Long Live Pakistan

Long Live Pakistan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Long Live Pakistan, Media/News Company, Karachi.

17/06/2022

نارہ تکبیر اللہ ہو اکبر
نارا رسالت یا رسول اللہ (ص)
نارا حیدری ۔ یا علی ع
پاکستان زندہ باد
پاکستان کی عظیم قوم سے انتہائی عاجزانہ درخواست پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اپنے علاقوں میں احتجاج شروع کریں۔ اپنے علاقے کی شاہراہیں بھی بلاک کریں احتجاج ہمارا حق ہے۔ اللہ پاک پاکستانی قوم کی مدد کرے۔ آمین
-paste

01/09/2020

19/06/2020

*معاویہ کے خلاف شیخ الاسلام محمد طاہر القادری صاحب کا فتوٰی۔۔۔*
معاویہ بن ابو سفیان کے فضائل بیان کرنے والے ملاں خارجی ہیں ۔۔۔۔۔
*شیخ الاسلام کے فتوٰی کی وجوہات نیچے پڑھیں* ۔۔۔
*وجوہاتِ فتویٰ*
*معاویہ نے اہلبیت و صحابہ اکرام پر مظالم کی طویل داستان رقم کیں جس بنا پر شیخ الاسلام نے امامِ اعظم ابو حنیفہ کے فتویٰ کے عین مطابق فتویٰ دیا...سب احباب مظالم کی اس داستان کو آرام سکون کے ساتھ پڑھیں اور پھر خود ہی حق سچ کا فیصلہ کر لیں* ۔۔۔۔
*ان مظالم کی داستان درج زیل ہے*۔۔۔
سب سے پہلے
آتے ہیں کہ *وہ کون سے سخت احکاماتِ محمدۖ تھے جن کو معاویہ بن ابی سفیان نے نہیں مانا حالانکہ نبی کریم نے معاویہ سمیت سب صحابہ اکرام کو ان احکامات پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دیا اور نا کرنے والے پر سخت ترین وعیدیں فرمائیں* ۔۔ ۔
وہ احکامات کیا تھے آئیے آپ کو بھی بتاتے ہیں اور ساتھ ہی ہم ناصبیوں سے سوال بھی کریں گے...

*نمبر....1....خلیفہ برحق کی اطاعت*...
نبی کریم نے یہ فرمایا
سحاحِ ستہ کی متفق علیہ حدیث
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہِ نبی کريم صلی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جس نے خلیفہ کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور
جس نے خلیفہ کی نا فرمانی کی اس نے میری نا فرمانی کی اور جس نے میری نا فرمانی کی اس نے خدا کی نا فرمانی کی:
( مصنف ابنِ ابی شیبہ، باب کِتَاب السّیِر، حدیث نمبر 33196 )
*بتائیے معاویہ کو نبی کریم کے اس فرمان کو جھٹلانے پر اور خلیفہِ برحق علی علیہ اسلام کی اطاعت نہ کرنے پر کتنا ثواب ملا*....؟؟
سب جانتے ہیں معاویہ نے بہت شدید گناہ کیا۔

*نمبر.۔۔۔2۔۔۔ نبی کریم نے یہ فرمایا*
*اے علی جس نے تم سے جنگ کی میں بھی اس کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہوں اور تم سے جنگ کرنے والا ظالم ہے:*
ترمزی، باب مناقبِ اہلبیت: حدیث نمبر: 3733
المستدرک الحاکم، حدیث نمبر 5574
الطبرانی فی الصحیح، جلد 5: 101
بتائیے معاویہ بن ابی سفیان کو حضرت علی پاک سے جنگیں کرنے پر کتنا ثواب ملا....؟؟؟
سب جانتے ہیں معاویہ نے بہت شدید ترین گناہ کیا۔

*نمبر.... 3....نبی کریم نے یہ فرمایا حضرت امّ سلمیٰ فرماتی ہیں نبی کریم نے فرمایا جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی:*
( مسندِ احمد بن حنبل، جلد 4: حدیث نمبر 18485 )
*معاویہ کا مسجد کے ممبروں پر شوہر بتول مولا علی کو گالیاں نکالنا اور تبرا بازی کرنا ہم اہلسنت کی کتب سے متواتر سے ثابت ہے:حوالہ جات درج ذیل ہیں* :
( مسلم ، باب : کتاب الفضائلِ علی )
( سننِ ابنِ ماجہ، جلد 1: صفہ 144 )
( مسندِ امام احمد، جلد 4: صفہ 18480 )
(امام ذہبی، تاریخِ اسلام: جلد 2: صفہ 288 )
بتائیے حضرت علی پاک کو گالیاں نکالنے پر معاویہ کو کتنا ثواب ملا.....؟؟
سب جانتے ہیں معاویہ نے بہت شدید ترین گناہ کیا۔

*نمبر.... 4.....نبی کریم نے یہ فرمایا*
*اے علی اس شخص کو مبارک ہو جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور تیری تصدیق کرتا ہے*
اور *ہلاکت ہو اس شخص کے لیے جو تجھ سے بغض رکھتا ہے اور تجھے جھٹلاتا ہے:حوالہ جات درج ذیل ہیں* ۔
( الحاکم المستدرک، جلد 3 صفہ 145 رقم 4657 )
ابو لیعلٰی فی المسند، جلد 3 صفہ 178 رقم 1602 )

*معاویہ کے بغض کی آخری حد دیکھ لیں معاویہ نے استغفِراللہ حضرت علی کے بغض میں نبی کریم کی ان سنتوں کو ترک کر دیا جو سنتیں حضرت علی اپناتے تھے*:
حوالہ
سنن النسائی ۔باب الفرعہ کے دن مقامِ عرفات
حدیث نمبر 3006 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَ: «مَا لِي لَا أَسْمَعُ النَّاسَ يُلَبُّونَ؟» قُلْتُ: يَخَافُونَ مِنْ مُعَاوِيَةَ، فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ، مِنْ فُسْطَاطِهِ، فَقَالَ: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ تَرَكُوا السُّنَّةَ مِنْ بُغْضِ عَلِيٍّ»

