Daily Apna Newspaper Online

Daily Apna Newspaper Online ڈیلی اپنا نیوز پیپر آن لائن
آپ کا اپنا نیوز پیپر آن لائن۔

ایران کے نیوز نیٹ ورک نے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
01/03/2026

ایران کے نیوز نیٹ ورک نے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

24/12/2025
24/12/2025

21/12/2025

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

19/12/2025

آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈائی بیچ پر فائرنگ کے واقعے کے کچھ دن بعد آسٹریلوی شہر برسبین میں ایک مسجد کی بےحرمتی کی گئی ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق شمالی برسبین کے مضافاتی علاقے بالڈ ہلز میں مسجد تقویٰ کی دیوار پر اسپرے سے اسلامو فوبک تحریر لکھی گئی۔

مقامی پولیس کے مطابق 17 اور 18 دسمبر کی صبح نامعلوم شخص نے مسجد کی دیوار پر مغلظات لکھے۔

مقامی پولیس نے اس واقعے سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے بارے میں عوام سے اپیل بھی کی ہے۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور نے کلب چوک جی او آر حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، م...
19/12/2025

انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور نے کلب چوک جی او آر حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ کوٹ لکھپت جیل میں مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جج منظر علی گل نے جرم ثابت نہ ہونے پر سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 13 ملزمان کو بری کرنے کا حکم جاری کیا، جبکہ مجموعی طور پر 8 ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں۔ اس اہم مقدمے میں کل 25 ملزمان کا ٹرائل کیا گیا تھا جن میں سے 4 کو عدالت نے اشتہاری قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی منظر نامے پر قانونی کارروائیاں عروج پر ہیں، اور اس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی صفوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ قانونی ماہرین اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔

18/12/2025

کراچی سے اغوا کیے گئے تین سالہ معصوم بچے زین کو سندھ کے شہر مورو کے قریب سے بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔

مورو کے ایس ایچ او علی اکبر کوکر اور پولیس ٹیم کے بروقت اور مؤثر کردار کو خراجِ تحسین پیش گیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن سے اغوا ہونے والے تین سالہ معصوم بچے زین کو سندھ کے شہر مورو کے قریب ایک علاقے سے بحفاظت بازیاب کرایا گیا۔ یہ کامیاب کارروائی ملیر پولیس، سی پی ایل سی، اے وی سی سی اور مورو پولیس کے باہمی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی کے نتیجے میں ممکن ہوئی، جس میں مورو کے ایس ایچ او علی اکبر کھوکھر اور پولیس ٹیم نے اہم اور قابلِ تعریف کردار ادا کیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق، اغوا کاروں نے بچے کے بدلے دو کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ واقعے کے بعد ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ کی ہدایات پر فوری طور پر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے جدید تکنیکی ذرائع اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر تفتیش شروع کی۔ تفتیش کے دوران بچے کی موجودگی کا سراغ مورو کے قریب ایک گاؤں سے ملا، جس پر کراچی پولیس نے مورو پولیس سے رابطہ کیا۔

مورو کے ایس ایچ او علی اکبر کوکر کی قیادت میں مورو پولیس نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کا محاصرہ کیا اور مشترکہ آپریشن کے دوران ایک گھر پر کامیاب چھاپہ مار کر بچے کو محفوظ طریقے سے بازیاب کرایا۔ اس کارروائی کے دوران اغوا میں ملوث ملزم آصف آرائیں کو بھی گرفتار کیا گیا، جسے مزید تفتیش کے لیے کراچی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

ایس ایچ او مورو علی اکبر کوکر نے بازیاب شدہ بچے کو اس کے ورثاء اور کراچی پولیس کے حوالے کیا۔ پولیس حکام کے مطابق، مورو پولیس کی بروقت کارروائی، مقامی سطح پر مؤثر نگرانی اور بہترین کوآرڈی نیشن کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہ تھی۔

پولیس اب اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہے کہ ملزمان بچے کو کراچی سے تقریباً 400 کلومیٹر دور مورو تک کیسے منتقل کرنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ اغوا کار گروہ کے دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور آنے والے دنوں میں مزید اہم انکشافات اور گرفتاریاں متوقع ہیں۔

جہاں گرد کی ڈائریخادم بالادیPS-35 میں انسانی ترقی اور سیاسی عمل میں عوامی شرکت: ضیاءالحسن لنجار کا سیاسی وژنسندھ اسمبلی ...
18/12/2025

جہاں گرد کی ڈائری
خادم بالادی

PS-35 میں انسانی ترقی اور سیاسی عمل میں عوامی شرکت: ضیاءالحسن لنجار کا سیاسی وژن

سندھ اسمبلی کے صوبائی حلقہ پی ایس 35کا شمار اُن علاقوں میں ہوتا ہے جہاں برسوں سے ترقیاتی عدم توازن، بنیادی سہولتوں کی کمی اور سیاسی بے توجہی ایک مستقل مسئلہ بنی رہی ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا سیاست سے مایوس ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ جب نمائندگی محض انتخابی نعروں اور وقتی وعدوں تک محدود ہو جائے تو عام آدمی کا اعتماد ٹوٹتا ہے۔ تاہم حالیہ عرصے میں حلقے کی سیاسی فضا میں جو تدریجی تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے، اس کے پس منظر میں محترم ضیاءالحسن لنجار کے کردار کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

