اور کردار کے اعتبار سے بھی مضبوط ہو۔

گھر میں نماز کی پابندی، بڑوں کا احترام، سچائی اور دیانت داری پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔

---

اولاد کی تربیت کا ایک یادگار پہلو

حضرت مولانا کی تربیت کا ایک اہم اصول یہ تھا کہ اولاد کو اکابرین، علماء اور اہلِ اللہ کی صحبت سے جوڑا جائے۔

اس مقصد کے لیے وہ بچوں کو علماء اور مشائخ کی خدمت کے مواقع فراہم کرتے تھے تاکہ ان کے دلوں میں اہلِ علم اور اہلِ اللہ کی محبت پیدا ہو۔

کورنگی سوکواٹر کے ایک بزرگ اللہ والے، جو عوام میں "پیر صاحب" کے نام سے معروف تھے، اکثر ہمارے گھر تشریف لاتے تھے۔

حضرت مولانا ان کی خدمت میرے سپرد فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ میں نے وجہ پوچھی تو فرمایا:

"بیٹا! یہ اللہ والے ہیں، ان کی دعائیں زندگی بھر کام آتی ہیں۔"

ایک دن وہ بزرگ خوش ہوئے اور محبت سے دو دس روپے کے نوٹ مجھے دینا چاہے۔

میں لینے سے جھجک رہا تھا کیونکہ عام حالات میں حضرت والد صاحب اس قسم کے تحائف لینے سے منع فرمایا کرتے تھے۔

میں نے حضرت کی طرف دیکھا تو اس مرتبہ انہوں نے فرمایا:

"لے لو۔"

بعد میں جب میں نے اس کی وجہ پوچھی تو حضرت نے فرمایا:

"بیٹا! یہ رقم نہیں، دعا ہے۔ اللہ والے جب خوش ہو کر کچھ دیتے ہیں تو اصل چیز ان کی محبت اور دعا ہوتی ہے۔"

یہ ایک مختصر واقعہ ہے لیکن اس سے حضرت مولانا کی پوری تربیتی فکر واضح ہو جاتی ہے۔

---

اخلاقی تربیت پر غیر معمولی توجہ

حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں تعلیم سے زیادہ اہم کردار کی تعمیر تھی۔

آپ طلبہ اور اولاد دونوں کو نماز، سچائی، حیا، امانت داری، ادب اور حسنِ اخلاق کی تلقین کرتے تھے۔

آپ اکثر فرمایا کرتے تھے:

"اگر علم کے ساتھ اخلاق نہ ہوں تو علم انسان کے لیے وبال بن جاتا ہے۔"

شاید یہی وجہ تھی کہ آپ کے شاگرد آج بھی آپ کو صرف ایک مدرس نہیں بلکہ ایک مربی اور محسن کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

---

علماء کی خدمت اور دعاؤں کی قدر

حضرت مولانا کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف علماءِ کرام سے محبت اور ان کی خدمت تھا۔

آپ علماء کی دعاؤں کو دنیا کی بڑی سے بڑی دولت سے زیادہ قیمتی سمجھتے تھے۔

ایک مرتبہ ایک بزرگ عالمِ دین کی آمد پر، مالی تنگی کے باوجود، آپ نے ادھار لے کر ان کی بہترین ضیافت کا اہتمام فرمایا۔

جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

"بیٹا! آج یہ بزرگ کھانے کے بعد جو دعا دیں گے، اگر اس دعا کے لیے لاکھوں روپے بھی خرچ کرنے پڑیں تو کم ہیں۔"

یہ جملہ حضرت مولانا کے دل میں علماء اور اہلِ اللہ کی محبت اور ان کی دعاؤں کی قدر کا بہترین عکاس ہے۔

(جاری ہے...)

07/06/2026

قسط نمبر 2
ایک عہد ساز شخصیت
میرے والد، میرے استاذ

استاذالعلماءحضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ
بانی: معہد ابی ایوب الانصاریؓ

قسط نمبر 2

معمارِ ادارہ، مربیِ نسل اور محسنِ طلبہ

پہلی قسط میں حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ کے خاندانی پس منظر، ابتدائی زندگی، علمی سفر اور اساتذۂ کرام کا تذکرہ کیا گیا۔ اب ہم آپ کی عملی زندگی کے اس دور کا ذکر کرتے ہیں جس میں آپ نے تدریس، تربیت اور دینی خدمت کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا۔