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس ؓ کے ساتھ حج کے موقع پر عرفات میں تھا کہ وہ کہنے لگے: کیا بات ہے، میں لوگوں کو تلبیہ پکارتے ہوئے نہیں سنتا۔
میں نے کہا: لوگ معاویہ سے ڈر رہے ہیں (انہوں نے لبیک کہنے سے منع کر رکھا ہے)۔ تو ابن عباس ؓ (یہ سن کر) اپنے خیمے سے باہر نکلے، اور زور سے پکارا: « لبيك اللہم لبيك لبيك»، (ہائے افسوس) معاویہ نے بغضِ علی میں سنت کو چھوڑ دیا۔
( ہندوستانی نسخوں میں سنن نسائی کی اِس روایت کا نمبر 3009 ہے۔ )
امام حاکم نے اس روایت کو صحیح ترین روایت کہا
ملا حظہ ہو ( المستدرک۔الحاکم 1706)
امام زہبی نے اس روایت کو صحیح کہا
ملا خطہ ہو ( التلخیص المستدرک 1/ 464 تا 465)
امام ابنِ خُزیمہ نے اسے صحیح کہا
ملا خطہ ہو (الصحیح ابنِ خُزیمہ 2830)
کتاب صحیح ابنِ خزیمہ کے محققِ اعظم مصطفیٰ الا عظمی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ۔
بتائیے معاویہ کا بغضِ علی میں نبی کریم کی سنتیں ترک کرنے پر کتنا ثواب ملا.....؟؟؟؟
سب جانتے ہیں معاویہ نے بہت شدید ترین گناہ کیا۔

*نمبر.... 5۔....نبی کریم نے حضرت عمار بن یاسر سے فرمایا*۔۔
صحيح البخاري - كتاب الجهاد والسير - باب مسح الغبار عن الرأس في سبيل الله۔
‏2657 - حدثنا : ‏ ‏إبراهيم بن موسى ، أخبرنا : ‏ ‏عبد الوهاب ‏ ، حدثنا : ‏خالد ‏ ‏، عن ‏ ‏عكرمة ‏ ‏أن ‏‏ابن عباس ‏‏قال له ‏‏ولعلي بن عبد الله ‏: ‏ائتيا ‏ ‏أبا سعيد ‏ ‏فاسمعا من حديثه ، فأتيناه وهو وأخوه في ‏ ‏حائط ‏ ‏لهما يسقيانه فلما رآنا جاء فاحتبى وجلس ‏، ‏فقال : كنا ننقل ‏ ‏لبن ‏ ‏المسجد ‏ ‏لبنة ‏ ‏لبنة ‏ ‏وكان ‏ ‏عمار ‏ ‏ينقل ‏ ‏لبنتين ‏ ‏لبنتين ‏ ‏فمر به النبي ‏ (ص) ‏ ‏ومسح ، عن رأسه الغبار ، وقال : ‏‏ويح ‏عمار ‏‏تقتله الفئة ‏ ‏الباغية ‏ ‏عمار ‏ ‏يدعوهم إلى الله ويدعونه إلى النار. ‏
ابو سعید سے نقل کیا ہے کہ: "ہم مسجد کیلئے ایک ایک اینٹ اٹھا کر لا رہے تھے، اور عمار دو ، دو اینٹیں اٹھا کر لاتے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمار کے قریب سے گزرے، تو آپ نے عمار کے سر سے مٹی صاف کی، اور فرمایا: "جیتے رہو! عمار تمہیں ایک باغی گروہ شہید کریگا،عمار انہیں اللہ کی طرف بلائے گا، اور وہ عمار کو جہنم کی طرف بلاتے ہونگے"
( بخاری الصحیح، باب:نماز کے احکام و مسائل:حدیث 493 )
( مسلم الصحیح، باب: مسجد نبوی کی تعمیر:حدیث 115 )
( مصنفِ ابنِ ابی شیبہ، حدیث نمبر 39030 )
*یہ بات متواتر سے ثابت ہے کہ حضرت عمار بن یاسر کو جنگِ صفین میں معاویہ بن ابی سفیان کے گروہ نے شہید کیا:::*
بتائیے معاویہ کو حضرت عمار کو شہید کرنے پر کتنا ثواب ملا...؟
سب جانتے ہیں معاویہ نے بہت ہی شدید ترین گناہ کیا۔

*نمبر...6....نبی کریم نے امام حسن کے بارے میں یہ فرمایا کہ اے حسن تو مجھ سے ہے میں تجھ سے ہوں جس نے حسن کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی:*
( ترمزی، باب الفضائلِ اہلبیت : حدیث 414 )
( الطبرانی، جلد 1 : حدیث 663 )
( بیہقی، شعب ا لایمان: جلد 2: حدیث 6889 )
معاویہ کا جعدہ بنت اشعت کے زریعے حضرت حسن کو زہر دے کر شہید کرنا متواتر سے ثابت ہے:
(امام حاکم المستدرک، جلد 3: صفہ 173: حدیث نمبر 4815 )
( امام عبدالبر الا ستیعاب، باب زکرِ حسن: صفہ374)
( البدائیہ والنھائیہ، جلد 7: صفہ 73 )
( امام ذہبی، کتاب سیر اعلام النبلاء)
( عبدالرحمان الجامی، کتاب شواہد النبوہ)
بتائیے حضرت حسن کو شہید کرنے پر معاویہ کو کتنا ثواب ملا.....؟؟؟؟
سب جانتے ہیں معاویہ نے بہت شدید ترین گناہ کیا۔

*نمبر.....7۔۔۔۔حضور اکرم نے اہلبیتِ رسول ( علی، فاطمہ، حسن، حسین ) سے محبت کرنے کو فرض کرار دیا اور محبت نہ کرنے والوں کو حرامی قرار دیا:*
( ابنِ حجر مکی، کتاب صواعق محرقہ : صفہ 88 )
معاویہ نے حضرت علی سے جنگیں کیں، ممبروں پر خاندانِ رسول کو گالیاں دلوائیں ،
اور *معاویہ کا حضرت حسن کی وفات کو مصیبت نہ سمجھنا اور حضرت حسن کی وفات پر خوشی کا اظہار کرنا اہلسنت کی کتب سے ثابت ہے*:
( سننِ ابو داؤد، حدیث نمبر 4119 )
بتائیے معاویہ کا حضرت حسن کی وفات پر خوشی کرنے سے کونسا ثواب ملا....؟؟؟
سب جانتے ہیں معاویہ نے بہت شدید ترین گناہ کیا۔

*نمبر..... 8۔۔۔۔نبی کریم نے حضرت علی اور حضرت عمر کو حضرت اویس کرنی سے اپنی امت کی بخشش کے لیے دعا منگوانے کے لیے بھیجا اور کہا اویس اس دنیا میں ولی اللہ ہے:*
*معاویہ نے جنگِ صفین میں حضرت اویس کرنی کو شہید کیا:*
( کشف المجوب، باب دہم : آئمہ و تابعین کا زکر: تصانیف) (حضرت سید علی بن عثمان المعروف داتا صاحب لاہور)
بتائیے حضرت اویس کرنی کو شہید کرنے پر معاویہ کو کتنا ثواب ملا....؟؟؟
سب جانتے ہیں معاویہ نے بہت شدید ترین گناہ کیا۔

