07/06/2026
سیکس بارے کبھی کسی خاتون کا لکھا کچھ پڑھا ہے ؟ کسی خاتون سے سیکس کے حوالے سے اس کے خیالات سنے ہیں ؟ وہ خیال جن کا تعلق مزے سے ہو ، وہ خیال جن کا تعلق زبردستی سے ہو ۔
یہ ضرور کبھی جاننے کی کوشش کریں ۔ جب ہم پڑھیا کرتے تھے تو ایسے خط بھی کچھ پڑھے نامی خواتین کے جن میں انہوں نے اپنے محبوب کے ساتھ سیکس کو ڈیفائن کیا تھا اس مزے کو بیان کیا تھا ۔ کچھ بدیسی خواتین اس پر اچھا لکھ چکی ہیں ۔
یہ پڑھیں گے تو جانیں گے کہ ہمارا علم سارا یکطرفہ ہے ، اکثر بکواس ہے ۔ مزے اور زبردستی کے حوالے سے قوانین ہوں ،رولز آف سیکس گیم ہوں ، زیادہ مردوں کے ہی بنائے ہوئے ہیں ۔ انہی شیروں نے اس کی تشریح کی ہے ۔ اس کام میں پارٹنر، دوسرے شریک کا ورژن ہی غائب ہے ۔
مرد تو خیر آج بھی ایسے مل جاتے ہیں کہ وہ آیا اس نے پایا اور وہ گیا ۔ اگر آپ اس سے مختلف ہیں تو ایسے ہی پھرتیلے طبعیت بزرگوں کی اولاد ہیں ۔
ریپ کے حوالے سے شائد اک فرنچ شاٹ فلم ہے ، بندی پبلک واش روم جاتی ہے ، وقت ایسا ہوتا کہ رش نہیں ہوتا ۔ وہاں اس کے ساتھ زیادتی ہو جاتی ہے ۔ ادھر مزاحمت کرتی ہے چیختی چلاتی ہے، روتی ہے ۔ مجرم بھاگ جاتا ہے ۔ وہ کچھ دیر بیٹھی رہتی ہے ۔ اٹھ کر منہ دھوتی ہے ۔ آنکھیں صاف کرتی ہے ۔
واش روم سے باہر آتی ہے ۔ دو قدم اٹھاتی ہے سر جھٹک کر مسکراتی ہے ، نارمل قدم اٹھاتے آگے بڑھتی ہے ۔ فلم ادھر ختم ہو جاتی ہے ۔
یہ ایڈوانس دنیا کا حال ہے ، یہ آپشن یہ اختیار اور یہ حال ہے ۔
ریپ اس لیے ہوتا ہے کہ اسے کرنے والے کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ یہ کرے گا اور صاف بچ نکلے گا ۔ یہ اک چیلنج ہے کہ وہ نہ بچ سکے لیکن بچتا ہے ، سب کی آنکھوں کے سامنے صاف نکل جاتا ہے ۔
ریپ سے بچنے بھاگنے بتانے موقع پر مقابلہ کرنے کی جتنی ہدایت ہم کرتے ہیں سب اس خاتون کو ہی کرتے ہیں جو اس جرم کے آغاز انجام پہل کی ذمہ دار ہی نہیں ہوتی ۔ اس حوالے سے ساری پابندی ہدایت اصلاح مرد حضرات کی ہی کرنی بنتی ہے ۔
پولیس عدالت میڈیا سوسائٹی ، کا ردعمل اک روٹین میں زیادتی کو اجتماعی زیادتی میں بدل دیتا ہے ۔ ایک واقعہ ہوتا ہے ۔ اس کے بعد سب مل کر ہر اینگل سے کئی کئی بار ، ہٹ ہٹ کے آتے ہیں دوبارہ باری لگاتے ہیں ، اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور پھر زیادتی کو اجتماعی زیادتی میں تبدیل کرتے ہیں ۔
رسپانس صرف ایک ہے کہ کم سے کم وقت میں متاثرہ فرد تک پہنچا جائے ۔ اس کی نفسیاتی جسمانی بحالی کا عمل شروع ہو ۔
کچھ بھی ایسا کہنے سے گریز کیا جائے جو متاثرہ فرد ، واقعے سے دکھی افراد یا غیر متعلق افراد کو غیر محفوظ کر دے ، دکھی کر دے ، ڈرا دے یا نفسیاتی الجھنوں کا شکار کر دے ۔
اب اک ریپ وکٹم کا حال خیال بتاتی کچھ لائینیں
میں سونا چاہتی ہوں ، مجھے نیند نہیں آتی ، میں بھولنا چاہتی ہوں ، مجھے یاد رہتا ہے ، میں رونا چاہتی ہوں ، رو نہیں پاتی ، میں آنکھیں بند کرتی ہوں ، مجھے وہی خیال آتے ہیں ۔ میں اب اپنوں کا پیار چاہتی ہوں ، وہ مجھی پر شک کر رہے ہیں ۔
یہ سب میرے اندر چل رہا ہے ۔ میری روح زخمی ہے ، میرے سر میں میری سوچ میں یہی سب چل رہا ہے ۔
وہ میرے سر میری روح میری سوچ کا بھی ریپ کر گیا کیا ؟
وصی بابا