URK-Diary

URK-Diary The world is changed by your example, not by your opinion... Let's Create an Example for them..

لبوں پر آ گئی تھی اک بات حرفِ حق بن کر...
خبر یہ پھیلی شہر میں کہ زبان دراز ہیں ہم..

14/03/2026

🌿 (ایک مفتی صاحب کا حیرت انگیز واقعہ) 🌿

چند ماہ پہلے ایک صاحب مجھ سے ملنے آئے۔ محبت و عقیدت کا رشتہ تھا، مگر اس دن وہ بہت پریشان تھے۔ بیٹھتے ہی کہنے لگے:

"مفتی صاحب! کبھی میرا کاروبار عروج پر تھا۔ لاکھوں کی آمدن، گاڑی، آسائشیں… سب کچھ تھا۔ آج بھی وہی کاروبار ہے مگر برکت نہیں رہی۔ گاڑی بک چکی، قرض بڑھتا جا رہا ہے، مشکل سے گزارا ہو رہا ہے۔ سنا ہے آپ روحانی علاج کرتے ہیں، دیکھئے کہیں جادو، بندش یا نظرِ بد تو نہیں؟ کوئی تعویذ، وظیفہ دے دیجئے تاکہ پہلے جیسے حالات لوٹ آئیں۔"

یہ کہتے کہتے ان کی آنکھیں بھر آئیں۔

میں نے کہا: "فکر نہ کریں، میں آپ کے گھر کے برتنوں پر دم کروں گا، ان شاء اللہ برکت لوٹ آئے گی۔"

وہ حیران ہوئے، پوچھا: "کیا برتن آپ کے پاس لاؤں یا آپ گھر تشریف لائیں گے؟"

میں نے جواب دیا: "نہ آپ برتن لائیں گے، نہ میں گھر آؤں گا۔ بس تین دن تک روزانہ کچن میں جمع ہونے والے دھونے کے برتنوں کی تصویریں لے لیجیے اور چوتھے دن موبائل میں لے آئیں۔ میں ان پر دم کر دوں گا۔"

جب تصاویر دیکھیں تو ہر برتن میں کچھ نہ کچھ سالن یا کھانا باقی تھا، جو دھل کر نالی میں جا رہا تھا۔

میں نے پوچھا: "یہ بچا ہوا کھانا کیا ہوتا ہے؟"
بولے: "ظاہر ہے دھل کر نالی میں چلا جاتا ہے۔"

میں نے کہا: "میں دم نہیں کروں گا۔"

وہ چونکے۔ وجہ پوچھی تو میں نے مختصر سا جواب دیا:

"آج کے بعد رزق کو اس طرح ضائع نہیں کرنا۔ جتنا کھانا ہو اتنا ہی پلیٹ میں ڈالیں۔ برتن کھاتے وقت صاف کریں۔ جو بچ جائے اسے کسی غریب کو دے دیں یا جانوروں کو ڈال دیں، مگر نالی اور کوڑے میں نہ پھینکیں۔ رزق کی بے ادبی نہ کریں۔"

انہوں نے وعدہ کیا کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔

ان کی تسلی کے لیے میں نے 21 مرتبہ سورۃ الفاتحہ پڑھ کر برتنوں پر دم بھی کر دیا تاکہ دل مطمئن رہے۔

چند ہفتوں بعد وہ دوبارہ ملنے آئے۔ اس بار چہرے پر خوشی تھی۔ گلے لگ کر رونے لگے اور کہنے لگے:

"مفتی صاحب! کاروبار سنبھل گیا ہے۔ بڑے بڑے آرڈر دوبارہ مل رہے ہیں۔ آپ کے دم نے کمال کر دیا!"

میں نے مسکرا کر کہا:

"یہ دم نہیں، رزق کا ادب ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق رزق کی بے قدری تنگ دستی کا سبب بنتی ہے۔ آپ نے رزق کا احترام شروع کیا، برکت خود بخود لوٹ آئی۔"

انہوں نے عزم کیا کہ زندگی بھر رزق کے ایک ذرے کو بھی ضائع نہیں کریں گے۔ میں نے کہا:
"اگر واقعی ایسا کیا تو گاڑی بھی آئے گی اور بینک بیلنس بھی۔"

✨ سبق:
برکت صرف کمائی میں نہیں، قدر دانی میں ہوتی ہے۔
رزق کا ادب کریں… برکت خود راستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں رزق کی قدر کرنے اور اس کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین 🤲

14/01/2026

انقلاب کی دو قسمیں ہیں
ایک قسم خونی انقلاب دوسری قسم نرم انقلاب

خونی انقلاب سے پہلے، دوران انقلاب اور انقلاب کے بعد تینوں ادوار میں تباہی بربادی قتل و غارت بدامنی ہوتی ہے طاقتور کی بادشاہت کمزور کی بربادی ہوتی ہے۔
خونی انقلاب کا کوٸی روڈ میپ نظم و ضبط نہیں ہوتا

