Kazmi shah

Kazmi shah Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Kazmi shah, Digital creator, Karachi.

جو بھی القائم (علیہ السلام) سے قبل جھنڈا بلند کرے گا وہ طاغوت (سرکش) تصور کیا جائے گا۔⭐️ شیخ الکلینی452۔ ان سے احمد بن م...
12/04/2026

جو بھی القائم (علیہ السلام) سے قبل جھنڈا بلند کرے گا وہ طاغوت (سرکش) تصور کیا جائے گا۔

⭐️ شیخ الکلینی
452۔ ان سے احمد بن محمد سے الحسین بن سعید سے حماد بن عیسیٰ سے الحسین بن المختار سے ابو بصیر سے روایت ہے کہ:
"ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے فرمایا: 'ہر وہ جھنڈا جو القائم (علیہ السلام) کے قیام سے پہلے بلند کیا جائے تو اس کا صاحب طاغوت ہے جو اللہ عزوجل کے سوا کسی اور کی عبادت (پیروی) کرتا ہے۔'"
شیعہ ماخذ: الکافی جلد 8 حدیث 452

⭐️ شیخ محمد صالح ماژندرانی
اس حدیث کی شرح میں وہ لکھتے ہیں:
"ہر وہ جھنڈا جو قائم (علیہ السلام) کے ظہور سے پہلے بلند کیا جائے—یعنی خواہ (یہ جھنڈا) بلند کیا گیا ہو اور حق کی طرف بلاتا ہو۔"
شیعہ ماخذ: شرح اصول الکافی از الماژندرانی جلد 12 صفحات 410-411

"امام مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظہور تک مسلح بغاوت کی ممانعت۔"

⭐️ شیخ الکلینی
483۔ محمد بن یحییٰ سے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے علی بن الحکم سے ابو ایوب الخزاز سے عمر بن حنظلہ سے روایت ہے جنہوں نے کہا: میں نے ابو عبداللہ (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا:
'القائم (علیہ السلام) کے قیام سے پہلے پانچ نشانیاں ہیں— چیخ (ندائے آسمانی) سفیانی زمین کا دھنسنا نفسِ زکیہ کا قتل اور الیمانی'۔ پس میں نے کہا 'میں آپ پر قربان جاؤں اگر آپ کے اہل بیت میں سے کوئی ان نشانیوں سے پہلے (بغاوت میں) نکلے تو کیا ہم اس کے ساتھ نکلیں (بغاوت کریں)'؟ انہوں نے (علیہ السلام) فرمایا: 'نہیں۔'
جب اگلی صبح ہوئی تو میں نے یہ آیت تلاوت کی: "[26:4] اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے ایسی نشانی نازل کر دیں کہ ان کی گردنیں اس کے سامنے جھک جائیں"۔ میں نے پوچھا 'کیا یہ وہی چیخ ہے'؟ انہوں نے (علیہ السلام) فرمایا: 'اگر ایسا ہوا تو اللہ عزوجل کے دشمنوں کی گردنیں عاجزی سے جھک جائیں گی'۔
شیعہ ماخذ: الکافی جلد 8 حدیث 483

⭐️ شیخ الکلینی
382۔ علی بن ابراہیم سے ان کے والد سے حماد بن عیسیٰ سے ربیع سے ایک متصل سند کے ساتھ روایت ہے:
علی بن الحسین (علیہ السلام) نے فرمایا: 'اللہ کی قسم! ہم (اہل بیت) میں سے القائم (علیہ السلام) کے ظہور سے پہلے جو بھی نکلے گا اس کی مثال اس چوزے جیسی ہوگی جو اپنے گھونسلے سے اس وقت نکلنے کی کوشش کرے جب ابھی اس کے پر نہ بنے ہوں پس چھوٹے لڑکے اسے پکڑ لیتے ہیں اور اس کے ساتھ کھیلتے ہیں'۔
شیعہ ماخذ: الکافی جلد 8 حدیث 382

383۔ ہمارے متعدد اصحاب سے احمد بن محمد سے عثمان بن عیسیٰ سے بکر بن محمد سے سدیر سے روایت ہے جنہوں نے کہا: ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے فرمایا:
'اے سدیر! اپنے گھروں میں بیٹھے رہو اور سکون اختیار کرو اور رات بھر اسی طرح رہو اور جب دن آئے اور سفیانی نکل آئے تو ہماری طرف آنے کے لیے نکل کھڑے ہو خواہ تمہیں اپنے پیروں پر چل کر آنا پڑے'۔
شیعہ ماخذ: الکافی جلد 8 حدیث 383 (مذکورہ متن کے مطابق)

🌀 امام علی (علیہ السلام) کی وصیت سکون اختیار کرنے اور امام مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظہور تک مسلح بغاوت کی ممانعت کے متعلق۔

⭐️ سید الرضی
زمین سے چمٹے رہو آزمائشوں میں صبر کرو اپنی زبانوں کی خواہش کے مطابق اپنے ہاتھوں اور تلواروں کو حرکت نہ دو اور ان معاملات میں جلدی نہ کرو جن میں اللہ نے جلدی کا مطالبہ نہیں کیا کیونکہ تم میں سے جو بھی اپنے بستر پر مرے جبکہ اسے اللہ کے حقوق اور اس کے رسول اور رسول کے اہل خانہ کے حقوق کی معرفت حاصل ہو تو وہ شہید مرے گا۔ اس کا اجر اللہ پر واجب ہے۔ وہ ان نیک اعمال کے بدلے کا بھی مستحق ہے جن کی اس نے نیت کی تھی کیونکہ اس کی نیت اس کی تلوار چلانے کی جگہ لے لیتی ہے۔ یقیناً ہر چیز کے لیے ایک وقت اور ایک حد مقرر ہے۔
شیعہ ماخذ: نہج البلاغہ باب 190 حدیث 8 صفحہ 435

🌀 امام باقر (علیہ السلام): غیبت کے زمانے میں گھر میں رہنا اور زبان کی حفاظت کرنا۔

⭐️ شیخ الصدوق
ہم سے محمد بن حسن بن احمد بن ولید (رض) نے روایت کی کہ انہوں نے کہا ہم سے محمد بن حسن الصفار نے احمد بن ابی عبداللہ برقی سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے مغیرہ سے انہوں نے مفضل بن صالح سے انہوں نے جابر سے انہوں نے ابو جعفر باقر (علیہ السلام) سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:
"لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا جب ان کا امام ان کی نظروں سے غائب ہو جائے گا۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو ایسے وقت میں ہماری ولایت پر ثابت قدم رہیں۔ کم از کم الٰہی ثواب جو انہیں پہنچے گا وہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ انہیں پکارے گا اور فرمائے گا: اے میرے بندوں اور میری کنیزوں تم میرے راز پر ایمان لائے اور میرے غیب کی تصدیق کی۔ تو تمہیں میری طرف سے بھلائی اور انعامات کی بشارت ہو کیونکہ تم واقعی میرے بندے اور میری کنیزیں ہو۔ میں تمہارے اعمال قبول کروں گا تمہاری خطاؤں سے درگزر کروں گا اور تمہارے گناہ معاف کر دوں گا۔ اور تمہاری ہی بدولت میں اپنی مخلوق پر بارش نازل کروں گا اور ان سے بلائیں دور کروں گا۔ اگر تم نہ ہوتے تو میں ان پر اپنا عذاب بھیج دیتا۔" جابر نے پوچھا "اے اللہ کے رسول کے فرزند اس وقت ایک مومن کے لیے سب سے بہتر کام کیا ہے"؟
امام نے جواب دیا "زبان کی حفاظت کرنا اور گھر میں رہنا۔"
شیعہ ماخذ: کمال الدین و تمام النعمۃ کتاب 2 باب 31 (جو امام باقر علیہ السلام نے وقوعِ غیبت کے متعلق خبر دی) حدیث 15

