Chic Zedd Super Store

Chic Zedd Super Store Welcome to our online store! We bring you a wide range of quality products at affordable prices, delivered right to your doorstep.

Shop easily, save time, and enjoy a smooth shopping experience with us.

⚽ سب کی سانسیں رکی ھوئی ھیں۔ سب نظریں صرف فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 پر مرکوز ھیں۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا ورلڈ کپ بننے جا رہ...
29/05/2026

⚽ سب کی سانسیں رکی ھوئی ھیں۔ سب نظریں صرف فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 پر مرکوز ھیں۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا ورلڈ کپ بننے جا رہا ہے ⚽

فٹبال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے، اور جب بات فیفا فٹبال ورلڈ کپ کی ھو تو دنیا بھر کے کروڑوں شائقین کی دھڑکنیں تیز ہونا فطری بات ہے۔ 2026 کا ورلڈ کپ کئی حوالوں سے تاریخی ہونے جا رہا ہے کیونکہ پہلی بار یہ ٹورنامنٹ تین ممالک امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں بیک وقت منعقد ہوگا، جبکہ پہلی مرتبہ 48 ٹیمیں اس عالمی مقابلے میں حصہ لیں گی۔

یہ عظیم ٹورنامنٹ 11 جون 2026 سے شروع ہوگا اور 19 جولائی 2026 تک جاری رہے گا۔ مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ فٹبال کے شائقین کو تقریباً ڈیڑھ ماہ تک مسلسل سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔

ورلڈ کپ کا افتتاحی میچ دنیا کے مشہور اور تاریخی اسٹیڈیم Mexico City Stadium (Estadio Azteca) میں کھیلا جائے گا۔ میزبان ملک میکسیکو اپنی مہم کا آغاز اسی میدان میں کرے گا، اور یہ اسٹیڈیم تاریخ میں پہلی بار تین مختلف FIFA World Cups کے افتتاحی میچز کی میزبانی کرنے والا میدان بن جائے گا۔ افتتاحی مقابلے میں میکسیکو اور جنوبی افریقہ آمنے سامنے ہوں گے، جس کا دنیا بھر کے شائقین بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

فٹبال کے اس میلے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے مختلف شہروں میں جدید ترین اسٹیڈیمز استعمال کیے جائیں گے۔ لاس اینجلس، نیویارک، میامی، ڈلاس، ٹورنٹو، وینکوور، مونٹریال، گوادالاخارا اور دیگر بڑے شہر دنیا بھر سے آنے والے شائقین کا استقبال کریں گے۔

جیسے جیسے ٹورنامنٹ آگے بڑھے گا، مقابلے مزید سخت اور دلچسپ ہوتے جائیں گے۔ عالمی طاقتیں جیسے Argentina، Brazil، France، Germany، England اور Spain ٹرافی جیتنے کے لیے میدان میں اتریں گی، جبکہ کئی نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیمیں بھی دنیا کو حیران کرنے کی کوشش کریں گی۔

ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا لمحہ 19 جولائی 2026 کو آئے گا، جب فائنل امریکہ کے مشہور New York New Jersey Stadium (MetLife Stadium) میں کھیلا جائے گا۔ اسی میدان میں دنیا کی دو بہترین ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی اور فیصلہ ہوگا کہ اگلے چار سال کے لیے فٹبال کی دنیا کا بادشاہ کون بنے گا۔

FIFA World Cup 2026 صرف ایک کھیل نہیں بلکہ مختلف قوموں، ثقافتوں اور جذبات کا عالمی جشن ہوگا۔ دنیا بھر کے اربوں لوگ ایک ہی جذبے کے تحت متحد ہوں گے، اور یہی چیز فٹبال کو دنیا کا سب سے
مقبول کھیل بناتی ہے۔

کچھ آوازیں صرف سنی نہیں جاتیں… وہ سیدھا دل پر اثر کرتی ہیں، اور بسما مہرا کی آواز بھی انہی میں سے ایک ہے.آج کے دور میں ج...
25/05/2026

کچھ آوازیں صرف سنی نہیں جاتیں… وہ سیدھا دل پر اثر کرتی ہیں، اور بسما مہرا کی آواز بھی انہی میں سے ایک ہے.

