14/08/2026
14 اگست کا دن ہے ہر طرف جشن کا ماحول ہے لیکن دل عجیب حد تک اداس اور مایوس ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس بات کی آزادی کا جشن منایا جائے؟
14 اگست کا دن ہے ہر طرف جشن کا ماحول ہے لیکن دل عجیب حد تک اداس اور مایوس ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس بات کی آزادی کا جشن منایا جائے؟
جس ملک میں ایک پولیس اسٹیشن کے اندر بھی لڑکی محفوظ نہ ہو۔
جہاں معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ درندگی کی خبریں روز کا معمول بن چکی ہوں وہاں کیسا جشن؟
میر رضا جیسے نوجوانوں کو بدمعاش بے دردی سے قتل کر کے گھومتے رہیں اور قانون خاموش تماشائی بنا رہے تو انسان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔
پانی کے ایک گھونٹ پر کسی کا گلا کاٹ دیا جائے اور اقلیتوں کو انسان ہی نہ سمجھا جائے تو ہم کس منہ سے کہیں کہ ہم ایک آزاد قوم ہیں؟
ڈاکٹر آکاش ہو، نور مقدم ہو یا آٹھ سال کی معصوم منتہیٰ فہرست اتنی لمبی ہے کہ پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے😔
ہم ٹیکس دیتے ہیں لیکن بدلے میں کیا ملتا ہے؟
روشنیوں کے شہر میں ٹوٹے ہوئے راستے، نہ پینے کو پانی ہے نہ بجلی نہ گیس۔
لوگ پانچ پانچ دن پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں اور بارہ بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ بھگتتے ہیں۔
نہ صحت کی سہولتیں ہیں نہ معیاری تعلیم۔
سرکاری تعلیم کا نظام اتنا برباد ہو چکا ہے کہ حکمران خود اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں نہیں بھیجتے۔
یہ سب دیکھ کر بس دل جلتا ہے اور شدید غصہ آتا ہے۔
یہ نفرت نہیں بلکہ اس وطن سے محبت کا دکھ ہے کیونکہ ہم یہاں رہتے ہیں اور اس ملک کو اپنا مانتے ہیں۔
ہم بس اتنا چاہتے ہیں کہ یہ سرزمین ہمارے بچوں، ہماری عورتوں اور ہر شہری کے لیے محفوظ بن جائے۔ مگر موجودہ حالات دیکھ کر صرف مایوسی اور فرسٹریشن ہی ہاتھ آتی ہے۔
اگر کسی کو برا لگے تو اسکو پھر بھی آزادی مبارک!