---

معہد ابی ایوب انصاری کا قیام

ہر بڑے ادارے کے پیچھے کسی صاحبِ درد انسان کا خواب، اخلاص اور قربانی ہوتی ہے۔ معہد ابی ایوب انصاریؓ بھی محض اینٹوں اور پتھروں سے تعمیر ہونے والی عمارت نہیں بلکہ حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ کے اخلاص، محنت اور دینی فکر کا عملی مظہر تھا۔

1990ء میں علی محمد بروہی گوٹھ، لانڈھی کراچی میں آپ نے معہد ابی ایوب انصاریؓ کی بنیاد رکھی۔ اس وقت علاقے میں دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت کے ایسے منظم مراکز بہت کم تھے۔ حضرت مولانا کے دل میں عرصے سے یہ خواہش موجود تھی کہ ایک ایسا ادارہ قائم ہو جہاں بچوں اور نوجوانوں کو قرآن و سنت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بہترین اخلاق اور صالح کردار بھی دیا جا سکے۔

ابتدائی دور آسان نہ تھا۔ وسائل محدود تھے، مالی مشکلات تھیں اور مختلف قسم کی رکاوٹیں بھی سامنے آتی تھیں، لیکن حضرت مولانا نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ وہ فرمایا کرتے تھے:

"دین کا کام وسائل سے نہیں، اخلاص اور توکل سے چلتا ہے۔"

اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص میں ایسی تاثیر رکھی کہ آہستہ آہستہ یہ ادارہ علاقے کی ایک معتبر دینی درسگاہ بن گیا اور سیکڑوں طلبہ و طالبات نے یہاں سے علمی اور تربیتی فیض حاصل کیا۔

---

بحیثیت استاد

حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ بنیادی طور پر ایک معلم اور مربی تھے۔ تدریس ان کی زندگی کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔

آپ کے نزدیک استاد کا کام صرف کتاب پڑھانا نہیں بلکہ شخصیت سازی کرنا تھا۔ آپ طلبہ کو صرف سبق یاد کروانے پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیتے تھے۔

آپ کے درس میں علمی وقار کے ساتھ شفقت بھی ہوتی تھی۔ طلبہ کو سوال کرنے کی مکمل آزادی ہوتی تھی اور آپ نہایت تحمل اور محبت کے ساتھ ان کے اشکالات دور فرماتے تھے۔

کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ تسدریس ختم ہونے کے بعد بھی طلبہ آپ کے گرد جمع رہتے اور مختلف مسائل پوچھتے رہتے۔ حضرت مولانا کبھی اکتاہٹ کا اظہار نہ فرماتے بلکہ ہر طالب علم کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتے تھے۔

---

علم کے ساتھ عمل کی تعلیم

حضرت مولانا کا عقیدہ تھا کہ علم اگر عمل سے خالی ہو تو وہ اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔

اسی لیے آپ طلبہ کو بار بار یہ نصیحت فرماتے:

"صرف علم حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو، عامل بننے کی کوشش کرو۔"

آپ کے نزدیک نماز، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور سچائی وہ بنیادی صفات تھیں جن کے بغیر علمی عظمت ادھوری رہتی ہے۔

---

بحیثیت مربی

حضرت مولانا کی اصل عظمت شاید ان کی تربیتی بصیرت میں تھی۔

وہ طلبہ کی ظاہری تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کے کردار، عادات اور روزمرہ زندگی پر بھی نظر رکھتے تھے۔

نماز میں غفلت، جھوٹ، بدتمیزی، بے ادبی یا اخلاقی کمزوریوں پر فوراً توجہ دلاتے تھے۔

لیکن ان کی اصلاح کا انداز نہایت حکیمانہ ہوتا تھا۔ سختی بھی ہوتی تھی مگر اس میں شفقت چھپی ہوتی تھی۔

طلبہ جانتے تھے کہ حضرت کی ناراضی ذاتی نہیں بلکہ ہماری اصلاح کے لیے ہوتی ہے۔

---

نظم و ضبط اور امانت داری

حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے نمایاں اوصاف میں امانت داری اور نظم و ضبط شامل تھے۔

وہ وقت کی پابندی کو ایمان داری کا حصہ سمجھتے تھے۔

ادارے کے مالی معاملات ہوں یا دیگر انتظامی امور، آپ ہمیشہ شفافیت اور دیانت داری کا عملی نمونہ تھے۔