آج کے دور میں جہاں ہر روز نئے گانے اور نئے چہرے سامنے آتے ہیں، وہاں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی آواز سے لوگوں کے دلوں میں مستقل جگہ بنا لیتے ہیں۔ بسما مہرا بھی انہی چند فنکاروں میں شامل ہوتی جا رہی ہیں جن کی آواز میں درد بھی ہے، مٹھاس بھی اور ایک عجیب سا سکون بھی۔
بسما مہرا کی گائیکی کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ صرف گانا نہیں گاتیں بلکہ ہر لفظ کو محسوس کروا دیتی ہیں۔ جب وہ کوئی اداس گانا گاتی ہیں تو سننے والا خود کو اس کہانی کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے، اور جب وہ خوشی یا محبت کے جذبات کو آواز دیتی ہیں تو ماحول ہی بدل جاتا ہے۔ یہی ایک حقیقی سنگر کی پہچان ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں بہت سے لوگ چند دنوں کے لیے وائرل ہوتے ہیں، لیکن اصل کامیابی اُس فنکار کی ہوتی ہے جو لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائے۔ بسما مہرا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت یہ ثابت کرتی ہے کہ لوگ آج بھی اچھی آواز، سچے جذبات اور خوبصورت انداز کو پسند کرتے ہیں۔
ان کی شخصیت میں سادگی اور اعتماد دونوں نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل خاص طور پر ان کی طرف متوجہ ہو رہی ہے۔ ان کے گانوں میں جدید موسیقی کے ساتھ مشرقی انداز کی جھلک بھی ملتی ہے، جو انہیں دوسرے سنگرز سے منفرد بناتی ہے۔
ایک اچھی آواز صرف تفریح نہیں دیتی بلکہ لوگوں کے جذبات کی ترجمانی بھی کرتی ہے۔ بسما مہرا کی آواز میں بھی وہی طاقت محسوس ہوتی ہے جو کسی عام گانے کو یادگار بنا دیتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے مداحوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور لوگ ان کے نئے گانوں کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔
آج پاکستانی میوزک انڈسٹری کو ایسے نئے ٹیلنٹ کی ضرورت ہے جو صرف شہرت کے لیے نہیں بلکہ حقیقی فن کے لیے کام کریں۔ بسما مہرا انہی ابھرتے ہوئے ناموں میں شامل نظر آتی ہیں جو مستقبل میں موسیقی کی دنیا میں بڑی جگہ بنا سکتی ہیں۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اگر محنت، لگن اور منفرد انداز اسی طرح برقرار رہا تو آنے والے وقت میں بسما مہرا پاکستان کی نمایاں آوازوں میں شمار ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ کچھ آوازیں صرف کانوں تک نہیں رہتیں… وہ دلوں میں گھر بنا لیتی ہیں۔

“ایران اور امریکہ معاہدے کے قریب تھے… مگر اچانک ابراہم اکارڈز کا معاملہ کہاں سے آگیا؟”یہ سوال آج صرف مشرقِ وسطیٰ نہیں بل...
25/05/2026

“ایران اور امریکہ معاہدے کے قریب تھے… مگر اچانک ابراہم اکارڈز کا معاملہ کہاں سے آگیا؟”

