Fayaz Mehsood

Fayaz Mehsood "زندگی میں آگے بڑھنا ہے تو سوچ کو مثبت رکھو۔ ہر صبح ایک نئی امید لے کر آتی ہے۔"

🐦 "خاموش ہوتی چہچہاہٹ"یہ ننھا سا چڑیا کا بچہ شاید اپنے گھونسلے سے بچھڑ گیا ہے... مگر اصل میں صرف یہ نہیں، ہم بھی کچھ کھو...
21/07/2026

🐦 "خاموش ہوتی چہچہاہٹ"
یہ ننھا سا چڑیا کا بچہ شاید اپنے گھونسلے سے بچھڑ گیا ہے... مگر اصل میں صرف یہ نہیں، ہم بھی کچھ کھو چکے ہیں۔
کبھی کراچی کی صبحیں چڑیوں کی چہچہاہٹ سے جاگتی تھیں، شامیں درختوں پر لوٹتے پرندوں سے آباد ہوتی تھیں۔ آج انہی جگہوں پر کنکریٹ کی عمارتیں کھڑی ہیں، درخت کاٹ دیے گئے، اور ان کے ساتھ ہماری فضا کی وہ خوبصورت آوازیں بھی خاموش ہو گئیں۔
چڑیاں صرف خوبصورتی نہیں تھیں، وہ قدرت کا حسین تحفہ تھیں۔ یہ ننھے پرندے کیڑے مکوڑے کھا کر ماحول کو متوازن رکھتے تھے، درختوں میں زندگی بھرتے تھے اور ہمیں یہ احساس دلاتے تھے کہ فطرت ابھی زندہ ہے۔
اگر ہم ہر درخت کو صرف لکڑی اور ہر خالی جگہ کو صرف عمارت سمجھتے رہے، تو آنے والی نسلیں شاید چڑیوں کی آواز صرف کتابوں یا ویڈیوز میں سنیں گی۔
آئیے، ایک درخت لگائیں... تاکہ کسی ننھی چڑیا کو پھر سے گھر مل سکے، اور ہماری صبحیں دوبارہ چہچہاہٹ سے آباد ہو جائیں۔ 🌿🐦💚
#پاکستان #کراچی #چڑیاں #قدرت #ماحول

فری میسن ابلیس کا لشکر آجکل ہر جگہ ایلین کو ٹرینڈ بنائے ہوئے ہیں چاہے ہالی وڈ اٹھا لیں یا کچھ اورٹرمپ بھی ایلین فائلیں ر...
06/07/2026

فری میسن ابلیس کا لشکر آجکل ہر جگہ ایلین کو ٹرینڈ بنائے ہوئے ہیں چاہے ہالی وڈ اٹھا لیں یا کچھ اور
ٹرمپ بھی ایلین فائلیں ریلیز کر رہا ہے تو چکر کیا ہے؟
کیا آپ کو لگتا ہے کہ ایلین نامی کوئی مخلوق اس دنیا میں ہے؟
اگر نہیں ہے تو وہ کر کیا رہے ہیں ایلین کی ذہن سازی کرکے؟

فری میسن کا ادارہ اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت دنیا کی آبادی 8 بلین ہے

لیکن ہالی وڈ میں بیٹھا ایک فری میسن کا بندہ اپنی نئی مووی "ڈسکلوزر ڈے" میں یہ پیغام کیوں دے رہا ہے کہ دنیا کی آبادی 7 بلین ہے؟

باقی کے ایک بلین کدھر گئے؟

کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ابلیس کے لشکر نے ان ایک بلین کو اس دنیا میں کسی خفیہ جگہ پر ہائی قسم کی ٹیکنالوجی کے ساتھ چھپا رکھا ہو اور وقت آنے پر انکو ایلین کے طور پر لانچ کر کے دجالی میڈیا کے زریعے یہ باور کرا دیا جائے کہ ایلین کا حملہ ہو گیا ہے اس دنیا پر؟

کیونکہ فری میسن دجالی ٹولہ اپنی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں اسی وقت لانچ کرتے ہیں جب وہ اس ٹیکنالوجی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکے ہوتے ہیں اور پرانی ٹیکنالوجی انکے نزدیک کچرہ ہو چکی ہوتی ہے تو وہ اسے عام لوگوں میں لانچ کر دیتے ہیں ریوولوشن کے نام پر.

