Rohri Cement Factory

Rohri Cement Factory Rohri Cement Factory was a Dream world during 1938 to 1999 .

Please follow, like & share this page to ur friends & reltives who were resident during the period 1938- 1999 to remember the old & golden memories.

عید ملن محفل/ کتاب دوست محفل
01/06/2026

عید ملن محفل/ کتاب دوست محفل

روہڑی سیمنٹ فیکٹری کی  خوشگوار یادیں       قسط نمبر 31  تحریر: اکبرعلی ولد نورالدین  "المنظر"-   روہڑی سیمنٹ فیکٹری کی ث...
31/05/2026

روہڑی سیمنٹ فیکٹری کی خوشگوار یادیں قسط نمبر 31 تحریر: اکبرعلی ولد نورالدین "المنظر"- روہڑی سیمنٹ فیکٹری کی ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز

روہڑی سیمنٹ فیکٹری کی خوشگوار یادوں میں ایک نام ایسا ہے جو آج بھی پرانے مکینوں اور ملازمین کے دلوں میں زندہ ہے، اور وہ نام ہے "المنظر"۔ یہ صرف ایک عمارت نہیں تھی بلکہ فیکٹری کالونی کی ثقافتی، ادبی اور تفریحی سرگرمیوں کا مرکز تھی۔ اس کے اسٹیج پر بے شمار یادگار پروگرام منعقد ہوئے جنہوں نے کئی نسلوں کو تفریح، علم اور ادب سے روشناس کرایا۔

المنظر کی تعمیر کا بنیادی مقصد فیکٹری ملازمین، ان کے اہلِ خانہ اور کالونی کے مکینوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا جہاں وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔ یہاں ڈرامے پیش کیے جاتے، میوزیکل ناٸٸٹس پروگرام، اسٹیج ورائٹی پروگرام منعقد ہوتے، مشاعروں کی محفلیں سجتیں، قوالی کی روح پرور محافل منعقد ہوتیں اور مباحثوں کے مقابلے منعقد کیے جاتے۔ بچوں کی تفریح کے لیے کٹھ پتلی کے پروگرام بھی پیش کیے جاتے تھے۔ بعد ازاں فلم پروجیکٹر روم کی تعمیر کے بعد یہی عمارت فیکٹری کا سینما ہاؤس بھی بن گئی جہاں نئی اور مقبول فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔

المنظر کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اس وقت کے جنرل منیجر جناب مصباح الحق انصاری صاحب مرحوم اور فیکٹری انتظامیہ نے اس عمارت کے لیے ایک موزوں نام تجویز کرنے کا اعلان کیا۔ انتظامیہ نے تمام ملازمین اور افسران کو دعوت دی کہ وہ اپنی تجاویز پیش کریں۔ اس مقابلے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا اور مختلف نام پیش کیے گئے۔ انتظامیہ نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ جس شخص کی تجویز کردہ نام کو منتخب کیا جائے گا اسے نقد انعام اور تعریفی سند سے نوازا جائے گا۔

اس مقابلے میں مرحوم شریف حسن صدیقی کا تجویز کردہ نام "المنظر" کو جناب ایم - ایچ انصاری صاحب اور ان کی ٹیم نے سب سے زیادہ پسند کیا۔ یہ نام نہ صرف عمارت کی خوبصورتی اور اس کے مقصد کی بھرپور عکاسی کرتا تھا بلکہ اس میں ادبی اور ثقافتی وقار بھی موجود تھا۔ چنانچہ اس نام کو کامیاب قرار دیا گیا اور مرحوم شریف حسن صدیقی صاحب کو پانچ سو روپے نقد انعام اور تعریفی سند پیش کی گئی۔ اس دور میں پانچ سو روپے ایک قابلِ ذکر رقم سمجھی جاتی تھی، لہٰذا یہ ان کے لیے ایک بڑا اعزاز تھا۔