*نمبر..... 9... معاویہ کا حضرت ابو بکر صدیق کے بیٹے محمد بن ابی بکر کو شہید کرنا....*
حضرت ابو بکر صدیق کی وفات کے بعد حضرت علی نے آپ کی بیوہ حضرت اسماء ابنِ عمیس سے شادی کر لی ۔حضرت محمد بن ابی بکر اس وقت ان کی گود میں چھوٹے بچے تھے۔
اور یوں انہوں نے حضرت علی کے زیرِ سایہ پرورش پائی جب معاویہ کے خلاف جنگوں کا آغاز ہوا تو حضرت محمد بن ابی بکر کو حضرت علی نے مصر کا گورنر مقرر کر دیا۔ *معاویہ کے حکم پر مصر پر شبِ خون مارا گیا حضرت محمد بن ابی بکر نے معاویہ کی فوجوں کا مقابلہ جوانمردی سے کیا بِالآخر آپ کو شکست ہو گئی اور آپکو گرفتا کر لیا گیا۔* *معاویہ کے حکم پر حضرت محمد بن ابو بکر کو حضرت علی کی حمایت کے جرم میں گدھے کی کھال میں لپیٹ کر ڈنڈوں سے مارا گیا پھر اسی کھال کو آگ لگا دی گئ اور یوں آپ کو اذیتیں دے دے کر شہید کر دیا گیا:*
جب شہادتِ ابی بکر کی خبر امیر المومنین حضرت علی کو پہنچی تو آپکی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات جاری ہوگی اور بے اختیار فرمایا آج میرا ایک بازو ٹوٹ گیا...
*جب حضرت عائشہ صدیقہ کو اس بات کہ خبر پہنچی تو آپ بہت زیادہ روئیں اور اس کے بعد ہر نماز میں معاویہ اور عمرو بن العاص کو بدعا دیتی تھیں* :
( امام ابنِ جریر الطبری، کتاب تاریخِ طبری، باب: خلافتِ علی اور محمد بن ابوبکر : صفہ 679)
( تحریخِ کاملِ، جلد 3 ص163 )
( المسعودی، باب شہادتِ محمد بن ابی بکر )
( خلافت و ملوکیت، جلد 1 باب شہادتِ ابی بکر )
بتائیے معاویہ کو حضرت ابو بکر کے بیٹے محمد بن ابو بکر کو شہید کرنے پر کتنا ثواب ملا.....؟؟؟
سب جانتے ہیں معاویہ نے بہت شدید ترین گناہ کیا۔

*نمبر.....10.....صحابیِ رسول حضرت حجر بن عدی نے نبی کریم کے فرمان کے عین مطابق معاویہ کے گورنروں کو مسجد کے ممبروں پر مولا علی کو گالیاں دینے سے روکا اور کہا کہ نبی کریم نے فرمایا جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی اس لیے مولا علی پر تبرا بازی بند کی جائے*:
تو معاویہ نے حضرت حجر بن عدی اور انکے ساتھیوں نے گرفتار کر لیا اور حضرت حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کی گردنوں پر تلوار رکھ کر کہا یا تو تم بھی علی پر لعنت کرو تو تمھیں چھوڑ دیا جائے گا ورنہ تمہارے سر کاٹ دیے جائیں گے تو حجر نے کہا میری جان جاتی ہے تو جائے مگر میں علی پر لعنت نہیں کروں گا.... تو معاویہ نے حضرت حجر بن عدی کے حضرت علی پر لعنت نہ کرنے کی پاداش میں آپ اور آپ کے ساتھیوں کے سر کاٹ کر شہید کر دیا گیا :
( امام عبدالبر، کتاب الاستیعاب : جلد 1 صفہ 135 )
( ابنِ کثیر، کتاب البدائیہ و النھائیہ: جلد 8 صفہ 50 )
( ابنِ الاثیر، جلد 31 : صفہ 234 )
ارے نادانوں بتاؤ کہ معاویہ کو حضرت حجر اور اس کے ساتھیوں کو شہید کرنے پر کتنا ثواب ملا....؟؟؟
سب جانتے ہیں معاویہ نے بہت شدید ترین گناہ کیا۔

*نمبر.... 11...امام اعظم ابو حنیفہ کا بیان پیشِ خدمت ہے.. امام ابو حنیفہ اپنے شاگردوں کے پاس بیٹھے تھے اور شاگردوں سے کہا کہ کیا تمھیں پتہ ہے کہ شامی ( معاویہ کے ہمایتی) ہم سے کیوں بغض رکھتے ہیں...؟؟؟؟*
تو شاگردوں نے کہا نہیں پتہ آپ بتائیے...؟؟
تو امام صاحب نے جواب دیا کہ ان شامیوں کو پتہ ہے کہ اگر حضرت علی اور معاویہ کے دور میں اگر ہم ہوتے تو ہم حضرت علی سے مل کر معاویہ سے جنگیں کرتے...
( بصید الطلب فی تاریخ احلب، صفہ 220 )
( تمہید ابو شکور سالمی، باب خلافت و امارت: صفہ 371)

( الحمد لله ہم اپنے فقہی امام، امامِ اعظم ابو حنیفہ کے فتوٰی کے مطابق اقرار کرتے ہیں کہ اگر ہم بھی اُس دور میں ہوتے تو حق و باطل کی ان جنگوں میں حضرت علی کے ساتھ مل کر معاویہ سے جنگیں کرتے )
بتاؤ امامِ اعظم ابو حنیفہ کے فتوٰی کو کون مان رہا ہے اور کون نہیں..؟

*نمبر....12....معاویہ بن ابی سفیان کی فضیلت میں ایک بھی صحیح حدیث نہیں* ۔
آئمہ ِاہل سنت کی گواہیاں کہ معاویہ کی فضیلت میں ایک بھی صحیح روایت موجود نہیں۔
امام جلال الدین سیوطی اپنی کتاب الاللی مصنوعہ فی االحادیث الموضوعہ، ج 1 ص 424
جبکہ امام ابن جوزی اپنی کتاب الموضوعات، ج 2 ص 24 میں درج کرتے ہیں:
قال الحاكم سمعت أبا العباس محمد بن یعقوب بن یوسف یقول سمعت أبي یقول سمعت إسحق بن إبراھیم الحنظلي یقول ال یصح في فضل معاویة حدیث
امام حاکم نے بیان کیا ہے کہ میں نے ابو العباس محمد بن یعقوب بن یوسف سے سنا کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ انہوں نے اسحاق بن اباہیم الحنظلی ( امام بخاری کے استاد) کو کہتے سنا کہ معاویہ کی فضیلت میں ایک صحیح روایت بھی نہیں ہے۔