جبکہ نرم انقلاب ایک منظم نظم و ضبط کیساتھ اپنے روڈ میپ مطابق چلتا ہے اسے لیڈ کرنے والے انقلاب سے پہلے بھی پرامن ہوتے ہیں، انقلاب کے دوران بھی پرامن ہوتے ہیں، اور انقلاب کے بعد بھی پر امن ہوتے ہیں۔
وہ کسی کی جان مال عزت آبروں کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ ہر ایک کو جانی مالی عزت آبروں کا تحفظ دیتے ہیں ۔

نرم انقلابی کسی کےساتھ لڑتے جھگڑتے نہیں ان کا کام شعور بیداری سمجھ فہم کو پرامن طریقے سے پھیلانا مقصود ہوتا ہے۔
وہ راٸج مزہب، عقیدے یا نظام کی مثبت انداز میں تبدیلی ارتقاٸی عمل سے اجتماعی فاٸدے کیلۓ کرنے کے مقاصد پر ہوتے ہیں۔
وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے جبکہ اجتماعی فواٸد فراہم کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ راٸج ناکارہ مزہب یا نظام کے حامی اور فواٸد سمیٹھنے والے انہیں ہر طرح کا نقصان پہچانے سے گریز نہیں کرتے یہاں تک کہ انہیں قتل کرنے سے بھی نہیں کتھراتے لیکن نرم انقلابی مخالفین کی منفی حکمت عملی کے بدلے میں صرف اپنا دفاع کرتے ہیں اور نرم انقلاب کے عملی نفاذ کیلۓ ہر طرح کی قربانی دینے کیلۓ تیار رہتے ہیں.

جب نرم انقلاب کامیابی سے برپا ہو جاۓ اور متبادل مذہب یا نظام راٸج کر دیا جاۓ تو اس مذہب یا نظام کی حفاظت اور اسے مزید دوام دینے کیلۓ نرم انقلابی ہر طرح کے خطرات کی سرکوبی اس کا قلع قمع کرنے اور مخالف قوتوں کو ختم کرنے یا ذیر کرنے کیلۓ اسے پرامن پیغامات کے زریعےاجتماعی مفادات کے اصولوں کے مطابق تحفظ فراہم کرنے کیلۓ راضی کرتے ہیں اور مخالفین کو بھی باہمی رضامندی سے اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں یا میدان جنگ میں مات دینے کیلۓ للکارت ہیں
بلا شبہہ یہ نرم انقلابیوں کی یہ بہترین اخلاق اور بہادری کی اعلیٰ ترین انسانی معیار ہے۔

تاریخ انسانی میں جن ممالک و اقوام میں خونی انقلابات آۓ وہ تباہ و برباد ہوۓ جبکہ جن ممالک میں نرم انقلاب آۓ وہ ہر لحاظ سے بہتر ہوتے چلے گۓ۔

حضرت رسول پاک ﷺ کا انقلاب نرم انقلاب کی بہترین مثال ہے جس کی نظیر تاریخ انسانی میں ناپید ہے۔
جس نے مذہب اور نظام دونوں کو بہترین انداز میں مثبت انداز سے تبدیل کیا اور انسانوں کی زندگی پر لامتناہی مثبت اثرات کی زریعے امن کامیابی اور کامرانی کے تمام دروازے ہر شعبہ ہاۓ زندگی میں کھول دیے۔

بیسویں نصف صدی میں انسانی تاریخ کا ایک اور نرم انقلاب پاکستان کی صورت ابھرنا شروع ہوا لیکن یہ نرم انقلاب اب تک اپنی اصل منزل سے دور ہے کیونکہ نرم انقلابیوں جن میں حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رح اور حضرت قاٸد اعظم محمد علی جناح رح کی جغرافیاٸی آزادی کی کوشش تو بارآور ثابت ہوٸی لیکن نرم کی کامیابی کے اصل روح نظام کی تبدیلی سے اب تک بہت دور ہے جسکا مطلب اس نرم انقلاب کی ناکامی نہیں بلکہ اس کا بنیادی اصول ہے کہ یہ وقت طلب اور ارتقاٸی عمل ہے جو کبھی نسلوں کبھی صدیوں کی مسلسل کوششوں سے اپنی اصل منزل تک پہنچتا ہے۔

نرم انقلابیوں کو شاعر مشرق نے شاہین سے تشبیح دی ہے ۔
جو اپنی روح میں بےقرار نرم دم جستجو اور گرم دم جستجو ہوتے ہیں.

