23/04/2026
سی ایس ایس اور پی ایم ایس کے امیدواروں کی ذہن سازی کیلئے آج کا کرنٹ افیئرز آرٹیکل
مورخہ 23 اپریل 2026
ایران، تاریخ اور عالمی طاقت: کیا ماضی آج کی سیاست کو سمجھنے کی کنجی ہے؟
بین الاقوامی سیاست کو اگر صرف موجودہ واقعات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو تصویر ہمیشہ ادھوری رہتی ہے۔ ایران کے ساتھ موجودہ کشیدگی کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ محض آج کی جغرافیائی سیاست کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی عمل کا تسلسل ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز سے ہی ایران بیرونی طاقتوں کے اثر و رسوخ کا مرکز رہا ہے، اور یہی تاریخی مداخلتیں آج کے عدم اعتماد کی بنیاد بن چکی ہیں۔ Edward Said نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ “طاقت صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کرتی بلکہ بیانیوں اور تاریخ کو بھی اپنے مطابق ڈھالتی ہے” (Culture and Imperialism, p. 9)، اور ایران کی تاریخ اسی بیانیاتی اور عملی مداخلت کی ایک واضح مثال ہے۔
1907 کا اینگلو روسی معاہدہ، پھر تیل کی دریافت، اور اس کے بعد بیرونی طاقتوں کی مسلسل مداخلت نے ایران کی خودمختاری کو بارہا چیلنج کیا۔ 1953 میں منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کا تختہ الٹنا اس سلسلے کا ایک اہم موڑ تھا، جس نے ایرانی سیاسی شعور میں بیرونی طاقتوں کے خلاف گہرا عدم اعتماد پیدا کیا۔ یہی عدم اعتماد آج بھی ایران کی خارجہ پالیسی میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ Stephen Kinzer نے اس واقعے پر لکھا کہ “یہ بغاوت نہ صرف ایک حکومت کے خاتمے کا باعث بنی بلکہ ایک قوم کے اعتماد کو بھی توڑ گئی” (All the Shah’s Men, p. 215)۔
یہ تاریخی پس منظر ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ آج جب امریکہ ایران پر دباؤ ڈالتا ہے یا اسے مذاکرات پر مجبور کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو ایران اسے محض موجودہ پالیسی نہیں بلکہ ماضی کی تسلسل کے طور پر دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات اور دھمکیوں کا امتزاج اکثر الٹا اثر ڈالتا ہے۔ George Kennan کے مطابق “طاقت کا استعمال اگر تاریخی حساسیت کو نظر انداز کرے تو وہ پالیسی کے بجائے ردعمل کو جنم دیتا ہے” (American Diplomacy, p. 67)، اور یہی صورتحال یہاں بھی سامنے آ رہی ہے۔
اس پورے منظرنامے میں ایک اور اہم پہلو عالمی طاقت کا بدلتا ہوا توازن ہے۔ ماضی میں امریکہ کو عالمی سیاست میں ایک مرکزی حیثیت حاصل تھی، مگر آج چین اور روس جیسے ممالک بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایران کے ان ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی نظام اب یک قطبی نہیں رہا۔ Parag Khanna نے اس تبدیلی کو یوں بیان کیا کہ “دنیا اب ایک interconnected مگر کثیر قطبی نظام میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں طاقت مختلف مراکز میں تقسیم ہو رہی ہے” (The Future is Asian, p. 19)۔
پاکستان کا کردار بھی اس تناظر میں قابلِ ذکر ہے، جہاں اس نے ایک ثالث کے طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کردار بظاہر مثبت ہے، مگر اس کے ساتھ خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ ایسی کشیدہ صورتحال میں ثالثی کرنے والی ریاست خود بھی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ ثالثی ہمیشہ صرف نیک نیتی کا معاملہ نہیں ہوتی بلکہ اس میں اسٹریٹجک حساب کتاب بھی شامل ہوتا ہے۔
تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ عالمی سیاست میں اتحاد مستقل نہیں ہوتے۔ ماضی میں کئی ایسے رہنما گزرے ہیں جنہوں نے بڑی طاقتوں پر اعتماد کیا، مگر وقت آنے پر وہ حمایت ختم ہو گئی۔ یہی وہ سبق ہے جو موجودہ قیادت کے لیے اہم ہے کہ عالمی تعلقات میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے بلکہ مفادات ہی اصل بنیاد ہوتے ہیں۔ Henry Kissinger نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا تھا کہ “بین الاقوامی نظام میں کوئی بھی تعلق مستقل نہیں ہوتا، صرف مفادات مستقل ہوتے ہیں” (Diplomacy, p. 57)۔
آخر میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ایران کے ساتھ موجودہ کشیدگی کو صرف ایک وقتی بحران کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ ایک تاریخی، جغرافیائی اور اسٹریٹجک عمل کا نتیجہ ہے جو ایک صدی سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ جب تک اس تاریخی تناظر کو سمجھا نہیں جائے گا، موجودہ پالیسیوں کی کامیابی مشکل رہے گی۔ Roman Krznaric نے درست کہا تھا کہ “تاریخ ہمیں مستقبل نہیں بتاتی، مگر یہ ہمیں بہتر فیصلے کرنے میں ضرور مدد دیتی ہے” (History for Tomorrow, p. 8)۔ یہی سبق آج کی عالمی سیاست کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ماضی میں تھا۔
For more updates, follow my page and Subscribe to my YouTube Channel