MAQ Baldia

MAQ Baldia The voice of the people!

پٹرول کی قیمت میں اضافہایسے بھی عقل سے فارغ لوگ ہیں جو پٹرول کی قیمت بڑھنے پر حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے جماعت ا...
10/09/2026

پٹرول کی قیمت میں اضافہ
ایسے بھی عقل سے فارغ لوگ ہیں جو پٹرول کی قیمت بڑھنے پر حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے جماعت اسلامی کو بےجا تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں

تفہیم القرآنسورۃ نمبر 10 يونسآیت نمبر 17أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّ...
10/09/2026

تفہیم القرآن
سورۃ نمبر 10 يونس
آیت نمبر 17

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ ؕ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:
پھر اُس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسُوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھوٹا قرار دے۔22 یقیناً مجرم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔“23

تفسیر:
سورة یُوْنُس 22
یعنی اگر یہ آیات خدا کی نہیں ہیں اور میں انہیں خود تصنیف کر کے آیات الہٰی کی حیثیت سے پیش کر رہا ہوں تو مجھ سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ اور اگر یہ واقعی اللہ کی آیات ہیں اور تم ان کو جھٹلا رہے ہو تو پھر تم سے بڑا بھی کوئی ظالم نہیں۔
سورة یُوْنُس 23
بعض نادان لوگ ” فلاح “ کو طویل عمر، یا دنیوی خوشحالی، یا دنیوی فروغ کے معنی میں لے لیتے ہیں، اور پھر اس آیت سے یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ جو شخص نبوت کا دعویٰ کر کے جیتا رہے، یا دنیا میں پھلے پھولے، یا اس کی دعوت کو فروغ نصیب ہو، اسے نبی برحق مان لینا چاہیے کیونکہ اس نے فلاح پائی۔ اگر وہ نبی برحق نہ ہوتا تو جھوٹا دعویٰ کرتے ہی مار ڈالا جاتا، یا بھوکوں مار دیا جاتا اور دنیا میں اس کی بات چلنے ہی نہ پاتی۔ لیکن یہ احمقانہ استدلال صرف وہی شخص کرسکتا ہے جو نہ تو قرآنی اصطلاح ” فلاح “ کا مفہوم جانتا ہو، نہ اس قانون امہال سے واقف ہو جو قرآن کے بیان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے مجرموں کے لیے مقرر فرمایا ہے، اور نہ یہی سمجھتا ہو کہ اس سلسلہ بیان میں یہ فقرہ کس معنی میں آیا ہے۔
اول تو یہ بات کہ ” مجرم فلاح نہیں پاسکتے “ اس سیاق میں اس حیثیت سے فرمائی ہی نہیں گئی ہے کہ یہ کسی کے دعوائے نبوت کو پرکھنے کا معیار ہے جس سے عام لوگ جانچ کر خود فیصلہ کرلیں کہ جو مدعی نبوت ” فلاح “ پا رہا ہو اس کے دعوے کو مانیں اور جو فلاح نہ پا رہا ہو اس کا انکار کردیں۔ بلکہ یہاں تو یہ بات اس معنی میں کہی گئی ہے کہ ” میں یقین کے ساتھ جانتا ہوں کہ مجرموں کو فلاح نصیب نہیں ہو سکتی، اس لیے میں خود تو یہ جرم نہیں کرسکتا کہ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کروں، البتہ تمہارے متعلق مجھے یقین ہے کہ تم سچے نبی کو جھٹلانے کا جرم کر رہے ہو اس لیے تمہیں فلاح نصیب نہیں ہوگی “۔
پھر فلاح کا لفظ بھی قرآن میں دنیوی فلاح کے محدود معنی میں نہیں آیا ہے، بلکہ اس سے مراد وہ پائیدار کامیابی ہے جو کسی خسران پر منتج ہونے والی نہ ہو، قطع نظر اس سے کہ دنیوی زندگی کے اس ابتدائی مرحلہ میں اس کے اندر کامیابی کا کوئی پہلو ہو یا نہ ہو۔ ہوسکتا ہے کہ ایک داعی ضلالت دنیا میں مزے سے جیے، خوب پھلے پھولے اور اس کی گمراہی کو بڑا فروغ نصیب ہو، مگر یہ قرآن کی اصطلاح میں فلاح نہیں، عین خسران ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک داعی حق دنیا میں سخت مصیبتوں سے دو چار ہو، شدت آلام سے نڈھال ہو کر یا ظالموں کی دست درازیوں کا شکار ہو کر دنیا سے جلدی رخصت ہوجائے، اور کوئی اسے مان کر نہ دے، مگر یہ قرآن کی زبان میں خسران نہیں، عین فلاح ہے۔