یہ سوال آج صرف مشرقِ وسطیٰ نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا میں زیرِ بحث ہے۔ ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات، جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کی باتیں ہو رہی تھیں، جبکہ دوسری طرف اچانک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مطالبات دوبارہ سامنے آگئے۔ آخر یہ نیا کھیل کیا ہے؟
اطلاعات کے مطابق امریکہ ایران کے ساتھ ایک بڑے معاہدے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جائے، تیل کی سپلائی محفوظ بنائی جائے اور ایک نئی جنگ کو روکا جائے۔ لیکن اسی دوران واشنگٹن نے سعودی عرب، قطر، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک پر زور دینا شروع کردیا کہ وہ “ابراہم اکارڈز” کا حصہ بنیں اور اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں۔
یہیں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔
امریکہ کی حکمتِ عملی یہ دکھائی دیتی ہے کہ اگر ایک طرف ایران کے ساتھ ڈیل ہوجائے اور دوسری طرف عرب و مسلم ممالک اسرائیل کو قبول کرلیں، تو مشرقِ وسطیٰ کا پورا طاقت کا توازن ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔ یعنی ایران کو محدود ریلیف بھی مل جائے اور اسرائیل کو پورے خطے میں مکمل سفارتی قبولیت بھی حاصل ہوجائے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ:
کیا پاکستان، سعودی عرب اور قطر امریکہ کا یہ مطالبہ مان لیں گے؟
سعودی عرب بارہا واضح کرچکا ہے کہ فلسطینی ریاست کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنا آسان نہیں۔ ریاض پر اپنی عوام اور عالمِ اسلام دونوں کا دباؤ موجود ہے۔ قطر بھی غزہ اور حماس کے معاملے پر حساس پوزیشن رکھتا ہے، جبکہ پاکستان کا مؤقف تو دہائیوں سے بالکل واضح ہے کہ:
“فلسطین کے مسئلے کے حل کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔”
اسی وجہ سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران ڈیل کو ابراہم اکارڈز کے ساتھ جوڑ کر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ جو مذاکرات صرف نیوکلیئر پروگرام یا پابندیوں تک محدود رہ سکتے تھے، اب ان میں فلسطین، اسرائیل، عرب سیاست اور عوامی جذبات بھی شامل ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ جانتا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی اور خلیجی اتحاد اس کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کا اہم حصہ ہیں۔ اسی لیے واشنگٹن ایک ہی وقت میں ایران کو کنٹرول بھی کرنا چاہتا ہے اور اسرائیل کو خطے میں مکمل قبولیت بھی دلوانا چاہتا ہے۔
مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ غزہ کی تباہی کے بعد مسلم دنیا میں جذبات پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوچکے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی مسلم حکومت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی طرف بڑھتی ہے تو اسے اپنے ہی عوام کے سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکہ اپنی سفارتی حکمتِ عملی میں کامیاب ہوتا ہے…
یا پھر ایران معاہدہ اور ابراہم اکارڈز دونوں ایک دوسرے کے لیے رکاوٹ بن جائیں گے۔
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اب ہر دن ایک نیا موڑ آرہا ہے… اور لگتا ہے کہ اصل کھیل ابھی شروع ہوا ہے۔

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے اس "انوکھے" بیان کو جس نے بھی پڑھا، وہ حیرت زدہ رہ گیا۔ پاکستان کے عوامی مسائل کی فہرست...
11/05/2026

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے اس "انوکھے" بیان کو جس نے بھی پڑھا، وہ حیرت زدہ رہ گیا۔ پاکستان کے عوامی مسائل کی فہرست طویل ہے، لیکن ہماری حکومت کے پاس ان مسائل کے جو "تخلیقی" حل ہوتے ہیں، وہ کبھی کبھی عقل کو دنگ کر دیتے ہیں۔ وفاقی وزیر توانائی کا یہ شاھکار بیان کہ "بجلی اتنی سستی کرنے جا رہے ہیں کہ لوگ اسے بیٹری میں محفوظ کر کے رات کو استعمال کر سکیں گے"، بھت زیر بحث ھے۔

دیکھا جائے تو زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس اور کافی تلخ ہیں۔​​ وزیر صاحب جس "سستی بجلی" کی نوید سنا رہے ہیں، وہ فی الوقت تو کہیں نظر نہیں آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے بجلی کا بل اب کرائے کے گھر سے بھی زیادہ بوجھ بن چکا ہے۔ نیپرا (NEPRA) کی جانب سے آئے روز فی یونٹ قیمتوں میں اضافہ، فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر اضافی وصولیاں اور بھاری ٹیکسوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ جب عام آدمی کے لیے پنکھا چلانا محال ہو، وہاں "بیٹریوں میں بجلی بھرنے" کی باتیں کسی بھدے مذاق سے کم نہیں۔

​پاکستان کے پاور سیکٹر کی سب سے بڑی ناکامی وہ معاہدے ہیں جو نجی بجلی گھروں (IPPs) کے ساتھ کیے گئے۔ ہم بجلی پیدا کریں یا نہ کریں، ان کمپنیوں کو اربوں روپے کی "کیپیسٹی پیمنٹس" ادا کرنی پڑتی ہیں۔ حکومت کی غلط منصوبہ بندی کا خمیازہ عوام بھاری ٹیرف کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ سولر پینلز پر نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے بدلتی پالیسیوں نے تو پہلے ہی عوام کو تذبذب میں ڈال رکھا ہے، اب رات کے وقت بیٹری کے استعمال کا مشورہ دے کر شاید وزیر صاحب یہ بھول گئے ہیں کہ ان بیٹریوں اور انورٹرز کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔

​ایک طرف دعوے ہیں کہ بجلی وافر مقدار میں موجود ہے، اور دوسری طرف دیہی و شہری علاقوں میں گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ ٹرانسمیشن لائنوں کی ابتر صورتحال اور بجلی کی چوری روکنے میں ناکامی کا بوجھ بھی ان لوگوں پر ڈالا جاتا ہے جو ایمانداری سے بل بھرتے ہیں۔ وزیر صاحب کا یہ بیان کہ "لوگ رات کو بیٹری سے بجلی استعمال کریں گے"، دراصل اپنی ناکامی کا اعتراف ہے کہ حکومت رات کے اوقات میں سستی اور بلا تعطل بجلی فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

​عوام کو اب کھوکھلے نعروں اور غیر حقیقت پسندانہ خیالات کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی کی جائے، آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں پر نظر ثانی ہو اور عوام کو براہِ راست ریلیف دیا جائے۔ بیٹریوں میں بجلی جمع کرنے کا مشورہ دینے کے بجائے حکومت ایسی پالیسیاں لائے، جس سے غریب کا گھر روشن ہو سکے، نہ کہ اس کا دیوالیہ نکل جائے۔

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ طاقت، مفادات اور بدلتے اتحادوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ حالیہ منظرنامے میں متحدہ عرب امارات کا ر...
04/05/2026

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ طاقت، مفادات اور بدلتے اتحادوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ حالیہ منظرنامے میں متحدہ عرب امارات کا رویہ واقعی مختلف اور کچھ حد تک چونکا دینے والا محسوس ہوتا ہے—خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ تناؤ، اوپیک کے معاملات میں اختلاف، اور اسرائیل کے ساتھ قربت کے تناظر میں۔ لیکن اگر اس صورتحال کو گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ اچانک تبدیلی نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے اسٹریٹجک راستے کا حصہ لگتی ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ UAE اب صرف ایک تیل برآمد کرنے والا ملک نہیں رہا، بلکہ وہ خود کو ایک عالمی بزنس، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کا مرکز بنانا چاہتا ہے۔ دبئی اور ابوظہبی نے گزشتہ دہائی میں اپنی معیشت کو متنوع (diversify) کرنے پر بہت زور دیا ہے۔ ایسے میں روایتی تیل پالیسیوں، خاص طور پر اوپیک کی پیداوار محدود کرنے والی حکمتِ عملی، سے اختلاف ایک حد تک فطری بن جاتا ہے۔ UAE چاہتا ہے کہ وہ زیادہ تیل پیدا کرے اور اپنی آمدنی کو مزید بڑھائے، جبکہ سعودی عرب اکثر مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے پیداوار کم کرنے پر زور دیتا ہے۔ یہی مفادات کا ٹکراؤ دونوں ممالک کے درمیان “محاذ آرائی” کا تاثر پیدا کرتا ہے۔
جہاں تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا سوال ہے، UAE نے ابراہام معاہدے کے تحت ایک نیا راستہ اختیار کیا۔ اس فیصلے کے پیچھے کئی عوامل ہیں: جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، دفاعی تعاون، اور امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کے تناظر میں بھی UAE اپنے لیے نئے اتحادی تلاش کر رہا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اسی بڑی تصویر کا حصہ ہیں، جہاں سلامتی اور معیشت دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا UAE صحیح کر رہا ہے یا غلط؟ اس کا جواب اتنا سادہ نہیں۔ اگر UAE کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو وہ اپنے قومی مفاد کو ترجیح دے رہا ہے۔ عالمی سیاست میں یہی اصول سب سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ وہ اپنی معیشت کو مضبوط، اپنی سکیورٹی کو بہتر اور عالمی سطح پر اپنا اثر بڑھانا چاہتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کی پالیسی “عملی” (pragmatic) نظر آتی ہے۔
لیکن دوسری طرف، اس حکمتِ عملی کے نقصانات بھی ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی خلیجی اتحاد کو کمزور کر سکتی ہے، جبکہ اسرائیل کے ساتھ کھلے تعلقات خطے میں عوامی سطح پر تنقید کا باعث بنتے ہیں، خاص طور پر فلسطین کے مسئلے کی وجہ سے۔ مزید یہ کہ اوپیک سے اختلاف عالمی تیل مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا سکتا ہے۔
آخرکار، UAE ایک نیا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے—ایک ایسا ملک جو صرف علاقائی سیاست کا حصہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ براہِ راست کھیلنا چاہتا ہے۔ یہ راستہ مواقع سے بھرا ہوا ہے، لیکن خطرات سے خالی نہیں۔ آنے والے سالوں میں یہ واضح ہوگا کہ یہ “جُرات مندانہ حکمتِ عملی” UAE کو مزید مضبوط بناتی ہے یا اسے نئے تنازعات میں الجھا دیتی ہے۔



















