09/06/2026
https://www.facebook.com/share/p/14k6tKV6U5m/?mibextid=wwXIfr
ہاکس بے میڈیا ٹاؤن کا روشن مستقبل
"کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا۔۔"
سینئر صحافی آغا خالد نے میڈیا ٹاؤن ہاکس بے کراچی کے "روشن اور تابناک مستقبل" کے حوالے سے ایک خوش کن نقشہ کھینچا ہے، جس کے مطابق یہاں مستقبل قریب میں بہت بڑی غیر ملکی انویسٹمنٹ ہونے والی ہے جس کے نتیجے میں پلاٹس کی قیمتیں کروڑوں میں چلی جائیں گی۔۔اور اپنے پلاٹ فروخت کرنے والے کراچی پریس کلب کے ارکان اپنے کئے پر پچھتائیں گے۔۔۔انہوں نے اپنے ساتھیوں سے درد مندانہ التجا کی ہے کہ وہ مزید پلاٹ فروخت نہ کریں اور اس سوسائٹی کو اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت سمجھیں۔۔۔
خدا کرے ایسا ہی ہو، اب تک کے زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ 30 برس پہلے 1996 میں الاٹ ہونے والی یہ سوسائٹی کسی بے آب و گیاہ صحرا اور کھنڈر کا امتزاج معلوم ہوتی ہے۔۔ یہاں ہمت کر کے تعمیرات کرنے اور اپنے خاندانوں کو بسانے والے چند صحافی خود کو چاند سے آگے کے کسی سیارے کی مخلوق تصور کرتے ہیں، جہاں بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہیں۔۔ ہمت کر کے سولر سسٹم لگایا گیا تو چور پولز سمیت لے اڑے۔
سرکاری قیمت پر ملنے والا پانی کا ٹینکر یہاں کے نصف درجن مکینوں کو نعمت غیر مترکبہ معلوم ہوتا ہے۔۔
آئے دن چوری کی وارداتیں عام ہیں۔۔ چند برس پہلے کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا واحد پارک بھی کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے۔
تفصیلات اور بھی بہت ساری ہیں مگر فی الوقت آپ آغا خالد کی تحریر پڑھیں جو مایوسی کے گھپ اندھیرے میں امید کا دیا روشن کرتی دکھائی دیتی ہے۔
ہاکس بے صحافی سوسائٹی کے پلاٹس بیچنے والے ممبران پچھتائیں گے؟
نئی غیر ملکی سرمایہ کاری سے اس علاقہ میں جدید شہر بننے جارہا ہے،
کراچی ( آغاخالد) کراچی میڈیا ٹائون (صحافی سوسائٹی) ہاکس بے کے پلاٹس بیچنے والے ہمارے صحافی دوست بہت جلد پچھ تائیں گے اور ان کی اولادیں انہیں کوسیں گی کیوں کہ بہت جلد غیر ملکی سرمایہ کاری اس علاقہ میں آنے والی ہے جس کے لیے عملی کام کا آغاز ہو چکا ہے۔
ماضی کے شان دار پک نک پوائنٹ پیرا ڈائز پوائنٹ سے متصل تعمیرات اور زمین ہموار کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے جہاں سعودیہ اور قطر کی حکومتوں کی جانب سے پٹرول ڈیزل اور دیگر معدنیات کو ذخیرہ کرنے والے دیو ہیکل ٹینک بنیں گے جس سے دنیا بھر میں سپلائی ہوگی اس کے علاوہ کلبس، رہائشی ٹاورز، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز بنیں گے ۔
اس طرح یہاں ایک نیا شہر سطح زمین پر بننے جارہاہے جس کے لیے ایک اہم ملکی شخصیت نے اس علاقہ میں 2000 ہزار ایکڑ زمین الاٹ کروائی ہے جبکہ دیگر سرمایہ دار بھی اس علاقہ میں زمینوں کی خریداری میں دل چسپی لے رہے ہیں یوں یہ علاقہ کراچی کا سب سے پوش ایریا بننے جا رہا ہے ۔
قبل ازیں بحریہ ٹائون کے مالک ملک ریاض بھی اس علاقہ کی ترقی میں دل چسپی لے رہے تھے مگر بہ وجوہ ان کا زوال ہوگیا جس سے ان کی خریدیں گئی زمینیں بحق سرکار ضبط ہوگئیں کہا جارہاہے کہ بہت جلد صحافی سوسائٹی کے پلاٹ کی قیمت 2 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی اس لیے خدارا ممبران سے گزارش ہے کہ وہ بلا وجہ مایوس ہوکر اپنے پلاٹس فروخت نہ کریں۔