مثلاً یہ جو دنیا میں آجکل ای وی الیکٹرک گاڑیوں کی ٹیکنالوجی اچانک سے نمودار ہوئی ہے پانچ چھ سالوں میں جسے بڑا پروموٹ کیا جا رہا ہے فری میسن کے احکامات پر میڈیا اور سوشل میڈیا انفلوئنسر کے زریعے تو کیا لگتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی آئی ہے؟

جبکہ 1900 میں ڈیتٹروئٹ کمپنی نے تیرہ ہزار الیکٹرک گاڑیاں بنائی تھیں جو امریکہ میں کافی مقبول تھیں اور تھامس ایڈیسن جو کہ فری میسن کا ہی بندہ تھا اس وقت الیکٹرک گاڑیوں کو بڑا سپورٹ کیا کرتا تھا
جبکہ اس نے خود نیکولا ٹیسلا کے ساتھ جو کیا تو وہ ابھی ہمارا ٹاپک نہیں ہے ورنہ سمجھدار لوگ خود ایڈیسن اور ٹیسلا کے درمیان کرنٹ وار پر تحقیق کر سکتے ہیں کہ کیوں نکولا ٹیسلا کو دیوار سے لگایا گیا اسکی ساری ایجادات کو ایڈیسن کے کھاتے میں ڈال کر
بہرحال پھر اچانک یہ ای وی ٹیکنالوجی منظر عام سے غائب کیسے ہو گئی؟
یا غائب کر دی گئی؟
یا لوگوں سے چھپا دی گئی؟

اور وہ خفیہ خاندان تیل پر سرمایہ کاری کرتے رہے اور دنیا کو جان بوجھ کر تیل سے باندھ کر رکھا گیا کیونکہ تیل کے اوپر ساری اجارہ داری کس کی تھی؟
راک فیلر یہودی خاندان کی اور راک فیلر فیملی کا فری میسن میں کیا مقام و مرتبہ ہے تو یہ تو اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے

اسٹینلی مئیر نے بھی 1980 میں پانی کے زریعے گاڑی چلانے کو متعارف کرایا تھا لیکن پھر اسکو زہر دے کر راستے سے ہٹا دیا گیا اور اسکی ٹیکنالوجی کو دنیا کے منظر نامے سے غائب کر دیا گیا کیونکہ فری میسن خاندانوں کی بڑی سرمایہ کاری تیل پر تھی
اور آج تک یہ کیس حل نہ ہو سکا کہ اسکو زہر کس نے دیا!
یا کیس حل کرنے ہی نہیں دیا گیا خفیہ ہاتھوں نے؟

کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ وہ ای وی ٹیکنالوجی سے پیسہ کمانے کے بعد وہاں سے سرمایہ نکال کر پانی سے چلنے والی ٹیکنالوجی پر لے آئیں اور اسے پروموٹ کریں؟

اے آئی (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کیا لگتا ہے کہ ابھی تین چار سالوں میں آئی ہے دنیا میں؟

یہ تو انہوں نے ہی آپکو اپنے میڈیا کے ذریعے بتایا ہے نا؟

جبکہ وہ 1956 سے ہی (اے آئی) بنا چکے تھے ڈارت ماؤتھ کالج میں جسے انہوں نے دنیا کے منظر نامے سے چھپا کر رکھا ہوا تھا
اور اب جب وہ خود اس ٹیکنالوجی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سے وہ بآسانی اسے کنٹرول کر سکتے ہیں تو انہوں نے باقی لوگوں کے درمیان اے آئی کو لاکر ڈال دیا ریوولوشن کے نام پر

آخر کیا وجہ ہے کہ یہ فری میسن کے سارے ارب پتی ایلن مسک، جیف بیزوز، مارک زکربرگ، روتھ شائلڈ فیملی، راک فیلر فیملی، مورگن فیملی وغیرہ وغیرہ سنسان جزیروں پر انڈر گراؤنڈ بنکرز بنا رہے ہیں روپوش ہونے کے لیے اور اس میں زندگی گزارنے کی چیزیں وافر مقدار میں جمع کر رہے ہیں؟
کیا وجہ ہے اسکی؟
ایسا کیا ہونے والا ہے جو وہ جانتے ہیں اور آپ نہیں جانتے؟

یہ ہی بات جب مفتی پاکستان تقی عثمانی صاحب سے دار العلوم کراچی میں پوچھی گئی تو حضرت نے یہ حدیث رکھ دی کہ

لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، تَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً".
قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟
قَالَ: "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي".