ہماری پاکستانی قوم اضطراب کا شکار ہے شکار ہےیہ نرم انقلاب کے وسط یعنی بنور میں ہے بدقسمتی سے اٹھتر سالوں میں انھیں نا مذھبی پیشواٶں نے نرم انقلاب کی حقیقت سمجھاٸی اور نا ہی سیاستدان انہیں نرم انقلاب کی حقیقت سمجھا سکے۔

چنانچہ ہماری قوم میں انقلاب پر باتیں تجزیے تو دیکھا دیکھی دنیا میں ہونے والے حالات و واقعات کی حد تک تو ہوتی رہتی ہیں لیکن ہماری قوم کو خوانی انقلاب کے نقصانات عارضی منفی تبدیلی اور کے دور رس خطرانات اثرات جبکہ نرم انقلاب کے دیر پا پاٸیدار مستقل مثبت اثرات کا کوٸی علم مہم اور تجربہ نہیں بڑے بڑے علما۶ اور سیاسی رہنما بھی خونی انقلاب کی طرف پاکستانی قوم کو جانے کی تحریکیں چلاتے نظر آٸنگے لیکن انہیں دین اسلام بطورِ مذہب اور پاکستان بطورِ ریاست نرم انقلاب کی بدولت پھیلنے اور قاٸم ہونے کی کچھ خبر نہیں۔

*ایک بوڑھا آدمی کانچ کے برتنوں کا بڑا سا ٹوکرا سر پر اٹھائے شہر بیچنے کے لئے جارہا تھا۔*چلتے چلتے اسے ہلکی سی ٹھوکر لگی ...
16/10/2025

*ایک بوڑھا آدمی کانچ کے برتنوں کا بڑا سا ٹوکرا سر پر اٹھائے شہر بیچنے کے لئے جارہا تھا۔*
چلتے چلتے اسے ہلکی سی ٹھوکر لگی تو ایک کانچ کا گلاس ٹوکرے سے پھسل کر نیچے گر پڑا اور ٹوٹ گیا۔
بوڑھا آدمی اپنی اسی رفتار سے چلتا رہا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔___ پیچھے چلنے والے ایک اور راہگیر نے دیکھا تو بھاگ کر بوڑھے کے پاس پہنچا اور کہا: " بابا جی! آپ کو شاید پتہ نہیں چلا، پیچھے آپ کا ایک برتن ٹوکرے سے گر کر ٹوٹ گیا ہے"
بوڑھا اپنی رفتار کم کیے بغیر بولا: " بیٹا مجھے معلوم ہے "
راہگیر: " حیران ہو کر بولا__، بابا جی! " آپ کو معلوم ہے تو رکے نہیں "
بوڑھا؛ " بیٹا جو چیز گر کر ٹوٹ گئی اس کے لیے اب رکنا بےکار ہے،___ بالفرض میں اگر رک جاتا،__ ٹوکرا زمیں پر رکھتا،___ اس ٹوٹی چیز کو جو اب جڑ نہیں سکتی کو اٹھا کر دیکھتا، __ افسوس کرتا، __ پھر ٹوکرا اٹھا کر سر پر رکھتا تو میں اپنا ٹائم بھی خراب کرتا، __ٹوکرا رکھنے اور اٹھانے میں کوئی اور نقصان بھی کر لیتا اور شہر میں جو کاروبار کرنا تھا __ افسوس اور تاسف کے باعث وہ بھی خراب کرتا۔ ___ بیٹا، میں نے ٹوٹے گلاس کو وہیں چھوڑ کر اپنا بہت کچھ بچا لیا ہے"
۔
۔
۔
ہماری زندگی میں کچھ پریشانیاں، غلط فہمیاں، نقصان اور مصیبتیں بالکل اسی ٹوٹے گلاس کی طرح ہوتی ہیں کہ جن کو ہمیں بھول جانا چاہیے، چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہیے۔
کیوں؟؟؟؟؟
کیونکہ یہ وہ بوجھ ہوتے ہیں جو
آپ کی رفتار کم کر دیتے ہیں
آپ کی مشقت بڑھا دیتے ہیں
آپ کے لیے نئی مصیبتیں اور پریشانیاں گھیر لاتے ہیں
آپ سے مسکراہٹ چھین لیتے ہیں
آگے بڑھنے کا حوصلہ اور چاہت ختم کر ڈالتے ہیں۔
اس لیے اپنی پریشانیوں، مصیبتوں اور نقصانات کو بھولنا سیکھیں اور آگے بڑھ جائیں۔

10/09/2025

”منٹو پر اکثر "فحش نگاری" کے مقدمے چلتے رہتے تھے۔ ایک مقدمے کے دوران جج نے ان سے پوچھا:
"آپ ایسی تحریریں کیوں لکھتے ہیں جنہیں فحش کہا جاتا ہے؟"
منٹو نے بہت سکون سے کہا:
"جنابِ والا، میں وہی لکھتا ہوں جو معاشرے میں ہو رہا ہے۔ اگر میری تحریریں فحش ہیں، تو معاشرہ بھی فحش ہے۔"
یہ جملہ آج تک اردو ادب میں منٹو کے سب سے بڑے دعوے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔“

10/09/2025

مٹھائی فروش سوچتا ہے: "میں تو مٹھائی کھاتا نہیں، لہٰذا اگر مٹھائی میں ملاوٹ کر دوں تو مجھے کیا فرق پڑے گا۔"

بیکری کا مالک سوچتا ہے: "میں تو بسکٹ کھاتا نہیں، اس لیے اگر خراب انڈے اور باسی آٹا استعمال کر کے بسکٹ بنا بھی دوں، تو مجھے کیا نقصان ہوگا۔"

