Real Hero's

Real Hero's Asslam O Allaikum Pyare Doston

02/01/2022

بے قراری سی بے قراری ہے
وصل ہے اور فراق طاری ہے ​

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے ​

بن تمہارے کبھی نہیں آئی
کیا مری نیند بھی تمھاری ہے ​

اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں
رات دن تیری انتطاری ہے ​

ایک مہک سمت دل سے آئی تھی
میں یہ سمجھا تری سواری ہے​

خوش رہے تو کہ زندگی اپنی
عمر بھر کی امید واری ہے​

جون ایلیا

07/12/2021

آنس معین کا یومِ ولادت
29 نومبر 1960
آنسؔ معین کے منتخب اشعار ....
*انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے*
*خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور*
---
ہماری مسکراہٹ پر نہ جانا
دیا تو قبر پر بھی جل رہا ہے
---
*حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہو*
*لگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھا*
---
ممکن ہے کہ صدیوں بھی نظر آئے نہ سورج
اس بار اندھیرا مرے اندر سے اٹھا ہے
---
اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں
کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور
---
عجب انداز سے یہ گھر گرا ہے
مرا ملبہ مرے اوپر گرا ہے
---
گونجتا ہے بدن میں سناٹا
کوئی خالی مکان ہو جیسے
---
وہ جو پیاسا لگتا تھا سیلاب زدہ تھا
پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا ہے
---
*اندر کی دنیا سے ربط بڑھاؤ آنسؔ*
*باہر کھلنے والی کھڑکی بند پڑی ہے*
---
یہ انتظارِ سحر کا تھا یا تمہارا تھا
دیا جلایا بھی میں نے دیا بجھایا بھی
---
یاد ہے آنسؔ پہلے تم خود بکھرے تھے
آئینے نے تم سے بکھرنا سیکھا تھا
---
گہری سوچیں لمبے دن اور چھوٹی راتیں
وقت سے پہلے دھوپ سروں پہ آ پہنچی
---
کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار
اے کاش کہ ہوتی مری گہرائی ذرا اور
---
*عجب تلاشِ مسلسل کا اختتام ہوا*
*حصولِ رزق ہوا بھی تو زیرِ دام ہوا*
---
آخر کو روح توڑ ہی دے گی حصارِ جسم
کب تک اسیرِ خوشبو رہے گی گلاب میں
---
گئے زمانے کی چاپ جن کو سمجھ رہے ہو
وہ آنے والے اداس لمحوں کی سسکیاں ہیں
---
نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوں
ابھی میں اندر کے آدمی سے ڈرا ہوا ہوں
---
آج ذرا سی دیر کو اپنے اندر جھانک کر دیکھا تھا
آج مرا اور اک وحشی کا ساتھ رہا پل دو پل کا
---
*اک کربِ مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں*
*مقتل میں ہیں جینے کی دعا دیں تو کسے دیں*
---
بکھر کے پھول فضاؤں میں باس چھوڑ گیا
تمام رنگ یہیں آس پاس چھوڑ گیا
---
نہ تھی زمین میں وسعت مری نظر جیسی
بدن تھکا بھی نہیں اور سفر تمام ہوا
---
اتارا دل کے ورق پر تو کتنا پچھتایا
وہ انتساب جو پہلے بس اک کتاب پہ تھا
---
گیا تھا مانگنے خوشبو میں پھول سے لیکن
پھٹے لباس میں وہ بھی گدا لگا مجھ کو
---
کب بار تبسم مرے ہونٹوں سے اٹھے گا
یہ بوجھ بھی لگتا ہے اٹھائے گا کوئی اور
---
درکار تحفظ ہے پہ سانس بھی لینا ہے
دیوار بناؤ تو دیوار میں در رکھنا
---
*میں اپنی ذات کی تنہائی میں مقید تھا*
*پھر اس چٹان میں اک پھول نے شگاف کیا*
---
*تمہارے نام کے نیچے کھنچی ہوئی ہے لکیر*
*کتابِ زیست ہے سادہ اس اندراج کے بعد*
---
یہ اور بات کہ رنگِ بہار کم ہوگا
نئی رتوں میں درختوں کا بار کم ہوگا
---
*یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور*
*دکھ مجھ کو ہے اور نیر بہائے گا کوئی اور*
---
*وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھی*
*عجیب شخص ہے اپنا بھی ہے پرایا بھی*
---
اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں
کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور............

07/12/2021

آنس معین

ملن کی ساعت کو اس طرح سے امر کیا ہے
تمہاری یادوں کے ساتھ تنہا سفر کیا ہے

سنا ہے اس رت کو دیکھ کر تم بھی رو پڑے تھے
سنا ہے بارش نے پتھروں پر اثر کیا ہے

صلیب کا بار بھی اٹھاؤ تمام جیون
یہ لب کشائی کا جرم تم نے اگر کیا ہے

تمہیں خبر تھی حقیقتیں تلخ ہیں جبھی تو!
تمہاری آنکھوں نے خواب کو معتبر کیا ہے

گھٹن بڑھی ہے تو پھر اسی کو صدائیں دی ہیں
کہ جس ہوا نے ہر اک شجر بے ثمر کیا ہے

ہے تیرے اندر بسی ہوئی ایک اور دنیا
مگر کبھی تو نے اتنا لمبا سفر کیا ہے

مرے ہی دم سے تو رونقیں تیرے شہر میں تھیں
مرے ہی قدموں نے دشت کو رہگزر کیا ہے

تجھے خبر کیا مرے لبوں کی خموشیوں نے!
ترے فسانے کو کس قدر مختصر کیا ہے

بہت سی آنکھوں میں تیرگی گھر بنا چکی ہے
بہت سی آنکھوں نے انتظار سحر کیا ہے

وہ تھک کہ کندھے سے آآآ لگا ہے. . .میں اُس کی تھکن کہ ہزار صدقے. . .🖤
06/12/2021

وہ تھک کہ کندھے سے آآآ لگا ہے. . .
میں اُس کی تھکن کہ ہزار صدقے. . .🖤

01/09/2021

You Shouldn't Anger John Wick

18/08/2021

بی بی سکینہ ء کے زخم

12/08/2021

جان و اولاد لٹا کر ہی بختِ جلی بنتا ہے
نفسِ مطمئین مٹ جائے، تو ولی بنتا ہے
خونِ محمد و حیدر جو ہو جائیں مخلوط
تب کہیں جا کے حسین ابنِ علی ع بنتا ہے

از قلم: شاعرِ اہلبیت سید حمزہ اِمام ہاشمی

👑

12/08/2021

حسینیت کوئی مسلک نہیں محبت ہے
مجھے بھی اس میں سے حصہ ملا، عنایت ہے

محمد مبشر میو ❤️

07/08/2021

Nusrat Fateh Ali Khan

29/07/2021
14/07/2021

Jab Mere sab Jaragh E Tammana Hawa Ke hain

Address

Karachi

Telephone

+923468969855

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Real Hero's posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category