یوں اس خوبصورت عمارت کو "المنظر" کا نام ملا اور وقت گزرنے کے باوجود یہ نام آج بھی لوگوں کی یادوں میں تازہ ہے۔ فیکٹری کالونی کے ہزاروں مکینوں کی خوشیوں، قہقہوں، ادبی محفلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کی گواہ یہ عمارت اپنی ایک الگ شناخت رکھتی تھی۔ ( "المنظر عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں:
منظر
دیکھنے کی جگہ
خوشنما نظارہ
قدرتی یا دلکش منظرنامہ
اردو میں "المنظر" کا استعمال عموماً کسی خوبصورت، دلکش یا قابلِ دید منظر کے لیے کیا جاتا ہے"-)

مرحوم شریف حسن صدیقی فیکٹری میں چیف ٹائم کیپر کے عہدے پر فائز رہے اور اسی عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ وہ ایک خوش اخلاق، ملنسار اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے والد محترم ظریف حسن صدیقی کا تعلق امروہہ، (انڈیا) سے تھا۔اور رٸیس امروہوی (12ستمبر 1914-22ستمبر1988) کے ہمعصروں میں شمار تھا- تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان آئے اور روہڑی سیمنٹ فیکٹری کے ماحول میں رچ بس گئے۔ ظریف حسن صدیقی صاحب، میرے دادا جناب یوسف علی مرحوم کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے تھے اور دونوں خاندانوں کے درمیان گہرے تعلقات قائم تھے۔
یہ بات مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میرے دادا یوسف علی کی طبیعت زیادہ خراب ہوٸ تو سب سے پہلی اطلاع ظریف حسن صدیقی کو پہنچاٸ گٸ ان کی موجودگی میں میرے دادا یوسف علی کا انتقال ہوا۔ مزید یہ کہ جب ظریف حسن صدیقی کا انتقال ھوا تو ان کے انتقال پر رٸیس امروہوی نے ایک قطعہ تحریر کیا تھا جو انکل لطیف حسن صدیقی کے ڈراٸنگ روم میں فریم میں أویزاں تھا۔
شریف حسن صدیقی صاحب کے علاوہ دو بھائی، لطیف حسن صدیقی مرحوم اور افتخار حسن صدیقی مرحوم بھی روہڑی سیمنٹ فیکٹری میں ملازم رہے۔ لطیف حسن صدیقی مرحوم میرے والد محترم نورالدین کے قریبی دوستوں میں تھے اورلطیف حسن اور شریف حسن مرحومین کے بچوں کے روابط ہمارے بہن بھاٸیوں سے تھے یہ وہ دور تھا جب دوستیاں ، روابط نسلوں پر محیط تھے۔أج بھی اس فیملی سے خوشگوار تعلقات ہیں۔ یوں کہیے یہ خاندان فیکٹری کی ترقی اور اس کی اجتماعی زندگی کا ایک اہم حصہ رہے۔ بعد ازاں شریف حسن صدیقی صاحب کے صاحبزادے نسیم حسن صدیقی نے بھی فیکٹری میں ملازمت اختیار کی اور اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ ہاکی اور کرکٹ کے اچھے کھلاڑی تھے اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کرتے تھے۔ انہوں نے بھی اپنی ملازمت کے آخری وقت تک فیکٹری سے وابستگی برقرار رکھی اور اپنے حسنِ اخلاق اور کھیلوں سے محبت کی وجہ سے سب میں مقبول رہے۔

آج اگر روہڑی سیمنٹ فیکٹری کی تاریخ اور اس کی ثقافتی زندگی کا ذکر کیا جائے تو "المنظر" کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ عمارت صرف اینٹوں اور سیمنٹ کا ڈھانچہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک عہد، ایک تہذیب اور ایک مشترکہ سماجی زندگی کی علامت تھی۔ یہاں ہونے والی تقریبات نے بے شمار لوگوں کی شخصیت سازی میں کردار ادا کیا اور انہیں اظہارِ خیال کے مواقع فراہم کیے۔

