Talash Digital

Talash Digital Har khabar ki Talash

11/06/2026
09/06/2026

عامر لیاقت کی غیر طبعی موت پر لکھا کالم آج اس کی ساتویں برسی پر فیس بک نے یاد دلادیا؟

عامر لیاقت کی موت، قتل یاطبعی؟؟؟
انکشافات سے بھرپور رپورٹ...

کراچی (تحریر*آغا خالد)
عامر لیاقت اس خطے کی روح نہ تھے تبھی وہ اس ذہنی پس ماندہ معاشرہ میں سمانہ سکے کمال تو تقدیر نے ان سے یہ کیاکہ زندہ رہے تو پل پل متنازعہ اور موت بھی معمہ بن گئی ان سے دوستی نہ تھی بس ایک احترام کارشتہ تھا جس میں سامنا ہونے پر وہ اتنی عزت دیتا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی دل کے کسی کونے میں اس کے نام کی تختی لگ جاتی 1994 میں روزنامہ پبلک کامیں پولیٹیکل رپورٹر تھا تو عامر لیاقت سے پہلی ملاقات ہوئی وہ اپنا کالم چھپوانا چاہتا تھا مینے اس کی مدد کی میں تازہ تازہ سکھر سے کراچی منتقل ہواتھا اس لئے ایم کیو ایم سے ہمدردی قدرتی تھی پھر پبلک کی پالیسی کا جھکائو ایم کیو ایم کی طرف بہت واضع تھا اور ان دنوں ایم کیو ایم ریاستی وحشت کے شدید دبائو میں تھی 1992 کا بدترین آپریشن انتقامی دہشت میں بدل چکاتھا اور عامر لیاقت اس :ظلمت کدہ: کراچی کی تصویر دنیا کو دکھانا چاہتا تھا وہ مضمون چھپا تو اس کی خوشی دیدنی تھی بعد میں ایم کیو ایم کی بدلتی پالیسیوں اور تمام قومیتوں سے لڑاکر مہاجروں کو بند گلی میں لاکھڑا کرنے پر میں ذاتی طور پر ایم کیو ایم سے متنفر ہوگیا اور راستہ بدل کر روزنامہ امت کے قافلہ میں شامل ہوگیا کیونکہ ایم کیو ایم کی قیادت نے دیگر سیاسی جماعتوں کو اور خاص طور پر ان سے سیاسی اختلاف کرکے الگ ہونے والے دھڑے (جسے بعد ازاں ایم کیو ایم حقیقی کا نام دیاگیا) کو دشمن قرار دے کر مہاجر سیاست کے نام پر مہاجر نوجوانوں کے ہاتھوں مہاجروں ہی کو قتل کروانا شروع کردیا تھا یہاں تک کہ سیاسی مخالفت پر مہاجر نوجوانوں کو غدار قرار دینے اور بوری بند لاشوں کا بدترین کلچر متعارف کروایا اور اس راہ پر وہ اتنا آگے نکل گئی کہ ایک وقت وہ بھی آیا جب قاتل بھی مہاجر اور مقتول بھی مہاجر ٹہرا 1995 میں یہ وہ وقت تھا جب میں ایم کیو ایم کی سیاست سے مایوس ہوکر قلم کی حد تک اس کے مخالفین کی صف اول کاسپاہی بن گیا جب مینے قافلہ امت میں شمولیت کا فیصلہ کیاتو عامر لیاقت سمیت اس وقت کے سبھی مہاجر سیاستداں اور صحافی ناراض ہوگئے بلکہ بعض کے رویہ سے تو ان دنوں باقاعدہ نفرت کی بھی بو آئی امت میں شمولیت کی تو پہلے ہی روز ہمارے پرانے ساتھی رپورٹر شاہد مصطفی ایک دوست صحافی کے ساتھ ملنے آئے ملاقات تو محض بہانہ تھا انہوں نے مجھے ڈاکٹر فاروق ستار کا پیغام پہنچایا کہ، ادارہ امت نہ جائیں، کے ایم سی میں 17 گریڈ کے پبلک ریلیشنز آفیسر کا لیٹر ان کا منتظرہے وہ جاکر سرکاری ملازمت جوائین کرے، ڈاکٹر صاحب کی اس محبت پر میں حیران رہ گیا مگر میراجواب تھا کہ میں پیشہ ور صحافی ہوں آج امت تو کل امن میں نوکری کرسکتاہوں ڈاکٹر فاروق ستار اس زمانہ میں سندھ کابینہ میں سینیر صوبائی وزیر بلدیات تھے ان سے میرے بہت ہی قریبی اور برادرانہ تعلقات تھے ان کی محبت اور اعتماد پر میں آج بھی ان کاشکر گزار ہوں جب انہوں نے سینیر صوبائی وزیر بلدیات کا حلف اٹھایا تو اس کے چند روز بعد انہوں نے مجھے اپنے کیمپ آفس بلایا جو کہ پی آئی ڈی سی پل کے دوسری طرف کے ایم سی کے ریسٹ ہائوس میں قائم کیا گیا تھا یہ ریسٹ ہائوس بعد ازاں کراچی پریس کلب کی ملکیت کے عوض پریس کلب کی عمارت کے مالک کو دیدیا گیاتھا، ڈاکٹر فاروق ستار کا یہ کراچی کی صحافی برادری پر اتنا بڑا احساں ہے جسے وہ کبھی چکا نہ سکیں گے، میں جب ڈاکٹر صاحب سے ملا تو انہوں نے مجھ سے کہاکہ قدوس بھائی (اب مرحوم اور سابق رکن سندھ اسمبلی) کا اصرار ہے کہ آزمائش کی گھڑی میں جن صحافیوں نے اسٹبلشمنٹ کے شدید