🌀 آخری زمانے کے فتنوں کے دوران گھر میں رہیں اور تنازعات میں حصہ لینے سے گریز کریں۔

⭐️ شیخ الکلینی
412۔ محمد بن یحییٰ سے محمد بن الحسین سے عبدالرحمٰن بن ابو ہاشم سے الفضل الکاتب سے روایت ہے جنہوں نے کہا میں ابو عبداللہ (امام صادق علیہ السلام) کی خدمت میں موجود تھا جب ان کے پاس ابو مسلم کا خط آیا۔ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا:
'تمہارے خط کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ہمارے پاس سے چلے جاؤ'۔ پس ہم میں سے کچھ لوگ دوسروں کو چھوڑ کر چلے گئے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: 'اے فضل تم کس چیز پر (کس راستے پر) چل رہے ہو؟ اللہ بندوں کی جلد بازی کی وجہ سے جلدی نہیں کرتا۔ اور پہاڑ کو اس کی جگہ سے ہٹانا اس حکومت کو گرانے سے زیادہ آسان ہے جس کی مدت ابھی ختم نہیں ہوئی'۔ پھر فرمایا: 'فلاں فلاں کا بیٹا'—یہاں تک کہ آپ (علیہ السلام) فلاں کے بیٹوں میں سے ساتویں تک پہنچ گئے۔ میں نے کہا 'میں آپ پر قربان جاؤں تو ہمارے اور آپ کے درمیان (ظہور کی) کیا نشانیاں ہیں'؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: 'اے فضل زمین ختم نہیں ہوگی جب تک سفیانی نہ نکل آئے۔ پس جب سفیانی نکل آئے تو ہماری طرف (ہماری پکار پر) جواب دو'۔ اور آپ (علیہ السلام) نے یہ تین بار فرمایا: 'اور یہ ناگزیر ہے'۔
شیعہ ماخذ: الکافی جلد 8 حدیث 412 صفحہ 274

التماس دعا 🤲
حسنین رضا

اتباع علی علیہ السلام اور تقلید جہالت اللہ کی رضا اور جنت کے دروازےقال مولانا علی بن الحسین علیهما السلام، قال رسول الله...
17/11/2025

اتباع علی علیہ السلام اور تقلید جہالت
اللہ کی رضا اور جنت کے دروازے

قال مولانا علی بن الحسین علیهما السلام، قال رسول الله صلی الله علیه و آله:

"یا عباد الله، اتبعوا أخی ووصيي علي بن أبي طالب بأمر الله، ولا تكونوا كالذين اتخذوا أرباباً من دون الله تقليداً لجهال آبائهم الكافرین بالله، فإن المقلد دینه ممن لا يعلم دين الله، یبؤ بغضب من الله، ويكون من أسراء إبليس لعین الله.

واعلموا أن الله عز وجل جعل أخي علياً أفضل زينة عترتي، فقال: ومن والاه ووالی أولياءه، وعاد أعداءه، جعلته من أفضل زينة جناني، ومن أشرف أوليائي وخلصائي.

ومن أدمان محبتنا أهل البيت، فتح الله عز وجل له من الجنة ثمانية أبواب، وأباحه جميعها، يدخل مما شاء منها، وكل أبواب الجنان تناديه: يا ولي الله، ألم تدخلني، ألم تخصني من بيننا."

[تفسير الإمام العسكري الشريف]

اے اللہ کے بندو میری بات سنو اور میرے بھائی اور میری وصی علی بن ابی طالب علیہ السلام کی اتباع کرو جو اللہ کے حکم سے مقرر کیے گئے ہیں اور ایسے لوگوں کی مانند نہ ہو جاؤ جو اللہ کے سوا دیگر کو رب بناتے ہیں اپنے نادان اور کافر آباؤ کی تقلید میں

بے شک جو شخص تقلید کرتا ہے اُس کی دین کی پہچان وہی ہے جو دینِ اللہ کو نہیں جانتا وہ اللہ کے غضب کا مستحق ہے اور شیطان کے اسیران میں شمار ہوگا

اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے میرے بھائی علی علیہ السلام کو میری عترت کی بہترین زینت بنایا ہے اور فرمایا ہے

"جس نے اس کی ولایت اختیار کی اور اس کے اولیاء سے دوستی کی اور جو اس کے دشمن ہیں ان سے دشمنی کی میں نے اسے اپنی جنت کی بہترین زینت اور اپنے خالص ولیوں اور مخلص بندوں میں شمار کیا ہے"

اور جو ہماری آلِ بیت کی محبت میں مستقل رہے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت کے آٹھ دروازے کھولے ہیں اور اسے اجازت ہے کہ وہ کسی بھی دروازے سے جیسا چاہے داخل ہو اور ہر دروازہ اسے پکارے گا

"اے ولیِ اللہ کیا تم نے مجھے داخل نہیں کیا کیا تم نے مجھے اپنی خاص محبت میں نہیں شامل کیا"

یا علی ع مدد

التماس دعا
حسنین رضا


غیبت کبریٰ میں ظہور قبل کے پرچم اٹھانے اور جھوٹے دعویداروں کی ممانعتظہور سے قبل باطل پرچم اٹھانے والوں کی مذمت​غیبت کبری...
05/11/2025

غیبت کبریٰ میں ظہور قبل کے پرچم اٹھانے اور جھوٹے دعویداروں کی ممانعت

ظہور سے قبل باطل پرچم اٹھانے والوں کی مذمت
​غیبت کبریٰ کے زمانے میں قائم آل محمد عج کے ظہور سے قبل کسی بھی پرچم طاقت حکومت یا تحریک کو اٹھانے کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔
​حدیث (72/11)

ہر جھنڈا طاغوت کا ہے
​حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد:
"ہر وہ پرچم جھنڈا جو قائم علیہ السلام کے قیام سے قبل اٹھایا جائے اس کا اٹھانے والا طاغوت ہے۔"
​کتاب اور حوالہ جات:
​الکتاب: الغيبة للنعماني
​المؤلف: محمد بن إبراهيم بن جعفر النعماني رح
​صفحہ نمبر: 202
​حدیث نمبر ترتیب کتاب: 72/11
​متعلقہ مراجع: بحار الأنوار ج 5 ص 135 ح 13 | وسائل الشيعة ج 1
5 ص 113

​. غیبت میں جھوٹے دعویداروں سے خبردار
​آئمہ معصومین ع نے خبردار کیا کہ غیبت کے دور میں تین قسم کے لوگ گمراہی کا سبب بنیں گے اور ان کی پیروی سے بچنا لازم ہے۔
​امام صادقؑ کا فرمان خلاصہ صفحہ 204 سے: گمراہ کرنے والے
​حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ غیبت کے مقام پر تین قسم کے لوگ پیدا ہوں گے:
​جو امام ہونے کا جھوٹا دعویٰ کریں گے۔
​جو امام حق کا انکار کریں گے۔
​جو امامت کے مرتبہ والوں کو قبول کرنے کی دعوت دیں گے حالانکہ وہ خود امام نہیں ہیں۔
​آپ نے فرمایا کہ ان دونوں قسم کے لوگوں کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں اور یہ لوگ کافر اور مشرک ہوں گے۔