وقت گزر جاتا ہے، لوگ رخصت ہو جاتے ہیں، لیکن بعض نام اور بعض یادیں تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ "المنظر" بھی ایسی ہی ایک یادگار ہے جو روہڑی سیمنٹ فیکٹری کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا، اور مرحوم شریف حسن صدیقی کا نام اس عمارت کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ المنظر کے حوالے سے میں کسی ایک قسط میں زیر تحریر موضوع کا تذکرہ چکا ہوں ۔ مباحثے کی دو تقاریر اپنے قارٸین کی دلچسپی کے لیۓ تحریر کر رہا ہوں امید ہے کہ پسند فرماٸیں گے۔ المنظر اسٹیج مباحثہ: اس ایوان کی رائے میں "ہم سب چور ہیں"
موافقت میں تقریر
محترم صدرِ مجلس، معزز اساتذہ کرام، اور میرے عزیز ساتھیو!
آج میں اس ایوان کے سامنے موضوع "ہم سب چور ہیں" کے حق میں اپنے خیالات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ بظاہر یہ جملہ سخت، تلخ اور ناگوار محسوس ہوتا ہے، کیونکہ چوری کو ہم ایک جرم سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر ہم اپنے معاشرے کا غیر جانبداری سے جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ چوری صرف کسی کی جیب کاٹنے یا کسی کا مال چرا لینے کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کے حقوق، وقت، وسائل اور مواقع پر ناجائز قبضہ کرنا بھی چوری ہی کی ایک شکل ہے۔
محترم حاضرین!
ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو وقت کی پابندی کرتے ہیں؟ جب ہم دفتر، اسکول یا کسی تقریب میں تاخیر سے پہنچتے ہیں تو درحقیقت دوسروں کا وقت چراتے ہیں۔ وقت دنیا کی سب سے قیمتی دولت ہے اور اس کی چوری کسی مالی چوری سے کم نہیں۔ اسی طرح جب کوئی ملازم اپنی ڈیوٹی پوری دیانت داری سے ادا نہیں کرتا، تو وہ اپنی تنخواہ کا حق دار نہیں رہتا۔ وہ ادارے کے وسائل اور اعتماد کی چوری کر رہا ہوتا ہے۔
اسی طرح ہم روزمرہ زندگی میں کئی ایسی حرکتیں کرتے ہیں جو چوری کے زمرے میں آتی ہیں۔ کوئی امتحان میں نقل کرتا ہے، کوئی دوسروں کی تحریر اپنے نام سے پیش کرتا ہے، کوئی بجلی یا گیس کی غیر قانونی کنڈے لگاتا ہے، کوئی سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ سب چوری کی مختلف صورتیں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم انہیں معاشرتی عادت یا معمول سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
معزز سامعین!
اگر ہم ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ہم دوسروں کے محفوظ سفر کے حق کو چراتے ہیں۔ اگر ہم قطار توڑ کر آگے نکل جاتے ہیں تو ہم دوسروں کے حقِ انتظار کو چراتے ہیں۔ اگر ہم جھوٹ بول کر کسی کا اعتماد حاصل کرتے ہیں تو ہم اس کے اعتماد اور یقین کی چوری کرتے ہیں۔ گویا چوری صرف مال و دولت تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی سطح پر بھی موجود ہے۔
یہ موضوع دراصل ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ نہیں کہ ہر شخص پیشہ ور مجرم ہے، بلکہ یہ باور کرانا ہے کہ ہم سب کسی نہ کسی شکل میں دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ جب تک ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، اصلاح کا سفر شروع نہیں ہو سکتا۔
آج ہمارا معاشرہ کرپشن، بدعنوانی اور بے ایمانی کی شکایات سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب لوگ آسمان سے تو نہیں اترے۔ یہ ہمارے ہی درمیان سے نکلتے ہیں۔ جب ہم چھوٹی چھوٹی بے ایمانیوں کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں تو یہی رویے آگے چل کر بڑے جرائم کی بنیاد بنتے ہیں۔
آخر میں، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ "ہم سب چور ہیں" ایک الزام نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے۔ یہ آئینہ ہمیں ہماری خامیاں دکھاتا ہے اور خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے۔ اگر ہم اپنے حصے کی چوری، خواہ وہ وقت کی ہو، اعتماد کی ہو یا حقوق کی، ترک کر دیں تو ایک بہتر اور دیانت دار معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔
اسی دلیل کے ساتھ میں اس موضوع کی بھرپور تائید کرتا ہوں۔
شکریہ۔ مباحثہ: اس ایوان کی رائے میں "ہم سب چور ہیں"
مخالفت میں تقریر
محترم صدرِ مجلس، معزز اساتذہ کرام، اور میرے عزیز ساتھیو!
آج میں اس ایوان کے سامنے پیش کردہ موضوع "ہم سب چور ہیں" کی مخالفت میں اپنے خیالات پیش کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔
جنابِ صدر!
کسی معاشرے، قوم یا انسانوں کے پورے گروہ کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اگر چند افراد چوری، بدعنوانی یا بے ایمانی میں ملوث ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پورا معاشرہ چور ہے۔ "ہم سب چور ہیں" ایک ایسا عمومی اور غیر منصفانہ بیان ہے جو لاکھوں دیانت دار اور محنتی لوگوں کی توہین کے مترادف ہے۔
محترم حاضرین!
اگر واقعی ہم سب چور ہوتے تو دنیا میں دیانت داری، امانت داری اور قربانی کی مثالیں کہاں سے آتیں؟ وہ مزدور جو دن بھر سخت دھوپ میں محنت کرکے اپنے بچوں کے لیے رزق کماتا ہے، کیا وہ چور ہے؟ وہ کسان جو زمین سے اناج پیدا کرکے پوری قوم کا پیٹ بھرتا ہے، کیا وہ چور ہے؟ وہ استاد جو اپنی زندگی علم کی روشنی پھیلانے میں گزار دیتا ہے، کیا وہ چور ہے؟ وہ سپاہی جو وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جان تک قربان کر دیتا ہے، کیا اسے بھی چور کہا جا سکتا ہے؟
جنابِ صدر!
یہ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں بعض برائیاں موجود ہیں۔ کہیں رشوت ہے، کہیں کرپشن ہے اور کہیں بدعنوانی۔ لیکن چند افراد کے غلط اعمال کی بنیاد پر پوری قوم کو مجرم قرار دینا دانشمندی نہیں بلکہ ناانصافی ہے۔ اگر ایک باغ میں چند سوکھے درخت ہوں تو پورے باغ کو مردہ نہیں کہا جا سکتا۔ اسی طرح چند بے ایمان لوگوں کی وجہ سے پورے معاشرے کو چور کہنا درست نہیں۔
معزز سامعین!
انسان خطا کا پتلا ہے۔ ہم سب سے غلطیاں سرزد ہو سکتی ہیں، لیکن ہر غلطی چوری نہیں ہوتی۔ کسی کام میں کوتاہی، بھول یا کمزوری کو چوری کا نام دینا الفاظ کے مفہوم کو حد سے زیادہ وسیع کر دینا ہے۔ چوری ایک مخصوص جرم ہے جس میں کسی دوسرے کے حق یا مال کو جان بوجھ کر ناجائز طور پر حاصل کیا جاتا ہے۔ ہر شخص کو اس تعریف میں شامل کرنا حقیقت کے منافی ہے۔
محترم حاضرین!
ہمیں اپنے معاشرے کی خامیوں کی نشاندہی ضرور کرنی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی قدر بھی کرنی چاہیے جو ایمانداری اور اصول پسندی کی روشن مثال ہیں۔ اگر ہم ہر شخص کو چور قرار دے دیں گے تو نیکی، دیانت اور کردار کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے امید، حوصلہ افزائی اور اچھے کردار کی مثالیں ضروری ہیں، نہ کہ سب کو ایک ہی الزام کے دائرے میں کھڑا کر دینا۔
آخر میں، میں یہی عرض کروں گا کہ دنیا میں برے لوگ موجود ہیں، لیکن اچھے لوگ بھی کم نہیں۔ سچائی، امانت داری اور محنت آج بھی زندہ ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ "ہم سب چور ہیں" حقیقت، انصاف اور عقل تینوں کے خلاف ہے۔
اسی بنیاد پر میں اس موضوع کی بھرپور مخالفت کرتا ہوں۔
شکریہ۔ موضوع "اس ایوان کی رائے میں ہم سب چور ہیں" پر ہونے والے مباحثے میں موافقت اور مخالفت، دونوں جانب کے مقررین نے اپنے اپنے دلائل نہایت مدلل انداز میں پیش کیے۔ مخالفت کرنے والے مقررین نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ معاشرے میں بے شمار دیانت دار، فرض شناس اور باکردار افراد موجود ہیں، اس لیے پوری قوم کو چور قرار دینا مناسب نہیں۔ دوسری جانب موافقت میں اظہارِ خیال کرنے والے مقررین نے یہ استدلال پیش کیا کہ چوری صرف مال و دولت کی نہیں ہوتی بلکہ وقت، وسائل، حقوق اور ذمہ داریوں کی چوری بھی چوری ہی کی ایک شکل ہے، اور ہم میں سے اکثر لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر کسی نہ کسی صورت میں اس عمل کا حصہ بنتے ہیں۔