ضیاءالحسن لنجار کی سیاست کی بنیاد اس تصور پر قائم دکھائی دیتی ہے کہ ترقی کو صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کے نزدیک اصل ترقی وہ ہے جو انسان کی روزمرہ زندگی میں بہتری لائے، اُسے تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں تک باوقار رسائی فراہم کرے۔ اسی سوچ کے تحت صوبائی حلقہ پینتیس میں تعلیمی اداروں کی بحالی، اسکولوں کی فعالیت، اور صحت کے مراکز کی بہتری جیسے اقدامات پر توجہ دی گئی، جو انسامی ترقی کے تصور کو عملی شکل دینے کی کوشش قرار دی جا سکتی ہے۔

تعلیم کے شعبے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پسماندہ علاقوں میں تعلیمی سہولتوں کی کمی نہ صرف شرحِ خواندگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیتی ہے۔ حلقے میں اسکولوں کی مرمت، اساتذہ کی دستیابی اور تعلیمی ماحول کی بہتری کے لیے کی گئی کوششیں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ قیادت مسئلے کی جڑ تک جانے کی خواہاں ہے۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں بنیادی مراکزِ صحت کی فعالیت، علاج معالجے کی سہولت اور عوامی آگاہی انسامی ترقی کے اہم ستون سمجھے جا سکتے ہیں۔

سیاسی عمل میں عوامی شرکت کے حوالے سے ضیاءالحسن لنجار کا رویہ روایتی سیاست سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر سیاست عوام اور اقتدار کے درمیان ایک فاصلے کو جنم دیتی ہے، مگر حلقہ پینتیس میں عوامی رابطے، مقامی مشاورت اور براہِ راست مکالمے کی روایت نے اس فاصلے کو کسی حد تک کم کیا ہے۔ برادریوں سے ملاقاتیں، مقامی سطح پر مسائل کا جائزہ اور عوام کی رائے کو اہمیت دینا اس بات کا اظہار ہے کہ سیاسی عمل کو محض انتخابی سرگرمی تک محدود نہیں رکھا جا رہا۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جمہوری نظام کی اصل طاقت عوامی شمولیت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب شہری خود کو فیصلوں کا حصہ سمجھتے ہیں تو نہ صرف سیاسی شعور میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ وہ ترقیاتی منصوبوں کے تحفظ اور تسلسل میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ صوبائی حلقہ پینتیس میں سیاسی مباحث میں اضافہ اور عوامی دلچسپی کا بڑھنا اسی شعور کی علامت ہے، جو ایک مثبت جمہوری رویے کو جنم دے سکتا ہے۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ حلقے کو درپیش مسائل کی نوعیت پیچیدہ اور دیرینہ ہے۔ صاف پانی کی فراہمی، روزگار کے مواقع، اور انفراسٹرکچر کی بہتری جیسے مسائل فوری اور مؤثر توجہ کے متقاضی ہیں۔ وسائل کی کمی اور انتظامی رکاوٹیں ترقی کے راستے میں ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ ایسے میں قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف وعدے کرے بلکہ عمل کے ذریعے عوامی اعتماد کو مستحکم کرے۔

انسامی ترقی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک یکساں پہنچیں۔ صوبائی حلقہ پینتیس میں خواتین، نوجوانوں اور پسماندہ طبقات کو سیاسی اور سماجی عمل میں شامل کرنے کی کوششیں اگر مؤثر انداز میں آگے بڑھتی رہیں تو یہ علاقہ مجموعی ترقی کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں کی سیاسی تربیت اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا مستقبل کی سیاست کے لیے نہایت اہم ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو محترم ضیاءالحسن لنجار کا سیاسی کردار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر قیادت انسامی ترقی کو مرکز بنائے، عوامی شرکت کو فروغ دے اور جمہوری اقدار کو عملی سطح پر نافذ کرے تو سیاست محض اقتدار کی جدوجہد نہیں رہتی بلکہ معاشرتی بہتری کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ صوبائی حلقہ پینتیس میں ان کی کوششیں اسی سمت ایک سنجیدہ پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ صوبائی حلقہ پینتیس آج ایک اہم مرحلے پر کھڑا ہے۔ عوام بیدار ہیں، سوال کر رہے ہیں اور نتائج کے منتظر ہیں۔ ایسے میں قیادت کے لیے یہ وقت محض بیانات کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ اگر انسامی ترقی اور عوامی شرکت پر مبنی یہ سیاسی وژن تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو امید کی جا سکتی ہے کہ یہ حلقہ نہ صرف ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا بلکہ جمہوری اقدار کے فروغ میں بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔

18/12/2025

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

Address

Karachi

Telephone

+923063212198

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daily Apna Newspaper Online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Daily Apna Newspaper Online:

Share