03/07/2026
# عدلیہ کی خودمختاری اور مالیاتی آسودگی: پانچ ممالک کے سپریم کورٹ ججز کی تنخواہوں اور مراعات کا تقابلی جائزہ
کسی بھی ملک میں انصاف کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا دارومدار اس کی اعلیٰ عدلیہ کی آزادی پر ہوتا ہے۔ ججز کو خطیر تنخواہیں اور پرتعیش مراعات دینے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے مالیاتی دباؤ، لالچ یا بیرونی اثر و رسوخ سے پاک ہو کر آزادانہ فیصلے کر سکیں۔
آئیے پاکستان، امریکہ (USA)، برطانیہ (UK)، بھارت (India)، اور بنگلہ دیش (Bangladesh) کے سپریم کورٹ ججز کی تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر مراعات کا ایک تفصیلی اور تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔
ممالک کا تفصیلی جائزہ
1۔ پاکستان (Pakistan)
پاکستان میں سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں صدارتی آرڈرز اور آئین کے پانچویں شیڈول کے تحت طے کی جاتی ہیں:
* **تنخواہ:** چیف جسٹس آف پاکستان کی ماہانہ بنیادی تنخواہ **1,229,189 روپے** ہے جبکہ دیگر ججز کو **1,161,163 روپے** ماہانہ دیے جاتے ہیں۔
* **مراعات اور الاؤنسز:** ججز کو مفت سرکاری رہائش گاہ (آفیشل بنگلہ)، دو سرکاری گاڑیاں (بشمول ڈرائیور اور پٹرول)، مفت اعلیٰ طبی سہولیات، اور ماہانہ بنیادوں پر بجلی، پانی اور فون کے بھاری الاؤنسز ملتے ہیں۔
* **ریٹائرمنٹ کے بعد:** ریٹائرمنٹ پر ججز کو آخری تنخواہ کا ایک بڑا حصہ (تقریباً 70 سے 85 فیصد) بطور پنشن ملتا ہے، اور ساتھ ہی تاحیات سیکیورٹی، ڈرائیور اور مخصوص سفری مراعات بھی حاصل ہوتی ہیں۔
2۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ (USA)
امریکی سپریم کورٹ (Federal Supreme Court) کے ججز کی تنخواہیں سالانہ بنیادوں پر امریکی کانگریس طے کرتی ہے:
* **تنخواہ:** وفاقی اعداد و شمار کے مطابق، چیف جسٹس کی سالانہ تنخواہ **320,700 ڈالر** (تقریباً 26,725 ڈالر ماہانہ) اور ایسوسی ایٹ ججز کی سالانہ تنخواہ **306,600 ڈالر** (تقریباً 25,550 ڈالر ماہانہ) ہے۔
* **مراعات:** امریکہ میں سپریم کورٹ ججز کی سب سے بڑی رعایت ان کا **"لائف ٹائم ٹینیور" (تاحیات تقرری)** ہے۔ یعنی وہ جب تک چاہیں یا صحت اجازت دے، اپنے عہدے پر رہ سکتے ہیں۔ انہیں بہترین ہیلتھ انشورنس اور قانونی معاونین (Law Clerks) کی بڑی ٹیم فراہم کی جاتی ہے۔
* **ریٹائرمنٹ کے بعد:** "رول آف 80" کے تحت اگر جج کی عمر اور عدالتی سروس کا مجموعہ 80 سال ہو جائے، تو وہ اپنی آخری مکمل تنخواہ کے برابر پنشن کے ساتھ ریٹائر ہو سکتے ہیں۔
3۔ برطانیہ (UK)
برطانیہ میں جوڈیشل سیلریز کا تعین ایک آزاد ادارے "سینیئر سیلریز ریویو باڈی" (SSRB) کی سفارشات پر کیا جاتا ہے:
* **تنخواہ:** سپریم کورٹ کے ججز کی سالانہ تنخواہ تقریباً **226,193 پاؤنڈ سے 267,509 پاؤنڈ** کے درمیان ہوتی ہے (جو کہ تقریباً 18,800 سے 22,300 پاؤنڈ ماہانہ بنتی ہے)۔