پھل فروش سوچتا ہے: "میں تو پھل کھاتا نہیں، اگر میں پھلوں میں کیمیکل ملا بھی دوں تو میرا کیا جائے گا۔"

مچھلی فروش سوچتا ہے: "میں یہ مچھلی خود نہیں کھاؤں گا، اس لیے اگر میں اس میں فارملین بھی ڈال دوں، تو مجھے اس سے کوئی پریشانی نہیں۔"

لیکن دن کے اختتام پر—

مٹھائی فروش مٹھائی بیچ کر بسکٹ، پھل اور مچھلی خرید کر گھر لے جاتا ہے۔

بیکری کا مالک بسکٹ بیچ کر مٹھائی، پھل اور مچھلی خرید کر گھر لے جاتا ہے۔

پھل فروش پھل بیچ کر مٹھائی، بسکٹ اور مچھلی خرید کر گھر لے جاتا ہے۔

مچھلی فروش مچھلی بیچ کر پھل، بسکٹ اور مٹھائی خرید کر گھر لے جاتا ہے۔

یہ سب اپنے تئیں خود کو بڑا ہوشیار سمجھتے ہیں، سمجھتے ہیں انہوں نے زیادہ منافع کمایا، اور فخر سے سینہ تان کر جیت کی ڈکار لیتے ہیں۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں—دوسروں کا نقصان کرتے کرتے بالآخر اپنے ہی گھر کی دہلیز پر زہر لے جا رہے ہیں۔
لیکن انہیں اس بات کا شعور ہی نہیں ہوتا۔

حالانکہ یہ سمجھنا ہم سب کے لیے بےحد ضروری ہے کہ
دھوکہ صرف دوسروں کو نہیں، خود کو بھی تباہ کرتا ہے

مسجد کے خطیب صاحب نے منبر پر چڑھ کر "کفایت شعاری، صبر اور پرہیزگاری" پر تقریر شروع ہی کی تھی کہ ایک خاکروب نے کھڑے ہو خط...
06/09/2025

مسجد کے خطیب صاحب نے منبر پر چڑھ کر "کفایت شعاری، صبر اور پرہیزگاری" پر تقریر شروع ہی کی تھی کہ ایک خاکروب نے کھڑے ہو خطیب کی بات کاٹتے ہوئے کہا:

حضور والا: آپ ایک پر تعیش کار میں بیٹھ کر مسجد میں تشریف لائے ہیں۔ آپ نے نفیس ترین کپڑے کا لباس زیب تن کیا ہوا ہے، آپ کے لگائے ہوئے قیمتی عطر سے پوری مسجد مہک رہی ہے۔ آپ کے ہاتھ میں چار چار انگوٹھیاں نظر آ رہی ہیں اور شاید آپ کی ایک انگوٹھی کی قیمت میری تنخواہ سے بھی زیادہ ہوگی۔ آپ نے آئی فون کا آخری ماڈل اٹھا رکھا ہے۔ آپ ہر سال اپنے زہد و تقوی میں اضافہ کیلیئے حج اور عمرے پر تشریف لیجاتے ہیں۔

جناب والا: کسی روز ٹین کی چھت سے بنے میرے گھر پر تشریف لائیے، اور ایک رات کیلیئے ایئر کنڈیشن کے بغیر سو کر دیکھیئے، اور دیکھیئے کہ کیسے صبح سویرے فجر سے پہلے جاگ کر، شدت کی اس گرمی میں سڑک پر جھاڑو دینے کیلیئے ایسی حالت میں جانا پڑتا ہے کہ آپ نے روزہ بھی رکھا ہوا ہو۔ تب جا کر آپ کو پتہ چلے گا کہ صبر کے اصلی کیا معنی ہیں۔

میں یہ والا کام پورا مہینہ کرتا ہوں تب کہیں جا کر اتنی سی تنخواہ ملتی ہے جس سے آپ کا لگایا ہوا یہ عطر بھی شاید ہی مل پائے۔

محترم شیخ صاحب: ناراضگی معاف: ہمیں صبر اور شکر کے معنی جاننے کی بالکل ضرورت نہیں کہ یہ تو ہمارا اور ہمارے گھر کا پرانا ساتھی ہے۔

ہمیں تو آپ علماء کے دکھاوے اور اور امیروں کے ظلم کے بارے میں بتائیے۔

ہمیں تو دولت کی غیر مساویانہ تقسیم سے سماج میں پل رہی بے روزگاری کے عفریت کے بارے میں بتائیے جو ٹائم بم کی طرح پھٹنے کو تیار ہو رہا ہے۔

ہمیں تو مظلوموں کو کیسے انصاف ملے اور بھوکوں کے بارے میں بنتی کسی پالیسی سے آگاہ کیجیئے۔

ہمیں عوامی دولت کو ہڑپ کرنے والے بدعنوان حکمرانوں اور ان سے عوام کو اپنا مال واپس کیسے ملے گا کے بارے میں بتائیے۔