آپ طلبہ کو بھی یہی تعلیم دیتے تھے کہ مسلمان کی پہچان اس کی امانت داری اور سچائی سے ہونی چاہیے۔

---

بحیثیت والد

حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ اپنے بچوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے، لیکن تربیت کے معاملے میں کبھی مداہنت سے کام نہیں لیتے تھے۔

اگر کوئی غلطی ہوتی تو فوراً اصلاح فرماتے تھے۔

آپ چاہتے تھے کہ اولاد محض دنیاوی ترقی حاصل نہ کرے بلکہ دین، اخلاق اور کردار کے اعتبار سے بھی مضبوط ہو۔

گھر میں نماز کی پابندی، بڑوں کا احترام، سچائی اور دیانت داری پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔

---

اولاد کی تربیت کا ایک یادگار پہلو

حضرت مولانا کی تربیت کا ایک اہم اصول یہ تھا کہ اولاد کو اکابرین، علماء اور اہلِ اللہ کی صحبت سے جوڑا جائے۔

اس مقصد کے لیے وہ بچوں کو علماء اور مشائخ کی خدمت کے مواقع فراہم کرتے تھے تاکہ ان کے دلوں میں اہلِ علم اور اہلِ اللہ کی محبت پیدا ہو۔

کورنگی سوکواٹر کے ایک بزرگ اللہ والے، جو عوام میں "پیر صاحب" کے نام سے معروف تھے، اکثر ہمارے گھر تشریف لاتے تھے۔

حضرت مولانا ان کی خدمت میرے سپرد فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ میں نے وجہ پوچھی تو فرمایا:

"بیٹا! یہ اللہ والے ہیں، ان کی دعائیں زندگی بھر کام آتی ہیں۔"

ایک دن وہ بزرگ خوش ہوئے اور محبت سے دو دس روپے کے نوٹ مجھے دینا چاہے۔

میں لینے سے جھجک رہا تھا کیونکہ عام حالات میں حضرت والد صاحب اس قسم کے تحائف لینے سے منع فرمایا کرتے تھے۔

میں نے حضرت کی طرف دیکھا تو اس مرتبہ انہوں نے فرمایا:

"لے لو۔"

بعد میں جب میں نے اس کی وجہ پوچھی تو حضرت نے فرمایا:

"بیٹا! یہ رقم نہیں، دعا ہے۔ اللہ والے جب خوش ہو کر کچھ دیتے ہیں تو اصل چیز ان کی محبت اور دعا ہوتی ہے۔"

یہ ایک مختصر واقعہ ہے لیکن اس سے حضرت مولانا کی پوری تربیتی فکر واضح ہو جاتی ہے۔

---

اخلاقی تربیت پر غیر معمولی توجہ

حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں تعلیم سے زیادہ اہم کردار کی تعمیر تھی۔

آپ طلبہ اور اولاد دونوں کو نماز، سچائی، حیا، امانت داری، ادب اور حسنِ اخلاق کی تلقین کرتے تھے۔

آپ اکثر فرمایا کرتے تھے:

"اگر علم کے ساتھ اخلاق نہ ہوں تو علم انسان کے لیے وبال بن جاتا ہے۔"

شاید یہی وجہ تھی کہ آپ کے شاگرد آج بھی آپ کو صرف ایک مدرس نہیں بلکہ ایک مربی اور محسن کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

---

علماء کی خدمت اور دعاؤں کی قدر

حضرت مولانا کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف علماءِ کرام سے محبت اور ان کی خدمت تھا۔

آپ علماء کی دعاؤں کو دنیا کی بڑی سے بڑی دولت سے زیادہ قیمتی سمجھتے تھے۔

ایک مرتبہ ایک بزرگ عالمِ دین کی آمد پر، مالی تنگی کے باوجود، آپ نے ادھار لے کر ان کی بہترین ضیافت کا اہتمام فرمایا۔

جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

"بیٹا! آج یہ بزرگ کھانے کے بعد جو دعا دیں گے، اگر اس دعا کے لیے لاکھوں روپے بھی خرچ کرنے پڑیں تو کم ہیں۔"

یہ جملہ حضرت مولانا کے دل میں علماء اور اہلِ اللہ کی محبت اور ان کی دعاؤں کی قدر کا بہترین عکاس ہے۔

(جاری ہے...)