لاللی مصنوعہ فی االحادیث الموضوعہ، ج 1 ص 424
الموضوعات، ج 2 ص 24
اہل ِسنت کے عظیم امام قاضی شوکانی اپنی کتاب فواید المجموعہ، ص 147 میں لکھتے ہیں:
ابن حبان کا قول ہے کہ معاویہ کی فضیلت میں تمام روایات موضوع یعنی شامیوں کی گھڑی ہوئی ہیں۔
فواید المجموعہ، ص 147

اب پیش ِخدمت ہے امام ذھبی کی کتاب سیراعالم النبالء،
ج 3 ص 132 سے امام ِاہل ِسنت :
ٰاسحاق بن راھویہ کا فتوی
األصم حدثنا أبي سمعت ابن راھویه یقول ال یصح عن النبي صلى ہللا علیه وسلم في فضل معاویة شيء
اسحاق بن راھویہ ( امام بخاری کے استاد) کا قول ہے کہ معاویہ کی فضیلت میں رسول اللہ سے ایک بھی صحیح روایت موجود نہیں۔

اب پیش ِخدمت ہے امام علامہ محمد طاہر الصدیقی الفتنی متوفی 986 ھ کے الفاظ
جو آج تک کی مشہور ترین شیعہ مخالف کتاب لکھنے والے امام ابن حجر مکی الھیثمی اور کنزالعمال کے مصنف مال علی متقی الھندی کے شاگرد تھے۔ اپنی کتاب تذکرة
الموضوعات، ص 100 پر لکھتے ہیں:
ال یصح مرفوعا في فضل معاویة شئ
معاویہ کی فضیلت میں ایک بھی صحیح مرفوع حدیث موجود نہیں:

نواصب کا چہیتہ امام ابن تیمیہ اپنی کتاب منہاج السنہ، ج 4 ص 400 میں اقرار کرتاہے:
وطائفة وضعوا لمعاویة فضائل ورووا أحادیث عن النبي صلى ہللا علیه وسلم في ذلك كلھا كذب
لوگوں کی ایک جماعت نے معاویہ کے فضائل گھڑے اور اس سلسلے میں رسول اللہ سے احادیث منسوب کر دیں جن میں سے سب جھوٹی ہیں۔

امام ِ اہل ِسنت امام حاکم نے تو ذور زبردستی کے باوجود اپنی کتاب میں معاویہ کے فضائل کے سلسلے میں ایک باب قائم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ، ج
11 ص 409 میں لکھا ہے:
وقال أبوعبدالرحمن السلمي : دخلت على الحاكم وھو مختف من الكرامیة ال یستطیع یخرج منھم ، فقلت له : لو خرجت حدیثا في فضائل معاویة ألسترحت مما أنت فیه ، فقال: الیجئ من قبلي ال یجئ من قبلي
ابو عبدالرح ٰمن السلمی نے کہا کہ میں حاکم کے پاس اس وقت گیا جب وہ بنو امیہ سے چھپ رہے تھے اور اس وجہ سے اپنے گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے تھے، تو میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ معاویہ کی فضیلت میں حدیث گھڑ کر بیان کر دیں تو آپ بنو امیہ کے بادشاہوں کے ظلم و ستم کی صورتحال سے نکل آئینگے۔ حاکم نے جواب دیا، میں ایسا ہر گز نہیں کرسکتا، میں ایسا ہر گز نہیں کرسکتا۔

امام ابن حجر عسقلانی نے صحیح بخاری کی شرح کی کتاب فتح الباری، ج 7 ص 104میں لکھا ہے:
عبر البخاري في ھذہ الترجمة بقوله ذكر ولم یقل فضیلة وال منقبة لكون الفضیلة ال تؤخذ من حدیث الباب ۔۔۔ وقد صنف ابن أبي عاصم جزءا في مناقبه , وكذلك أبو عمر غالم ثعلب , وأبو بكر النقاش وأورد ابن الجوزي في الموضوعات بعض األحادیث التي ذكروھا ثم ساق عن إسحاق بن راھویه أنه قال لم یصح في فضائل معاویة شيء
امام بخاری نے "ذکر معاویہ" کا نام سے باب قائم کیا ہے نہ کہ "فضائل معاویہ" یا ”مناقب معاویہ“ سے۔
*کیونکہ معاویہ کے فضائل میں ایسی کوئی حدیث ثابت نہیں*

امام ابن ابی عاصم، امام ابو عمر غالم ثعلب اور
امام ابع بکر النقاش اور ابن جوزی نے کتاب موضوعات میں معاویہ کے مناقب کے متعلق لکھا ہے پھر اس کے بعد ابن جوزی نے اسحاق بن راھویہ کی رائے درج کی ہے کہ معاویہ کے فضائل میں کوئی صحیح حدیث موجود نہیں اسی لئے
بخاری نےاس میں ”ذکر معاویہ“ کا نام سے باب قائم کیا ہے نہ کہ ”فضائل معاویہ“ سے۔

امام شیخ اسماعیل بن محمد العجلونی )متوفی 1162 ھ( نے کتاب کشف الخفاء، ج 2 ص 420 میں لکھا ہے:
معاویہ کے فضائل میں ایک بھی صحیح حدیث موجود نہیں

امام ابو الحسن الکنانی متوفی 963 ھ اپنی کتاب تنزیہ الشریعہ المرفوعہ، ج 2 ص 7میں لکھتے ہیں:
امام حاکم نے ابن جوزی کے طریق سے اسحاق بن راھویہ سے نقل کیا ہے کہ معاویہ کے فضائل میں رسول اللہ سے ایک بھی صحیح حدیث موجود نہیں۔
تنزیہ الشریعہ المرفوعہ، ج 2 ص 7

امام ابن خلکان نے وفیات االعیان، ج 1 ص 35 میں اہل ِسنت کی چھ معتبر کتابوں میں سے ایک کے مصنف امام نسائی کے حالات میں بیان کرتے ہیں کہ کیسے معاویہ کے ناصبی پیکروکاروں نے انہیں اپنے پیشوا معاویہ کے فضائل میں حدیث بیان کرنے کے انکار پر ان کے نازک اعضاء پر حملہ کر کے پھوڑ ڈالا اور اس طرح انہیں شہید کرڈالا
جبکہ وہ کہتے رہے کہ انہیں معاویہ کے متعلق صرف ایک ہی صحیح حدیث کا علم ہے
جس میں رسول اللہ نے معاویہ کے
شکم پر لعنت کی ہے۔

واضع رہے کہ اس روایت کو امام مسلم نے بھی نقل کر کے ثابت کیا کہ رسول اللہ نے معاویہ کے پیٹ پر لعنت کی وہ روایت درج زیل ہے...

