Baat On Air

Baat On Air Sharing my thoughts and opinions on cricket, news, and current affairs.

From match analysis to political debates, join me for fresh perspectives on what’s happening around the world!

21/12/2025

لوگ اپنے پیسے خرچ کر کے کسی ہوٹل پر بھی کھانا کھائیں تو ایک سیخ کباب بھی بچ جائے تو اسے پیک کروا لیتے ہیں، بریانی کی آدھی ڈش بچ جائے یا کڑاہی گوشت کی آدھی پلیٹ تو اسے بھی پیک کروا لیتے ہیں کہ ان چیزوں پر ان کا پیسہ لگا ہوتا ہے ۔ گول گپے کے ساتھ کھٹا پانی تک نہیں چھوڑتے گلا خراب بھی ہو تو پی جاتے ہیں تاکہ پیسے پورے ہو جائیں ۔۔۔۔
مگر جب کسی کی شادی پر جاتے ہیں تو ان کی انکھوں کی بھوک چمک اٹھتی ہے۔ غریب غربا تو ایک طرف اچھے خاصے سوٹڈ بوٹڈ اور معزز لوگ کھانا کھلتے ہی نہ صرف جھپٹ پڑتے ہیں بلکہ یوں پلیٹیں بھر کر ٹیبل پر لاتے ہیں کہ دوبارہ کبھی ملے گا نہیں ، ٹھیک ہے پلیٹیں بھریے مگر کم از کم اس کو ختم تو کیجیے ! جس شخص نے آپ کو ولیمے یا بارات پر دعوت دی ہے اسے ایک ایک چکن پیس کا بھی خرچہ پڑ رہا ہے مگر آپ پوری پوری پلیٹیں پہاڑ بنا کر لاتے ہیں اور ادھ کھائی چیزیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، کیوں ؟ یہ نہ تو ہوٹل والوں کے کام آتی ہیں اور نہ اس کے جس نے اپ کو مدعو کیا ہے ، مگر آپ خوش ہو جاتے ہیں کہ جو ہزار روپیہ سلامی دی تھی وہ تو پوری ہوگئی جبکہ کھانا آپ 10 ہی ہزار کا ضائع کردیتے ہیں ۔ پوری دنیا میں کروڑوں لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں صرف اپنے پاکستان میں دیکھ لیجئے کہ کتنے لوگ ہیں جن کو ایک وقت کا کھانا نہیں ملتا مگر اتنے سال گزر جانے کے باوجود ہمارے لوگوں میں عقل و شعور نہیں آیا ، شادی کا کھانا کھاتے ہوئے اتنا ہی پلیٹ میں ڈالیں جتنی بھوک ہے۔۔۔ آج تک ایسا نہیں ہوا آپ نے پلیٹ میں کھانا کم ڈالا ہو اور دوسری بار لینے گئے ہوں تو ڈشزز خالی ہوں ۔ پیٹ کی نہیں ، آنکھوں کی بھوک ختم کیجیے ۔

❤️
21/11/2025

❤️

Chairman PCB, Mohsin Naqvi, outlines the updated reward model as the enters a new era.

21/11/2025

بھارتی فضائیہ کا تیجس طیارہ دبئی ائیر شو کے دوران گرا، بھارتی لڑاکا طیارہ مقامی وقت کے مطابق 2 بج کر 10منٹ پر گرا

مزید پڑھیں: https://www.geonewsurdu.tv/latest/421182-

16/11/2025

انتہائی قریبی عزیز کا فون تھا، ڈرتے ڈرتے اٹھایا کہ شدید قسم کے نونہال تھے اور یہ صبح کا وقت تھا.

معمول سے کافی گھمبیر لہجے میں کہنے لگے ، ایک چیز سمجھا دیں گے.

عرض کی : حکم کریں.

بولے : یہ تاحیات فیلڈ مارشل کا جواز کس کتاب میں لکھا ہے.

عرض کی: یہ اسی کتاب کے صفحہ 804 پر لکھا ہے جس کے تحت جنرل باجوہ کو تاحیات آرمی چیف رہنے کی پیش کش فرمائی گئی تھی.

فرمانے لگے : وہ تو اور بات تھی.

عرض: اسے بھی اور ہی سمجھ لیجیے.