"میری امت پر بھی وہی کچھ آئے گا جو بنی اسرائیل پر آیا تھا۔
میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔
ان میں سب کے سب جہنم میں ہوں گے سوائے ایک جماعت کو چھوڑ کر.
صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ وہ کونسی جماعت ہوگی؟
فرمایا:
جو اس طریقے پر ہوگی جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں".
مفتی پاکستان تقی عثمانی صاحب سے یہ ہی پوچھا کہ بھئی وہ جماعت ہے کونسی ان دجال کے بنائے ہوئے دیوبندی بریلوی اہل حدیث سلفی شیعہ نقشبندی براؤن پگڑی ہری پگڑی نیلی پگڑی پیلی پگڑی کالی پگڑی سفید پگڑی جماعت حرامی اخوانی حماسی طالبان القاعدہ وغیرہ وغیرہ کے دجالی رجواڑے میں سے؟

تو مفتی پاکستان تقی عثمانی صاحب نے کیا ہی خوبصورت جواب دیا جسے سونے کے پانی سے لکھنا چاہیے اور فوراً یہ حدیث پیش کر دی کہ

إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّايَاتِ السُّودَ خَرَجَتْ مِنْ خُرَاسَانَ، فَأْتُوهَا وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ، فَإِنَّ فِيهَا خَلِيفَةَ اللَّهِ الْمَهْدِيَّ

“جب تم خراسان سے کالے جھنڈے نکلتے دیکھو تو ان کے پاس جاؤ، اگرچہ تمہیں برف پر گھٹنوں کے بل گھسٹ کر جانا پڑے، کیونکہ ان میں اللہ کے خلیفہ مہدی ہوں گے۔”

لیکن بھئی مجھے یہ بات ہضم نہ ہوئی اور میں نے مفتی پاکستان تقی عثمانی صاحب پر اعتراض کر دیا کہ کالا جھنڈا تو روافض اور القاعدہ نے بھی اٹھا رکھا ہے؟

جس پر مفتی پاکستان تقی عثمانی صاحب مسکرا دیے اور کہا کہ یہ روافض دجالی ٹولہ یا القاعدہ دجالی ٹولہ یا طالبان دجالی ٹولہ خلفائے راشدین کے نقش قدم پر ہیں؟؟

شیخ الاسلام حضرت تقی عثمانی صاحب پر دوبارہ اعتراض کر دیا کہ آپ جن کالے جھنڈے والے لشکر مہدی کی بات کر رہے ہو تو انکو تو میڈیا اسرائیلی ایجنٹ کبھی امریکی ایجنٹ کبھی رشین ایجنٹ کبھی خوارج قرار دے دیتا ہے؟

جس پر تقی عثمانی صاحب نے کیا ہی شاندار جواب دیا کہ میڈیا کس کے زیر کنٹرول ہے؟
فری میسن دجالی ٹولے کے زیر اہتمام ہے نا؟
تو انکو پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ وہ کالے جھنڈے والے لشکر مہدی کی تعریفوں کے پل باندھے گے تاکہ عام لوگ جاکر اس لشکر مہدی میں شامل ہو جائیں؟

ایسے تو جب خلیفہ مہدی کا ظہور ہوگا تو فری میسن کا میڈیا انکو ہیرو نہیں بلکہ "لوگوں کے خون کا پیاسا جنونی خارجی دہشتگرد وغیرہ وغیرہ " ڈکلئیر کیا ہوا ہوگا
تو پھر تم قرآن و سنت کو دیکھ کر فیصلہ کروگے یا دجالی میڈیا کو دیکھ کر فیصلہ کرو گے؟

پھر مفتی پاکستان تقی عثمانی صاحب نے یہ حدیث رکھ دی دجالی میڈیا کے دجل کو واضح کرتے ہوئے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتٌ، يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ، وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ، وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ.»

لوگوں پر دھوکے کے چند سال آئیں گے، جن میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا، اور سچے کو جھوٹا قرار دیا جائے گا، خائن کو امانت دار سمجھا جائے گا، اور امانت دار کو خائن کہا جائے گا، اور رویبضہ (حقیر آدمی) عوامی معاملات میں بولیں گے.
صحابہؓ نے پوچھا:
"وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ؟"
رویبضہ کون ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
«الرَّجُلُ التَّافِهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ.»