06/06/2026

قسط نمبر 1
ایک عہدساز شخصیت
میرے والد، میرے استاذ

استاذ العلماء حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ
بانی: معہد ابی ایوب الانصاریؓ

(وفات کی دسویں برسی کے موقع پر ایک خراجِ عقیدت)

حرفِ آغاز

بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی ایک فرد کی زندگی نہیں رہتی بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک تحریک کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ وہ اپنے علم، عمل، اخلاص اور کردار کے ذریعے دلوں پر ایسے نقوش ثبت کر جاتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود مٹ نہیں پاتے۔ ان کے وصال کے بعد بھی ان کی یادیں، ان کی نصیحتیں، ان کے قائم کردہ ادارے اور ان کے تربیت یافتہ افراد ان کے وجود کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔

حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی شخصیات میں سے ایک تھے۔ وہ میرے والد بھی تھے، میرے استاد بھی، میرے مربی بھی اور میری زندگی کے اولین راہنماء بھی۔ میں نے ان کی گود میں آنکھ کھولی، ان کے سائے میں پرورش پائی، ان سے علم حاصل کیا، ان کی مجالس میں بیٹھا اور ان کے کردار کو قریب سے دیکھا۔

23 ستمبر 2016ء بمطابق 21 ذوالحجہ 1437ھ بروز جمعہ جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو صرف ایک باپ نہیں بچھڑا بلکہ ایک ایسا سایہ اٹھ گیا جس کے نیچے ہزاروں شاگرد، متعلقین، احباب اور اہلِ محلہ خود کو محفوظ محسوس کرتے تھے۔

آج ان کی وفات کو دس سال مکمل ہونے کے موقع پر ان کی حیاتِ مبارکہ کے چند روشن گوشوں کو قلم بند کرنا دراصل اپنے لیے سعادت اور ان کے لیے خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ایک معمولی کوشش ہے۔

---

خاندانی پس منظر

حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت نومبر 1955ء میں ایک ایسے علمی، دینی اور باوقار خاندان میں ہوئی جس کی فضاؤں میں علم، تہذیب اور دین داری کی خوشبو رچی بسی تھی۔

آپ کے والدِ گرامی محترم پروفیسر نجّوں میاں رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانے کے ممتاز اہلِ علم میں شمار ہوتے تھے۔ تقسیمِ ہند سے قبل آپ کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ لیکچرر تدریسی خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل رہا۔ وہ نہ صرف ایک ماہرِ تعلیم تھے بلکہ ایک صاحبِ کردار، باوقار، دیندار اور ملی شعور رکھنے والی شخصیت بھی تھے۔

پروفیسر نجّوں میاں رحمۃ اللہ علیہ جمعیت علماء ہند کے ابتدائی اراکین میں شمار ہوتے تھے اور اکابر علماء سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ ان کی زندگی علم، وقار اور دینی حمیت کا حسین نمونہ تھی۔

حضرت مولانا دوست محمد ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد کے صاحبزادگان میں سب سے چھوٹے تھے۔ لیکن ابھی عمر کے ابتدائی مراحل ہی میں تھے کہ والد محترم کا سایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا۔ والد کی وفات بلاشبہ ایک عظیم محرومی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی تربیت کے لیے دوسرے اسباب پیدا فرما دیے۔

---

والدہ محترمہ اور بڑے بھائیوں کی تربیت

والد محترم کی وفات کے بعد آپؒ کی تربیت میں آپ کی والدہ محترمہ کا بنیادی کردار رہا۔ انہوں نے صبر، استقامت اور دینی مزاج کے ساتھ اولاد کی پرورش فرمائی۔ ان کی دعاؤں اور تربیت کا اثر حضرت مولانا کی پوری زندگی میں نمایاں نظر آتا تھا۔

اسی طرح بڑے بھائیوں نے بھی والد کی کمی کو محسوس نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے محبت، نگرانی اور شفقت کے ساتھ آپ کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا اور زندگی کے ہر مرحلے میں آپ کے معاون اور مشیر بنے رہے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ حضرت مولانا کی شخصیت میں خاندان سے محبت، بڑوں کا احترام، چھوٹوں پر شفقت اور ذمہ داری کا احساس غیر معمولی طور پر موجود تھا۔

---

ابتدائی رجحانات

بچپن ہی سے حضرت مولانا کے اندر سنجیدگی، علم دوستی اور دینی مزاج نمایاں تھا۔ کھیل کود کے ساتھ ساتھ مطالعہ اور اہلِ علم کی صحبت آپ کو پسند تھی۔ آپ کے اندر دین کی خدمت کا جذبہ کم عمری ہی سے موجود تھا جو وقت کے ساتھ مزید پختہ ہوتا گیا۔