ٹھنڈی سانس لے کر فرمانے لگے:لیکن اس میں تو فرق تھا

عرض کی : جی ہاں فرق تو تھا. باجوہ صاحب کو کی گئی پیش کش پورے اختیارات کے ساتھ تھی جب کہ فیلڈ مارشل کا تاحیات منصب ریٹائر منٹ کے بعد صرف علامتی ہو گا یعنی جب وہ ریٹائر ہوجاییں گے تو فیلڈ مارشل تو ہوں گے وردی بھی پہنیں گے لیکن تاحیات کمانڈ نہیں کریں گے. جب کہ آپ تو تاحیات کمانڈ دے رہے تھے.

فرمانے لگے: کیا آپ کے خیال میں یہ درست ہے؟

عرض کی : پہلے یہ بتاییے کیا آپ کے خیال میں وہ درست تھا.

تھوڑی دیر رکے اور لفظوں کو چباتے ہوئے بولے: ایک تو آپ میں بغض بہت ہے.

عرض کی: آپ ہمیشہ کی طرح ٹھیک فرماتے ہیں.

مکالمہ ختم ہوا،. فون بند ہو گیا.

____

آصف محمود

12/11/2025

عمران ریاض کی تاریخی بے عزتی!

ایک اوورسیز پاکستانی نے عمران ریاض کے منہ پر بول دیا کہ منافق انسان تم تو یہ بولتے تھے کہ جو فوج کے خلاف بولے وہ کتا ہوتا ہے، پھر آج تم خود کے متعلق کیا کہتے ہو؟

چار سالہ کارکردگی میں صرف معیشت ہی نہیں بلکہ تہذیب کا بیڑا بھی غرق کیا گیا کسی انسان کے مرنے پر بھی اب ایسے الفاظ بولے ج...
11/11/2025

چار سالہ کارکردگی میں صرف معیشت ہی نہیں بلکہ تہذیب کا بیڑا بھی غرق کیا گیا

کسی انسان کے مرنے پر بھی اب ایسے الفاظ بولے جاتے ہیں کہ اللہ سے پناہ یہ عمران خان کی تیار کی گئی وہ نسل اور یوتھ ہے جو اکثر دعویٰ کرتی ہے کہ عمران چور نے ہمیں شعور دیا اور وہ شعور اب ان کے کردار ان کے الفاظ اور زبان سے آہستہ آہستہ ظاہر ہوتا نظر آ رہا

للہ ان کو ہدایت دے

‏ *شاہد آفریدی نے تو کسی گدھے کا نام نہیں لیا تھا لیکن گدھے کو خود ہی پتہ چل گیا کہ اس کی بات ہو رہی ہے* .🤔🤔🤔
09/11/2025

‏ *شاہد آفریدی نے تو کسی گدھے کا نام نہیں لیا تھا لیکن گدھے کو خود ہی پتہ چل گیا کہ اس کی بات ہو رہی ہے* .🤔🤔🤔

01/11/2025

ہم ڈویلپمینٹ کا سوال کرتے آپ شعور کا جواب دیتے ہیں آپ اپنےPTIکے پانچ پروجیکٹ بتا نہیں سکے اور شعور کے نام پر اپنے شہر کو توڑ پھوڑ جلاؤ گھیراو لوگوں کو مار دینا کیا یہ شعور عمران نیازی نے دیا ہے ؟

🤣🤣🤣بات تو صحیح ہے
15/10/2025

🤣🤣🤣
بات تو صحیح ہے

فیکٹ چیک۔ایک افغان خوارج اور بھارتی را سے منسلک اکاونٹ نے شہباز شریف کی تصویر کو ایڈٹ کر کے انہیں نیتن یاہو سے مصافحہ کر...
15/10/2025

فیکٹ چیک۔
ایک افغان خوارج اور بھارتی را سے منسلک اکاونٹ نے شہباز شریف کی تصویر کو ایڈٹ کر کے انہیں نیتن یاہو سے مصافحہ کرتے ہوئے دکھایا۔

یہ جعلی ہے اور افغان دہشت گرد پروپیگنڈے کو فروغ دیتا ہے۔ شہباز شریف نے نیتن یاہو سے ملاقات نہیں کی۔ یہ آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پشینیان ہیں۔

