Rohri Cement Factory

Rohri Cement Factory Rohri Cement Factory was a Dream world during 1938 to 1999 .

Please follow, like & share this page to ur friends & reltives who were resident during the period 1938- 1999 to remember the old & golden memories.

انسانی ناخن کی حیرت انگیز ساخت - اللہ کی بہترین تخلیق کا ثبوتاللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: **"لَقَدْ خَلَقْ...
01/09/2026

انسانی ناخن کی حیرت انگیز ساخت - اللہ کی بہترین تخلیق کا ثبوت

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: **"لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ"** یعنی بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا (سورۃ التین، آیت 4)۔ یہ آیت انسانی جسم کی پیچیدہ اور حیرت انگیز بناوٹ کی طرف اشارہ کرتی ہے، اور ناخن کی ساخت اس کی ایک زندہ مثال ہے۔

ناخن کی تہہ در تہہ ساخت

ہمارا ناخن دیکھنے میں سادہ لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک پیچیدہ نظام کارفرما ہے جو کئی تہوں پر مشتمل ہے:

*اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کریں....!!!*اگر آپ اچھا رزق کما رہے ہیں تو یقین جانیں اس میں آپ کی ذہانت یا صلاحیتوں کا کوئ...
01/09/2026

*اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کریں....!!!*

اگر آپ اچھا رزق کما رہے ہیں تو یقین جانیں اس میں آپ کی ذہانت یا صلاحیتوں کا کوئی کمال نہیں، بڑے بڑے عقل کے پہاڑ خاک چھان رہے ہیں۔

اگر آپ کسی بڑی بیماری سے بچے ہوئے ہیں تو اس میں آپ کی خوراک یا حفظانِ صحت کی اختیار کردہ احتیاطی تدابیر کا کوئی دخل نہیں۔ ایسے بہت سے انسانوں سے قبرستان بھرے ہوئے ہیں جو سوائے منرل واٹر کے کوئی پانی نہیں پیتے تھے مگر پھر اچانک انہیں برین ٹیومر، بلڈ کینسر یا ہیپاٹائٹس سی تشخیص ہوئی اور وہ چند دنوں یا لمحوں میں دنیا سے کوچ کر گئے۔

اگر آپ کے بیوی بچے سرکش نہیں بلکہ آپ کے تابع دار و فرمانبردار ہیں، خاندان میں بیٹے بیٹیاں مہذب، باحیا و با کردار سمجھے جاتے ہیں، تو اس کا سب کریڈٹ بھی آپ کی تربیت کو نہیں جاتا کیوں کہ بیٹا تو نبی کا بھی بگڑ سکتا ہے اور بیوی تو پیغمبر کی بھی نافرمان ہو سکتی ہے۔

اگر آپ کی کبھی جیب نہیں کٹی، کبھی موبائل نہیں چھنا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بہت چوکنّے اور ہوشیار ہیں، بلکہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ نے بدقماشوں، جیب کتروں اور رہزنوں کو آپ کے قریب نہیں پھٹکنے دیا تاکہ آپ ان کی ضرر رسانیوں سے بچے رہیں۔

:

یہ غالباً ہر انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ خود دوسروں سے اچھا کما رہا ہو تو یہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ وہ ضرور دوسروں سے زیادہ محنتی، چالاک اور منضبط (organised) ہے اور اپنے کام میں زیادہ ماہر ہے۔ پھر وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے جن کو نپا تلا رزق مل رہا ہے، ان پر تنقید کرتا ہے، ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ مگر جب یکلخت وقت کا پہیہ الٹا گھومتا ہے تو اس کو پتہ چل جاتا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس تھی جو وہ سمجھ بیٹھا تھا۔

اگر کوئی چاہتا ہے کہ اسے رزق کے معاملہ میں آزمایا نہ جائے تو تین کام کرے:

اوّل: جو کچھ مل رہا ہے اسے محض مالک کی عطا سمجھے نہ کہ اپنی قابلیت کا نتیجہ اور ساتھ ہی مالک کا شکر بھی بجا لاتا رہے۔

دوئم: جن کو کم یا نپاتلا رزق مل رہا ہے انہیں حقیر نہ جانے نہ ان لوگوں سے حسدکرے جن کو "چھپر پھاڑ" رزق میسر ہے۔ یہ سب رزّاق کی اپنی تقسیم ہے۔ اس کے بھید وہی جانے۔

سوئم: جتنا ہو سکے اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کرے۔ زیادہ ہے تو زیادہ، کم ہے تو کم شامل کرے۔ سب سے زیادہ حق، والدین اور رحم کے رشتوں کا ہے۔ نانا نانی، دادا دادی، بہنیں اور بھائی ہیں۔ اس کے بعد خون کے دوسرے رشتے ہیں جیسے خالہ، پھوپھی، چچا، ماموں، چچی وغیرہ۔ پھر دوسرے قریبی رشتہ دار یا مسکین و لاچار لوگ۔ یقین رکھیں کہ جب بہت سے دعا کے ہاتھ اس کے حق میں اٹھیں گے تو برکت موصلہ دھار بارش کی مانند برسے گی جس کی ٹھنڈی پھوار اس کی زندگی کو گلشن گلشن بنا دے گی.

منقول

─────••●◎●••─────
والسلام آپ کا بھائی
پروفیسر شعیب ہاشمی

*باادب با نصیب، بے ادب بے نصیب*ایک مرتبہ جناب بہلولؒ ایک نخلستان میں تشریف فرما تھے۔ اسی دوران ایک تاجر کا وہاں سے گزر ہ...
01/09/2026

*باادب با نصیب، بے ادب بے نصیب*

ایک مرتبہ جناب بہلولؒ ایک نخلستان میں تشریف فرما تھے۔ اسی دوران ایک تاجر کا وہاں سے گزر ہوا۔ اس نے بہلولؒ کو دیکھا تو قریب آ کر سلام کیا، نہایت ادب سے ان کے سامنے بیٹھا اور عرض کیا:

"حضور! تجارت کے لیے ایسی کون سی چیز خریدوں جس میں مجھے بہت زیادہ نفع حاصل ہو؟"

جناب بہلولؒ نے فرمایا:

"کالا کپڑا خرید لو۔"

تاجر نے شکریہ ادا کیا اور نہایت ادب سے واپس چلا گیا۔ اس نے بازار میں دستیاب تقریباً تمام سیاہ کپڑا خرید کر ذخیرہ کر لیا۔

چند ہی دن گزرے تھے کہ شہر کے ایک بہت بڑے اور بااثر شخص کا انتقال ہوگیا۔ پورے شہر میں سوگ کا ماحول بن گیا اور ماتمی لباس کے لیے سیاہ کپڑے کی طلب اچانک بہت بڑھ گئی۔

اب سارا کالا کپڑا اسی تاجر کے پاس موجود تھا۔

لوگ اس کے پاس پہنچنے لگے اور وہ منہ مانگے داموں کپڑا فروخت کرنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے اتنا زبردست منافع کمایا جتنا شاید اس نے اپنی پوری زندگی میں نہ کمایا تھا۔ چند ہی دنوں میں وہ ایک معمولی تاجر سے بہت مالدار شخص بن گیا۔

کچھ عرصے بعد وہ ایک شاندار گھوڑے پر سوار کہیں جا رہا تھا کہ راستے میں اسے جناب بہلولؒ نظر آئے۔

وہ گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے رک گیا اور اس مرتبہ طنزیہ انداز میں بولا:

"او دیوانے! اب بتاؤ، کیا خریدوں؟"

بہلولؒ نے فرمایا:

"تربوز خرید لو۔"

