16/07/2026
پاکستان نے نیو انرجی وہیکل (NEV) پالیسی 30-2025 کے تحت سال 2030 تک نئی گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں 30 فیصد حصہ نیو انرجی وہیکلز کا مقرر کیا ھے، جبکہ حکومت کا ہدف تقریباً 22 لاکھ الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں سڑکوں پر لانا ھے۔
انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (EDB) کے سرکاری دستاویزات کے مطابق نئی پالیسی ملک میں الیکٹرک اور ہائبرڈ ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے تیار کی گئی ھے، جس میں مقامی مینوفیکچرنگ، چارجنگ انفراسٹرکچر، لوکلائزیشن اور ریگولیٹری اصلاحات پر خصوصی توجہ دی گئی ھے۔
دستاویزات کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت اس وقت آٹو موٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی (AIDEP) 2021-26 کے تحت کام کر رہی ھے، جہاں الیکٹرک گاڑیوں کے مخصوص پرزہ جات پر صرف 1 فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد ھے۔
ای ڈی بی کے مطابق 82 کمپنیوں کو الیکٹرک اسکوٹر، موٹرسائیکل اور آٹورکشہ کی مینوفیکچرنگ کے لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ 9 کمپنیوں کو الیکٹرک، ہائبرڈ (HEV) اور پلگ اِن ہائبرڈ (PHEV) گاڑیوں کی تیاری کی منظوری دی جا چکی ھے۔
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 میں مقامی الیکٹرک اسکوٹر اور موٹرسائیکل کی پیداوار 78,501 یونٹس رہی، جبکہ جولائی تا مئی 26-2025 کے دوران پیداوار 2 لاکھ 28 ہزار یونٹس سے تجاوز کر گئی، جو اس شعبے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی استعداد اور طلب کی عکاسی کرتی ھے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (NEECA) کی جانب سے 72 چارجنگ پوائنٹ آپریٹرز (CPOs) کو لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ ملک بھر میں تقریباً 40 عوامی EV چارجنگ اسٹیشن فعال ہیں یا رجسٹریشن کے آخری مراحل میں ہیں۔ پالیسی کے تحت 2030 تک 3,000 EV چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ھے۔
پالیسی میں درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے بیٹری، الیکٹرک موٹرز اور دیگر اہم پرزہ جات کی مقامی تیاری کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ھے۔ اس کے ساتھ بیٹری ری سائیکلنگ، محفوظ تلفی اور سیکنڈ لائف بیٹری اسٹوریج کے لیے جامع ریگولیٹری فریم ورک بھی تیار کیا جائے گا تاکہ پاکستان میں الیکٹرک موبیلٹی کے شعبے کو پائیدار بنیادوں پر فروغ دیا جا سکے۔
موبائل ورلڈ میگزین