​کتاب اور حوالہ جات:
​الکتاب: الغيبة للنعماني
​المؤلف: محمد بن إبراهيم بن جعفر النعماني رح
​صفحہ نمبر: 204


مولانا خامنہ ای صاحب اپنی کتاب توضیح المسائل میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ وہ ولی امر المسلمین ہیں اور اسی حیثیت سے جہاد کا حکم دے سکتے ہیں۔ تاہم، اصل معاملہ یہ ہے کہ امامِ زمانہ قائمِ آلِ محمد ص کی غیبت میں کسی کو جہاد کا حق حاصل نہیں ہے۔

معصومین ص کے فرامین اس سلسلے میں نہایت واضح ہیں: جو شخص ظہور سے پہلے کسی جھنڈے کے تحت جنگ کا اعلان کرے، وہ طاغوت کہلائے گا۔ طاغوت کا مفہوم وہی ہے جو حق کو جان کر اپنے مقاصد کے لیے خدائی احکام کو بدل دے اور حق پر پردہ ڈالے۔ اسی طرح، جو لوگ خود کو القاباتِ معصومین ص سے ممتاز کرتے ہیں، وہ بھی ظالم اور وقت کے طاغوت کے زمرے میں آتے ہیں۔

ان کے باوجود بعض لوگ اندھی تقلید میں اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ میں نے یہ دلائل معصومین ع کے فرامین کی روشنی میں پیش کیے ہیں تاکہ خامنہ ای کے اس فتویٰ کی بنیاد اور حقانیت کے سلسلے میں وضاحت حاصل ہو۔

اجتہاد شیعہ محدثین کے نظر سے اجتہاد اور نص صریح کی اتباع> وہ لوگ تم سے کہتے ہیں کہ فلاں فلاں نے درجۂ اجتہاد پہنچا ہے، او...
29/10/2025

اجتہاد
شیعہ محدثین کے نظر سے اجتہاد اور نص صریح کی اتباع

> وہ لوگ تم سے کہتے ہیں کہ فلاں فلاں نے درجۂ اجتہاد پہنچا ہے، اور اگر تم انہیں یہ کہو کہ رسولِ اللہ ص اور اہلِ بیتِ ع کی نص صریح پر عمل کرو تو بولیں گے کہ کیا تم مجتہد ہو؟

> حالانکہ اجتہاد رسولِ اللہ ص اور اہلِ بیتِ ع کے دین کا جزو نہیں ہے، اور سابقہ شیعہ محدثین و فقہاء اس بات پر تھے کہ مجتہد کی مرتبت کا دعویٰ درست نہیں، کیونکہ فقیہ اور مرجع کا کام صرف روایت کو نصّ کے ساتھ نقل کرنا ہے، رائے جاری کرنا نہیں۔
انہوں نے دین بدل دیا ہے، یہاں تک کہ اب وہ ان لوگوں کو قبول نہیں کرتے جو رسولِ اللہ ص اور اہلِ بیتِ ع کی نص کو منتقل کرتے ہیں، بلکہ قبول ہے صرف ان لوگوں کو جنہیں وہ “مجتہد” کہتے ہیں۔
۔
۔اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اصل شیعہ اصول کے مطابق فقیہ یا مرجع کا کام محض رسولِ اللہ ص اور اہلِ بیت ع کی نصوص کی درست نقل کرنا ہے، اپنی رائے یا اجتہاد قائم کرنا نہیں۔ اجتہاد اور مرجعیت کی موجودہ روایت نے دین کو بدل دیا ہے، کیونکہ اب صرف وہ لوگ قابل قبول ہیں جنہیں “مجتہد” کہا جائے، جبکہ سچے مکتب نقطہ نظر کے مطابق روایت منتقل کرنے والا ہی قابل اعتماد ہے۔

الرد 28  عنوان: احادیث کی حقیقت اور اجتہاد کے باطل بنیادوں کی وضاحتیہ تحقیق نہایت اہم ہے جو ہمیں ایک بنیادی مسئلے تک لے ...
19/10/2025

الرد 28



عنوان: احادیث کی حقیقت اور اجتہاد کے باطل بنیادوں کی وضاحت

یہ تحقیق نہایت اہم ہے جو ہمیں ایک بنیادی مسئلے تک لے جاتی ہے اور وہ ہے احادیث کا مسئلہ
یعنی حضرت عمر کے پیروکاروں کے فرقے میں احادیث کی قلت بلکہ ان کی احادیث کی بنیاد ہی باطل ہے اور ہماری احادیث صحیح و ثابت ہیں
ہماری احادیث صحیح ہیں کیونکہ اجتہاد کی دو بنیادیں ہیں

پہلا رکن یہ ہے کہ وہ لوگ اجتہاد اس وقت کرتے ہیں جب وہ خدا کے حکم کو نہیں جانتے
یعنی مسئلہ قرآن میں موجود نہیں ہوتا اور نہ ہی قرآن کے ظاہر میں اس کی کوئی نشاندہی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی سنت یا حدیث اس پر دلالت کرتی ہے
تو پھر وہ کیا کرتے ہیں اپنے علماء کی جیب سے باتیں نکالتے ہیں اپنی آراء سے فیصلے کرتے ہیں

اور دوسرا رکن یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور ہم اہل تشیع ان دونوں باتوں سے بری ہیں
پہلے تو ہمارے پاس بہت زیادہ احادیث ہیں اور وہ صحیح ہیں
اور اگر ہمارے پاس کوئی ایسا واقعہ پیش آئے جس پر کوئی صریح نص نہ ہو تو ہمارے ائمہ اطہار ع نے ہمیں بتایا ہے کہ ایسے مواقع پر ہمیں کیا کرنا چاہیے اور وہ ان شاء اللہ بعد میں بیان کیا جائے گا

ہمیں رسول خدا ص سے اپنی خواہشات کی خاطر مخالفت کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہم جان بوجھ کر ان کی مخالفت کرتے ہیں
ہم ان دونوں چیزوں سے بری ہیں

یہی بات ہمیں ایک اہم تحقیق تک لے آئی ہے اور وہ ہے احادیث کا موضوع
یہ بہت اہم تحقیق ہے کیونکہ یہ تحقیق ہماری احادیث کی صحت اور ان کی احادیث کے بطلان کے بارے میں ہے
یہ نہایت اہم مسئلہ ہے کیونکہ حضرت عمر کے پیروکاروں کی روایات جب تک وہ اہل بیت ع کے کلام کے موافق نہ ہوں ان کی کوئی حیثیت نہیں
اور ہماری روایات جیسے کتب اربعہ یعنی چار بنیادی شیعہ کتب بصائر الدرجات کتاب سلیم بن قیس ہلالی کتاب المحاسن وغیرہ سب صحیح ہیں سب معتبر ہیں

ہم یہ نہیں کہتے کہ شیعہ کی ہر روایت صحیح ہے نہیں ہم ایسا نہیں کہتے
لیکن جو کتابیں معتبر و معتمد ہیں ان کی تمام روایات صحیح ہیں
یعنی شرعاً حجت ہونے کے معنی میں نہیں بلکہ قطعی الصدور ہونے کے معنی میں
یہ بہت اہم نکتہ ہے

