JamalUpdates

JamalUpdates Always prefer the Nation's Benefit. Creating exclusive digital content for better engagement.

20/08/2026

History will record that he refused to bow—and in the end, it was the system that had to bow before him.

20/08/2026

عمران خان کی شفاء انٹرنیشنل ہسپتال ایچ ایٹ منتقلی معاملہ

وفاقی پولیس کے مجموعی طور پر 830 سے زائد پولیس افسران و جوان تعینات

فورس شام 7 سے صبح 7 بجے اور صبح 7 سے شام 7 بجے تک دو شفٹوں میں ڈیوٹی دے گی

اسلام آباد پولیس

20/08/2026

عمران خان کی اڈیالہ جیل سے شفاء اسپتال منتقلی ۔ 7 گاڑیوں کے قافلے میں آمد۔


08/08/2026

میر رضا کیس

رپورٹ آگئی

جسم پر شدید تشدد کے نشانات ، ثابت ہوگیا ہوگیا خودکشی نہیں قتل ہے رپورٹ کی بنیاد پر وکیل جبران ناصر کا دعوی

شرم کا مقام ہے کہ پولیس تفتیش کے نام پر ازدواجی معاملات کی خبریں چلائی جارہی ہیں

آئی جی سندھ اس حوالے سے وضاحت دیں

پولیس کو در ہے کہ کہیں یہ قاتلوں تک نہ پہنچ جائیں

ان کے مالی معاملات ڈسکس کئے جارہے ہیں

انہیں دباؤ میں لانے کے حربے کئے جارہے ہیں

پولیس تفتیش نہیں کررہی ہے، فیملی کو حراساں کررہی ہے

اس خاندان کو گھنٹوں دفتر میں بٹھا کر کہا کہ خودکشی ہے اس کو مان لیں

پولیس کے افسران اس معاملے کو خودکشی تسلیم کرنے پر ،ور دے رہے تھے

14 سوالات میڈیکل بورڈ لے کر گیا تھا ان کے جواب لایا ہے

مختلف سیمپلز کے کر بھیجے گئے تھے، تشدد کے نشانات واضح تھے

چہرے کے مختلف حصوں پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں

باڈی پر کالا مواد ملا ہے جو عموماً نہیں پایا جاتا

حلق تک وہ مواد پایا گیا ہے

ثابت ہوگیا کہ گولی کمر سے لگی اور سینے سے باہر نکلی

پسلیاں ٹوٹی ہوئی پائی گئیں ایسے بھی شواہد ملے ہیں

پیر کے انگوٹھے پر بھی انجری ملی ہے

اس کے جسم پر کالے دھبے کیوں تھے 17 سیمپلز لئے گئے ہیں

جو رسوائی پیدا کی گئی تھی ٹکڑوں میں سی سی ٹی وی دکھائی گئی

یہ قتل ہے بے گناہ نوجوان کا، پولیس تفتیش نہیں کرنا چاہتی

ہمیں بھروسہ نہیں ہے پوری تفتیشی ٹیم بدلنے کا مطالبہ کرتے ہیں
وکیل جبران ناصر کی صحافیوں سے بات چیت



05/08/2026
نجلہ کو جس بے اولاد جوڑے کے سپرد کیا گیا انہوں نے اسے اپنی حقیقی بیٹی کی طرح پالا اور تربیت کی۔ انہوں نے انٹرمیڈیٹ تک اس...
28/07/2026

نجلہ کو جس بے اولاد جوڑے کے سپرد کیا گیا انہوں نے اسے اپنی حقیقی بیٹی کی طرح پالا اور تربیت کی۔ انہوں نے انٹرمیڈیٹ تک اس کی تعلیم کا اہتمام کیا اور خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنے لیکن نجلہ نے اپنی دلچسپی کے مطابق دینی تعلیم کا انتخاب کیا۔ وہ عالمہ بنی، عربی زبان کے مختلف کورسز مکمل کیے اور تدریس و علمی سرگرمیوں سے وابستہ ہوگئی۔ یہ سب قاری بشیر کی برکت سے ہوا ❤️

2008 میں کراچی کے علاقے کورنگی سے 4 سالہ نجلہ اپنی والدہ کے ساتھ نیو کراچی میں اپنے چچا کے گھر آئی تھی۔ گرمی کا دن تھا، گھر میں رشتہ دار جمع تھے۔ بچی نے ضد کی کہ اسے باہر سے کوئی چیز خریدنی ہے۔ چند سکے ہاتھ میں آئے اور وہ گھر سے نکل گئی۔