علاوہ بریں قرآن میں جگہ جگہ یہ بات پوری تشریح کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کو پکڑنے میں جلدی نہیں کیا کرتا بلکہ انہیں سنبھلنے کے لیے کافی مہلت دیتا ہے، اور اگر وہ اس مہلت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اور زیادہ بگڑتے ہیں تو اللہ کی طرف سے ان کو ڈھیل دی جاتی ہے اور بسا اوقات ان کو نعمتوں سے نوازا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے نفس کی چھپی ہوئی تمام شرارتوں کو پوری طرح ظہور میں لے آئیں اور اپنے عمل کی بنا پر اس سزا کے مستحق ہوجائیں جس کے وہ اپنی بری صفات کی وجہ سے فی الحقیقت مستحق ہیں۔ پس اگر کسی جھوٹے مدعی کی رسی دراز ہو رہی ہو اور اس پر دنیوی ” فلاح “ کی برسات برس رہی ہو تو سخت غلطی ہوگی اگر اس کی اس حالت کو اس کے برسر ہدایت ہونے کی دلیل سمجھا جائے۔ خدا کا قانون امہال و استدراج جس طرح تمام مجرموں کے لیے عام ہے اسی طرح جھوٹے مدعیان نبوت کے لیے بھی ہے اور ان کے اس مستثنیٰ ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ پھر شیطان کو قیامت تک کے لیے جو مہلت اللہ تعالیٰ نے دی ہے اس میں بھی یہ استثنا کہیں مذکور نہیں ہے کہ تیرے اور تو سارے فریب چلنے دیے جائیں گے لیکن اگر تو اپنی طرف سے کوئی نبی کھڑا کرے گا تو یہ فریب نہ چلنے دیا جائے گا۔
ممکن ہے کوئی شخص ہماری اس بات کے جواب میں وہ آیت پیش کرے جو سورة الحاقہ آیات ٤٤ – ٤٧ میں ارشاد ہوئی ہے کہ وَلَوْ تَقَوَّ لَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَ قَاوِیْلِ ۔ لَاَ خَذْنَا مِنْہُ بِا لْیَمِیْنِ ۔ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ ۔” یعنی اگر محمد ﷺ نے خود گھڑ کر کوئی بات ہمارے نام سے کہی ہوتی تو ہم اس کا ہاتھ پکڑ لیتے اور اس کی رگ دل کاٹ ڈالتے “۔ لیکن اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ تو یہ ہے کہ جو شخص فی الواقع خدا کی طرف سے نبی مقرر کیا گیا ہو وہ اگر جھوٹی بات گھڑ کر وحی کی حیثیت سے پیش کرے تو فورا پکڑا جائے۔ اس سے یہ استدلال کرنا کہ جو مدعی نبوت پکڑ انہیں جا رہا ہے وہ ضرور سچا ہے۔ ایک منطقی مغالطہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ خدا کے قانون امہال و استدراج میں جو استثناء اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے وہ صرف سچے نبی کے لیے ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ جو شخص نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے وہ بھی اس سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ سرکاری ملازموں کے لیے حکومت نے جو قانون بنایا ہو اس کا اطلاق صرف انہی لوگوں پر ہوگا جو واقعی سرکاری ملازم ہوں۔ رہے وہ لوگ جو جعلی طور پر اپنے آپ کو ایک سرکاری عہدہ دار کی حیثیت سے پیش کریں، تو ان پر ضابطہ ملازمت کا نفاذ نہ ہوگا بلکہ ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو ضابطہ فوجداری کے تحت عام بدمعاشوں اور مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ علاوہ بریں سورة الحاقہ کی اس آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے وہ بھی اس غرض کے لیے نہیں فرمایا گیا کہ لوگوں کو نبی کے پرکھنے کا یہ معیار بتایا جائے کہ اگر پردہ غیب سے کوئی ہاتھ نمودار ہو کر اس کی رگ دل اچانک کاٹ لے تو سمجھیں جھوٹا ہے ورنہ مان لیں کہ سچا ہے۔ نبی کے صادق یا کاذب ہونے کی جانچ اگر اس کی سیرت، اس کے کام، اور اس چیز سے جو وہ پیش کر رہا ہو، ممکن نہ ہوتی تو ایسے غیر معقول معیار تجویز کرنے کی ضرورت پیش آسکتی تھی۔