دبائو کے باوجود ثابت قدم رہ کر ساتھ دیا انہیں کے ڈی اے کی کسی اسکیم میں پلاٹ دیئے جائیں تو انہوں نے مجھے یہ ذمہ داری سونپنا چاہی کہ میں ایسے ہمدرد صحافیوں کی فہرست مرتب کروں مینے اس ذمہ داری سے معذرت کرلی میں کوئی بڑا ایماندار یامصلح نہ تھا مگر ایسے عمل کا حصہ بن کر بدنام بھی نہیں ہونا چاہتا تھا، قبل ازیں جب وہ اور متحدہ کی ساری سینیر قیادت جیل میں تھی اور وہ جیل سے عدالت پیشی پر لائے جاتے تو ڈاکٹر صاحب جیل کے حالات اور ان کے ساتھ بہیمانہ حکومتی رویہ پر لکھے خفیہ نوٹ مجھے پولیس والوں کی نظر سے بچاکر تھمادیتے وہ میں خبر کی شکل میں فائل کرتا تو اگلے روز کی وہ پبلک کی دھماکہ دار اسٹوری ہوتی اس وقت روزنامہ پبلک کی سرکولیشن جنگ سے بھی زائد تھی جو اس وقت کے محطاط اندازوں کے مطابق ڈیڑھ لاکھ سے اوپر جارہی تھی اور دن بھر میں اس کے 5 ایڈیشن نکلتے تھے جبکہ چھٹا ایڈیشن پبلک ایوننگ کے نام سے شام 4 بجے مارکیٹ میں آتاتھا اور ہاتھوں ہاتھ بک جاتا پبلک کے مالک انتہائی شریف النفس صحافی انقلاب ماتری اور ایڈیٹر ملک کے مایہ ناز صحافی انور سن رائے تھے جبکہ نذیر لغاری نیوز ایڈیٹر اور فاضل جمیلی ڈیسک انچارج تھے بعد میں انور سن رائے نے نذیر لغاری کو پبلک ایوننگ کا ایڈیٹر اور فاضل جمیلی کو نیوز ایڈیٹر بنادیا تھا اور سجاد عباسی پبلک کے ڈیسک انچارج ہوگئے تھے اور ان کی ٹیم میں سراج احمد قمرالزماں سمیت کئی ایسے قابل صحافی تھے جو آج مختلف اداروں میں اہم عہدوں پر تعینات ہیں، بات بہت دور نکل گئی ذکر ہورہا تھا عامر لیاقت کا ان سے پھر گاہے گاہے ملاقات ہوتی رہی دو مختلف نظریاتی انتہائوں پر ہونے کے باوجود احترام کے رشتہ میں کوئی کمی نہ آئی ان کی اصل شناخت روزنامہ پرچم سے ہوئی جس کے لئے وہ کبھی کبھار رابطہ کرتے اور مجھ سے جو بنتا مدد کردیتا تھا 2010 کے بعد جنگ/جیو گروپ میں آئی ٹی کے ماہر عامر حسین سے ان کا رابطہ ہوا جو میرے قریبی دوستوں میں سے ہیں عامر لیاقت کے جیو میں آنے کے بعد یہی عامر حسین ان کی ٹیم کے انچارج بنے اور میری صحافت کے ابتدائی دنوں کے استاد سید وجاہت علی (صورت والے) کے بیٹے کامران وجاہت ان کے پی آر او بنے عامر لیاقت انتہائی ذہین شخصیت کے مالک تھے انہوں نے تحریر، تقریر،کالم نویسی، ٹی وی پر میزبانی، مذہبی پروگرامز، کسوٹی، نیلام گھر، تانیث، تبلیغ، تجارت الغرض ہر شعبہ میں طبع آزمائی کی اور اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے جہاں گئے جس دشت میں اترے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کردئیے میں ذاتی طور پر انہیں زیادہ پسند نہیں کرتاتھا اور کبھی قربت کی نہ خواہش ہوئی نہ کوشش مگر آج جو بھی ان کی تعریف میں لکھ رہاہوں یہ ان کی صلاحیتوں کا وہ کمال ہے جس نے مجھے ان کی بے پناہ کامیابیوں ناکامیوں عروج و زوال پر لکھنے پر مجبور کردیا ان کی ناگہانی موت نے مجھے بھی دکھی کردیاتھا اور تب سے میں نے ان کی موت کے اصل اسباب، وجوہ اور طبعی یاغیر طبعی موت پر تحقیق شروع کردی تھی، میرے نزدیک عامر لیاقت کی موت ذہانت و قابلیت کی موت تھی اور اس میں بہت سبق تھے جو آنے والی نسل کے لئے مشعل راہ ہوسکتے ہیں اس لئے مینے ایک سال اس کیس کے تفتیشی افسروں، وکلاء، دوستوں، دشمنوں، ساتھیوں اور ملازموں کو خوب کریدا اور جو حاصل ہوا وہ بہت عبرت ناک ہے اس کی زندگی کے وہ آخری چند گھنٹے جب وہ معاشرہ کی بے حسی پر آنسو بہاتا رہا اپنے بچوں سے بات کرنے کو تڑپتا رہا اپنے کمرہ کا دروازہ اندر سے بند کرکے اس نے دنیاء سے رشتہ توڑلیا کبھی وہ زور زور سے رونے لگتا اور کبھی قریبی دوستوں سے گلے شکوے کرتا اور پھر وہ جو ہمیشہ اپنے ہونے کا لوہا منواتا تھا وہ آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی-
(اس کی موت کے اصل اسباب کی تفصیل اگلی قسط میں)