14/10/2025

عالمی سطح پر نیازی کی رسمی تعریف سے وہ امتِ مسلمہ کا لیڈر بن جاتا تھا،
لیکن اگر ٹرمپ جیسا امریکی صدر شہباز شریف کی تعریف کر لے،
تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی سازش ضرور سمجھی جاتی ہے۔
گویا وہ درحقیقت پورا پاکستان بیچ چکا ہوتا ہے۔

یہی نیازی اگر محمد بن سلمان کا ڈرائیور بن جائے تو وہ ’’عظیم سفارت کاری‘‘ کہلاتی ہے،
لیکن شہباز شریف اگر جواباً رسمی الفاظ ادا کر دے تو وہ ’’چاپلوس “ اور “ پالشی “ کہلاتا ہے۔

خود تحریکِ انصاف نے امریکہ میں باجماعت اسی ٹرمپ کی انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا۔

یہ وہ مخلوق ہے جن کا “کاں” ہمیشہ “چٹا” ہی ہوتا ہے۔
آپ ان کا کوئی بھی بیانیہ دیکھ لیں —
آج جس چیز کی یہ مخالفت کر رہے ہوتے ہیں،
اپنے دورِ حکومت میں وہی چیز ان کے نزدیک باعثِ فخر تھی،
جیسے ٹی ایل پی والوں کی درگت۔
اور جس چیز پر آج فخر کرتے ہیں،
وہی ان کے دور میں ’’غداری‘‘ کہلاتی تھی،
جیسا کہ پی ٹی ایم کی حمایت۔

پوری کانفرنس میں، جس میں برطانیہ، اٹلی، کینیڈا اور فرانس سمیت تمام مسلم ممالک کے سربراہان موجود تھے،
امریکی صدر ٹرمپ نے صرف ایک شخص کو تقریر کا موقع دیا —اور وہ وزیرِاعظم شہباز شریف تھے۔

بھارتی پروفیسر اشوک سوئین نے ایکس پر شہباز شریف کے خطاب کا کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’’شہباز شریف، مودی کے لیے ٹرمپ کی نظر میں بہتر مقام حاصل کرنا بہت مشکل بنا رہے ہیں۔‘‘

ٹرمپ کی زبان سے شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی بار بار تعریف کا سے بڑا مزہ اسی میں ہے کہ اس سے مودی اور نیازی دونوں کو ۱۰۴ درجے کا بخار چڑھ جاتاہے۔

14/10/2025

اس طرح تو ”جانور“ بھی احتجاج نہیں کرتے

میں جب تک پاکستان میں تھا تو احتجاج میں ہمیشہ روڈ بلاک ہوتے، موٹر سائیکل، کاریں اور ٹائر جلتے دیکھے تھے۔ ٹی وی پر بھی یہی دکھایا جاتا کہ پولیس عوام کو ڈنڈوں کے ساتھ جانوروں کی طرح ہانک رہی ہے۔ بل بورڈز ٹوٹ رہے ہیں، مشتعل عوام جس چیز کو چاہتی ہے آگ لگا رہی ہے۔ کسی کا سر پھٹ رہا ہے تو کوئی بھاگ رہا ہے۔

جرمنی آیا تو ذہن میں احتجاج کرنے کا یہی طریقہ محفوظ تھا۔ بون یونیورسٹی آتے ہی یونین میں شامل ہو گیا۔ سن دو ہزار چھ میں جرمن حکومت نے فی سمیسٹر پانچ سو یورو فیس متعارف کروا دی، جو آج کل ختم ہو چکی ہے۔

یونیورسٹی یونین کے لڑکوں اور لڑکیوں نے احتجاج کرنے کا پروگرام بنایا۔ میں بھی اس میں شامل ہو گیا۔ پہلے مرحلے میں یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں احتجاجی کیمپ لگایا گیا۔