تاجر نے اسے بھی اپنی کامیابی کا راز سمجھا۔ وہ فوراً واپس گیا اور اپنی ساری دولت لگا کر پورے ملک سے بڑی مقدار میں تربوز خرید لیے۔

مگر اس بار قسمت نے ساتھ نہ دیا۔

صرف ایک ہفتے کے اندر تمام تربوز خراب ہوگئے۔

تاجر کی ساری دولت برباد ہوگئی اور وہ دوبارہ کوڑی کوڑی کا محتاج ہوگیا۔

اسی بدحالی میں ایک دن گھومتے پھرتے اس کی ملاقات دوبارہ جناب بہلولؒ سے ہوگئی۔

تاجر نے غصے اور افسوس سے کہا:

"یہ آپ نے میرے ساتھ کیا کر دیا؟ پہلے آپ کے مشورے سے میں مالا مال ہوگیا اور اب برباد ہوگیا!"

جناب بہلولؒ نے فرمایا:

"میں نے تمہارے ساتھ کچھ نہیں کیا۔ یہ سب تمہارے اپنے لہجے اور الفاظ کا نتیجہ ہے۔

جب تم نے پہلی مرتبہ نہایت ادب سے پوچھا تھا تو تمہیں نفع اور خوشحالی نصیب ہوئی، لیکن جب دوبارہ تم نے گستاخی اور تکبر کے ساتھ سوال کیا تو تمہارا انجام بھی ویسا ہی ہوا۔"

پھر فرمایا:

🌿 "باادب، با نصیب…
بے ادب، بے نصیب!" 🌿

سبق:
انسان کی زبان صرف الفاظ ادا نہیں کرتی، بلکہ اس کے اخلاق، تربیت اور شخصیت کا آئینہ بھی ہوتی ہے۔

کسی بزرگ، استاد، والدین یا کسی بھی انسان سے بات کرتے وقت ادب اور عاجزی کو کبھی نہ چھوڑیں۔
کبھی کبھی انسان کی کامیابی اس کے علم سے زیادہ، اس کے لہجے اور اخلاق میں چھپی ہوتی ہے۔

*ادب انسان کو بلند کرتا ہے، اور تکبر اسے گرا دیتا ہے۔*

منقول

─────••●◎●••─────
والسلام آپ کا بھائی
پروفیسر شعیب ہاشمی

https://whatsapp.com/channel/0029Vaba5PGBFLgaCn90Q22l

28/08/2026

مجھے گزشتہ ہفتے اپنی پوسٹوں میں سے ایک پوسٹ پر ‏1,000‏ سے زیادہ رد عمل موصول ہوئے! آپ سب کی سپورٹ کا شکریہ! ‏🎉‏

*ایک دل چھو لینے والی سبق آموز کہانی*دوپہر کی تپتی ہوئی دھوپ میں ایک بوڑھا باپ اور اس کا جوان بیٹا صبح سے اینٹوں کے بھٹے...
28/08/2026

*ایک دل چھو لینے والی سبق آموز کہانی*

دوپہر کی تپتی ہوئی دھوپ میں ایک بوڑھا باپ اور اس کا جوان بیٹا صبح سے اینٹوں کے بھٹے پر کام کر رہے تھے۔

باپ بار بار اپنے بیٹے سے کہتا:

"بیٹا! کچھ دیر سائے میں بیٹھ جاؤ۔ اتنی سخت دھوپ تمہیں بیمار کر دے گی۔ کام کل بھی ہو جائے گا۔"

مگر بیٹا جوان تھا، اسے اپنی طاقت پر بھروسہ تھا۔ وہ مسکرا کر جواب دیتا:

"ابا جان! آپ فکر نہ کریں، بس تھوڑا سا کام باقی ہے۔ مجھے کچھ نہیں ہوگا۔"