https://www.facebook.com/share/p/14k6tKV6U5m/?mibextid=wwXIfr
09/06/2026

https://www.facebook.com/share/p/14k6tKV6U5m/?mibextid=wwXIfr

ہاکس بے میڈیا ٹاؤن کا روشن مستقبل

"کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا۔۔"

سینئر صحافی آغا خالد نے میڈیا ٹاؤن ہاکس بے کراچی کے "روشن اور تابناک مستقبل" کے حوالے سے ایک خوش کن نقشہ کھینچا ہے، جس کے مطابق یہاں مستقبل قریب میں بہت بڑی غیر ملکی انویسٹمنٹ ہونے والی ہے جس کے نتیجے میں پلاٹس کی قیمتیں کروڑوں میں چلی جائیں گی۔۔اور اپنے پلاٹ فروخت کرنے والے کراچی پریس کلب کے ارکان اپنے کئے پر پچھتائیں گے۔۔۔انہوں نے اپنے ساتھیوں سے درد مندانہ التجا کی ہے کہ وہ مزید پلاٹ فروخت نہ کریں اور اس سوسائٹی کو اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت سمجھیں۔۔۔

خدا کرے ایسا ہی ہو، اب تک کے زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ 30 برس پہلے 1996 میں الاٹ ہونے والی یہ سوسائٹی کسی بے آب و گیاہ صحرا اور کھنڈر کا امتزاج معلوم ہوتی ہے۔۔ یہاں ہمت کر کے تعمیرات کرنے اور اپنے خاندانوں کو بسانے والے چند صحافی خود کو چاند سے آگے کے کسی سیارے کی مخلوق تصور کرتے ہیں، جہاں بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہیں۔۔ ہمت کر کے سولر سسٹم لگایا گیا تو چور پولز سمیت لے اڑے۔

سرکاری قیمت پر ملنے والا پانی کا ٹینکر یہاں کے نصف درجن مکینوں کو نعمت غیر مترکبہ معلوم ہوتا ہے۔۔
آئے دن چوری کی وارداتیں عام ہیں۔۔ چند برس پہلے کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا واحد پارک بھی کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے۔

تفصیلات اور بھی بہت ساری ہیں مگر فی الوقت آپ آغا خالد کی تحریر پڑھیں جو مایوسی کے گھپ اندھیرے میں امید کا دیا روشن کرتی دکھائی دیتی ہے۔