شام کو ڈی جے گانے شروع کرتا اور جرمن لڑکیاں لڑکے ڈانس شروع کر دیتے۔ میں ان دنوں پاکستان سے لمبے گولڈن پائپ اور گھومنے والا حقہ لے کر آیا ہوا تھا۔ جرمن لڑکے لڑکیوں کو حقے میں سب سے زیادہ چیز یہ پسند آئی کہ یہ گھومتا ہے۔ رات دیر تک شیشہ یا حقہ چلتا۔میرے لیے یہ احتجاج سے زیادہ انجوائے منٹ تھی۔ میں نے اپنے یونین لیڈر فلوریان سے پوچھا کہ نہ ہم نعرے لگا رہے ہیں نہ کوئی توڑ پھوڑ کر رہے ہیں یہ کیسا احتجاج ہے؟

فلوریان نے واپس حیران ہو کر پوچھا کہ یہ پرتشدد احتجاج کہاں ہوتا ہے؟ میں نے فورا جواب دیا کہ پاکستان میں تو ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ اس نے پھر کوئی بیس منٹ مجھے یہ بات سمجھانے پر لگائے کہ یہ چیزیں ہمارے پیسوں سے بنی ہوئی ہیں اگر ہم توڑ پھوڑ کریں گے تو ایسے ہی ہے جیسے ہم اپنے گھر کا سامان توڑ رہے ہیں۔

یہ بات کوئی زیادہ میرے ذہن میں نہ آئی اور دل میں سوچا کہ یہ جرمن نکمے ہیں انہیں احتجاج کرنا بھی نہیں آتا۔

اس کے دو دن بعد بون میں احتجاجی مارچ ہوا۔ مارچ کے دوران ٹریفک رواں دواں تھی اور ہم سڑک کنارے کھڑے احتجاج کر رہے تھے۔

مجھے یہ طریقہ پھر عجیب لگا۔ میں نے فلوریان کو کہا کہ سڑک بلاک کرتے ہیں۔ اس کے تو جیسے ہوش ہی اڑ گئے ہوں۔

اس نے احتجاج چھوڑ کر پھر مجھے سمجھانا شروع کر دیا کہ سڑک پر جانے والے لوگوں کا کیا قصور ہے۔ اس طرح تو لوگوں کو ہم خود اپنے خلاف کریں گے۔ اور گاڑیوں میں کوئی ڈاکٹر ہو سکتا ہے، کوئی مریض ہو سکتا، ہمیں کیا حق ہے کہ ہم کسی عام شہری کا راستہ روکیں؟

میں نے دوبارہ اپنی دلیل دی کہ اس طرح احتجاج کا زیادہ اثر ہو گا۔ اس نے تنگ آ کر کہا، امتیاز اس طرح تو ”جانور“ بھی احتجاج نہیں کرتے۔ خیر میں نے دوبارہ دل میں سوچا کہ ان کو احتجاج کرنا کبھی نہیں آئے گا۔

اس واقعے کے کوئی دو سال بعد میں قصور سے واپس گاوں آ رہا تھا۔ گاڑی دوست کی تھی اور میں شام سے پہلے پہلے واپس گھر پہنچنا چاہتا تھا۔ راستے میں ایک چوک پر احتجاج ہو رہا تھا۔ میں نے وہاں سے گاڑی نکالنی چاہی تو چار پانچ ڈنڈا بردار گاڑی کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ کیا کرنے والے ہیں۔ میں فورا گاڑی سے باہر نکلا اور ان کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے کہ خدارا کار کو نقصان مت پہنچائیے گا۔ مجھے جان کے لالے پڑے ہوئے تھے کہ یہ ابھی کار کے شیشے وغیرہ توڑ دیں گے۔