ہمیں تو دولت کی تقسیم مساویانہ ہوجائے، حقداروں کو حق پہنچ جائے، اور انصاف کیسے سب کیلیئے ملنا آسان ہو کے بارے میں بتائیے۔

ہمیں مناصب کی بندر بانٹ اور اقرباء پروری کے بارے میں کچھ بتائیے۔

ہمیں یہ بتائیے کہ حق داروں کو حق کب اور بکیسے مل پائے گا۔

اگر آپ یہ سب کچھ نہیں بتا سکتے تو ہمیں آپ کے خطاب کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ کا تو اپنا تال میل آپ سے گفتگو سے نہیں مل رہا۔

(ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں ؟ ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھا کام کررہے ہیں.) سورة الكهف 103-104

14/07/2025

میختر ملتان کوئٹہ روڈ پر 12 افراد کو بس سے اتار کر قتل کردیا گیا اس بس میں دنیا پور کے دو سگے بھائی بھی قتل کردئیے گئے جو اپنے باپ کے جنازے میں شرکت کے لئے آرہے تھے
"ایک گھر تھا، جہاں قہقہے گونجتے تھے… ابم وہی گھر جنازوں کی گلی بن چکا ہے!"
ماں نے باپ کی میت کے سرہانے بیٹھ کر تکیے میں منہ چھپا تھا۔
"میرے بیٹے آ جائیں… پھر دفنا لینا… بس آخری دیدار ہو جائے…"
یہی ایک فقرہ وہ بار بار دہرا رہی تھی۔
محلے کی عورتیں دلاسے دے رہی تھیں: "اللہ صبر دے… بیٹے پہنچتے ہوں گے…"
فون آیا… "بی بی جی، معاف کرنا… دونوں بیٹے راستے میں…" "ہاں ہاں، پہنچ گئے؟" ماں بولی۔ "نہیں… مار دیے گئے ہیں…" خاموشی… اور پھر ایک ایسی چیخ، جو محلے کی چھتوں پر جا ٹکرائی…
💔
پھر کچھ گھنٹوں بعد دروازے پر شور ہوا۔
ایک گاڑی، پھر دوسری… اور پھر… ایمبولینس… ماں دوپٹے کے پلو سے آنسو پونچھتی، جلدی سے دروازے تک پہنچی… "میرے بچے آ گئے؟"
دروازہ کھلا… آگے ان کے بیٹے نہیں، ان کے جنازے تھے دو سفید کفن… خون آلودہ، خاموش… جنہیں چند لمحے پہلے ماں دعاؤں کے سائے میں روانہ کر چکی تھی۔

ماں وہیں دروازے پر گرتی چلی گئی۔ چیخ نکلی، لیکن آواز کہیں گم ہو گئی۔

👣
پہلا جنازہ صحن میں رکھا گیا — چھوٹا بیٹا… جو ہمیشہ ماں کا ہاتھ پکڑ کر سوتا تھا…

دوسرا جنازہ بھی رکھ دیا گیا — بڑا بیٹا… جس نے وعدہ کیا تھا: "امی، اس بار عید پر کچھ لے کر آؤں گا…" اور اندر…
تیسرا جنازہ پہلے سے موجود تھا — باپ، جن کے جنازے کے لیے بیٹے آ رہے تھے…
ماں اپنے ہاتھوں سے بچوں کے چہرے کھولتی گئی، اور ہونٹوں سے بس اتنا بولتی رہی:

"ابا کو تم نے کندھا دینا تھا نا…؟
کیوں ساتھ جا رہے ہو بیٹا…؟
چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو…؟"
پھر اُس نے تینوں جنازوں کے قریب بیٹھ کر ہاتھ جوڑ لیے، اور زمین پر ماتھا رکھ دیا
"میرے اللہ! مجھے بھی اٹھا لے… یہ دنیا اب میرے لیے نہیں…"

🌑
دروازے پر بھیڑ تھی، اندر خاموشی… چار جنازے اٹھنے تھے…
باپ، دو بیٹے… اور چوتھا جنازہ انسانیت کا…

اے ربّ العالمین!
یہ ماں اب صرف اولاد سے نہیں، پوری دنیا سے تھک چکی ہے… اس پر رحم فرما! ان مظلوموں کو شہداء میں شامل فرما! اور ان درندوں کو دنیا میں ذلیل، آخرت میں جہنم کا ایندھن بنا! آمین، آمین، آمین!