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
كنت ألعب مع الصبيان، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتواريت خلف باب، قال : فجائ، فحطأني حطأة، وقال : ’اذهب، وادع لي معاوية‘، قال : فجئت، فقلت : هو يأكل، قال : ثم قال لي : ’اذهب، فادع لي معاوية‘، قال : فجئت، فقلت : هو يأكل، فقال : ”لا أشبع الله بطنه “ .
’’ میں بچوں کے ساتھ کھیل میں مصروف تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں ایک دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پیار سے ) میرے کندھوں کے درمیان تھپکی لگائی اور فرمایا : جاؤ اور معاویہ کو میرے پاس بلاؤ۔ میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو وہ کھانا کھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دوبارہ فرمایا کہ جاؤ اور معاویہ کو میرے پاس بلاؤ۔ میں دوبارہ گیا تو وہ ابھی بھی کھانا ہی کھا رہے تھے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کے پیٹ کو کبھی نہ بھرے۔“
[صحيح مسلم : 325/2، ح : 2604]

*نمبر.....13۔.... ترمزی شریف والی حدیث جعلی من گھڑت ہے۔ترمزی کی روایت یہ ہے*
عبدالرحمن بن ابی عمیرہ روایت کرتا ہے کہ نبی کریم نے معاویہ کے لیے ارشاد فرمایا۔
اے اللہ ، معاویہ کو ہدایت دینے والا، ہدایت یافتہ بنا، اور اس کے زریعے ہدایت پھیلا،
( ترمزی )
یاد رہے کہ اول تو اس حدیث کو امام ترمزی نے خود غریب کہا اور دوسرا علماءِ اہلسنت نے اس حدیث پر کلام کیا ہے کہ محدثین نے اس روایت کو قابلِ التفاس نہیں سمجھا اور اس کی وجہ عظمتِ نبویؐ تھی
کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس انسان کے حق میں
نبی کریم علیہ اسلام کی اتنی جامع دعا دی ہو اور وہ اسکے باوجود بھی عقیدہِ نبویؐ و عقیدہِ خلافت راشدین سے ہٹ کر *مسجد کے ممبروں پر اعلانیہ خاندانِ نبوت ع کو گالیاں دے، اور سینکڑوں صحابہ و اہلبیت کو شہید کرے،*
کیا نبی کریم کی دعا کی یہی تاثیر تھی..؟؟
کیا نبی کریم کی دعاِ ہدایت کا مصداق ایسا شخص بھلا کیسے ہو سکتا ہے جو بجائے خلیفہ راشد مولا علی کی بیعت کرنے کے الٹا ان کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر کے ان پر سب و شتم کرے،،، ہر گز نہیں ۔۔۔!
ہمارا عقیدہ ہے جس کے بارے میں نبی کریم دعا فرماء دیں، اس سے عملًا تو دور کی بات بلکہ خواب میں بھی ایسی سنگین غلطیاں نہیں ہو سکتیں۔.
اور دوسرا اس حدیث کا راوی عبدالرحمن بن ابی عمیرہ شامی ہے اور شامیوں نے اپنے بادشاہ معاویہ کے فضائل میں سینکڑوں احادیث گھڑیں...
یاد رہے کہ سحاحِ ستہ کے باقی پانچ اماموں ۔۔امام بخاری، امام مسلم، امام ابوداؤد، امام نسائی، امام ابنِ ماجہ میں سے کسی نے بھی معاویہ کے فضائل میں ایک حدیث بھی تحریر نہیں کی بلکہ معاویہ کے مخالفت میں سینکڑوں روایت تحریر کیں۔۔۔۔۔۔"
خود امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب قرار دیا ہے اور پھر سنن
ترمذی کی شرح لکھنے والے عالمہ عبدالرح ٰمن المبارک پوری نے اس حدیث سے متعلق
امام ابن عبدالبر کے الفاظ نقل کئے ہیں:
قال الحافظ قال ابن عبد البر : ال تصح صحبته وال یصح إسناد حدیثه انتھى .
امام ا المحدثین حافظ ابن عبدالبر نے کہا ہے کہ نہ ہی عبدالرحٰمن بن ابی عمیرہ کی صحابیت صحیح ہے اور نہ ہی اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

امام المتقین امام فخرالدین الرازی نے کتاب موضوع الحدیث، ج 2 ص 362 میں لکھا ہے:
عبدالرحمن بن ابی عمیرہ نے یہ حدیث رسول اللہ سے نہیں سنی بلکہ اسنے خود سے گھڑ لی:

امام المجددین امام ذھبی نے سیراعالم النبالء، ج 3 ص 126 میں لکھا ہے:
اس حدیث کی سند منقطع ہے:

امام المفسرین علامہ شبلی نعمانی اپنی مایہ ناز کتاب
سیرت النبیؐ ج 1: ص126 پر فرماتے ہیں
حدیثوں کی تدوین بنو امیہ کے نوے سالہ دورِ حکومت میں ہوئی ان نوے سالہ دورِ حکومت میں مسجدوں کے منبروں پر آلِ فاطمہ پر لعنت و توھین کی گئی اور جمعہ کے دن مساجدِ جامع میں بر سرِ منبر علی بن ابی طالب پر استغفِراللہ لعنت کی جاتی تھی اور اسی دور میں معاویہ کے فضائل میں شامیوں نے سینکڑوں حدیث گھڑیں:
( واضع رہے اس حدیث کا راوی عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ کا تعلق شامیوں (گروہِ معاویہ) کے اسی گروہ سے تھا جو مولا علی پر تبرابازی کرتے تھے اور اسی وجہ سے علماءِ اہلسنت نے اس راوی پر جراح کی ہے یعنی کہ یہ جھوٹا کزاب شخص تھا )

*نمبر...14...معاویہ سے امام حسن کی صلح کی وجوہات :*
اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب بعض ناصبیوں کو معاویہ کے دفاع کے لیے کوئی بات نہیں ملتی تو وہ امام حسن کی معاویہ کے ساتھ صلح کو بطورِ ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور یہ جواب دیتے ہیں جس سے امام حسن نے صلح کی اس سے ہماری بھی صلح ہے...جس انسان بچارے کے پاس علم نہیں ہوتا وہ تو ان ناصبیوں کی بد دیانتی کے جھانسے میں آ جاتا ہے مگر یہ ناصبی اہل علم سُنیوں کو گمراہ نہیں کر سکتے....
*علمی جواب......معاویہ باغی کے ساتھ جنگوں کے دوران ہی مسجد میں حضرت علی کی شہادت ہو گئی تو لوگوں نے امام حسن کو اپنا خلیفہ نامزد کر لیا مگر ظالم معاویہ کو پھر بھی سکون نہ ملا معاویہ نے لشکرِ جرار تیار کیا اور امام حسن کو پیغام بھیجا یا تو جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ یا خلافت میرے حوالے کرو*. . ....واضع رہے
نبی کریم نے پہلے سے خلافت راشدہ کی مدت کے بارے میں پیشن گوئی فرما رکھی تھی..
فرمانِ نبی کریم
وعنِ سفينة قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول الخلافة ثلاثون سنة ثم تكون ملكا:
اَلسَند اَلصَحیح:
ترجمہ :: صحابیِ رسول حضرت سفینہ رضی اللہ تعالٰی کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ خلافت کا زمانہ تیس سال کا ہوگا اس کے بعد بدترین بادشاہت آ جائے گی۔
( مشکوۃ شریف۔ جلد چہارم،فتنوں کا بیان،حدیث 1327)
( سنن ابی داود/ السنة ۹ ( ۴۶۴۶، ۴۶۴۷ )
( تحفة الأشراف: ۴۴۸۰ )
( مسند احمد (۵/۲۲۱ ) (صحیح)
بخاری، مسلم نے بھی اس روایتِ صحیح کو نقل کیا۔
امام حسن نے معاویہ کو جب خلافت دی تو اس وقت پورے تیس سال ہو چکے تھے اور معاویہ کا زمانہ نبی کریم کی پیشن گوئی کے مطابق ظلم و جبر میں آگیا:اور نبی کریم کی پیشن گوئی سچ ثابت ہو گئی ۔

