08/04/2026
ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی: مذاکرات کا مرکز اسلام آباد ہوگا
تہران/واشنگٹن: ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے حالیہ معاہدے کے تناظر میں تمام مسلح افواج کو فوری طور پر جنگی کارروائیاں معطل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ تاہم، انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ یہ اقدام مستقل امن نہیں بلکہ محض ایک عارضی تعطل ہے۔
اہم نکات:
فوجی الرٹ برقرار: تہران کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ تمام عسکری یونٹس جنگ بندی پر عمل کریں گے، لیکن ملک بھر میں دفاعی الرٹ کو انتہائی سطح پر رکھا جائے گا۔
ٹریگر پر انگلیاں: سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ اس وقفے کو جنگ کا اختتام نہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ "دشمن کی ذرا سی لغزش پر دوبارہ جوابی کارروائی کے لیے ہمارے ہاتھ ٹریگر پر ہیں۔"
پاکستان کی ثالثی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں اور تجویز پر فریقین کے درمیان یہ جنگ بندی ممکن ہوئی ہے۔
مذاکرات کا شیڈول: باضابطہ امن مذاکرات کا آغاز 10 اپریل سے اسلام آباد میں ہوگا، جو ابتدائی طور پر 14 روز تک جاری رہیں گے۔ ضرورت پڑنے پر ان کی مدت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
شرائط و ضوابط: صدر ٹرمپ نے ایران کی 10 نکاتی تجویز کو بات چیت کے لیے ایک ٹھوس بنیاد قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے آبنائے ہرمز کی فوری بحالی اور محفوظ آمد و رفت کو اس معاہدے کی کلیدی شرط قرار دیا ہے۔
ایرانی حکام اس صورتحال کو میدانِ جنگ میں حریف کی پسپائی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد مذاکرات کسی سیاسی حل تک پہنچنے میں کامیاب رہے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی، ورنہ دوبارہ عسکری تصادم کا خطرہ موجود رہے گا۔