"حقیر، نااہل یا کم عقل شخص جو عوام کے بڑے بڑے معاملات میں رائے دینے لگے۔"

انہیں روبیضہ کو فری میسن نے مسلمانوں کی اجتماعیت خلافت و ملوکیت کے خاتمے کے بعد سے بلاد المسلمین کے مختلف ٹکڑے کر کے امت مسلمہ میں جدائی ڈالنے والے وطنیت کے پنجروں پاکستان سعودی عرب افغانستان ترکی عراق شام وغیرہ وغیرہ میں بٹھایا ہوا ہے اور دجالی میڈیا اور علماء سوء کے زریعے انکو مسلمان حکمران ڈکلئیر کیا ہوا ہے ماشاءاللہ سے.

آج خامزات چیمایف کی فائٹ نے صرف ایک نتیجہ نہیں دیا بلکہ ایک مکمل کہانی دوبارہ یاد دلا دی ہے—ایک ایسے فائٹر کی جو دنیا کے...
11/05/2026

آج خامزات چیمایف کی فائٹ نے صرف ایک نتیجہ نہیں دیا بلکہ ایک مکمل کہانی دوبارہ یاد دلا دی ہے—ایک ایسے فائٹر کی جو دنیا کے سب سے سخت سفر سے گزرا ہے۔
خامزات چیچنیا میں پیدا ہوئے، ایک ایسا خطہ جہاں حالات ہمیشہ آسان نہیں رہے۔ بچپن میں انہیں عدم استحکام اور سخت ماحول کا سامنا رہا، جس نے ان کے اندر ایک انتہائی مضبوط ذہن اور لڑنے کی عادت پیدا کی۔ بعد میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ سویڈن منتقل ہوئے، اور یہی وہ جگہ تھی جہاں ان کے پروفیشنل کیریئر کی بنیاد پڑی۔
سویڈن میں انہوں نے ریسلنگ سے آغاز کیا اور بہت جلد اپنی غیر معمولی طاقت، رفتار اور aggressive style کی وجہ سے پہچانے جانے لگے۔ کوچز کے مطابق وہ ٹریننگ میں بھی ویسے ہی لڑتے ہیں جیسے فائٹ میں—فل پاور، فل پریشر، کوئی بریک نہیں۔
UFC میں ان کا ڈیبیو ایک "statement" تھا۔ چند ہی سیکنڈز میں فائٹس ختم کرنا، مسلسل دو ویٹ کلاسز میں dominate کرنا اور ہر مخالف پر مکمل کنٹرول دکھانا—اس نے انہیں دنیا کے سب سے خطرناک فائٹرز میں شامل کر دیا۔ اس دور میں سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر ان کی highlights اور documentaries نے انہیں عالمی اسٹار بنا دیا۔
لیکن فائٹ اسپورٹس کی حقیقت یہ ہے کہ جسم کی حدیں ہوتی ہیں۔ رپورٹس اور فائٹ انیلیسس کے مطابق آج کی پرفارمنس میں ایک اہم فیکٹر extreme weight cut اور جسمانی تھکن (fatigue) تھی۔ ایسے حالات میں فائٹر کی explosiveness، reaction time اور endurance متاثر ہو سکتی ہے، جو خامزات کے اسٹائل کا اہم حصہ ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ خامزات کا کیریئر مکمل طور پر smooth نہیں رہا۔ COVID کے بعد انہیں شدید بیماری اور لمبے وقفے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جہاں کئی لوگوں نے ان کے واپس آنے پر سوال اٹھائے۔ لیکن انہوں نے comeback کیا اور دوبارہ ٹاپ لیول پر اپنی جگہ بنائی۔
ان کی فائٹنگ اسٹائل کی خاص بات ان کی wrestling pressure، clinch control اور relentless aggression ہے۔ وہ مخالف کو سانس لینے کا موقع ہی نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی انہیں UFC کے most dangerous fighters میں شمار کیا جاتا ہے، چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو۔
یہ ہار خامزات کے سفر کا اختتام نہیں بلکہ ایک reminder ہے کہ even elite athletes بھی human limits رکھتے ہیں۔ بڑے فائٹرز وہی ہوتے ہیں جو ان حدود کو سمجھ کر evolve کرتے ہیں۔
خامزات چیمایف کا اصل امتحان ابھی ختم نہیں ہوا—یہ صرف ایک chapter ہے۔ اگر تاریخ ان کے بارے میں کچھ بتاتی ہے تو وہ یہ ہے کہ وہ ہار کے بعد پہلے سے زیادہ خطرناک ہو کر واپس آتے ہیں۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ پوری MMA دنیا ان کے next move کا انتظار کرے گی۔ 🖤🥀