معاویہ کی بادشاہت کے بارے میں صحابہ اکرام کا نظریہ

حضرت سعید بن جمھان رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے کہ مجھے سفینہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ:

قَالَ لِي سَفِينَةُ: أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ، وَخِلَافَةَ عُمَر وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ، وَخِلَافَةَ عَلِيٍّ ثُمَّ قَالَ لِیی: اُمْسِکُ خِلافَتَ حَسنُ:
قَالَ: فَوَجَدْنَاهَا ثَلَاثِينَ سَنَةً، قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ بَنِي أُمَيَّةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ الخِلَافَةَ فِيهِمْ؟ قَالَ: كَذَبُوا بَنُو الزَّرْقَاءِ بَلْ هُمْ مُلُوكٌ مِنْ شَرِّ المُلُوكِ،
قُلْتُ : فَمُعَاوِيَةُ ؟ قَالَ : كَانَ أَوَّلَ الْمُلُوكِ: اَلْسَنْد اَلْصَحِیح:

مجھ سے سفینہ رضی الله تعالی عنہ نے کہا حضرت ابی بکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت علی کی خلافت لو پھر کہا حضرت حسن کی خلافت لو کہا پس ہم نے انکو تیس سال پایا سعید نے کہا میں نے سفینہ سے کہا بے
بنی امیہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کے پاس خلافت ہے۔تو سفینہ نے کہا جھوٹ بولتے ہیں بنو الزرقاءِ (خاندانِ معاویہ کی ایک عورت) والے بلکہ وہ تو بادشاہ ہیں بہت بدترین بادشاہ ہیں
پھر میں نے کہا اور معاویہ؟ سفینہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جواب دیا وہ اسلام کا پہلا بدترین بادشاہ ہے۔
(اس کی سند صحیح ہے)
(ترمذی: ابواب الفتن: باب خلافت کے بیان میں)
(مسند أبي داؤد الطيالسي: وَسَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رقم ١٢٠٣)
تشریح
شیخ الاسلام محمد طاہر القادری اپنے آن لائن فتوٰی میں فرماتے ہیں کہ نبی کریم کی پیشن گوئی کے مطابق خلافتِ راشدہ کی مدت صرف تیس سال تک ہے جو کہ امام حسن علیہ اسلام تک ختم ہو جاتی ہے اور معاویہ اسلام کے پہلے بدترین بادشاہ ہیں ۔جن کے دورِ ملوکیت میں اہلبیت کی اعلانیہ توھین کی جاتی رہی ۔

حضرت شیخ عبدالحق دہلوی نے اپنی شرح مشکوۃ میں اس روایت کو نقل کرتے ہوئے "ملکا " کے بعد "عضوضا " کا لفظ بھی نقل کیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ خلافت کٹ کھنی بادشاہت میں بدل جائے گی، یعنی خلافت کا دور ختم ہو جانے کے بعد بادشاہت کا دور شروع ہو جائے گا اور بادشاہت بھی ایسی کہ لوگ اس کی سختیوں اور ظالمانہ کاروایوں سے امن نہیں پائیں گے۔

*نمبر.... 15...کیا معاویہ کاتب ِوحی تھا...؟؟*
جب نواصب کو اپنے اصل کے دفاع میں کچھ نہیں
ملتا تو پھر وہ یہی راگ الاپنے لگ جاتے ہیں کہ معاویہ
کاتب ِوحی تھا اس لئے اسے کچھ نہیں کہنا چاہیئے۔
جواب : :علمائے اہل ِسنت نے *معاویہ کا نام کاتب ِوحی کی فہرست میں شمار نہیں کیا*،
جید علمائے اہل ِسنت نے کاتب ِوحی کے نام یکجا کرتے ہوئے معاویہ کا نام شامل نہیں
کیا ، دیکھیئے:
1۔ فتح الباری، ج 2 ص 450
2۔ عمدة القاری، ج 9 ص 307
3۔ ارشاد الساری، ج 9 ص 22
جواب نمبر 2 :معاویہ کاتب ِوحی نہیں بلکہ کاتب ِدستاویزات تھا؟
امام ابن عبد ربہ اپنی کتاب القعد الفرید میں
لکھتے ہیں:
علی ابن أبي طالب كرم اللہ وجھه الکریم وكان مع شرفه ونُبله وقَرابته من رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم یكتب الوحي ثم أفضت إلیه الخالفة بعد الكتابة وعثمان بن عفان كانا یكتبان الوحي فإن غابا كتب ابن بن كعب وزید بن ثابت فإن لم یَشھد واحد منھما َكتب غی ُرھما. وكان خالد بن ُمغیرة بن ُشعبة
سعید بن العاص ومعاویة بن أبي سفیان یكتبان بین یدیه في َحوائجه وكان الوال ُحصین بن نمیر یكتبان ما بین الناس وكانا ینوبان عن خالد و ُمعاویة إذا لم یحضرا:
علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہ اپنے تمام فضائل اور رسول اللہ سے قرابت داری کے عالوہ کاتب ِوحی بھی تھے جو بعد میں خلیفہ بھی بن گئے۔ عثمان بن عفان کاتب ِوحی تھے۔ علی اور عثمان کی غیر حاضری میں ابن بن کعد اور زید بن ثابت لکھا کرتے تھے اور ان حضرات کے غیر حاضری میں کوئی اور حضرات لکھا کرتے تھے۔جبکہ خالد بن سعید اور معاویہ بن ابی سفیان کو دستاویزات لکھنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ مغیرہ بن شعبہ اور الحسین بن نمیر لوگوں کے لئے دستاویزات لکھا کرتے تھے اور یہ دونوں سعید اور معاویہ کی غیر حاضری میں دستاویزات لکھا کرتے تھے۔

