05/08/2025
یہ تصویر کسی فلم کا منظر نہیں یہ ایک حقیقی ہسپتال کی راہداری ہے، جہاں زندگی کی سب سے بڑی بے بسی، سب سے اونچی آواز میں چیخ بن کر گونج رہی تھی۔
ایک خاتون —کینسر کی آخری اسٹیج کی مریضہ، ہاتھ میں نوٹوں سے بھرا بیگ لیے،دوڑتی ہوئی ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوئی اور لرزتی ہوئی آواز میں کہا: "یہ سب لے لو... بس مجھے بچا لو!"
ڈاکٹر کی خاموشی اور آنکھوں میں پھیلی بے بسی نے اُس لمحے سب کچھ کہہ دیا, "افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے، بیماری اپنی آخری حد پر ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے"
وہ عورت زمین پر بیٹھ گئی، غصے اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ نوٹوں سے بھرا بیگ راہداری میں اچھال دیا اور پھر وہ سوال، جو صرف زبان سے نہیں بلکہ دل کے اندر سے چیخا گیا: "کیا فائدہ اس دولت کا جب یہ نہ وقت خرید سکتی ہے، نہ سکون، نہ سانسیں، نہ زندگی؟"
ہم ساری زندگی اُن چیزوں کے پیچھے بھاگتے ہیں جن کا ساتھ آخری سانس پر چھوٹ جاتا ہے جبکہ وہ رشتے، وہ وقت، وہ لمس جنہیں ہم معمولی سمجھتے ہیں درحقیقت وہی ہماری اصل دولت ہوتے ہیں۔
آج کسی زندہ شخص کا ہاتھ تھام لو کسی تھکے چہرے پر مسکراہٹ کا سبب بن جاؤ، کسی ضرورت مند کی ضرورت بن جاؤ، کیونکہ کل یہی رشتے، یہی لمحے،
خواب بن کر تڑپائیں گے اور نوٹ؟ وہ صرف راہداریوں میں بکھرتے رہیں گے۔