06/08/2026
جنرل مجید ملک اپنی داستان حیات "ہم بھی وہاں موجود تھے" میں لکھتے ہیں کہ کارگل کے بعد جب مشرف اور نوازشریف میں تلخیاں بڑھی دوریاں پیدا ہوئی تو میاں شریف نے ایک دن جنرل مشرف اور بیگم صہبا مشرف کو جاتی عمرہ کھانے پر بُلایا میاں شریف نے جنرل مشرف کو کہا تم میرے بھائی ہو اور میاں نوازشریف و شہباز شریف آپ کے بیٹوں جیسے ہیں جنرل مشرف اور بیگم مشرف کو تحفے تحائف بھی دئے گئے کھانے کے میز پر فیصلہ ہوا کہ جنرل مشرف کو آرمی چیف کے ساتھ ساتھ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا عہدہ بھی دیا جاتا ہے وہاں ہی فیصلہ ہوا کہ اگلے دو تین دنوں میں میاں نوازشریف عمرے پر جائیں گے اور ساتھ جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مشرف اور بیگم مشرف بھی جائیں گے یہ سب ہوا اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
جنرل مجید کا یہ اقتباس اس لیے لیا کہ جو راتب خور کہہ رہے ہیں کہ سب اچھا ہے وہ جان لیں کہ جب ایک بار بات باہر آ جائے تو پھر سب اچھا نہیں ہوتا بس دو چار ماہ کے لیے معاملات رک جاتے ہیں مگر وہ ہو کر رہتا ہے
بشارت راجہ ایکس پر