انتہائی افسوس اور دکھ کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہمفتی کامران صاحب کے والد صاحب چچا ایوب باٹھوڑ رضائے الٰہی سے انتقال کر ...
06/05/2026

انتہائی افسوس اور دکھ کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ
مفتی کامران صاحب کے والد صاحب چچا ایوب باٹھوڑ رضائے الٰہی سے انتقال کر گئے ہیں۔

انا للہ و انا الیہ راجعون

نمازِ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین 🤲

23/04/2026

زلزلہ دا 🤣🤣


اصول اگر شخصیتوں کے ساتھ بدل جائیں تو پھر وہ اصول نہیں، صرف تعصب رہ جاتا ہے۔کچھ عرصہ پہلے جب عمران خان صاحب نے ریاستِ مد...
22/04/2026

اصول اگر شخصیتوں کے ساتھ بدل جائیں تو پھر وہ اصول نہیں، صرف تعصب رہ جاتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے جب عمران خان صاحب نے ریاستِ مدینہ کی بات کی تھی، تو حضرت مولانا طارق جمیل صاحب نے ان کے لیے خیرخواہی، دعا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی حکمران اچھا دعویٰ کر رہا ہے تو اسے خیر کی طرف بڑھنے کی دعا دی جائے۔
مگر افسوس یہ ہوا کہ اسی وقت بہت سے سیاسی کارکنان اور مخالفین نے مولانا طارق جمیل صاحب کے خلاف سخت، نامناسب اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔ اُس وقت انہیں یہ یاد نہ رہا کہ ایک عالم نے کسی سیاسی جماعت کی نہیں، بلکہ ایک اچھے اعلان کی حمایت کی تھی۔
آج جب حضرت مولانا شیخ ادریس صاحب نے جنرل عاصم منیر صاحب یا حکومتی اقدام کے کسی مثبت پہلو پر اچھے الفاظ کہے، تو وہی لوگ اس عمل کو درست قرار دے رہے ہیں، اور جو لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ “تعریف کے ساتھ حق بات بھی ہونی چاہیے”، اُن پر تنقید کی جا رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ معیار ایک ہوگا یا ہر شخصیت کے لیے الگ الگ؟
اگر عمران خان کے اچھے اعلان پر دعا کرنا درست تھا، تو آج کسی اچھے اقدام کی تعریف بھی درست ہے۔
لیکن اگر اُس وقت علماء کو برا کہنا غلط تھا، تو آج اختلاف کرنے والوں کو خاموش کرانا بھی غلط ہے۔
اور اگر آج تعریف ہو سکتی ہے، تو پھر خیبر پختونخوا، باجوڑ، وزیرستان اور بلوچستان میں ظلم، بدامنی، شہادتوں اور عوامی تکلیف پر حق بات بھی ہونی چاہیے۔
حق یہ ہے کہ: صحیح، صحیح ہوتا ہے، غلط، غلط ہوتا ہے، اور ظلم کے وقت خاموشی کبھی حق نہیں ہوتی۔
ہمیں شخصیات نہیں، اصولوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ علماء کا احترام بھی لازم ہے، مگر حق بات کی یاد دہانی بھی ضروری ہے۔
#پاکستان #انصاف

دین کسی کا محتاج نہیںسوشل میڈیا پر سنگر شاہ سوار خان کی دو تصویریں گردش کر رہی ہیں۔ ایک طرف پگڑی، داڑھی والا تبلیغی روپ،...
18/04/2026

دین کسی کا محتاج نہیں
سوشل میڈیا پر سنگر شاہ سوار خان کی دو تصویریں گردش کر رہی ہیں۔ ایک طرف پگڑی، داڑھی والا تبلیغی روپ، دوسری طرف کلین شیو، چشمہ لگائے گلوکار والا روپ۔ اور ساتھ کیپشن: "بہت اچھا کیا کہ واپس سنگنگ میں چلا گیا"۔

یہ بات تلخ ہے، مگر سچ ہے
جب کوئی شخص دین کا لبادہ اوڑھ لے تو وہ دین پر احسان نہیں کر رہا ہوتا۔ نماز، داڑھی، تبلیغ، یہ سب اپنے لیے ہیں۔ اللہ کو ہماری عبادت کی ضرورت نہیں، ہمیں اللہ کی ضرورت ہے۔

