01/05/2026
تمام لوگ عام عوام کو رو رہے ہیں کہ وہ باہر نکلے لہکن لوگوں کو تو روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔
بڑے بڑے ٹیکسز لگے ہیں، بجلی گیس پانی کے بلوں کو جمع کروانے, گھروں کے کرایوں کے لیے در در ادھار مانگ رہے ہیں۔
قرضوں میں ڈوب چکے ہیں سب، ایسے کون نکلے، احتجاج کرے، کون پولیس کے چھتر کھائے .. ؟؟
کون خود پر ایف آئی آر کروائے .. ؟؟
روٹی پوری کرے یا تھانے کچہریوں کے چکر لگائے !!
یہ کام حکومتی ایوانوں میں با اختیار لوگوں کا ہے کہ وہ حکومت کو سمجھائیں وہ احتجاج کریں۔
مولانا فضل الرحمن صاحب، حافظ نعیم الرحمن سراج الحق صاحب یا اپوزیشن میں اس طرح کے لوگ جو بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہیں یہ ہیں وہ لوگ جن کی سنی جاتی ہے۔
وہ کیوں نہیں احتجاج کرتے .. ؟؟
عام عوام کے احتجاج کی کیا حیثیت ہے .. ؟؟
کیا یہ مولوی چندے کھانے اور لسی پینے کے لئے دنیا میں آئے ھیں .. ؟؟