آپ کے قریبی عزیزوں کے مطابق بچپن ہی سے آپ کی طبیعت میں متانت، خاموشی اور غور و فکر کا عنصر نمایاں تھا۔ یہی اوصاف بعد میں آپ کی علمی، دعوتی اور تدریسی زندگی کا امتیاز بنے۔

---

علم کی طرف سفر

حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ نے مختلف دینی مدارس میں رہ کر علومِ دینیہ حاصل کیے۔ آپ نے درسِ نظامی کی تکمیل فرمائی اور بعد ازاں عالم و فاضل، ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی کی اسناد حاصل کیں۔

آپ ان علماء میں سے تھے جو علم کو صرف ڈگری یا معاشی ذریعہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی امانت تصور کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی پوری زندگی علم سیکھنے، سکھانے اور اس پر عمل کرنے میں گزری۔

---

اساتذۂ کرام کا فیض

اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا کو اپنے وقت کے جلیل القدر علماء سے کسبِ فیض کا موقع عطا فرمایا۔

آپ کے ممتاز اساتذہ میں حضرت اقدس مولانا مفتی وجیہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا خدابخش صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا ابو الحسین رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا احمدحسین رحمۃ اللہ علیہ حضرت مولانا عابدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ حضرت مولانا قاری عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا مفتی عبدالغفار صاحب زید مجدہم و دیگر شامل ہیں۔

حضرت مولانا ہمیشہ اپنے اساتذہ کا تذکرہ نہایت احترام اور عقیدت سے کرتے تھے۔

"علم کی برکت کتابوں سے کم اور اساتذہ کی دعاؤں سے زیادہ حاصل ہوتی ہے۔"

یہی وجہ تھی کہ آپ نے خود بھی اپنے شاگردوں کو ادبِ اساتذہ کی تعلیم دی اور پوری زندگی اس پر عمل پیرا رہے۔

(جاری ہے)

06/06/2026

قسط نمبر 1

ایک عہدسازشخصیت
میرے والد، میرے استاذ

استاذ العلماء حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ
بانی: معہد ابی ایوب الانصاریؓ

(وفات کی دسویں برسی کے موقع پر ایک خراجِ عقیدت)

حرفِ آغاز

بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی ایک فرد کی زندگی نہیں رہتی بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک تحریک کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ وہ اپنے علم، عمل، اخلاص اور کردار کے ذریعے دلوں پر ایسے نقوش ثبت کر جاتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود مٹ نہیں پاتے۔ ان کے وصال کے بعد بھی ان کی یادیں، ان کی نصیحتیں، ان کے قائم کردہ ادارے اور ان کے تربیت یافتہ افراد ان کے وجود کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔

حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی شخصیات میں سے ایک تھے۔ وہ میرے والد بھی تھے، میرے استاد بھی، میرے مربی بھی اور میری زندگی کے اولین راہنماء بھی۔ میں نے ان کی گود میں آنکھ کھولی، ان کے سائے میں پرورش پائی، ان سے علم حاصل کیا، ان کی مجالس میں بیٹھا اور ان کے کردار کو قریب سے دیکھا۔

23 ستمبر 2016ء بمطابق 21 ذوالحجہ 1437ھ بروز جمعہ جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو صرف ایک باپ نہیں بچھڑا بلکہ ایک ایسا سایہ اٹھ گیا جس کے نیچے ہزاروں شاگرد، متعلقین، احباب اور اہلِ محلہ خود کو محفوظ محسوس کرتے تھے۔

آج ان کی وفات کو دس سال مکمل ہونے کے موقع پر ان کی حیاتِ مبارکہ کے چند روشن گوشوں کو قلم بند کرنا دراصل اپنے لیے سعادت اور ان کے لیے خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ایک معمولی کوشش ہے۔

---

خاندانی پس منظر

حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت نومبر 1955ء میں ایک ایسے علمی، دینی اور باوقار خاندان میں ہوئی جس کی فضاؤں میں علم، تہذیب اور دین داری کی خوشبو رچی بسی تھی۔