بعض اوقات حوزہ کے طلبہ اور علماء اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ ہم کہتے ہیں کہ پورا الکافی صحیح ہے پورا بصائر الدرجات صحیح ہے
ہم کہتے ہیں کہ یہ تمہاری کم فہمی اور جاہل مراجع کی اندھی تقلید کا نتیجہ ہے
ان شاء اللہ یہ تحقیق تفصیل سے پیش کی جائے گی
اور تب تمہیں معلوم ہوگا کہ معجم رجال الحدیث کے مصنف نے کتنی عجیب غلطیاں کی ہیں
ان باتوں کو جو شیخ حر عاملی رح اور میرزا نوری رح جیسے علماء نے واضح طور پر بارہا ثابت کی ہیں
اس شخص نے سمجھا ہی نہیں بلکہ ان کی بنیاد ہی الٹ دی

اس نے دراصل شیعہ دین کے اکثر حصے کو باطل کر دیا
اگر تم لوگ سستانی کے موقف کو دیکھو تو وہ نوے فیصد شیعہ احادیث کو باطل قرار دیتا ہے
اور اس کے نتیجے میں امامت سے متعلق بہت سی احادیث بھی باطل ہو جاتی ہیں

اور یہی کمال حیدری جو ملعو/ن اور ناپاک ہے اس نے کہا کہ امام مہدی ع کی ولادت سے متعلق روایات ثابت نہیں
جب اس سے یہ سوال کیا گیا تو سستانی کو چاہیے تھا کہ وہ اس کا جواب دیتا
مگر سستانی جواب دینے سے قاصر ہے کیونکہ حیدری کا موقف دراصل سستانی کے موقف کے مطابق ہے

یہ سب لوگ ایسے موقف رکھتے ہیں جو شیعہ مذہب کے زیادہ تر بنیادی عقائد کے بطلان تک پہنچتا ہے
اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک مذہب اہل بیت ع کے اقوال کے علاوہ کچھ نہیں
اگر تمہارے پاس دوسرے امام ہیں تو ان کی پیروی کرو
لیکن ہمارے امام بارہ ہیں جن پر سلام ہو اور یہی اللہ کی طرف سے حجت ہیں
یہی دین ان کا کلام ہے

اگر تم نوے یا پچانوے فیصد احادیث کو باطل قرار دیتے ہو تو شیعہ مذہب کے خلاف اس سے بڑی خیانت اور کیا ہو سکتی ہے

یہ صرف کمال حیدری کی بات نہیں بلکہ قم اور نجف کے اکثر مراجع کا یہی حال ہے
ان سب کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ احادیث میں گہرائی نہیں رکھتے
انہیں علم حدیث کی کتابوں کی معرفت نہیں
بلکہ وہ اپنی سمجھ حضرت عمر کے پیروکاروں کے اصول فقہ اور درایۃ الحدیث سے لیتے ہیں
اور انہی اصولوں کو ہماری احادیث پر لاگو کرتے ہیں
جس کے نتیجے میں یہ بطلان پیدا ہوتا ہے

اب اہم ترین بات یہ ہے کہ حدیث کے تدوین کی تاریخ شیعہ اور حضرت عمر کے فرقے کے درمیان بالکل مختلف ہے
شیعہ کے ہاں حدیث کی تدوین ایک علمی اور متواتر طریقے سے ہوئی ہے
یعنی اخبار الکافی وغیرہ متواتر ہیں آحاد نہیں

یہ ان کی جہالت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ الکافی یا من لا یحضره الفقیہ کی روایات اخبار آحاد ہیں
وہ نہیں سمجھتے کہ آحاد حدیث تو بخاری اور مسلم کی ہے
اور ان شاء اللہ اس کی تفصیل آنے والی تحریروں میں بیان کی جائے گی

ہم نے یہ تحقیق دو سال پہلے فارسی نشریات میں پیش کی تھی
تو قم کے علماء ان باتوں پر حیران رہ گئے جو ہم نے ان کے سامنے پیش کیں
وہ تعجب میں تھے
ان شاء اللہ ہم یہ مطالب بھی تمہارے سامنے پیش کریں گے

یہ مباحث بہت اہم ہیں
آج کل کے مجہتد فلسفی لوگ ہیں جو خدا کے دین کی پیروی نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں
سبحان اللہ وہ دین میں کتنی خیانتیں کر رہے ہیں

ان مطالب کی تفصیل ان شاء اللہ آئندہ تحریروں میں پیش کی جائے گی
لہٰذا ان اہم دروس کو مت چھوڑنا کیونکہ ان کے بہت سے فوائد ہیں
(1)
سب سے پہلے ہم بات کریں گے حضرت عمر کے فرقے میں حدیث کی تاریخ پر
(2)
پھر ہماری احادیث کی صحت پر
(3)
اور آخر میں ہمارے ہاں حدیث کے تدوین کے تاریخی تسلسل پر

ان شاء اللہ خداوند تبارک و تعالیٰ کے اذن سے

اللّٰہم صل علی محمد وآل محمد وعجل فرجهم

الرد 27

https://www.facebook.com/groups/482021672471130/permalink/1699892670684018/

التماس دعا
حسنین رضا

الرد 27  عنوان: باطل اجتہاد کا دوسرا ستون نص کو جان بوجھ کر اپنی خواہشات کے مطابق بدلنادوسرا رکن یہ ہے کہ وہ نص یعنی الل...
19/10/2025

الرد 27



عنوان: باطل اجتہاد کا دوسرا ستون نص کو جان بوجھ کر اپنی خواہشات کے مطابق بدلنا

دوسرا رکن یہ ہے کہ وہ نص یعنی اللہ اور رسول ص کے واضح حکم کو جانتے تھے مگر اپنی خواہشات کی خاطر اس کی مخالفت کرتے تھے

یہ روایت الفروع من الکافی سے ہے جو ہمارے شیخ الکلینی رح کی تالیف ہے اللہ ان کی پاکیزہ روح کو بلند مقام عطا فرمائے اور ان پر اپنی وسیع رحمت نازل کرے
یہ روایت الروضہ میں ہے جلد نمبر آٹھ دار الکتب الاسلامیہ

اس کتاب میں سید المسلمین یعسوب الدین قائد الغر المحجلین امیر المؤمنین ع سے ایک طویل حدیث ہے جو سلیم بن قیس ہلالی سے مروی ہے صفحہ 58 پر

> “پھر آپ نے اپنا چہرہ پھیر کر اپنے اہل بیت خاص اصحاب اور شیعوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا بے شک مجھ سے پہلے حکمرانوں نے کچھ ایسے اعمال کیے جن میں وہ رسول اللہ ص کی مخالفت کرتے تھے اور جان بوجھ کر ان کی مخالفت کرتے تھے”

وہ جان بوجھ کر رسول ص کی مخالفت کرتے تھے عمداً رسول ص کی مخالفت کرتے تھے اور انہوں نے اس کا نام اجتہاد رکھ لیا حالانکہ رسول ص نے انہیں اس سے منع کیا تھا اور یہ ممانعت موجود ہے

میں نے تمہیں ماہ رمضان میں دکھایا کہ وہ نوافل شب کو رمضان میں جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں میں نے انہیں اس سے روکا مگر حضرت عمر نے رسول ص کی مخالفت جان بوجھ کر کی اور انہیں اس کام کا حکم دیا اور کہا یہ بدعت ہے اور کیا ہی اچھی بدعت ہے اور اس کا نام تراویح رکھا