ہاکس بے صحافی سوسائٹی کے پلاٹس بیچنے والے ممبران پچھتائیں گے؟
نئی غیر ملکی سرمایہ کاری سے اس علاقہ میں جدید شہر بننے جارہا ہے،

کراچی ( آغاخالد) کراچی میڈیا ٹائون (صحافی سوسائٹی) ہاکس بے کے پلاٹس بیچنے والے ہمارے صحافی دوست بہت جلد پچھ تائیں گے اور ان کی اولادیں انہیں کوسیں گی کیوں کہ بہت جلد غیر ملکی سرمایہ کاری اس علاقہ میں آنے والی ہے جس کے لیے عملی کام کا آغاز ہو چکا ہے۔

ماضی کے شان دار پک نک پوائنٹ پیرا ڈائز پوائنٹ سے متصل تعمیرات اور زمین ہموار کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے جہاں سعودیہ اور قطر کی حکومتوں کی جانب سے پٹرول ڈیزل اور دیگر معدنیات کو ذخیرہ کرنے والے دیو ہیکل ٹینک بنیں گے جس سے دنیا بھر میں سپلائی ہوگی اس کے علاوہ کلبس، رہائشی ٹاورز، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز بنیں گے ۔

اس طرح یہاں ایک نیا شہر سطح زمین پر بننے جارہاہے جس کے لیے ایک اہم ملکی شخصیت نے اس علاقہ میں 2000 ہزار ایکڑ زمین الاٹ کروائی ہے جبکہ دیگر سرمایہ دار بھی اس علاقہ میں زمینوں کی خریداری میں دل چسپی لے رہے ہیں یوں یہ علاقہ کراچی کا سب سے پوش ایریا بننے جا رہا ہے ۔

قبل ازیں بحریہ ٹائون کے مالک ملک ریاض بھی اس علاقہ کی ترقی میں دل چسپی لے رہے تھے مگر بہ وجوہ ان کا زوال ہوگیا جس سے ان کی خریدیں گئی زمینیں بحق سرکار ضبط ہوگئیں کہا جارہاہے کہ بہت جلد صحافی سوسائٹی کے پلاٹ کی قیمت 2 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی اس لیے خدارا ممبران سے گزارش ہے کہ وہ بلا وجہ مایوس ہوکر اپنے پلاٹس فروخت نہ کریں۔

09/06/2026

ہاکس بے صحافی سوسائٹی کے پلاٹس بیچنے والے ممبران پچھتائیں گے؟
نئی غیر ملکی سرمایہ کاری سے اس علاقہ میں جدید شہر بننے جارہا ہے،

کراچی (آغاخالد)
کراچی میڈیا ٹائون (صحافی سوسائٹی) ہاکس بے کے پلاٹس بیچنے والے ہمارے صحافی دوست بہت جلد پچھ تائیں گے اور ان کی اولادیں انہیں کوسیں گی کیوں کہ بہت جلد غیر ملکی سرمایہ کاری اس علاقہ میں آنے والی ہے جس کے لیے عملی کام کا آغاز ہو چکاہے ماضی کے شان دار پک نک پوائنٹ پیرا ڈائز پوائنٹ سے متصل تعمیرات اور زمین ہموار کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے جہاں سعودیہ اور قطر کی حکومتوں کی جانب سے پٹرول ڈیزل اور دیگر معدنیات کو ذخیرہ کرنے والے دیو ہیکل ٹینک بنیں گے جس سے دنیا بھر میں سپلائی ہوگی اس کے علاوہ کلبس، رہائشی ٹاورز، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز بنیں گے اس طرح یہاں ایک نیا شہر سطح زمین پر بننے جارہاہے جس کے لیے ایک اہم ملکی شخصیت نے اس علاقہ میں 2000 ہزار ایکڑ زمین الاٹ کروائی ہے جبکہ دیگر سرمایہ دار بھی اس علاقہ میں زمینوں کی خریداری میں دل چسپی لے رہے ہیں یوں یہ علاقہ کراچی کا سب سے پوش ایریا بننے جا رہاہے قبل ازیں بحریہ ٹائون کے مالک ملک ریاض بھی اس علاقہ کی ترقی میں دل چسپی لے رہے تھے مگر بہ وجوہ ان کا زوال ہوگیا جس سے ان کی خریدیں گئی زمینیں بحق سرکار ضبط ہوگئیں کہا جارہاہے کہ بہت جلد صحافی سوسائٹی کے پلاٹ کی قیمت 2 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی اس لیے خدارا ممبران سے گزارش ہے کہ وہ بلا وجہ مایوس ہوکر اپنے پلاٹس فروخت نہ کریں۔