آپ کے والدِ گرامی محترم پروفیسر نجّوں میاں رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانے کے ممتاز اہلِ علم میں شمار ہوتے تھے۔ تقسیمِ ہند سے قبل آپ کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ لیکچرر تدریسی خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل رہا۔ وہ نہ صرف ایک ماہرِ تعلیم تھے بلکہ ایک صاحبِ کردار، باوقار، دیندار اور ملی شعور رکھنے والی شخصیت بھی تھے۔

پروفیسر نجّوں میاں رحمۃ اللہ علیہ جمعیت علماء ہند کے ابتدائی اراکین میں شمار ہوتے تھے اور اکابر علماء سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ ان کی زندگی علم، وقار اور دینی حمیت کا حسین نمونہ تھی۔

حضرت مولانا دوست محمد ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد کے صاحبزادگان میں سب سے چھوٹے تھے۔ لیکن ابھی عمر کے ابتدائی مراحل ہی میں تھے کہ والد محترم کا سایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا۔ والد کی وفات بلاشبہ ایک عظیم محرومی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی تربیت کے لیے دوسرے اسباب پیدا فرما دیے۔

---

والدہ محترمہ اور بڑے بھائیوں کی تربیت

والد محترم کی وفات کے بعد آپؒ کی تربیت میں آپ کی والدہ محترمہ کا بنیادی کردار رہا۔ انہوں نے صبر، استقامت اور دینی مزاج کے ساتھ اولاد کی پرورش فرمائی۔ ان کی دعاؤں اور تربیت کا اثر حضرت مولانا کی پوری زندگی میں نمایاں نظر آتا تھا۔

اسی طرح بڑے بھائیوں نے بھی والد کی کمی کو محسوس نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے محبت، نگرانی اور شفقت کے ساتھ آپ کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا اور زندگی کے ہر مرحلے میں آپ کے معاون اور مشیر بنے رہے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ حضرت مولانا کی شخصیت میں خاندان سے محبت، بڑوں کا احترام، چھوٹوں پر شفقت اور ذمہ داری کا احساس غیر معمولی طور پر موجود تھا۔

---

ابتدائی رجحانات

بچپن ہی سے حضرت مولانا کے اندر سنجیدگی، علم دوستی اور دینی مزاج نمایاں تھا۔ کھیل کود کے ساتھ ساتھ مطالعہ اور اہلِ علم کی صحبت آپ کو پسند تھی۔ آپ کے اندر دین کی خدمت کا جذبہ کم عمری ہی سے موجود تھا جو وقت کے ساتھ مزید پختہ ہوتا گیا۔

آپ کے قریبی عزیزوں کے مطابق بچپن ہی سے آپ کی طبیعت میں متانت، خاموشی اور غور و فکر کا عنصر نمایاں تھا۔ یہی اوصاف بعد میں آپ کی علمی، دعوتی اور تدریسی زندگی کا امتیاز بنے۔

---

علم کی طرف سفر

حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ نے مختلف دینی مدارس میں رہ کر علومِ دینیہ حاصل کیے۔ آپ نے درسِ نظامی کی تکمیل فرمائی اور بعد ازاں عالم و فاضل، ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی کی اسناد حاصل کیں۔

آپ ان علماء میں سے تھے جو علم کو صرف ڈگری یا معاشی ذریعہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی امانت تصور کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی پوری زندگی علم سیکھنے، سکھانے اور اس پر عمل کرنے میں گزری۔

---

اساتذۂ کرام کا فیض

اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا کو اپنے وقت کے جلیل القدر علماء سے کسبِ فیض کا موقع عطا فرمایا۔

آپ کے ممتاز اساتذہ میں حضرت اقدس مولانا مفتی وجیہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا خدابخش صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا ابو الحسین رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا احمدحسین رحمۃ اللہ علیہ حضرت مولانا عابدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ حضرت مولانا قاری عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا مفتی عبدالغفار صاحب زید مجدہم و دیگر شامل ہیں۔

حضرت مولانا ہمیشہ اپنے اساتذہ کا تذکرہ نہایت احترام اور عقیدت سے کرتے تھے۔

"علم کی برکت کتابوں سے کم اور اساتذہ کی دعاؤں سے زیادہ حاصل ہوتی ہے۔"

یہی وجہ تھی کہ آپ نے خود بھی اپنے شاگردوں کو ادبِ اساتذہ کی تعلیم دی اور پوری زندگی اس پر عمل پیرا رہے۔

(جاری ہے)

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Ansar Media House posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al Ansar Media House:

Share