اس کے عالوہ امام ابن حجر عسقلانی نے االصابہ، ج 6 ص 121 میں لکھا ہے:
وقال المدائني كان زید بن ثابت یكتب الوحي وكان معاویة یكتب للنبي صلى ہللا علیه وسلم فیما بینه وبین العرب
مدائنی کے مطابق زید بن ثابت کاتب ِوحی تھے *جبکہ معاویہ رسول اللہ کے لئے عربوں کو خطوط لکھا کرتا تھا۔*

بالکل اسی طرح امام ذھبی نے تاریخ السالم، ج 4 ص 309 میں لکھا ہے:
وذكر المفضل الغالبي : أن زید بن ثابت كان كاتب وحي رسول اللہ صلى اللہ علیه وسلم ، وكان معاویة كاتبه فیما بینه وبین العربمفضل الغالبی نے کہا ہے کہ زید بن ثابت کاتب ِوحی ِرسول ص تھے جبکہ معاویہ رسول اللہ ص کے اور عربوں کے درمیاں خطوط وکتابت کیا کرتا تھا۔
جید آئمہ اہلسنت کے حوالہ جات کے بعد پھر بھی *اگر کوئی کاتب وحی کاتب وحی کی رٹ لگائے تو ہمارا سوال ہے کیا کاتب وحی کو نبی کریم نے اہلبیت رسول اور صحابہ اکرام سے مظالم کرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔۔۔۔؟* یا پھر کاتبِ وحی شریعت کے احکامات سے مبرا ہوتا ہے....؟؟؟

ایسے بددیانت لوگوں کو امام بوصیری کے فتوٰی سے سبق سیکھنا چاہیے....
( امام بوصیری کا معاویہ کے بارے میں فتوٰی )
جی ہاں ! یہ وہ ہی
امام شرف الدین بوصیری جن کا لکھا ہوا قصیدہ بردہ شریف صدیوں سے مشرق و مغرب میں سب سے ذیادہ پڑھا جانے والا نعتیہ کلام ہے۔ ان سے بڑا سنی کون ہوسکتا ہے ۔امام شرف الدین بوصیری آلِ رسول کی محبت میں رقم دراز ہیں ۔
امام بوصیری فرماتے ہیں ۔
وَعِنْدِي لَكُمْ آلَ النَّبِيِّ مَوَدَّةٌ ** سَلَبْتُمْ بِهَا قَلْبِي وَصَارَ لَهُ عِنْدُ
اے آلِ نبی! میرے پاس صرف آپ کی محبت ہے۔ اس محبت کے ذریعے آپ نے میرے قلب کو اسیر کرلیا ہے اور اب وہ آپ کا ہی ہوکر رہ گیا ہے۔

أَتَرْجُوْنَ مِنْ أَبْنَاء هِنْدٍ مَوَدَّةً ** وَقَدْ أَرْضَعَتْهُمْ دَرَّ بِغضَتِها هِنْدُ
لوگو کیا تم ہندہ ( زوجہ ابو سفیان ) کے بیٹوں (معاویہ) سے محبت کی امید رکھتے ہو؟ حالاں کہ ہندہ نے انہیں آل نبی ﷺ کی مخالفت اور بغض کا ہی دودھ پلایا ہے۔

وَأَدْعُو سِفَاهًا غَيْرَ آلِكَ سَادَتِي ** وَهَلْ أَنَا إِنْ وُفِّقْتُ إِلَّا لَهُمْ عَبْدُ
(یا رسول اللہ!) میں، آپ کی آل پاک - جو کہ میرے سردار ہیں - کے ہر مخالف کو بےعقل کہ کر پکارتا ہوں۔ مجھے اگر اس بات کی توفیق ارزانی کی گئی ہے تو صرف اِس وجہ سے کہ میں ان کا غلام ہوں (اور غلام وہی ہے جو ہمیشہ اپنے مالک و آقا کی وفاداری کا دم بھرے۔
(دیوان البوصیری، ص 116 تا 117۔ مطبعہ مصطفی البابی الحلبی واولادہ بمصر۔ ایڈیشن دوم، طبع 1973ء۔

*نمبر۔.۔۔۔16۔۔۔۔جب نواصب کو معاویہ بن ابی سفیان کے دفاع میں اور کچھ نہیں آتا تو نواصب صحابی، صحابی کی رٹ لگاتے ہیں کہ معاویہ صحابیِ رسول تھا اس لیے معاویہ کے مظالم پر خاموشی اختیار کرو۔*
*علمی جواب۔۔۔ہم کہتے ہیں کہ معاویہ کے مظالم پر بات کرنا تو خود سنتِ نبوی ہے جیسا کہ مندرجہ بالا میں حدیثِ عمار بن یاسر اور دیگر احادیث گزر چکی ہیں.*.
*اور دوسری بات معاویہ جس شخص (حضرت علی) کے مقابلے میں آیا وہ سب سے پہلا صحابی رسول، کاتبِ وحی ،شوہر بتول اور اس کا تعلق خاندانِ رسول اہلبیت سے تھا اہلبیت تو گھر والے تھے اور جب کہ صحابہ در والے* ...

*معاویہ تو بہت بعد میں اسلام لانے والوں میں سے ہے اور اسلام بھی کوئی اسلام سے متاثر ہو کر نہیں لایا بلکہ فتح مکہ کے دن ڈر کے مارے اسلام لایا اس کی ماں ہندہ وہ تھی جس نے حضرت حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا*
اور اس کے مقابلے میں *اس شخص کی ہمایت کرنی چاہیے جو خود اور اس کے بیٹے جنت کے سردار ہیں..*
صحابیت کے لباس میں چپھے ہوئے منافقین کے بارے اللہ تعالٰی قرآنِ پاک میں فرماتے ہیں

سورہ المنافقین میں خود اللہ پاک نے بھی نبی کریم کو بار بار فرمایا اے نبی آپکی صفوں میں منافقین چھپے ہیں ۔جو آپکے سامنے آپکے ہوتے ہیں مگر جب آپ سامنے نہیں ہوتے تو یہ آپ کی مخالفت کرتے ہیں ۔
( القرآن سورہ منافقین)