مباحثے کے دوران مقررین نے روزمرہ زندگی سے متعدد مثالیں پیش کیں جنہوں نے حاضرین کو غور و فکر پر مجبور کر دیا۔ کسی نے وقت کی پابندی نہ کرنے کو دوسروں کے وقت کی چوری قرار دیا، تو کسی نے سرکاری وسائل کے ناجائز استعمال اور فرائض میں غفلت کو قومی امانت میں خیانت سے تعبیر کیا۔ یوں بحث کا رخ محض مادی چوری سے نکل کر اخلاقی اور سماجی ذمہ داریوں تک پھیل گیا۔

تمام تقاریر کے اختتام پر حاضرین اور منصفین نے دلائل کا بغور جائزہ لیا۔ موافق مقررین کے دلائل زیادہ جامع، مؤثر اور فکر انگیز قرار پائے۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ اس موضوع کا مقصد افراد کو مجرم ثابت کرنا نہیں بلکہ خود احتسابی کا شعور بیدار کرنا ہے تاکہ ہر شخص اپنی خامیوں کو پہچان کر اصلاح کی کوشش کرے۔

چنانچہ منصفین اور حاضرین کی اکثریت نے موافقت کے حق میں فیصلہ دیا اور بھاری اکثریت سے یہ قرارداد منظور کر لی گئی کہ:

"اس ایوان کی رائے میں ہم سب چور ہیں۔"

اس فیصلے نے حاضرین کو اپنے طرزِ عمل، معاشرتی ذمہ داریوں اور اخلاقی رویوں پر ازسرِنو غور کرنے کا موقع فراہم کیا، جو اس مباحثے کا اصل مقصد بھی تھا۔ امید ھے کہ ہمارے قارٸین کو أج کی قسط پسند أۓ گی اور اس پر اظہار خیال ضرور کریں گے۔

31/05/2026
31/05/2026

‎100018348422362:2048:Khalil Ahmad Alvi 100000476085540:2048:Rabia Hidayat 100078111412551:2048:Ghulam Sarwar 100023343861582:2048:Haji Shafi Muhammed Sarwari 1848676311:2048:Waqar Ahmed 61568744622372:2048:Ahmed Saeed Solangi 1196824606:2048:Rizwan Hashmi 100009246610367:2048:Muhmmad Hanif 100064371596079:2048:Rohri Cement Factory 61557760167330:2048:SCALA - Sindh Cultural & Literary Association Canada 100002308308897:2048:Safdar Hussain 100000967295049:2048:Fouzia Nusrat 100008646361016:2048:Dhani Bakhsh Ansari 100077721837480:2048:Samiullah Khan 100013850136854:2048:Mumtaz Ali Channa 100059251298158:2048:Muhammad Ahsan Yousuf 100003512358718:2048:Saleem Ahmed 100004243322731:2048:Shakeel Khan 100024159151608:2048:Aman Alam 100074023849107:2048:Kaleem Khan 61554797743717:2048:Wajid Malik Malik 61565929482738:2048:Moazzam Aßßasi 100088124162169:2048:Aamna Riaz Korai-Debater 61580716763413:2048:Mrs Rupali 100002031794757:2048:Khisal Danish Part 7‎