یہ ایک ہزار گرام لوہے کی سلاخ ہے، جو اپنی خام حالت میں صرف 100 ڈالر کی مالیت رکھتی ہے۔اگر اسے گھوڑوں کے نعل بنانے میں اس...
03/06/2025

یہ ایک ہزار گرام لوہے کی سلاخ ہے، جو اپنی خام حالت میں صرف 100 ڈالر کی مالیت رکھتی ہے۔

اگر اسے گھوڑوں کے نعل بنانے میں استعمال کیا جائے، تو اس کی قیمت 250 ڈالر ہو جاتی ہے۔

اگر اسے سلائی کی سوئیاں بنانے کے لیے استعمال کیا جائے، تو اس کی قیمت تقریباً 70,000 ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔

اگر اسے گھڑیوں کے پرزے اور چشمے بنانے میں ڈھالا جائے، تو اس کی مالیت 60 لاکھ ڈالر تک جا پہنچتی ہے۔

لیکن اگر اسے کمپیوٹر چپس میں استعمال ہونے والے ہائی ٹیک لیزر پرزوں میں بدلا جائے، تو یہی سلاخ اچانک 1.5 کروڑ ڈالر کی ہو جاتی ہے۔

آپ کی اصل قدر اس چیز سے نہیں ہوتی کہ آپ کس چیز سے بنے ہیں — بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ آپ اپنی مہارتوں کو کس طرح نکھارتے ہیں اور انہیں کیسے استعمال کرتے ہیں۔

"ہاں، جنگ کے دوران پاکستان نے ہماری ایئر فورس کے پانچ طیارے مار گرائے تھے۔ چین کے جہاز مضبوط نکلے جبکہ فرانس کے رافیل طی...
01/06/2025

"ہاں، جنگ کے دوران پاکستان نے ہماری ایئر فورس کے پانچ طیارے مار گرائے تھے۔ چین کے جہاز مضبوط نکلے جبکہ فرانس کے رافیل طیارے توقعات پر پورے نہیں اترے۔ مودی کے ہوتے ہوئے اس معاملے پر نہ تحقیقات ہو سکتی ہیں، نہ ہی کوئی کھل کر بات کر سکتا ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ ایک دن نریندر مودی قوم کو اس حقیقت سے ضرور آگاہ کریں گے۔"
یہ چونکا دینے والا اعتراف بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے سینئر رہنما سبرامنیئن سوامی نے اپنے تازہ انٹرویو میں کیا، جس نے بھارت کی فضائی طاقت کے دعووں کی قلعی کھول دی۔

سوامی نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی طرف سے جنگی محاذ پر دیا گیا ردِعمل نہ صرف تیز تھا بلکہ تباہ کن بھی، جس میں بھارتی فضائیہ کے پانچ طیارے گرائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں چینی طیارے اپنی کارکردگی میں نمایاں رہے، وہیں فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے بری طرح ناکام ثابت ہوئے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت میں اس حساس معاملے پر نہ تو کوئی سنجیدہ تحقیقات ممکن ہیں اور نہ ہی آزادانہ گفتگو کی اجازت۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں ایک برطانوی اخبار نے پاکستان ایئر فورس کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو سراہتے ہوئے اسے "فضاؤں کی حکمرانی کرنے والی طاقت" قرار دیا تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی طیاروں نے جدید میزائلوں کی مدد سے بھارت کے مہنگے جنگی طیارے، بشمول رافیل، مار گرائے اور فضائی برتری کا عملی ثبوت دیا۔

اب سبرامنیئن سوامی جیسے قد آور بھارتی سیاستدان کی جانب سے اس فوجی ناکامی کا کھلے عام اعتراف بی جے پی کے لیے ایک تلخ حقیقت بن کر ابھرا ہے، جس سے بھارتی عسکری تیاریوں پر بھی کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ ساتھ ہی یہ واقعہ پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور تکنیکی برتری کا بھی ایک منہ بولتا ثبوت بن گیا ہے۔

*زیلینڈیا* ایک حیرت انگیز اور پراسرار براعظم ہے جو تقریباً مکمل طور پر زیر آب ہے! اسے *"گمشدہ آٹھواں براعظم"* بھی کہا جا...
28/05/2025

*زیلینڈیا* ایک حیرت انگیز اور پراسرار براعظم ہے جو تقریباً مکمل طور پر زیر آب ہے! اسے *"گمشدہ آٹھواں براعظم"* بھی کہا جاتا ہے۔

یہ براعظم 19 لاکھ مربع میل پر پھیلا ہوا ہے، لیکن اس کا 95 فیصد حصہ سمندر کے نیچے ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ زیلینڈیا 60-85 ملین سال قبل آسٹریلیا سے الگ ہو کر پانی میں ڈوب گیا تھا۔

2017 میں ماہرین ارضیات نے شواہد کی بنیاد پر زیلینڈیا کو ایک باضابطہ براعظم قرار دیا۔ اس کے کچھ حصے، جیسے نیوزی لینڈ اور نیو کیلیڈونیا، سطح پر موجود ہیں، جبکہ باقی حصہ سمندر کی تہہ میں چھپا ہوا ہے۔

حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں نے زیلینڈیا کا تفصیلی نقشہ تیار کیا ہے، جس سے اس کے پراسرار ماضی کے راز جاننے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ براعظم زمین کی تاریخ اور ارتقاء کے حوالے سے ایک دلچسپ معمہ ہے!

عجیب و غریب تاریخایک بادشاہ – 121 عورتیں – 15 راتیں!    ریاضی، شہوت اور سلطنت: جب بادشاہ کے بستر کا فیصلہ ماہرینِ ریاضی ...
21/05/2025

عجیب و غریب تاریخ

ایک بادشاہ – 121 عورتیں – 15 راتیں! ریاضی، شہوت اور سلطنت: جب بادشاہ کے بستر کا فیصلہ ماہرینِ ریاضی کرتے تھے!