واپسی پر مسئلہ صرف اتنا تھا کہ گلی کے تقریباً تمام دروازے ایک جیسے تھے۔ وہ اپنے چچا کا گھر پہچان نہ سکی۔ ایک دروازے سے دوسرے، ایک گلی سے دوسری گلی اور پھر ایک راستے سے دوسرے راستے تک چلتے چلتے وہ اس مقام تک پہنچ گئی جہاں سے اس کی زندگی کا راستہ ہمیشہ کے لیے بدل گیا۔

اسی روز اسے ایک شخص نے سڑک کنارے دیکھا۔ زبان مختلف تھی تو بچی کچھ بتا نہ سکی۔ اس شخص نے چند روز تک اسے اپنے پاس رکھا، تصویر بھی بنوائی تاکہ شاید کوئی والدین تک پہنچ سکے لیکن کوئی نہ آیا۔ بعد میں کراچی کی شادمان یونین کونسل کے ذریعے اسے ایک بے اولاد جوڑے کے سپرد کر دیا گیا۔

وہ جوڑا اس کے لیے حقیقی والدین کی طرح ثابت ہوا۔ انہوں نے اسے تعلیم دی، تربیت دی، محبت دی اور کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ ان کی اپنی بیٹی نہیں۔ یہاں تک کہ ان کے قریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو بھی برسوں تک معلوم نہ ہو سکا کہ نجلہ اس جوارے کی اپنی بیٹی نہیں۔

مگر محبت کے باوجود ایک خلا ایسا تھا جو کبھی پر نہ ہو سکا۔ ابتدائی ایک برس تک وہ ہر روز روتی رہی۔ ماں، باپ اور بھائیوں کو یاد کرتی رہی۔ وقت گزرا، یادیں دھندلانے لگیں لیکن مکمل طور پر مٹ نہ سکیں۔ اس نے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی۔ خاندان کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنے لیکن اس نے اپنی مرضی سے دینی تعلیم کا انتخاب کیا۔ عالمہ بنی، عربی کے مختلف کورسز کیے اور تدریسی سرگرمیوں سے وابستہ ہو گئی۔

پھر 2024 میں اچانک اس کی زندگی نے ایک اور موڑ لیا۔ ڈراؤنے خواب، بے چینی اور ماضی کی ٹوٹی ہوئی تصویریں اسے بار بار اسی دن میں لے جاتیں جب وہ راستہ بھول گئی تھی۔ وہ ایک ماہر نفسیات کے پاس پہنچی۔ ڈاکٹر نے پرچی پر کسی دوا کا نام نہیں لکھا۔ صرف ایک جملہ درج کیا: 'ولی اللہ معروف کا پیج۔' نجلہ نے پہلے سمجھا شاید کسی بزرگ کا نام ہے لیکن ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ وہ شخص ہے جو برسوں سے بچھڑے خاندانوں کو ملانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی مشورے نے ایک نئی امید پیدا کی۔

دو ماہ تک اس نے خاموشی سے ولی اللہ معروف کا کام دیکھا، ان کے ذریعے ملنے والے خاندانوں کی کہانیاں پڑھیں اور پھر فروری 2025 میں ان سے رابطہ کر لیا۔ اس کے بعد اس نے اپنی زندگی کی مختصر لیکن دل ہلا دینے والی داستان سنائی۔

اسے صرف اتنا یاد تھا کہ وہ چار یا پانچ برس کی تھی، کسی رشتہ دار کے گھر آئی تھی، باہر نکلی، راستہ بھول گئی اور پھر کبھی واپس نہ جا سکی۔ اسے اپنا اصل نام یاد نہیں تھا۔ صرف چند مدھم نشانیاں ذہن میں باقی تھیں، گھر کے سامنے قبرستان تھا، صحن میں تورئی کی بیل تھی۔۔۔ وغیرہ

5 فروری 2025 کو ولی اللہ معروف نے اس کی کہانی سوشل میڈیا پر شائع کی۔ پوسٹ غیر معمولی طور پر وائرل ہوئی۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی ہزاروں افراد نے اسے شیئر کیا۔ سینکڑوں لوگوں نے دعائیں دیں اور متعدد خاندانوں نے رابطہ کیا۔ چار ایسے خاندان سامنے آئے جنہیں یقین تھا کہ شاید یہی ان کی گمشدہ بیٹی ہے۔ ہر امکان کو سنجیدگی سے پرکھا گیا۔ ڈی این اے ٹیسٹ ہوئے لیکن چاروں مرتبہ نتیجہ منفی آیا۔

ولی اللہ معروف کے مطابق یہی وہ مرحلہ تھا جس نے انہیں اندر سے بے چین کر دیا۔ ایک طرف بچی کی گمشدگی کے وقت کی واضح تصویر موجود تھی تو دوسری طرف اس کی یادداشت میں محفوظ چند نشانیاں بھی لیکن اس کے باوجود اصل خاندان تک پہنچنا ممکن نہیں ہو رہا تھا۔ تقریباً ڈیڑھ برس بعد انہوں نے ایک بار پھر ہمت کی۔ 30 جون 2026 کو انہوں نے وہی اپیل دوبارہ شائع کی۔ اس بار ایک خاندان نے رابطہ کیا۔ وہ کراچی کے کورنگی کا رہائشی تھا۔