09/09/2026

سندھودیش کا نعرہ قبول نہیں، کراچی اورحیدرآباد کے عوام کااستحصال بند کیا جائے: حافظ نعیم الرحمٰن

🔥 10ستمبر تک پٹرولیم لیوی ختم کرو، ورنہ اسلام آباد لانگ مارچ کی فائنل کال! حافظ نعیم الرحمن🚀        #10ستمبر    #مہنگائی...
09/09/2026

🔥 10ستمبر تک پٹرولیم لیوی ختم کرو، ورنہ اسلام آباد لانگ مارچ کی فائنل کال! حافظ نعیم الرحمن
🚀
#10ستمبر #مہنگائی #پاکستان

تفہیم القرآنسورۃ نمبر 10 يونسآیت نمبر 16أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّ...
09/09/2026

تفہیم القرآن
سورۃ نمبر 10 يونس
آیت نمبر 16

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلْ لَّوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوۡتُهٗ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَدۡرٰٮكُمۡ بِهٖ ‌ۖ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِيۡكُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِهٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:
اور کہو” اگر اللہ کی مشیّت یہی ہوتی تو میں یہ قرآن تمہیں کبھی نہ سُناتا اور اللہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا ۔ آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمہارے درمیان گُزار چُکا ہوں ، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے 21؟