رسول ص نے حج کے دوران تمتع یعنی حج قران و عمرہ کا حکم دیا تھا اور عورتوں کے ساتھ تمتع یعنی نکاح متعہ کا بھی مگر حضرت عمر نے دونوں چیزوں کو حرام قرار دیا
یہ بہت سی باتیں ہیں جن میں انہوں نے رسول ص کی مخالفت کی وضو کے معاملے میں اذان کے معاملے میں نمازوں کے طریقے میں ہر چیز بدل ڈالی اپنی خواہشات کے مطابق وہ رسول ص کی مخالفت چاہتے تھے وہ آل محمد ع کی مخالفت چاہتے تھے اور ان تمام کاموں کو اجتہاد کہتے تھے

یہ ہے اجتہاد کا دوسرا رکن
حضرت عائشہ نے امیر المؤمنین ع کی مخالفت کی ان سے جنگ کی مکہ سے بصرہ تک ایک بڑا لشکر لے کر آئیں جس میں ہزاروں انسان قتل ہوئے اور کہا گیا کہ اس نے اجتہاد کیا اور خطا کی

حضرت عائشہ نے امیر المؤمنین ع کی مخالفت کی ان سے نفرت کی وہ امیر المؤمنین ع سے بغض رکھتی تھی نہیں چاہتی تھی کہ امیر المؤمنین ع کو لوگوں پر ولایت و حکومت حاصل ہو اور وہ اپنی امامت اور خلافت کے امر کو قائم کریں وہ یہ نہیں چاہتی تھی

اور اس معاملے میں کوئی نص کوئی دلیل یا نظیر موجود نہیں حضرت عائشہ نے قیاس کیا حالانکہ یہاں قیاس کا کوئی دخل نہیں صرف آل محمد ع اور سید المسلمین ع کی مخالفت کے لیے اور اسے اجتہاد کہا گیا

اجتہاد کیا اور خطا کی
اسی طرح ابوموسیٰ اشعری اور معاویہ سب نے اجتہاد کیا اور خطا کی
اجتہاد کا دوسرا رکن رسول ص کی مخالفت ہے کیونکہ ان کی خواہشات یہی چاہتی تھیں

> “یقیناً مجھ سے پہلے حکمرانوں نے کچھ اعمال کیے جن میں وہ رسول اللہ ص کی مخالفت کرتے تھے جان بوجھ کر ان کی نافرمانی کرتے تھے ان کے عہد کو توڑتے تھے ان کی سنت کو بدل دیتے تھے اور اگر میں لوگوں کو ان کاموں سے روک دوں اور انہیں واپس اسی حالت پر لے آؤں جیسی رسول اللہ ص کے زمانے میں تھی تو میری فوج مجھ سے جدا ہو جائے گی یہاں تک کہ میں تنہا رہ جاؤں یا صرف وہ چند شیعہ باقی رہ جائیں جو میری فضیلت اور میری امامت کے فرض کو کتاب اللہ اور سنت رسول ص سے جانتے ہیں تم خود دیکھو اگر میں مقام ابراہیم کو اس جگہ پر واپس رکھ دوں جہاں رسول ص نے رکھا تھا اور فدک کو فاطمہ ع کے وارثوں کو واپس کر دوں اور رسول ص کے صاع ناپ کو اسی طرح کر دوں جیسا وہ تھا”

اور اسی طرح بہت سی دوسری باتیں ہیں
لوگ میرے قول کو قبول نہیں کریں گے اگر میں انہیں تراویح سے روکوں تو بھی وہ نہیں مانیں گے
یہی ہے اجتہاد کا دوسرا رکن

اور اس پر بہت سی روایات دلالت کرتی ہیں

صحیح بخاری میں محمد بن اسماعیل بخاری دار احیاء التراث صفحہ 796 کتاب التفسیر روایت 4518 میں روایت ہے

> “عمران بن حصین نے کہا کہ متعہ کی آیت کتاب خدا میں نازل ہوئی ہم نے اسے رسول اللہ ص کے ساتھ کیا اور کوئی قرآن نہیں نازل ہوا جس نے اسے حرام کیا ہو اور نہ ہی رسول ص نے اپنی وفات تک اس سے منع کیا پھر ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا”

قرآن نازل ہوا تو اس نے اسے حلال کیا حرام نہیں کیا
رسول ص نے اپنی وفات تک اسے حرام نہیں کیا
مگر ایک شخص نے اپنی رائے سے کہا جو چاہا

حافظ ابن حجر نے اس روایت کو فتح الباری میں تین چار جگہ نقل کیا ہے اور ہر جگہ کہا ہے کہ وہ شخص حضرت عمر بن خطاب تھا

پس اس شخص نے کہا کہ ہم نے رسول ص کے ساتھ متعہ کیا اور قرآن نے اسے حلال کیا حرام نہیں کیا اور رسول ص نے وفات تک حرام نہیں کیا
یہ بات واضح ہے کہ حضرت عمر نے اسے منع کیا

یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ نص نہیں جانتے تھے
نص معلوم تھا لوگ متعہ کرتے تھے حج کا تمتع کرتے تھے اور عورتوں سے متعہ کرتے تھے
لیکن اس نے اسے اپنی خواہش سے حرام کیا تاکہ اللہ کے حلال میں تبدیلی کرے

یہی ہے دوسرا رکن

پس اجتہاد کا دوسرا اہم رکن یہ ہے کہ حضرت عمر کے پیروکار حکمران اپنے نفس کی خواہشوں کے سبب قرآن و سنت کی مخالفت کرتے تھے اور اسے اجتہاد کہتے تھے

وہ آج تک اسی کے محتاج ہیں
اور ہم اس سے بے نیاز ہیں

وہ اس کے محتاج اس لیے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے زمانے میں ان کے پاس احادیث بہت کم تھیں
وہ ہر واقعے میں اللہ کا حکم نہیں جانتے تھے
پھر ہمارے زمانے میں تو ان کی لاعلمی اور زیادہ ہو گئی

حضرت عمر کے پیروکاروں کا دین ہی اجتہاد پر قائم ہے
وہ ہر نئے مسئلے میں اپنی جیب سے حکم گھڑتے ہیں اور اسے دین خدا کا حصہ بناتے ہیں

لیکن ہمارے پاس رسول ص کے بعد بھی وہ ہستی موجود تھی جو خود رسول ص کی مثل تھی سید الاوصیاء امیر المؤمنین ع

> “رسول اللہ ص نے فرمایا جو چاہتا ہے کہ میری طرح زندگی گزارے میری طرح مرے اور اپنے رب کی جنت عدن میں داخل ہو جسے میرے رب نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے اسے چاہیے کہ علی کو اپنا ولی بنائے ان کے ولی سے ولایت رکھے ان کے دشمن سے دشمنی رکھے اور ان کے بعد آنے والے اوصیاء کی پیروی کرے کیونکہ وہ میری عترت ہیں میرے گوشت اور میرے خون سے ہیں اللہ نے انہیں میرا فہم اور میرا علم عطا کیا ہے میں اللہ سے شکایت کرتا ہوں اپنی امت کے ان لوگوں کی جو ان کے فضائل کا انکار کرتے ہیں اور میرے اور ان کے درمیان قطع تعلقی کرتے ہیں خدا کی قسم وہ میرے بیٹے کو قتل کریں گے اللہ انہیں میری شفاعت سے محروم رکھے”