31/05/2026

‎100018348422362:2048:Khalil Ahmad Alvi 100000476085540:2048:Rabia Hidayat 100078111412551:2048:Ghulam Sarwar 100023343861582:2048:Haji Shafi Muhammed Sarwari 1848676311:2048:Waqar Ahmed 61568744622372:2048:Ahmed Saeed Solangi 1196824606:2048:Rizwan Hashmi 100009246610367:2048:Muhmmad Hanif 100064371596079:2048:Rohri Cement Factory 61557760167330:2048:SCALA - Sindh Cultural & Literary Association Canada 100002308308897:2048:Safdar Hussain 100000967295049:2048:Fouzia Nusrat 100008646361016:2048:Dhani Bakhsh Ansari 100077721837480:2048:Samiullah Khan 100013850136854:2048:Mumtaz Ali Channa 100059251298158:2048:Muhammad Ahsan Yousuf 100003512358718:2048:Saleem Ahmed 100004243322731:2048:Shakeel Khan 100024159151608:2048:Aman Alam 100074023849107:2048:Kaleem Khan 61554797743717:2048:Wajid Malik Malik 61565929482738:2048:Moazzam Aßßasi 100088124162169:2048:Aamna Riaz Korai-Debater 61580716763413:2048:Mrs Rupali 100002031794757:2048:Khisal Danish Part 6‎

31/05/2026

‎100018348422362:2048:Khalil Ahmad Alvi 100000476085540:2048:Rabia Hidayat 100078111412551:2048:Ghulam Sarwar 100023343861582:2048:Haji Shafi Muhammed Sarwari 1848676311:2048:Waqar Ahmed 61568744622372:2048:Ahmed Saeed Solangi 1196824606:2048:Rizwan Hashmi 100009246610367:2048:Muhmmad Hanif 100064371596079:2048:Rohri Cement Factory 61557760167330:2048:SCALA - Sindh Cultural & Literary Association Canada 100002308308897:2048:Safdar Hussain 100000967295049:2048:Fouzia Nusrat 100008646361016:2048:Dhani Bakhsh Ansari 100077721837480:2048:Samiullah Khan 100013850136854:2048:Mumtaz Ali Channa 100059251298158:2048:Muhammad Ahsan Yousuf 100003512358718:2048:Saleem Ahmed 100004243322731:2048:Shakeel Khan 100024159151608:2048:Aman Alam 100074023849107:2048:Kaleem Khan 61554797743717:2048:Wajid Malik Malik 61565929482738:2048:Moazzam Aßßasi 100088124162169:2048:Aamna Riaz Korai-Debater 61580716763413:2048:Mrs Rupali 100002031794757:2048:Khisal Danish Part 5‎

31/05/2026

‎100018348422362:2048:Khalil Ahmad Alvi 100000476085540:2048:Rabia Hidayat 100078111412551:2048:Ghulam Sarwar 100023343861582:2048:Haji Shafi Muhammed Sarwari 1848676311:2048:Waqar Ahmed 61568744622372:2048:Ahmed Saeed Solangi 1196824606:2048:Rizwan Hashmi 100009246610367:2048:Muhmmad Hanif 100064371596079:2048:Rohri Cement Factory 61557760167330:2048:SCALA - Sindh Cultural & Literary Association Canada 100002308308897:2048:Safdar Hussain 100000967295049:2048:Fouzia Nusrat 100008646361016:2048:Dhani Bakhsh Ansari 100077721837480:2048:Samiullah Khan 100013850136854:2048:Mumtaz Ali Channa 100059251298158:2048:Muhammad Ahsan Yousuf 100003512358718:2048:Saleem Ahmed 100004243322731:2048:Shakeel Khan 100024159151608:2048:Aman Alam 100074023849107:2048:Kaleem Khan 61554797743717:2048:Wajid Malik Malik 61565929482738:2048:Moazzam Aßßasi 100088124162169:2048:Aamna Riaz Korai-Debater 61580716763413:2048:Mrs Rupali 100002031794757:2048:Khisal Danish Part 4‎

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rohri Cement Factory posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share