10/06/2026
قسط نمبر 4
ایک عہد ساز شخصیت
میرے والد، میرے استاذ
استاذالعلماء حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ
بانی معہد ابی یوب الانصاریؓ
آخری ایام، حسنِ خاتمہ اور جدائی کا منظر
گزشتہ قسط میں حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ کی امامت، خطابت، خدمتِ خلق، علماء سے تعلق اور روحانی وابستگی کا ذکر کیا گیا۔ اب اس قسط میں ان کی زندگی کے آخری ایام، آخری جمعہ، نصیحتیں اور وصال کے لمحات کو ترتیب سے بیان کیا جا رہا ہے۔
---
طویل بیماری اور استقامت
حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ تقریباً 2003ء سے دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔ وقتاً فوقتاً طبیعت بگڑتی اور ہسپتال میں داخل ہونا پڑتا، مگر اس کے باوجود آپ کی دینی مصروفیات میں کوئی کمی نہ آتی۔
بیماری کے باوجود آپ نے تدریس، امامت، خطابت اور دینی رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھا۔ جسمانی کمزوری بڑھتی جا رہی تھی، مگر روحانی قوت اور دینی جذبہ پہلے سے زیادہ مضبوط تھا۔
2016ء میں رمضان المبارک سے کچھ عرصہ قبل دل کی تکلیف میں شدت آگئی۔ علاج کے دوران دل کی شریانوں میں اسٹنٹس ڈالے گئے۔ اس کے بعد بھی آپ کا معمول یہ تھا کہ کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے اور حتیٰ المقدور مسجد اور ادارے کی خدمات انجام دیتے رہے۔
---
وہ جمعہ جو آخری تھا
23 ستمبر 2016ء بمطابق 21 ذوالحجہ 1437ھ، بروز جمعہ وہ دن تھا جو حضرت مولانا کی زندگی کا آخری جمعہ ثابت ہوا۔
اس دن طبیعت انتہائی کمزور تھی، مگر اس کے باوجود آپ نے جمعہ کی تیاری فرمائی اور خطبہ دینے کے لیے مسجد تشریف لائے۔
آپ کا خطبہ تقریباً پینتالیس منٹ پر محیط تھا۔ موضوع نوجوان نسل کی اصلاح، معاشرتی برائیوں سے بچاؤ، بدنگاہی، بے حیائی، غیر شرعی تعلقات اور اسلامی طرزِ زندگی تھا۔
حاضرین کے مطابق اس دن آپ کے الفاظ میں غیر معمولی درد، گہرائی اور تاثیر تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ایک مشفق مربی اپنی آخری نصیحتیں اپنی مصلیوں مقتدیوں کے سامنے رکھ رہا ہو۔
اس کے بعد آپ نے خود نمازِ جمعہ کی امامت فرمائی۔
---
نکاح کی مجلس میں آخری نصیحت
اسی دن ایک شاگرد کے نکاح کی تقریب بھی تھی۔ حضرت مولانا حسبِ معمول اس میں شریک ہوئے اور نکاح کے بعد مختصر مگر نہایت بامعنی نصیحتیں فرمائیں۔
جب تقریب اختتام کے قریب پہنچی اور لوگ مبارکباد دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت مولانا نے اچانک مائیک سنبھالا اور فرمایا:
"بیٹھ جاؤ! میں ایک اہم بات کہنا چاہتا ہوں۔ شاید یہ میری آخری بات ہو۔"
مجلس میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
آپ نے نوجوانوں کو خاص طور پر مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ گھروں میں دین کو زندہ کرو، نماز قائم کرو، اپنی نظر اور کردار کی حفاظت کرو اور خاندانوں کو فتنوں سے بچاؤ۔
یہ جملے بعد میں ان کی آخری عوامی نصیحتوں کے طور پر یاد کیے جاتے رہے۔
---
آخری ملاقات اور وصیتیں
عصر سے کچھ دیر قبل حضرت والدصاحبؒ نے مجھے بذریعہ کال کرکے بلایا اور فرمایا:
"بیٹا! طبیعت کچھ ٹھیک محسوس نہیں ہو رہی۔"
میں نےعرض کیا کہ ہسپتال چلتے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا:
"نہیں، مجھے ڈر ہے کہ وہاں بے ہوشی کی حالت نہ ہو جائے اور شاید کلمہ نصیب نہ ہو۔"
اس جملے میں آپ کی آخرت کی فکر اور ایمان پر خاتمے کی تمنا صاف جھلکتی ہے۔
اس کے بعد آپ نے کچھ ضروری نصیحتیں اور مدرسہ مسجد گھریلو امور سے متعلق ہدایات دیں۔
---
آخری لمحات
رات کے وقت عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد آپ گھر تشریف لائے۔ کچھ دیر بعد طبیعت میں مزید کمزوری محسوس ہوئی۔
آپ نے فرمایا:
"سینے پر ذرا بام لگا دو۔"
بام لگایا گیا اور مالش کی گئی۔ اس کے بعد آپ آرام کے لیے بستر پر تشریف لے گئے۔
والدہ محترمہ سے شہد طلب کیا
والدہ محترمہ نے محبت سے شہد پیش کیا۔ آپ نے شہد نوش فرمایا اور زبان پر کلمۂ طیبہ جاری تھا۔
اسی حالت میں آپ نہایت سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔
یہ منظر ایک طرف جدائی کا غم تھا اور دوسری طرف حسنِ خاتمہ کی روشن مثال۔
---
جنازہ اور عوامی محبت
24 ستمبر 2016ء بمطابق 22 ذوالحجہ 1437ھ، بروز ہفتہ بعد نماز ظہر آپ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔
جنازے میں علماءِ کرام، طلبہ، شاگرد، اہلِ محلہ اور مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
یہ محض ایک جنازہ نہیں تھا بلکہ ایک پوری علمی، تربیتی اور دینی زندگی کا عملی اعتراف تھا۔
ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل دعائے مغفرت میں مشغول تھا۔
---
بحیثیت والد — ایک ذاتی جدائی
اگرچہ حضرت مولانا دوست محمد ہزارولی رحمۃ اللہ علیہ ایک بڑے عالم، خطیب اور مربی تھے، لیکن میرے لیے وہ سب سے پہلے "والد" تھے۔
ان کی شفقت، ان کی دعائیں، ان کی نصیحتیں اور ان کی موجودگی ایک ایسا سایہ تھیں جس کے بغیر زندگی کا تصور مشکل تھا۔
انہوں نے ہمیں صرف پڑھا لکھا انسان نہیں بلکہ ایک اچھا مسلمان بنانے کی کوشش کی۔
---
حسنِ خاتمہ — ایک روشن مثال
حضرت مولانا کی زندگی کا اختتام بھی ان کی پوری زندگی کی طرح باوقار، پُرسکون اور ایمان افروز تھا۔
زبان پر کلمہ، دل میں اطمینان، اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا سکون — یہ سب حسنِ خاتمہ کی وہ علامات ہیں جو ہر مومن کی تمنا ہوتی ہیں۔
---
اختتامی کلمات (جاری ہے)
اس قسط کے بعد آخری قسط میں ان شاء اللہ:
- شخصیت کے جامع اوصاف
- اہلِ علم و احباب کے تاثرات
- صدقۂ جاریہ (ادارہ، طلبہ، خدمات)
- علمی و دینی وراثت
- اور اختتامی دعا و خراجِ عقیدت
تفصیل سے شامل کیا جائے گا۔