سوچنے کی بات ہے… جب ایک بادشاہ کو اپنی سلطنت میں لاکھوں رعایا پر حکومت کرنی ہو، ہزاروں افسران کو قابو میں رکھنا ہو، درجنوں سازشوں کو کچلنا ہو… تو وہ دن بھر کے بعد رات کو سکون چاہتا ہے یا منصوبہ بندی؟

لیکن قدیم چین میں یہ فیصلہ بادشاہ نہیں کرتا تھا کہ وہ رات کس عورت کے ساتھ گزارے گا، بلکہ یہ فیصلہ ہوتا تھا اعداد، جیومیٹری اور ماہرینِ ریاضی کے حساب کتاب سے!

جی ہاں، چین کے شاہی دربار میں ایک باقاعدہ "جنسی کیلنڈر" موجود تھا، جس میں بادشاہ کی 15 راتیں اس کے حرم میں موجود 121 عورتوں کے ساتھ مخصوص کی جاتی تھیں – اور ان راتوں کی ترتیب کسی جذباتی خواہش پر نہیں بلکہ جیومیٹرک پروگریشن (ضربی ترقی) پر مبنی تھی۔

ایک بادشاہ – 121 عورتیں – 15 راتیں!

چین کے شاہی مشیر، ماہرینِ نجوم اور ریاضی دان مل کر بادشاہ کی جنسی سرگرمیوں کا شیڈول بناتے تھے تاکہ:

1. بادشاہ کی جنسی توانائی منظم رہے

2. بہترین وقت پر عمدہ شاہی وارث پیدا ہو

3. عورتوں کے درمیان عدل اور نظم قائم رہے

4. چینی فلسفے کے مطابق ’یِن‘ اور ’یانگ‘ کا توازن برقرار رہے

اس منصوبے کے تحت بادشاہ کو 15 راتوں میں جن خواتین کے ساتھ ہمبستری کرنا ہوتی تھی، ان کی ترتیب کچھ یوں تھی:

1 رات: صرف ملکہ

1 رات: 3 سینئر بیویاں

3 راتیں: 9 بیویاں (ہر رات 3)

3 راتیں: 27 کنیزیں (ہر رات 9)

7 راتیں: 81 لونڈیاں (ہر رات 9)

یہ ترتیب مکمل طور پر ریاضیاتی فارمولے پر مبنی تھی:
1 × 3 = 3، 3 × 3 = 9، 9 × 3 = 27، 27 × 3 = 81

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قدیم چین میں ریاضی صرف حساب کتاب کا مضمون نہیں بلکہ سیاست، شہوت، نسل، اور اقتدار کا ذریعہ تھا۔
جنسی توانائی اور چاند کا تعلق؟

چینی فلکیاتی و جنسی فلسفے میں یہ تصور تھا کہ:

> ’یِن‘ (عورت کی توانائی) چاند سے جڑی ہوئی ہے،
اور
’یانگ‘ (مرد کی توانائی) سورج سے۔

جب چاند مکمل ہوتا ہے، یعنی چاندنی رات ہوتی ہے، تب عورت کی جنسی توانائی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ اسی لیے ملکہ اور شاہی بیویوں کی باری چاند کے مکمل ہونے کے قریب کی راتوں میں رکھی جاتی تھی تاکہ بادشاہ سب سے بہتر، ذہین اور طاقتور وارث حاصل کر سکے۔

ریاضیاتی جنسیات کا مقصد کیا تھا؟

یہ منصوبہ محض جنسی تسکین نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے ریاستی طاقت کی کئی حکمتیں چھپی تھیں:

1. خاندانی تسلسل: بہترین شاہی نسل کی منصوبہ بندی

2. طاقت کی علامت: بادشاہ کی جنسی صلاحیت کا مظاہرہ

3. سماجی نظم: حرم میں انصاف اور مساوات

4. سیاسی کنٹرول: عورتوں کے ذریعے درباری سازشوں کو کنٹرول میں رکھنا

5. مذہبی/روحانی عقیدہ: ریاضی اور فلکیات سے تقدیر کی تشکیل

ریاضی: شہوت کا نہیں، سلطنت کا آلہ!

قدیم چین میں ریاضی کا استعمال صرف جنسی شیڈولنگ میں نہیں بلکہ پورے حکومتی نظام میں تھا:

ٹیکس کا حساب کتاب

زمین کی پیمائش

دولت کا اندازہ

دیوار چین جیسے منصوبوں کی تعمیر

اوپر سے نیچے تک ریاستی نظم

یاد رکھیں، چین نے اعشاری نظام (Decimal System) مغرب سے تقریباً 1000 سال پہلے اپنا لیا تھا۔ اُس وقت جب یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، چینیوں نے ایسے ریاضیاتی اصول تیار کر لیے تھے جو آج ہم انٹرنیٹ کی سیکیورٹی میں استعمال کر رہے ہیں۔

چینی ریاضیاتی جادو: آج بھی زندہ!