خود نبی کریم نے بھی اس بارے میں پہلے سے نشان دیہی فرما دی ۔ ۔

الصحیح بخاری، باب، آیت کی تفیر جو کوئی کسی کو جان بوجھ کر قتل کرے ( 3349 )
الصحیح المسلم باب حشر کا بیان حدیث ( 7201)
ترمزی جلد دوم، حشر کے میدان کے مطلق۔ حدیث ( 54 )
رواۃ الحدیث: عبد الله بن العباس القرشي ( 4883 ) ، سعيد بن جبير الاسدي ( 3307 ) ، المغيرة بن النعمان النخعي ( 1654 ) ، سفيان الثوري ( 3436 ) ، محمد بن كثير العبدي ( 7248 ) ، حدیث ۔۔۔
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، ان سے مغیرہ بن نعمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ”
میرے اصحاب میں سے بعض کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا تو میں پکار اٹھوں گا کہ اے میرے رب یہ تو میرے اصحاب ہیں ، میرے اصحاب ! پھر مجھے بتایا جائے گا کہ آپ کی وفات کے بعد یہ ایڑیوں کے بل پھر گئے ۔پھر میں اس وقت میں وہ جملہ کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلاگئے۔ہیں گے « وكنت عليہم شہيدا ما دمت فيہم‏ » ” جب تک میں ان کے ساتھ تھا ۔ ان پر نگران تھا ۔ “ تھا مگر جب مجھے اٹھا لیا گیا تو میرے رب انکے مطلق تو بہتر جانتا ہے۔ ۔.
( قرآن اور اس حدیث سے صاف پتہ چل گیا کہ وہ اصحاب بھی جنت میں نہیں جائیں گے جو نبی کریم کی ظاہری وفات کے بعد ایڑیوں کے بل پھر گئے۔)

*نمبر.... 17۔۔۔اب ہم حضرت ابو بکر صدیقؓ کا فتوٰی تحریر کرتے ہیں جس کی روح سے معاویہ سے نبی کریم راضی نہیں بلکہ ناراض ہے*. . . .. اس فتوٰی کو امام بخاری نے اپنی کتاب بخاری الصحیح میں تحریر کیا...
*حضرت ابو بکر صدیقؓ فرماتے ہیں کہ حضرت محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کی رضا مندی آپ صلی علیہ وآلہ وسلم کے اہلبیت کی محبت میں ہے۔۔*
الصحیح بخاری : کتاب المناقب جلد 2،، ص 424
حدیث رقم: 908
مسلم، ترمزی، نسائی، ابنِ ماجہ، ابو داؤد میں بھی یہ یہ روایت مختلف الفاظ سے باب المناقبِ اہلبیت درج ہے۔۔۔
*ناصبیوں حضرت ابو بکر کی ہی بات کو مان لو....*

نمبر...18۔۔۔۔۔آخر میں اللہ تعالی کا فرمان پیش کرتے ہیں جس میں اللہ نے ظالموں کا دفاع کرنے سے منع فرمایا ہے جیسے کہ آج کل لوگ دشمنِ اہلبیت ( معاویہ بن ابی سفیان) کا دفاع کرتے ہیں ایسے ناصبیوں کو اللہ تعالی کے اس فرمان سے ڈرنا چاہیے۔فرمانِ خدا
﴿فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (112) وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ﴾ [ھود:113-112]
ترجمہ:::؛ اور اللہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے اور مسلمانوں جو لوگ ظالم ہیں ان کی طرف مائل نہ ہونا۔نہیں تو تمہیں بھی دوزخ کی آگ آ لپیٹے گی اور اللہ کے سوا تمہارے کوئی دوست نہیں ہوں گے پھر تمہیں کوئی مدد بھی نہ ملے گی:
تشریح ::؛: اس آیت میں اللہ تعالی نے اہل ایمان کو ظلم کرنے والوں کی طرف ذرا بھی جھکاؤ نہ رکھنے کا کہا ہے۔ ان آیات مبارکہ میں ہمارے لیے واضع سبق ہے کہ ہم ظالم کو اس کے ظلم کی بنا پر اعلانیہ ظالم کہیں۔ورنہ اللہ تعالی فرما رہے ہیں کہ جو ظلم کی ہمایت کرے گا وہ بھی ظالموں میں شمار ہے اور اللہ اس کو بھی دوزخ کی آگ میں پھینکے گا۔
-----------------------------------------------------------------
تمام احباب خدا کو گواہ رکھ کر بتائیں کہ کیا ایسے شخص کے فضائل بیان کرنے چاہیے جس نے صحابہ واہلبیت پر اتنے زیادہ مظالم ڈھائے....؟؟؟؟
*کیا ایسے شخص کے فضائل بیان کرنے سے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت نہیں ہو* گی......؟؟؟
*کیا ایسے شخص کے نام کی مسجدیں بنانے سے اللہ خوش ہو گا جس شخص نے انہی مسجدوں کے منبروں پر خاندان رسول کی عزت کو پامال کیا ہو......؟؟؟*
*آج کے دور میں اگر کوئی معاویہ کے فضائل بیان کرے تو سمجھ جائیں کہ ایسا شخص آلِ نبی اور صحابہ اکرام سے بغض رکھتا ہے معاویہ کے فضائل بیان کر کے وہ اہلبیت سے دشمنی کا دم بھر رہا ہے....*
جسے تم اجتہاد بنا کر پیش کر رہے ہو یہ اجتہاد نہیں تھا بلکہ حق و باطل کہ جنگیں تھی.... *دشمنانِ اہلبیت کے دفاع سے باز آ جاؤ ورنہ تمھارا ٹھکانہ جہنم ہو گا....*
شیخ السلام محمد طاہر القادری صاحب نے امام اعظم ابو حنیفہ اور آئمہِ اہلسنت کے عقیدہِ متوترہ کی روح سے فتوٰی دیا کہ *معاویہ کے فضائل میں ایک بھی صحیح حدیث نہیں سب حدیث شامیوں کی گھڑی ہوئی ہیں...*
شیخ السلام نے مزید فرمایا کہ برصغیر پاک ہند کے اکثر ملاں امام اعظم ابو حنیفہ کے فتوٰی سے پھر چکے ہیں اس لیے میں انہیں متنبہ کرتا ہوں کہ *معاویہ کے فضائل بیان کرنے سے باز آ جاؤ کیوں کہ معاویہ کے فضائل بیان کرنا ناصبیوں کا طرضِ عمل ہے....*

آخر میں دعوتِ فکر

لوگو جب تم اپنے ماں باپ کو گالیاں نکالنے والے کے فضائل بیان کرنا پسند نہیں کرتے اور نہ ہی اسکے بارے میں خاموش رہتے ہو
*تو پھر تم خاندانِ رسول کو گالیاں نکالنے والے ان کو شہید کرنے والے اور سینکڑوں صحابہ اکرام کو شہید کرنے والے کے فضائل یوں بیان کرتے ہو اور اسے اچھا کہتے ہو اور اسکے بارے میں کیوں خاموشی رکھتے ہو...*
سوچ کیا اللہ اور اس کا رسولؐ تجھ سے راضی ہے....!!!

Address

Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 12:00
15:00 - 18:00
Saturday 09:00 - 12:00

Telephone

+923356119110

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Long Live Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share