یہ حدیث ہمارے ہاں متواتر ہے اور ان کی کتابوں میں بھی متعدد طریقوں سے مروی ہے

اہل بیت ع کے پاس رسول ص کا علم اور فہم تھا
لہٰذا انہیں اجتہاد کی حاجت نہیں تھی
اور یہ اجتہاد دراصل اللہ تبارک و تعالیٰ پر کفر ہے

وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
“اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے”
إِنَّمَا يَأْمُرُكُم بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
“وہ تمہیں برائی اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور یہ کہ تم اللہ پر وہ بات کہو جو تم نہیں جانتے”

اے لوگو شیطان کے راستے پر نہ چلو وہ تمہارا واضح دشمن ہے
اس نے اللہ کی قسم کھائی ہے کہ وہ ہمیں ہمارے رب کے دین سے ہٹائے گا
وہ ہمیں برائی اور فحشاء کا حکم دیتا ہے اور یہ کہ ہم اللہ پر وہ بات کہیں جو ہم نہیں جانتے

اگر کسی معاملے میں کتاب یا سنت میں کچھ وارد نہیں ہوا نہ خاص طور پر نہ عام طور پر اور تم اسے حلال یا حرام قرار دیتے ہو تو یہ اللہ پر بہتان ہے دین خدا پر بہتان ہے لوگوں کو گمراہ کرنا ہے

اگر تم نہیں جانتے تو کہو ہم نہیں جانتے
کہو ہم نہیں جانتے ہم انتظار کرتے ہیں یہاں تک کہ اللہ کی حجت ظہور کرے اور ہمیں واضح کرے
تب تک ہمارا اصول احتیاط ہے یا اصالت اباحہ
اور ان دونوں اصولوں کو سمجھنا بہت آسان ہے

یہ ہمارے نزدیک حرام ہے
مگر حضرت عمر کے پیروکار آج تک اسی کے محتاج ہیں

وثیقہ 1
شیعہ کتب سے دلیل کہ اجتہاد حضرت عمر کے پیروکاروں نے ایجاد کیا وہ نص جانتے تھے مگر خواہش نفس کی خاطر رسول ص کی مخالفت کرتے تھے
الکافی شیخ کلینی رح جلد 8 دار الکتب الاسلامیہ خطبہ امیر المؤمنین ع سلیم بن قیس ہلالی صفحہ 58

وثیقہ 2
یہ روایت واضح کرتی ہے کہ حضرت عمر نے اپنی رائے سے اللہ کے حلال کو حرام کیا اور بخاری نے اس روایت میں تدلیس کی تاکہ عام قاری دھوکے میں آئے
صحیح بخاری ابن مجوس بخاری دارالفکر کتاب التفسیر باب فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ صفحہ 1104

الرد 26 دیے گئے لنک پر کلک کریں 👇👇

https://www.facebook.com/groups/482021672471130/permalink/1699083884098230/?app=fbl

التماس دعا
حسنین رضا

الرد 25  اہل بیت ع کی تعلیمات اور اجتہاد کی ممنوعیتیہ مسئلہ بھی ہمارے آئمہ اہل بیت ع کی احادیث اور روایات میں بیان ہوا ہ...
16/10/2025

الرد 25



اہل بیت ع کی تعلیمات اور اجتہاد کی ممنوعیت

یہ مسئلہ بھی ہمارے آئمہ اہل بیت ع کی احادیث اور روایات میں بیان ہوا ہے
شیخ نے وضاحت کی کہ وہ اس مطلب سے کیا مراد لیتے ہیں جیسا کہ پچھلے جوابات میں اشارہ کیا گیا ہے

یہ بات کتاب رسالة المحكم والمتشابه میں مذکور ہے
یہ ایک طویل حدیث ہے جو امیرالمؤمنین سیدالمسلمین ص سے مروی ہے
اسے شیخ ابو زینب النعمانی محمد بن ابراہیم النعمانی نے روایت کیا ہے جو کتاب الغيبة النعمانية کے مصنف ہیں
ان کی ایک تفسیر بھی تھی اور یہی حدیث انہوں نے اسی تفسیر میں ذکر کی ہے

یہ کتاب دراصل سید مرتضی علم الهدی کی طرف منسوب ہے
اور رسالة المحكم والمتشابه دراصل محمد بن ابراہیم بن ابی جعفر النعمانی کی تفسیر النعماني کا ایک حصہ ہے
النعمانی شیخ کلینی رح کے شاگرد تھے

علامہ مجلسی رح نے اس رسالہ کو شیعہ مصادر میں شمار کیا ہے
اور شیخ حر عاملی رح نے بھی اسے اپنی کتاب وسائل الشيعة میں نقل کیا ہے

یہ رسالہ طویل اور نہایت نافع ہے اور اس میں بے شمار علمی مطالب ہیں

کتاب بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار صلوات الله عليهم
تالیف: علامہ محمد باقر مجلسی رح
جلد 90
ناشر: دار احیاء التراث العربي
باب 128
اس میں لکھا ہے:
{ما ورد عن أمير المؤمنين صلوات الله عليه في أصناف آيات القرآن وأنواعها وتفسير بعض آياتها برواية النعماني وهي رسالة مفردة مدونة كثيرة الفوائد نذكرها من فاتحتها إلى خاتمتها}
(بحار الأنوار جلد 90 صفحہ 1)

یہ ایک طویل رسالہ ہے جو صفحہ 97 پر ختم ہوتا ہے
ہم جس نکتہ کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں وہ صفحہ 91 پر ہے
{وأما الرد على من قال بالرأي والقياس والاستحسان والاجتهاد}

اسی مقام کو شیخ حر عاملی رح نے بھی اپنی کتاب وسائل الشيعة إلى تحصيل مسائل الشريعة میں نقل کیا ہے
جلد 27
مطبوعہ مؤسسۃ آل البیت صلوات الله علیهم

اس کتاب کے صفحہ 52 پر عنوان یوں ہے:
{باب عدم جواز القضاء والحكم بالرأي والاجتهاد والمقاييس ونحوها من الاستنباطات الظنية في نفس الأحكام الشرعية}

انہوں نے کئی مفید ابواب قائم کیے ہیں جن میں شامل ہیں:
{باب وجوب الرجوع في جميع الأحكام إلى المعصومين عليهم السلام}
{باب وجوب العمل بأحاديث النبي صلى الله عليه وآله والأئمة عليهم السلام}
{باب عدم جواز تقليد غير المعصوم عليه السلام}
{باب وجوب الرجوع في القضاء والفتوى إلى رواة الحديث من الشيعة}
اور
{باب عدم جواز تقليد غير المعصوم عليه السلام فيما يقول برأيه وفيما لا يعمل فيه بنص عنهم عليهم السلام}
(وسائل الشيعة ج 27 ص 124)

یہی وہ اجتہاد ہے جسے ہم باطل سمجھتے ہیں
وہ اجتہاد جس میں کوئی شخص اپنی عقل سے فتویٰ دے جس پر نہ قرآن کی دلیل ہو نہ حدیث کی
بلکہ وہ خود مصلحت اور مفسدہ دیکھ کر کہتا ہے یہ واجب ہے یا حرام