قدیم چینی ریاضی دان "ریسٹ تھیوریم" (Remainder Theorem) جیسے اصول استعمال کرتے تھے، جس کے جدید استعمالات آج cryptography، computer coding، اور satellite calculations میں ہو رہے ہیں۔

انہوں نے سوڈوکو جیسا ریاضیاتی کھیل بھی ہزاروں سال پہلے ایجاد کیا، جسے وہ نہ صرف تفریح بلکہ روحانی ارتقاء اور ذہنی توازن کے لیے استعمال کرتے تھے۔

یہ سب پڑھ کر آپ کو اندازہ ہو چکا ہوگا کہ:

> ریاضی محض ایک مضمون نہیں تھا… یہ ایک تہذیب، ایک طاقت، ایک کنٹرول کا آلہ تھا۔

چینی دربار میں ریاضی دان صرف تعلیمی شخصیات نہیں بلکہ سلطنت کے خفیہ محافظ تھے، جو بادشاہ کے بستر سے لے کر بارڈر کی دیوار تک سب کچھ کنٹرول کرتے تھے۔

یہ بات آج بھی سچ ہے کہ جو قوم اعداد و شمار کو سمجھتی ہے، وہ دنیا کو چلا سکتی ہے – اور جو انہیں نظرانداز کرتی ہے، خود چلتی پھرتی تماشہ بن جاتی ہے۔

چیونٹیوں میں موت کے عجائبچیونٹی جب مرتی ہے تو اپنے ساتھیوں کو اپنے مرنے کی اطلاع دیتی ہے۔ مگر یہ کیسے ہوتا ہے؟سائنسدانوں...
21/05/2025

چیونٹیوں میں موت کے عجائب

چیونٹی جب مرتی ہے تو اپنے ساتھیوں کو اپنے مرنے کی اطلاع دیتی ہے۔ مگر یہ کیسے ہوتا ہے؟
سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ جب کوئی چیونٹی مرتی ہے تو وہ ایک خاص قسم کی خوشبو خارج کرتی ہے، جو باقی چیونٹیوں کو فوری طور پر تدفین کے لیے متحرک کرتی ہے تاکہ دوسری حشرات اس کی طرف متوجہ نہ ہوں۔

جب باقی چیونٹیاں اس خوشبو کو سونگھتی ہیں، تو انہیں پتا چل جاتا ہے کہ ان کی ایک ساتھی چیونٹی مر چکی ہے اور وہ فوراً اسے دفنانے کا عمل شروع کر دیتی ہیں۔

ایک تجربے میں، ایک سائنسدان نے ایک زندہ چیونٹی پر اس مخصوص خوشبو کا قطرہ لگایا۔ باقی چیونٹیوں نے فوراً اسے مردہ سمجھ کر دفنانا شروع کر دیا، حالانکہ وہ زندہ تھی، حرکت کر رہی تھی اور مزاحمت بھی کر رہی تھی۔ جیسے ہی اس چیونٹی سے "موت کی خوشبو" کو ہٹایا گیا، اسے واپس بستی میں رہنے دیا گیا۔

اس خوشبو کو "حمض الزیٹیك" یا "اولیک ایسڈ" کہا جاتا ہے۔

جس طرح انسان اپنے مرنے والوں کو دفن کرتا ہے، اسی طرح چیونٹیاں بھی اپنی مردہ ساتھیوں کو دفن کرتی ہیں۔ چیونٹیوں کے بھی اجتماعی قبرستان ہوتے ہیں، اور ان کے قبرستان صاف ستھرے اور بستی سے دور ہوتے ہیں۔

چیونٹیوں کا تدفین کا جلوس بھی بہت منظم اور شاندار ہوتا ہے، اور وہ اپنی ساتھی کو اس کے آخری آرام گاہ تک لے جاتی ہیں، بالکل انسانوں کی طرح۔

ایک دن میں کئی چیونٹیاں مر سکتی ہیں، جن کی تعداد درجنوں اور کبھی کبھار سیکڑوں میں ہوتی ہے۔ چونکہ دفنانے والی چیونٹیاں مردہ چیونٹیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوتی ہیں، ان پر بھی موت کی خوشبو لگ جاتی ہے۔ اس لیے جب وہ قبرستان سے واپس آتی ہیں تو اپنے جسم کو اپنی زبان سے صاف کرتی ہیں تاکہ ان پر موت کی خوشبو باقی نہ رہے، ورنہ انہیں بھی زندہ ہونے کے باوجود دفن کر دیا جائے گا۔

یہ ہمیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی یاد دلاتا ہے کہ تمام جاندار مخلوقات بھی ہماری طرح اپنی اقوام اور معاشرت رکھتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور زمین میں چلنے والے جاندار اور پروں سے اڑنے والے پرندے سب تمہاری طرح کی امتیں ہیں۔ ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے۔" *(سورۃ الانعام، آیت 38)*

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when URK-Diary posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to URK-Diary:

Share