شاہ سوار خان جب تبلیغی بنا تو شکوے شروع ہو گئے: "کوئی سپورٹ نہیں کر رہا، میرے بچے بھوکے ہیں، میں دین کا کام کر رہا ہوں"۔ یہ رویہ ہی غلط تھا۔ دین کا کام کر کے آپ لوگوں پر احسان نہیں جتا سکتے۔ آپ کا رزق اللہ کے ذمے ہے، لوگوں کے ذمے نہیں۔

یہ جملہ ہر اس شخص کو پلے باندھ لینا چاہیے جو بظاہر "دین دار" بنتا ہے۔ مسجد کا مولوی ہو، تبلیغی جماعت کا ساتھی ہو یا کوئی بھی داعی، اگر وہ یہ سمجھے کہ میں دین کی خدمت کر کے دنیا پر احسان کر رہا ہوں تو وہ سب سے بڑی غلط فہمی میں ہے۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سارا مال دین پر لگ گیا، مگر تاریخ میں کہیں نہیں ملتا کہ انہوں نے کسی سے کہا ہو کہ "میرے بچے بھوکے ہیں، میری مدد کرو"۔ صحابہ نے دین کو دیا، دین سے لیا نہیں۔

اگر کوئی شخص دین کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا، گھر کے حالات اجازت نہیں دیتے، یا دل ہی نہیں لگتا تو زبردستی کا "پارسا" بننے سے بہتر ہے کہ اپنا راستہ صاف رکھے۔ داڑھی رکھ کر شکوے کرنے، تبلیغ کا نام لے کر لوگوں کو جذباتی بلیک میل کرنے سے وہ داڑھی اور تبلیغ دونوں کی بدنامی کا باعث بنتا ہے۔

شاہ سوار خان نے داڑھی منڈوا کر واپس گلوکاری شروع کر دی۔ چلو کم از کم منافقت تو ختم ہوئی۔ نہ دین پر احسان، نہ لوگوں پر بوجھ۔ جو ہے، صاف ہے۔

اگر نماز پڑھ کر، داڑھی رکھ کر آپ کو لگے کہ آپ نے دنیا پر احسان کر دیا تو آپ کی نیت میں کھوٹ ہے۔
دین کے کام کے بدلے لوگوں سے سپورٹ مانگنا اور نہ ملنے پر شکوے کرنا، یہ توکل کے خلاف ہے۔ دین کو اتنا سستا نہ بناؤ کہ ہر دوسرا شخص اسے اپنی معاشی مجبوری کا سہارا بنا لے۔

دین غالب تھا، غالب ہے، غالب رہے گا۔ شاہ سوار کے آنے سے دین کو فائدہ نہیں ہوا تھا، جانے سے نقصان نہیں ہوا۔ دین کسی شاہ سوار، کسی مولوی، کسی لیڈر کا محتاج نہیں۔

ہم سب دین کے محتاج ہیں، دین ہمارا محتاج نہیں

فخر زمان نے دوستی کا حق ادا کر دیاپاکستانی کرکٹر Fakhar Zaman ایک بار پھر دل جیت گئے دبئی کے معروف بزنس مین زمزم الیکٹرا...
18/04/2026

فخر زمان نے دوستی کا حق ادا کر دیا
پاکستانی کرکٹر Fakhar Zaman ایک بار پھر دل جیت گئے دبئی کے معروف بزنس مین زمزم الیکٹرانکس کے اونرز نے ایک پوڈکاسٹ میں حیران کن تجربہ کیا انہوں نے اچانک فخر زمان کو کال کر کے کہا ہمیں ابھی اسی وقت 1 کروڑ روپے چاہیےاور پھر جو ہوا وہ سب کو حیران کر گیا!
رات کے 1 بجے فخر زمان نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہا:
"بس اکاؤنٹ نمبر سینڈ کریں یہ صرف ایک ایکسپیریمنٹ تھا مگر فخر زمان نے ثابت کر دیا کہ وہ صرف میدان کے ہیرو نہیں بلکہ دوستی میں بھی سچے انسان ہیں
واقعی ایسے دوست نصیب والوں کو ملتے ہیں آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا آج کے دور میں ایسی دوستی ممکن ہے؟

12/04/2026

ایران اور امریکہ کے مذاکرات کی ویڈیو سامنے اگئی 😂😂😂😂

#امریکہ
#ایران
#مذاکرات

20/03/2026

زما له طرفه ټولو مسافرو ته اختر مبارک 💖

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fayaz Mehsood posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share