بوڑھا باپ ہر بار خاموش ہو جاتا، لیکن اس کا دل بے چین رہتا۔ وہ اپنے بیٹے کو تپتی دھوپ میں پسینہ بہاتے دیکھتا تو اندر ہی اندر پریشان ہوتا رہتا۔

آخرکار وہ گھر گیا۔

اپنے دو سالہ پوتے کو گود میں اٹھایا، اس کی پیشانی کو پیار کیا اور اسے ساتھ لے کر دوبارہ بھٹے پر آ گیا۔

وہ ایک طرف کھڑا ہوا اور بچے کو چند لمحوں کے لیے دھوپ میں کھڑا کر دیا۔

گرمی محسوس ہوتے ہی بچہ بے چین ہو کر رونے لگا۔

یہ دیکھتے ہی بیٹا گھبرا گیا۔ وہ فوراً دوڑ کر آیا، بچے کو گود میں اٹھایا اور سایہ دار جگہ پر لے گیا۔

پھر پریشانی سے بولا:

"ابا جان! آپ نے بچے کو دھوپ میں کیوں کھڑا کیا؟ اگر اسے کچھ ہو جاتا تو؟"

بوڑھے باپ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

اس نے آہستگی سے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:

"میرے بیٹے! تم نے اپنے بچے کو صرف چند لمحے دھوپ میں دیکھا تو تمہارا دل بے چین ہو گیا۔ تمہیں خوف ہونے لگا کہ کہیں اسے تکلیف نہ پہنچ جائے۔"

وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر بھری ہوئی آواز میں بولا:

"میں بھی صبح سے یہی تکلیف محسوس کر رہا ہوں۔ جب میں تمہیں اس تیز دھوپ میں کام کرتے دیکھتا ہوں تو میرا دل بھی اسی طرح تڑپتا ہے۔"

پھر اس نے بیٹے کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا:

"فرق صرف اتنا ہے کہ تم اپنے بیٹے کے باپ ہو، اور میں تمہارا باپ ہوں۔"

یہ الفاظ بیٹے کے دل میں اتر گئے۔

وہ خاموش ہو گیا۔

پہلی بار اسے اپنے باپ کی آنکھوں میں وہ خوف نظر آیا جو صرف سچی محبت سے پیدا ہوتا ہے۔

اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

وہ آگے بڑھا، اپنے باپ کو گلے لگایا اور رندھی ہوئی آواز میں بولا:

"مجھے معاف کر دیں، ابا جان! میں آپ کی فکر اور محبت کو سمجھ ہی نہیں سکا۔"

بوڑھے باپ نے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھا اور مسکرا دیا۔

اس دن بیٹے نے زندگی کا وہ سبق سیکھا جو شاید برسوں کی نصیحتیں بھی نہ سکھا سکتی تھیں:

بعض رشتوں کا درد انسان کو تب سمجھ آتا ہے جب وہ خود اسی رشتے کی ذمہ داری میں آتا ہے۔

والدین جب ہماری فکر کرتے ہیں تو اکثر ہمیں ان کی باتیں روک ٹوک محسوس ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے پیچھے محبت، خوف اور ہماری سلامتی کی خواہش چھپی ہوتی ہے۔

آج اگر آپ کے والدین آپ کی فکر کرتے ہیں، تو ان کی باتوں کو بوجھ نہ سمجھیں۔

کیونکہ ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ:

"جس محبت کو میں روک ٹوک سمجھتا رہا، وہ دراصل میرے والدین کی بے لوث محبت تھی۔"

اللہ تعالیٰ ہمارے والدین کو سلامت رکھے اور ہمیں ان کی قدر کرنے والا بنائے۔ آمین۔

منقول

─────••●◎●••─────
والسلام آپ کا بھائی
پروفیسر شعیب ہاشمی

https://whatsapp.com/channel/0029Vaba5PGBFLgaCn90Q22l

Intresting Cat. . . . . !!!
26/08/2026

Intresting Cat. . . . . !!!

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rohri Cement Factory posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share