تفسیر:
سورة یُوْنُس 21
یہ ایک زبردست دلیل ہے ان کے اس خیال کی تردید میں کہ محمد ﷺ قرآن کو خود اپنے دل سے گھڑ کر خدا کی طرف منسوب کر رہے ہیں، محمد ﷺ کے اس دعوے کی تائید میں کہ وہ خود اس کے مصنف نہیں ہیں بلکہ یہ خدا کی طرف سے بذریعہ وحی ان پر نازل ہو رہا ہے۔ دوسرے تمام دلائل تو پھر نسبتا دور کی چیز تھے، مگر محمد ﷺ کی زندگی تو ان لوگوں کے سامنے کی چیز تھی۔ آپ ﷺ نے نبوت سے پہلے پورے چالیس سال ان کے درمیان گزارے تھے۔ ان کے شہر میں پیدا ہوئے، ان کی آنکھوں کے سامنے بچپن گزرا، جوان ہوئے، ادھیڑ عمر کو پہنچے۔ رہنا سہنا، ملنا چلنا، لین دین، شادی بیاہ، غرض ہر قسم کا معاشرتی تعلق انہی کے ساتھ تھا اور آپ ﷺ کی زندگی کا کوئی پہلو ان سے چھپا ہوا نہ تھا۔ ایسی جانی بوجھی اور دیکھی بھالی چیز سے زیادہ کھلی شہادت اور کیا ہو سکتی تھی۔
آپ کی اس زندگی میں دو باتیں بالکل عیاں تھیں جنہیں مکہ کے لوگوں میں سے ایک ایک شخص جانتا تھا
ایک یہ کہ نبوت سے پہلے کی پوری چالیس سالہ زندگی میں آپ ﷺ نے کوئی ایسی تعلیم، تربیت اور صحبت نہیں پائی جس سے آپ ﷺ کو وہ معلومات حاصل ہوتیں جن کے چشمے یکایک دعوائے نبوت کے ساتھ ہی آپ ﷺ کی زبان سے پھوٹنے شروع ہوگئے۔ اس سے پہلے کبھی آپ ﷺ ان مسائل سے دلچسپی لیتے ہوئے، ان مباحث پر گفتگو کرتے ہوئے، اور ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نہیں دیکھے گئے جو اب قرآن کی ان پے درپے سورتوں میں زیر بحث آرہے تھے۔ حد یہ ہے کہ اس پورے چالیس سال کے دوران میں کبھی آپ ﷺ کے کسی گہرے دوست اور کسی قریب ترین رشتہ دار نے بھی آپ ﷺ کی باتوں اور آپ ﷺ کی حرکات و سکنات میں کوئی ایسی چیز محسوس نہیں کی جسے اس عظیم الشان دعوت کی تمہید کہا جاسکتا ہو جو آپ ﷺ نے اچانک چالیسویں سال کو پہنچ کر دینی شروع کردی۔ یہ اس بات کا صریح ثبوت تھا کہ قرآن آپ کے اپنے دماغ کی پیداوار نہیں ہے، بلکہ خارج سے آپ کے اندر آئی ہوئی چیز ہے۔ اس لیے کہ انسانی دماغ اپنی عمر کے کسی مرحلے میں بھی ایسی کوئی چیز پیش نہیں کرسکتا جس کے نشونما اور ارتقاء کے واضح نشانات اس سے پہلے کے مرحلوں میں نہ پائے جاتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ کے بعض چالاک لوگوں نے جب خود محسوس کرلیا کہ قرآن کو آپ کے دماغ کی پیداوار قرار دینا صریح طور پر ایک لغو الزام ہے تو آخر کو انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ کوئی اور شخص ہے جو محمد ﷺ کو یہ باتیں سکھا دیتا ہے۔ لیکن یہ دوسری بات پہلی بات سے بھی زیادہ لغو تھی۔ کیونکہ مکہ تو درکنار، پورے عرب میں کوئی اس قابلیت کا آدمی نہ تھا جس پر انگلی رکھ کر کہہ دیا جاتا کہ یہ اس کلام کا مصنف ہے یا ہوسکتا ہے۔ ایسی قابلیت کا آدمی کسی سوسائٹی میں چھپا کیسے رہ سکتا ہے ؟
دوسری بات جو آپ ﷺ کی سابق زندگی میں بالکل نمایاں تھی، وہ یہ تھی کہ جھوٹ، فریب، جعل، مکاری، عیاری اور اس قبیل کے دوسرے اوصاف میں سے کسی کا ادنیٰ شائبہ تک آپ کی سیرت میں نہ پایا جاتا تھا۔ پوری سوسائٹی میں کوئی ایسا نہ تھا جو یہ کہہ سکتا ہو کہ اس چالیس سال کی یکجائی معاشرت میں آپ ﷺ سے کسی ایسی صفت کا تجربہ اسے ہوا ہے۔ برعکس اس کے جن جن لوگوں کو بھی آپ ﷺ سے سابقہ پیش آیا تھا وہ آپ ﷺ کو اک نہایت سچے، بےداغ، اور قابل اعتماد (امین) انسان کی حیثیت ہی سے جانتے تھے۔ نبوت سے پانچ ہی سال پہلے تعمیر کعبہ کے سلسلہ میں وہ مشہور واقعہ پیش آچکا تھا جس میں حجر اسود کو نصب کرنے کے معاملہ پر قریش کے مختلف خاندان جھگڑ پڑے تھے اور آپ میں طے ہوا تھا کہ کل صبح پہلا شخص جو حرم میں داخل ہوگا اسی کو پنچ مان لیا جائے گا۔ دوسرے روز وہ شخص محمد ﷺ تھے جو وہاں داخل ہوئے۔ آپ کو دیکھتے ہی سب لوگ پکار اٹھے ھذا الامین، رضینا، ھٰذا محمد ﷺ ۔ ” یہ بالکل راستباز آدمی ہے، ہم اس پر راضی ہیں۔ یہ تو محمد ﷺ ہے “۔ اس طرح آپ ﷺ کو نبی مقرر کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ پورے قبیلہ قریش سے بھرے مجمع میں آپ ﷺ کے ” امین “ ہونے کی شہادت لے چکا تھا۔ اب یہ گمان کرنے کی کیا گنجائش تھی کہ جس شخص نے تمام عمر کبھی اپنی زندگی کے کسی چھوٹے سے چھوٹے معاملہ میں بھی جھوٹ، جعل اور فریب سے کام نہ لیا تھا وہ یکایک اتنا بڑا جھوٹ اور ایسا عظیم الشان جعل و فریب لے کر اٹھ کھڑا ہوا کہ اپنے ذہن سے کچھ باتیں تصنیف کیں اور ان کو پورے زور اور تحدی کے ساتھ خدا کی طرف منسوب کرنے لگا۔
اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ ان کے اس بیہودہ الزام کے جواب میں ان سے کہو کہ اللہ کے بندو، کچھ عقل سے تو کام لو، میں کوئی باہر سے آیا ہوا اجنبی آدمی نہیں ہوں، تمہارے درمیان اس سے پہلے ایک عمر گزار چکا ہوں، میری سابق زندگی کو دیکھتے ہوئے تم کیسے یہ توقع مجھ سے کرسکتے ہو کہ میں خدا کی تعلیم اور اس کے حکم کے بغیر یہ قرآن تمہارے سامنے پیش کرسکتا تھا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة قصص، ١٠٩) ۔