خاندان نے ایسی تفصیلات بتائیں جو نجلہ کی دھندلی یادوں سے حیرت انگیز حد تک ملتی تھیں۔ بھائی ٹینکر چلاتے تھے۔ ایک بھائی بجلی کا کام کرتا تھا۔ گھر کے قریب قبرستان تھا۔ آس پاس سیپیوں کی فیکٹری تھی اور سب سے اہم یہ کہ 2008 میں اسی علاقے میں گمشدگی کی پولیس رپورٹ بھی درج کرائی گئی تھی۔

مزید یہ کہ بہنوں کے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کی ساخت بھی غیر معمولی طور پر ایک جیسی تھی۔ اب صرف ایک مرحلہ باقی تھا۔ ڈی این اے ٹیسٹ۔ ماں اور بیٹی کے نمونے جرمنی بھیجے گئے۔ تقریباً دو ہفتے کا انتظار شروع ہوا۔ پھر جولائی 2026 میں وہ لمحہ آیا جس کا انتظار 2008 سے کیا جا رہا تھا۔ رپورٹ مثبت تھی۔ نجلہ دراصل شہناز تھی۔ وہی چار سالہ بچی جو جون 2008 میں راستہ بھول گئی تھی۔

ولی اللہ پھر ولی اللہ ہے۔۔۔ انہوں نے صرف ڈی این اے رپورٹ پر ہی اکتفا نہیں کیا۔۔ دراصل شہناز کے گم ہونے کے بعد رشتہ داروں نے اس کے چچا پر الزام لگا دیا تھا کہ انہوں نے بچی کو فروخت کر دیا ہے۔ یہ الزام اس نوجوان چچا کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہوا۔ چند ماہ بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ گھر ٹوٹ گیا۔ والدین ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ بھائی اور بہنیں مختلف سمتوں میں بکھر گئے۔ بہنوں کے رشتوں پر بھی اس الزام کا سایہ منڈلاتا رہا۔ ڈی این اے رپورٹ نے اس ایک لمحے میں تمام شکوک ختم کر دیے۔ ولی اللہ معروف نے صرف رپورٹ پر اکتفا نہیں کیا۔ انہوں نے بکھرے ہوئے خاندان کو ایک جگہ جمع کیا۔ اس کے بعد پورا خاندان ایک بس میں بیٹھ کر نجلہ کے گھر پہنچا۔ وہاں 18 برس بعد ہونے والی ملاقات کو الفاظ میں سمویا نہیں جا سکتا۔ کسی کے آنسو رک نہیں رہے تھے، کوئی برسوں کی خاموشی توڑ رہا تھا اور کوئی صرف اتنا کہہ پا رہا تھا کہ شاید اللہ نے آج ہماری دعا سن لی ہے۔۔۔

اس پوری داستان میں ایک کردار مسلسل پس منظر میں موجود رہا۔ قاری بشیر۔ یہ وہی شخص تھے جنہوں نے 2008 میں اس ننھی بچی کو لاوارث حالت میں دیکھ کر اسے محض ایک نامعلوم بچی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا۔ انہوں نے اسے اپنی ذمہ داری جانا، محفوظ مقام تک پہنچایا، اس کی تصویر بنوائی، لوگوں سے پوچھ گچھ کی اور ہر ممکن کوشش کی کہ وہ اپنے اصل گھر پہنچ جائے۔ اگر اس دن وہ انسانی ہمدردی کا مظاہرہ نہ کرتے تو شاید نجلہ کی کہانی کسی اور رخ پر چلی جاتی۔

ولی اللہ معروف، قاری بشیر سمیت تمام ایسے کرداروں کو اللہ تعالیٰ اجر عطا فرمائے۔ آمین

ادیب یوسفزئی


11/07/2026

Who is responsible for nasla tower?



11/07/2026


29/06/2026

ہواؤں کا رخ بدلنے کے لئے شخصیت کیا داؤ پر لگادی جائے گی؟
حالیہ رہنما کیا چاہتے ہیں ! کون کون عتاب میں ہے۔
کیا واقعی مائنس ہی واحد حل ہے۔



29/06/2026

*🔥💫✍🏻کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے۔ اس لیے میں اپنی عوام، پارٹی ورکرز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس سے وصیت کرتی ہوں کہ عمران خان کو کبھی اکیلا نہ چھوڑنا*
*پاسمین راشد*

Address

Karachi
75950

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JamalUpdates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to JamalUpdates:

Shortcuts

Share