24/01/2026
گُل پلازہ کراچی کا ایک ایسا تجارتی مرکز ہے جہاں ہر وقت لوگوں کا ہجوم اور کاروبار کی گہما گہمی رہتی ہے۔ لیکن جب وہاں آگ لگنے کا واقعہ پیش آتا ہے، تو وہ منظر انتہائی خوفناک اور دل دہلا دینے والا ہوتا ہے۔
آپ کی فرمائش پر گُل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے پر مبنی ایک کہانی اردو زبان میں پیش ہے:
گُل پلازہ کا وہ خوفناک دن
کراچی کی تپتی ہوئی دوپہر تھی اور گُل پلازہ ہمیشہ کی طرح گاہکوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کہیں کپڑوں کے تھان کھل رہے تھے تو کہیں الیکٹرانکس کے سودے ہو رہے تھے۔ اسی چہل پہل کے بیچ، اچانک تیسری منزل کے ایک بند گودام سے سیاہ دھواں اٹھنا شروع ہوا۔
اچانک افرا تفری
پہلے تو لوگوں نے سمجھا کہ شاید کہیں کچرا جلایا جا رہا ہے، لیکن چند ہی منٹوں میں دھواں اتنا گہرا ہو گیا کہ سانس لینا مشکل ہو گیا۔ اچانک عمارت میں ایک ہی شور مچا: "آگ! آگ لگ گئی!"
یہ الفاظ سنتے ہی پوری بلڈنگ میں بھگدڑ مچ گئی۔ لوگ اپنی دکانیں کھلی چھوڑ کر باہر کی طرف بھاگے۔ لفٹ بند ہو چکی تھی اور سیڑھیوں پر لوگوں کا اتنا رش تھا کہ راستہ ملنا مشکل تھا۔ ہر کوئی اپنی جان بچانے کی فکر میں تھا۔
آتش زدگی کی شدت
دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے کپڑوں اور پلاسٹک کے ڈھیروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ فائر بریگیڈ کے پہنچنے تک شعلے کھڑکیوں سے باہر نکلنے لگے۔ پرانی عمارت اور تنگ راستوں کی وجہ سے ریسکیو ورکرز کو اندر داخل ہونے میں سخت دشواری کا سامنا تھا۔
نقصان اور ہمت
دکانداروں کی آنکھوں کے سامنے ان کا سالوں کا سرمایہ راکھ ہو رہا تھا۔ کچھ لوگ اپنی جان پر کھیل کر دوسروں کو عمارت سے نکال رہے تھے۔ جب کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا گیا، تو منظر بہت دل خراش تھا:
سیاہ دیواریں: جو پلازہ کبھی رنگ و نور سے چمک رہا تھا، وہ اب کوئلہ بن چکا تھا۔
مالی نقصان: کروڑوں روپے کا مال جل کر خاک ہو گیا۔
انسانی جذبہ: اس مشکل گھڑی میں بھی کراچی کے لوگوں نے ایک دوسرے کی بھرپور مدد کی۔
عبرت کا سبق
شام ہوتے ہوتے آگ تو ٹھنڈی ہو گئی، لیکن وہ اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گئی۔ کیا ہماری عمارتوں میں ہنگامی نکاس (Fire Exit) کا صحیح انتظام ہے؟ کیا ہم نے بجلی کے نظام کی باقاعدہ جانچ کی ہے؟
گُل پلازہ کی یہ آگ صرف ایک حادثہ نہیں تھی، بلکہ ایک انتباہ تھا کہ اگر ہم نے حفاظتی اقدامات کو سنجیدہ نہ لیا، تو محنت سے بنائے گئے یہ کاروباری مراکز پل بھر میں راکھ کا ڈھیر بن سکتے ہیں۔