* **مراعات:** برطانوی ججز کو علاج معالجے، دفتری اخراجات، اور اعلیٰ ترین سیکیورٹی کی سہولیات ملتی ہیں۔ اگرچہ نجی شعبے کے بڑے بیرسٹرز کے مقابلے میں یہ تنخواہ کم معلوم ہوتی ہے، لیکن جوڈیشل سروس کا وقار اور مراعات اس کی تلافی کر دیتی ہیں۔ یہاں ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 75 سال ہے۔
4۔ بھارت (India)
بھارت میں ججز کی تنخواہیں "سیونتھ پے کمیشن" (7th CPC) کے فریم ورک اور پارلیمانی ایکٹ کے تحت طے ہوتی ہیں:
* **تنخواہ:** چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) کی بنیادی ماہانہ تنخواہ **2,80,000 روپے (INR)** ہے، جبکہ سپریم کورٹ کے دیگر ججز کی تنخواہ **2,50,000 روپے (INR)** ماہانہ ہے۔
* **مراعات:** بنیادی تنخواہ کے علاوہ ججز کو ہاؤس رینٹ الاؤنس (HRA) جو بنیادی تنخواہ کا 24% ہوتا ہے (اگر سرکاری گھر نہ لیں)، مہنگائی الائونس (Dearness Allowance)، اور مہمان نوازی کے لیے 34,000 روپے ماہانہ کا خصوصی الاؤنس ملتا ہے۔ اس کے علاوہ 200 یونٹ مفت بجلی، مفت پانی اور گاڑی کی دیکھ بھال کے اخراجات دیے جاتے ہیں۔
* **ریٹائرمنٹ کے بعد:** سالانہ 15 لاکھ روپے پلس الاؤنسز بطور پنشن اور 20 لاکھ روپے گریجویٹی دی جاتی ہے۔
5۔ بنگلہ دیش (Bangladesh)
بنگلہ دیش میں سپریم کورٹ ججز کے مالیاتی امور "سپریم کورٹ ججز آرڈیننس" کے تحت چلائے جاتے ہیں:
* **تنخواہ:** چیف جسٹس آف بنگلہ دیش کی بنیادی تنخواہ **1,10,000 ٹکا (BDT)** ماہانہ ہے، اپیلٹ ڈویژن کے جج کی تنخواہ **1,05,000 ٹکا** اور ہائی کورٹ ڈویژن کے جج کی تنخواہ **95,000 ٹکا** ماہانہ ہے۔
* **مراعات:** بنیادی تنخواہ کے علاوہ ججز کو 50% خصوصی الاؤنس (Special Allowance) دیا جاتا ہے۔ انہیں سال میں دو مرتبہ تہوار الاؤنس (Festival Allowance) جو کہ دو ماہ کی تنخواہ کے برابر ہوتا ہے، اور 20% بنگالی نیو ایئر الاؤنس بھی ملتا ہے۔ سرکاری رہائش گاہ، گاڑی بمعہ ڈرائیور اور مخصوص الاؤنسز پر انکم ٹیکس سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔
حاصل کلام (Conclusion)
اگر ان تمام ممالک کا موازنہ ان کی معیشت اور مقامی قوتِ خرید (Purchasing Power) کے لحاظ سے کیا جائے تو ترقی یافتہ ممالک (جیسے امریکہ اور برطانیہ) کے ججز کی بنیادی تنخواہیں بظاہر بہت زیادہ نظر آتی ہیں، لیکن پاکستان اور بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک میں ججز کو ملنے والے نان-کیش الاؤنسز (جیسے مفت بجلی، پٹرول، نوکر چاکر اور تاحیات شاہانہ پنشن کی مراعات) ان کی بنیادی تنخواہ کے حجم کو بہت زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ججز کی بنیادی تنخواہ دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے لیکن وہاں الاؤنسز اور ٹیکس چھوٹ کے ذریعے مالی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
طریقہ کار جو بھی ہو، دنیا بھر میں اعلیٰ عدلیہ کو اتنے بڑے پیمانے پر مالی استحکام فراہم کرنے کا مقصد صرف ایک ہی ہوتا ہے: جج کو ہر قسم کی فکر سے آزاد کیا جائے تاکہ وہ بغیر کسی خوف، دباؤ یا طمع کے صرف آئین اور قانون کے مطابق سچ کا ساتھ دے سکے۔