شاید کوئی سوچے کہ علمائے شیعہ اس عمل سے بری ہیں
مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم ان شاء اللہ واضح کریں گے کہ بہت سے فتاویٰ ایسے ہیں جن کی کوئی نص نہیں
بلکہ صرف ذاتی رائے پر مبنی ہیں

اگر اجماع قدیم علماء کے زمانے کا ہو جیسے شیخ مفید رح یا شیخ طوسی رح سے پہلے کے علماء تو وہ معتبر ہے
کیونکہ اس وقت اصحاب حدیث کے پاس وہ احادیث اور اصول تھے جو ہم تک نہیں پہنچے
لہذا وہ اجماع حجت ہے

مگر بعد کے ادوار میں جیسے خویی خمینی سیستانی یا شیرازی وغیرہ میں بہت سے مسائل ایسے ہیں جن پر ان کی کوئی شرعی دلیل نہیں
یہی وہ عمل ہے جس سے آئمہ اطہار ص نے سختی سے روکا

آئمہ ص نے فرمایا جو بات تمہیں معلوم نہیں اسے مت کہو
ذیل میں چند احادیث ملاحظہ کریں

الکافي از شیخ کلینی رح
جلد 1
کتاب: فضل العلم
باب: البدع والرأي والمقاييس
اور "رأي" سے مراد "اجتہاد" ہے

حدیث 10:
عن یونس بن عبدالرحمن قال قلت لأبي الحسن الأول عليه السلام بما أوحد الله فقال یا یونس لا تكونن مبتدعا من نظر برأيه هلك
(امام موسیٰ کاظم ص نے فرمایا:)
اے یونس بدعتی نہ بن جو اپنی رائے سے فیصلہ کرے وہ ہلاک ہوا

یہ رائے صرف قیاس نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں
بلکہ رائے کا مطلب نص کو چھوڑ کر اپنے ظن یا عقل سے فیصلہ کرنا ہے

حدیث 11:
عن أبي بصير قال قلت لأبي عبدالله عليه السلام ترد علينا أشياء ليس نعرفها في كتاب الله ولا سنة فننظر فيها فقال لا أما إنك إن أصبت لم تؤجر وإن أخطأت كذبت على الله عز وجل
(امام جعفر صادق ص نے فرمایا:)
جب کوئی مسئلہ تمہارے سامنے آئے جو کتاب یا سنت میں موجود نہ ہو تو اپنی رائے سے اس کا فیصلہ نہ کرو اگر تم درست بھی ہوئے تو تمہیں اجر نہیں ملے گا اور اگر غلط ہوئے تو تم نے خدا پر جھوٹ باندھا

حدیث 17:
عن مسعدة بن صدقة قال حدثني جعفر عن أبيه عليهما السلام أن عليا صلوات الله عليه قال من نصب نفسه للقياس لم يزل دهره في التباس ومن دان الله بالرأي لم يزل دهره في ارتماس وقال أبو جعفر عليه السلام من أفتى الناس برأيه فقد دان الله بما لا يعلم ومن دان الله بما لا يعلم فقد ضاد الله حيث أحل وحرم فيما لا يعلم
(امام علی ص اور امام محمد باقر ص نے فرمایا:)
جو شخص قیاس کو اپنا طریقہ بنائے وہ ہمیشہ گمراہی میں رہے گا اور جو اللہ کے دین میں رائے سے کام لے وہ ہمیشہ الجھن میں رہے گا
جس نے اپنی رائے سے لوگوں کو فتویٰ دیا اس نے خدا کے بارے میں بغیر علم کے بات کی اور جو بغیر علم کے خدا کے بارے میں بات کرے وہ گویا خدا سے ٹکرا گیا کیونکہ وہ خدا کے حلال و حرام میں اپنی طرف سے فیصلہ کر رہا ہے

اہل بیت ص کی ان روایات سے صاف ظاہر ہے کہ اپنی رائے کو دین میں شامل کرنا ان کے نزدیک گمراہی اور باطل ہے

وثیقہ 1:
اہل بیت ص کی روایات میں یہ واضح ہے کہ عمریہ گروہ نے اپنی آراء کو حکمِ خدا قرار دے دیا جیسا کہ امیرالمؤمنین ص کی طویل حدیث میں شیخ ابو زینب النعمانی کی روایت کے مطابق ذکر ہوا ہے
(بحار الانوار علامہ مجلسی رح جلد 90 دار احیاء التراث العربي باب 128 صفحہ 1)

وثیقہ 2:
اسی حقیقت کو شیخ حر عاملی رح نے اپنی کتاب وسائل الشيعة جلد 27 صفحہ 52 میں نقل کیا کہ آئمہ ص نے اس عمل سے سختی سے روکا کہ کوئی اپنی رائے کو شرعی حکم قرار دے

وثیقہ 3:
یہ ان لوگوں کا عذر ہے کہ وہ کہتے ہیں رائے صرف قیاس ہے اور ہم قیاس نہیں کرتے
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر قیاس رائے ہے مگر ہر رائے قیاس نہیں
رائے کا مطلب ہے نص کو چھوڑنا خواہ وہ قیاس ہو استحسان ہو یا مصلحت پر عمل
جب تک امام معصوم ص کے قول سے اس پر دلیل نہ ہو وہ رائے ہی کہلاتی ہے

(الکافي شیخ کلینی رح جلد 1 کتاب فضل العلم باب البدع والرأي والمقاييس صفحہ 56)

الرد 24 پڑھنے کے لئے دیے گئے لنک پر کلک کریں

https://www.facebook.com/groups/482021672471130/permalink/1697583827581569/

التماس دعا
حسنین رضا

الرد 24  اجتہاد کا آغاز اجتہاد کب اور کس نے شروع کیا یہ وہ کتاب ہے جسے ہم آپ کو دکھانا چاہتے ہیںکتاب: الرأي عند أحمد بن ...
16/10/2025

الرد 24



اجتہاد کا آغاز
اجتہاد کب اور کس نے شروع کیا

یہ وہ کتاب ہے جسے ہم آپ کو دکھانا چاہتے ہیں

کتاب: الرأي عند أحمد بن حنبل رائے احمد بن حنبل کے نزدیک
مراد: رائے یعنی اجتہاد
تألیف: عثمان بن ابراہیم بن مرشد المرشد
یہ کتاب فقہ و اصول کے شعبہ میں کلیة الشريعة والدراسات الاسلامیة جامعہ ملک عبدالعزیز مکۃ المکرمة میں ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کے لیے پیش کی گئی تھی
نگران: ڈاکٹر احمد فہمی ابو سنہ

اس کتاب میں ہمارے محترم حضرات صفحہ نمبر 56 پر صاف طور پر بیان کرتے ہیں کہ اجتہاد کہاں سے شروع ہوا

ترجمہ
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اعلیٰ رفیق کی طرف انتقال کے بعد صحابہ قضاء فتویٰ امامت اور مختلف ولایتوں پر فائز ہوئے

رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد عمر کے نظریے کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام احکام واضح نہیں کیے
یہ بات خود ان کے اعترافات میں ہے کہ نہ کسی کو امامت پر مقرر کیا نہ قرآن جمع کیا
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد دوسرا ماخذ یا تو قرآن کے برابر سمجھا گیا یا اس کے بعد یعنی سنت رسول
مگر سنت صرف صحابہ کی یادداشت پر منحصر رہی
نہ اسے لکھا گیا بلکہ خود رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے نزدیک احادیث لکھنے سے منع کیا
اور بہت سے صحابہ حدیث لکھنے کو ناپسند کرتے تھے
کئی تابعین بھی حدیث لکھنے سے گریز کرتے تھے
وہ صرف اور صرف اپنی حافظے پر بھروسہ کرتے تھے
حالانکہ وہ خود گواہی دیتے تھے کہ بہت سے صحابہ کی یادداشت خراب ہو گئی تھی ان کے حافظے میں اختلاط پیدا ہوا اور انہوں نے بہت سی احادیث بھلا دیں
یہ بات ان شاء اللہ تبارک و تعالیٰ بعد میں تفصیل سے ذکر کی جائے گی