عمران خان اس ملک اور دنیا کے مقبول ترین لیڈر ہیں۔ 27 تاریخ اٹل ہے، ہم اپنے کپتان کو کبھی جھکنے نہیں دیں گے! مارچ ہوگا او...
08/09/2026

عمران خان اس ملک اور دنیا کے مقبول ترین لیڈر ہیں۔ 27 تاریخ اٹل ہے، ہم اپنے کپتان کو کبھی جھکنے نہیں دیں گے! مارچ ہوگا اور ان شاءاللہ مکمل کامیاب ہوگا۔ تاریخ گواہ بنے گی کہ حق سچ کا علم بلند رہے گا۔
— بیرسٹر گوہر علی خان
​
​

08/09/2026

🔥ساہیوال: مولانا فضل الرحمٰن کا ورکرز کنونشن سے فکر انگیز خطاب| حکومت کے خلاف ​شدید گولہ باری
​💥 "ناموسِ رسالت کے قانون کو کوئی ختم نہیں کر سکتا، کسی کی بادشاہت قائم نہیں ہونے دیں گے!" مولانا فضل الرحمٰن
​صوبائی خودمختاری اور سیاسی دوہرے معیار پر بڑا موقف! مکمل تفصیلات کے لیے ویڈیو دیکھیں۔

​

08/09/2026

🔥 جماعتِ اسلامی اور حکومت کے مذاکرات! دھرنا جاری رکھنے کا بڑا اعلان 🚨
​اسلام آباد میں جماعتِ اسلامی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان اہم پیش رفت! حکومتی کمیٹی نے جماعتِ اسلامی کے مطالبات پر مشاورت کے لیے جمعرات تک کا وقت مانگ لیا۔
​مذاکراتی ٹیم کے نمائندے کا کہنا ہے کہ:
💬 "بجلی اور مافیا سے عوام کو نجات دلانے اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک دھرنا جاری رہے گا۔ جمعرات کو دوبارہ بیٹھک ہوگی جس میں عوام کے لیے بڑے ریلیف کی توقع ہے۔"
​مکمل اپڈیٹ کے لیے ویڈیو دیکھیں اور اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں!👇

​

عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والی صرف جماعت اسلامی، باقی 167 جماعتیں کہاں ہیں؟​ #پاکستان          #انصاف
07/09/2026

عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والی صرف جماعت اسلامی، باقی 167 جماعتیں کہاں ہیں؟

​ #پاکستان #انصاف

آوازِ خلق، نقارۂ خداجماعت اسلامی کے دھرنوں اور احتجاج پر تنقید کرنے والے بیمار ذہنیت کے لوگ ہیں۔سینئر صحافی و معروف تجزی...
07/09/2026

آوازِ خلق، نقارۂ خدا
جماعت اسلامی کے دھرنوں اور احتجاج پر تنقید کرنے والے بیمار ذہنیت کے لوگ ہیں۔
سینئر صحافی و معروف تجزیہ کار
حسن نثار
#احتجاج #دھرنا #کراچی

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MAQ Baldia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share