اس دن پہلی مرتبہ مجھے فلوریان کی بات یاد آئی کہ اس طرح تو ”جانور“ بھی احتجاج نہیں کرتے۔ خیر انہوں نے میری معافی قبول کی اور کار کو نقصان نہ پہنچایا۔
اس کے بعد مجھے دوبارہ یہ فقرہ اس دن یاد آیا جس دن میری اسلام آباد سے فلائٹ تھی اور مظاہرین نے ایئرپورٹ روڈ بلاک کر رکھا تھا۔ میرا ویزہ چند دن بعد ختم ہونے والا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ فلائٹ نکل گئی تو ویزہ بھی ایکسپائر ہو جانا ہے۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ راستہ بلاک کرنے اور توڑ پھوڑ کرنے کی اسٹریٹیجی کس قدر خطرناک ہے۔ اور اس طرح کسی کو کس قدر نقصان پہنچ سکتا ہے۔ فلوریان کی بات اس دن سمجھ آئی کہ اس طرح تو ”جانور“ بھی احتجاج نہیں کرتے۔
کل پھر ایسا ہی ہوا۔ ایئرپورٹ سے نکلا تو راستے ابھی بلاک ہونا شروع ہوئے تھے اور لاہور کی سڑکوں پر ٹریفک رش بڑھ چکا تھا۔ کافی تگ و دو کے بعد ایک راستہ ملا لیکن وہ بھی کچھ دیر بعد بلاک ہو چکا تھا۔
خیر چند گھنٹوں کی کوشش کے بعد میں موٹروے پر پہنچ چکا تھا لیکن بدقسمتی وہاں پر بھی ایک پل کے اوپر مظاہرین تھے، جو نیچے آتی جاتی گاڑیوں پر بھی پتھر اور اینٹیں پھینک رہے تھے۔
میں نے گاڑی سائیڈ پر کر لی، کچھ بعد ہجوم بڑھا اور انہوں نے گاڑیوں کو توڑنا شروع کر دیا۔ ہم نے موٹروے پر ہی گاڑی موڑی اور الٹی سمت بھاگنا شروع کر دیا۔
اس کے بعد پولیس آئی اور اس نے مظاہرین پر آنسو گیس کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔ تشدد کے جواب میں تشدد پیدا ہو چکا تھا۔ سنا ہے گزشتہ روز باقی چند شہروں میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔
ابھی تک کوئی حتمی، واضح اور مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں کہ کتنے لوگ مارے گئے ہیں اور کتنے زخمی ہوئے ہیں اور مالی نقصان کتنا ہوا ہے؟

ہلاکت کسی ایک شخص کی بھی ہو ، وہ بہت بڑا نقصان ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں جان کی قدر نہیں رہی، دو چار ہلاکتوں پر تو کوئی مڑ کر نہیں دیکھتا، یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے؟
اب بھی جگہ جگہ راستے بند ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں یہ روایت بن چکی ہے کہ احتجاج کے دوران راستے بند کر دیے جائیں لیکن کسی کو احساس تک نہیں کہ بیچارے غریب عوام کس کرب اور تکلیف سے گزر رہے ہیں۔ کسی نے گھر پہنچنا ہے، کسی نے فلائٹ پکڑنی ہے، کسی بچے کو ہسپتال لے کر جانا ہے، کسی ڈاکٹر نے ہسپتال پہنچنا ہے۔

پاکستان میں راستے حکومت بلاک کرے یا احتجاجی مظاہرین، مذہبی جماعتیں کریں یا آزاد خیال، نواز شریف بلاک کریں یا عمران خان، میرے ذہن میں یہی آتا ہے کہ اس طرح تو ”جانور“ بھی نہیں کرتے۔
مجھے یہ بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ جو اسلام راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کا درس دیتا ہو، اس اسلام سے راستے بند کرنے، لوگوں کو تکلیف پہنچانے کی تشریح کیسے نکالی جا سکتی ہے؟
میرا مذہبی علم بہت ہی محدود ہے لیکن چند برس پہلے میں نے ایک حدیث پڑھی تھی، جس کا مفہوم کچھ یوں ہے۔ مسجد میں نماز جنازہ پڑھانا مناسب نہیں لیکن اگر جنازے میں شریک افراد کی وجہ سے کوئی راستہ بند ہو جانے کا خدشہ ہو تو نماز جنازہ مسجد میں کروانے کی اجازت ہے۔
لیکن آج کے مذہبی رہنماوں کو دیکھیں، تو راستے بلاک کرنا، ایمبولینسوں کو روکنا، املاک کو نقصان پہنچانا، لوگوں کو دفاتر جانے سے روکنا، ان کے نزدیک درست عمل ہوتا جا رہا ہے۔
ہمیں قبول کرنا ہو گا کہ ہمیں تو احتجاج کرنا اور احتجاج کرنے کا حق دینا بھی نہیں آتا، ایسا احتجاج تو ”جانور“ بھی نہیں کرتے۔



Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Baat On Air posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share