ترجمہ
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اعلیٰ رفیق کی طرف انتقال کے بعد صحابہ قضاء و فتویٰ امامت اور مختلف ولایتوں پر فائز ہوئے
ان کے سامنے ایسے نئے واقعات و مسائل پیش آئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں نہ تھے
اور ضروری تھا کہ ہر نئے واقعے کا کوئی حکم مقرر ہو تاکہ لوگوں کے معاملات شریعت کے عمومی احکام سے باہر نہ جائیں
چنانچہ صحابہ نے بہت سے واقعات میں اپنی رائے یعنی اجتہاد کا سہارا لیا

کیونکہ وہ اللہ کا حکم نہیں جانتے تھے
ان کے علم کی حد محدود تھی
جو واقعات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں پیش نہیں آئے ان کے بارے میں ان کے پاس علم نہیں تھا

تو وہ کیا کرتے
اپنے ذہن سے اپنی رائے سے اپنے گمان سے کبھی قیاس کے ذریعے کبھی مصالح یعنی مصلحتوں کے نام پر کبھی کسی اور ظن و گمان سے

ترجمہ
پس صحابہ نے ان مسائل میں رائے استعمال کی جہاں کتاب یا سنت میں کوئی نص موجود نہ تھی
وہ بعض اوقات اس واقعہ کے حکم پر متفق ہو جاتے جس پر وہ غور کر رہے ہوتے
پھر بعد میں کسی کے لیے اس پر اختلاف جائز نہیں سمجھا جاتا
اور اس فیصلے کو اجماع یا حکم اجماعی کہا جاتا

سبحان اللہ
کیا یہ ممکن ہے کہ چند لوگ کسی بات پر اتفاق کر لیں تو وہ حکم خدا بن جائے
کس دلیل سے
یہ کہاں سے آیا تمہارے پاس

ان کے نزدیک یہ کہا جاتا ہے کہ صحابہ کسی امر پر اجماع کر گئے
حالانکہ صحابہ کی تعداد دسیوں ہزار تھی
ان میں سے بیشتر کے اقوال و آراء مختلف مسائل میں نامعلوم ہیں
یہ دعویٰ کہ کسی مسئلے میں سب کا اجماع ہوا یہ صریح جھوٹ ہے
کیونکہ زیادہ تر صحابہ کے نام تک معلوم نہیں

ان کے نزدیک صحابی وہ ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا یا ان کے زمانے کو پایا اور مسلمان رہا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں مرتد نہ ہوا
تو ظاہر ہے کہ یہ تعریف جزیرہ عرب کے تمام لوگوں کو شامل کر لیتی ہے یمن بحرین اور دیگر علاقوں کے وہ سب لوگ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک مرتبہ بھی دیکھا
یہ تعداد لاکھوں میں تھی
ان عورتوں بچوں بوڑھوں اور عام لوگوں کے نام بھی معلوم نہیں
تو ان کی آراء کا علم کیسے ممکن

پھر خود صحابہ کے درمیان اختلافات موجود تھے
اکثر مسائل میں وہ باہم متضاد رائے رکھتے تھے

ترجمہ
کسی کو اختلاف کی اجازت نہیں

اہم بات یہ ہے اور ان شاء اللہ ہم آپ کو دکھائیں گے کہ عمر کی جماعت کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے احادیث منقول تھیں مگر وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد صحابہ نے اس حدیث کے خلاف اجماع کیا
لہٰذا اس حدیث کا حکم باطل ہو گیا

ہم ان شاء اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو دکھائیں گے کہ انہوں نے اپنے اجماع کو وحی پر مقدم کیا
حالانکہ وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحي يوحى النجم 3 تا 4
رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی خواہش سے نہیں بولتے یہ صرف وحی ہے جو ان پر نازل ہوتی ہے
مگر ان لوگوں نے چند افراد کے اتفاق کو وحی خدا پر فوقیت دے دی
یہی دراصل اللہ کے حکم کو باطل کرنا اور وحی کو منسوخ کرنا ہے
اور اس کی کئی مثالیں ان شاء اللہ ہم پیش کریں گے

ترجمہ
اور جس حکم تک پہنچا اسے اجماع یا حکماً اجماعياً کہتے ہیں اور بعض اوقات وہ اختلاف کرتے ہیں اور نرمی سے گفتگو کرتے ہیں ہر ایک اپنی رائے کو تقویت دینے کی کوشش کرتا ہے
چاہے قریب یا بعید شبہات سے اپنے خیال کو شریعت کے منصوص حکم یا اصول عامہ یا قواعد کلیہ سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں
اور مخالف پر سختی نہیں کرتے نہ اسے فاسق یا بدعتی کہتے ہیں

ہاں وہ کہتے ہیں سختی نہیں کرتے
تو پھر عثمان نے عبداللہ بن مسعود کو کیوں مارا
کیا یہ نرمی تھی
عثمان نے عبداللہ بن مسعود پر حملہ کر کے اس کی پسلی توڑی کیا یہ سختی نہیں
انہوں نے سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر پر حملہ کیا کیا یہ نرم رویہ تھا
جنگ جمل جنگ صفین کیا یہ نرمی تھی
اور پھر انہی میں سے کچھ وہ لوگ تھے جو کربلا میں امام حسین ص کے خلاف صف آراء ہوئے اور نبی ص کے فرزند کو قتل کیا
کیا یہ سب عدم عنف کہلائے گا

ترجمہ
وہ مخالف پر سختی نہیں کرتے نہ اسے فاسق یا بدعتی کہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خود بھی اور ان کے مخالف بھی حق کی تلاش میں ہیں خیر کے طلبگار ہیں اور خواہشات و باطل اغراض سے پاک ہیں
وہ اپنے اجتہاد کو رائے کہتے تھے اور اپنے مستفتي کو بھی بتاتے تھے کہ ان کی رائے خطا پر مبنی ہو سکتی ہے
پس اگر چاہو تو قبول کرو اور اگر چاہو تو چھوڑ دو اور کسی دوسرے مفتی سے فتویٰ لے لو

یہی ان کے نزدیک اجتہاد کی ابتدا تھی

وثیقہ 1
اجتہاد کی اساس دراصل اہل سنت نظریہ ہے
کتاب الرأي عند أحمد بن حنبل میں بیان ہوا کہ اسے عمر کے پیروکاروں نے اپنی کم علمی اپنی خواہشات اور شهوات کی پیروی کے لیے استعمال کیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت دانستہ طور پر اختیار کی

کتاب: الرأي عند أحمد بن حنبل
تیار کردہ: عثمان بن ابراہیم

الرد 23 پڑھنے کے لئے دیے گئے لنک پر کلک کریں 👇 👇

https://www.facebook.com/groups/482021672471130/permalink/1697458990927386/

التماس دعا
حسنین رضا

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kazmi shah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share