سید ناصر شاہ کی روزانہ دو وقت کی کھلی کچھریاں مقبول عام، کراچی کے شہری بھی اب ان کچہریوں میں آنے لگے ہیں، اعتماد کی اس ب...
08/06/2026

سید ناصر شاہ کی روزانہ دو وقت کی کھلی کچھریاں مقبول عام،
کراچی کے شہری بھی اب ان کچہریوں میں آنے لگے ہیں،
اعتماد کی اس بحالی کا سہرا بھی شاہ جی کو جاتا ہے،
ان کی انکساری سے عوام اور افسر شاہی میں یکساں مقبولیت؟،

کراچی (آغاخالد)
سندھ کے صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کابینہ کے سب سے زیادہ ہر دل عزیز وزیر ہیں جن کی مقبولیت اور عوام میں پسندیدگی مثالی ہے اس کی وجہ ان کی عام آدمی سے محبت، انکساری اور ہر سائل کا مسلہ حل کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے اور یہ کوئی آج کی بات نہیں جب وہ سکھر سے صرف رکن اسمبلی تھے یا ضلع سکھر کے چیرمین تھے تب سے ان کی کھلی کچہریاں مقبول عام تھیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ڈیفنس فیز 8 میں ان کے گھر علی ہائوس میں آج بھی بلا ناغہ صبح 10 سے 12 اور رات کو 10 سے 12 بجے کے درمیان عوام کا جم غفیر جمع ہوتاہے بلا تخصیص سب کے مسائل سنتے اور اپنے تیئں حل کروانے کی کوشش کرتے ہیں کمال تو یہ ہے کہ مینے خود متعدد بار وہاں آنے والوں سے معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا سندھ بھر سے لوگ ان کی کچھری میں اپنے مسائل حل کروانے آتے ہیں جب ایسے لوگوں سے پوچھا کہ بھائی آپ کے علاقہ سے رکن اسمبلی تو خود وزیر ہے آپ ان کے پاس کیوں نہیں جاتے تو وہ براسا منہ بناکر بولے سائیں وہ تو دروازہ ہی نہیں کھول تے، ان کچھریوں کی ایک خوش گوار تبدیلی نے بہت متاثر کیا گزشتہ چند ماہ کے دوران یہ بھی دیکھا کہ اب کراچی کے اردو بول نے والے شہریوں کی اچھی خاصی تعداد بھی ان میں شریک ہونے لگی ہے اعتماد کی اس بحالی کو وہ سندھ کے نفرتوں سے بھرے ماحول میں ٹھنڈی ہوا کا مسحور کن جھونکا سمجھ تے ہیں، دوطرفہ اعتماد کی بحالی ہی اس صوبہ اور خاص طور پر کراچی کو مثل جنت نظیر بنا سکتے ہیں سید ناصر شاہ کی عاجزی اور گھر آئے ضرورت مندوں کو عزت دینے کا انداز بھی بہت نرالا ہے ایک ایسے معاشرہ میں جہاں 16 گریڈ کا افسر حاجت مند کے لیے کرسی سے اٹھنا توہیں سمجھ تا ہو وہاں سید زادہ اور انتہائی با رسوخ وزیر ہوتے ہوے اپنی بیٹھک میں موجود ہر ضرورت مند سے اس کی جگہ پر جاکر ملتے اور مسلہ حل کرواتے ہیں یہ نہیں کہ صرف ضروت مندوں کی عزت کرتے ہوں وہ افسر شاہی کو بھی تکریم دیتے ہیں جس کی وجہ سے صوبہ کی افسر شاہی میں وہ نہ صرف مقبول ہیں بلکہ شاہ صاحب کے احکامات پر وہ ترجی حن عمل کرتے ہیں پچھلے دنوں مینے سینیر صوبائی وزیر شرجیل میمن سے سفارش کی کہ کے ایم سی کے میگا پروجیکٹس کے سربراہ طارق مغل کو کہیں کہ فلاں سڑک بہت خستہ ہے اسے ترجیحن بنوا دیں تو انہوں نے کہا میری مغل سے شناسائی نہیں میں سید ناصر حسین شاہ کو کہتا ہوں وہ اسے بول دیں گے یہ ہے سید ناصر شاہ کی دو طرفہ مقبولیت۔

Address

Karachi
74600

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Talash Digital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share