پاکستان سپر لیگ کا فائنل ہمیشہ سے ہی جوش، جذبے اور غیر یقینی صورتحال کا امتزاج ہوتا ہے، لیکن اس بار پشاور زلمی کی جیت نے...
04/05/2026

پاکستان سپر لیگ کا فائنل ہمیشہ سے ہی جوش، جذبے اور غیر یقینی صورتحال کا امتزاج ہوتا ہے، لیکن اس بار پشاور زلمی کی جیت نے اس ایونٹ کو یادگار بنا دیا۔ حیدرآباد کے خلاف یہ مقابلہ صرف ایک میچ نہیں تھا بلکہ حکمتِ عملی، دباؤ اور اعصاب کا اصل امتحان تھا۔
میچ کے آغاز سے ہی پشاور کی ٹیم ایک واضح منصوبے کے ساتھ میدان میں اتری۔ ان کی بیٹنگ لائن نے محتاط لیکن پراعتماد کھیل پیش کیا۔ اوپنرز نے اچھی بنیاد رکھی، جس کے بعد مڈل آرڈر نے ذمہ داری کے ساتھ اسکور کو آگے بڑھایا۔ خاص بات یہ تھی کہ کسی ایک کھلاڑی پر انحصار نہیں کیا گیا بلکہ پوری ٹیم نے مل کر پرفارم کیا، جو کسی بھی چیمپئن ٹیم کی پہچان ہوتی ہے۔
دوسری جانب حیدرآباد کی ٹیم نے بھی ہمت نہیں ہاری۔ ان کے بولرز نے شروع میں اچھا دباؤ ڈالا اور چند اہم وکٹیں حاصل کیں، لیکن وہ پشاور کے بلے بازوں کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہے۔ فیلڈنگ میں بھی چند معمولی غلطیاں ہوئیں، جو ایسے بڑے میچ میں بہت مہنگی ثابت ہوتی ہیں۔
جب حیدرآباد بیٹنگ کے لیے آئی تو آغاز کچھ خاص نہیں تھا۔ ابتدائی وکٹیں جلد گرنے سے ٹیم دباؤ میں آ گئی۔ اگرچہ مڈل آرڈر نے مزاحمت کی اور میچ کو دلچسپ بنانے کی کوشش کی، لیکن پشاور کے بولرز نے نہایت سمجھداری سے لائن اور لینتھ برقرار رکھی۔ خاص طور پر ڈیتھ اوورز میں ان کی بولنگ نے حیدرآباد کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
یہ جیت صرف ایک ٹرافی حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ٹیم ایفورٹ کا نتیجہ ہے۔ کپتان کی بہترین قیادت، کوچنگ اسٹاف کی حکمت عملی اور کھلاڑیوں کی محنت سب کچھ اس کامیابی میں شامل ہے۔ پشاور نے ثابت کیا کہ اگر ٹیم ورک مضبوط ہو تو بڑے سے بڑا حریف بھی شکست کھا سکتا ہے۔
شائقین کے لیے یہ فائنل کسی سنسنی خیز فلم سے کم نہیں تھا۔ ہر اوور کے ساتھ میچ کا رخ بدلتا محسوس ہوتا تھا، لیکن آخرکار پشاور نے اپنے اعصاب مضبوط رکھتے ہوئے میدان مار لیا۔ اس جیت نے نہ صرف ٹیم کے حوصلے بلند کیے بلکہ لیگ کی مقبولیت میں بھی اضافہ کیا۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ فائنل پاکستان سپر لیگ کی تاریخ کے یادگار مقابلوں میں شمار کیا جائے گا۔ پشاور کی یہ فتح آنے والے سیزنز کے لیے ایک معیار قائم کرتی ہے، جبکہ حیدرآباد کے لیے یہ ایک سبق ہے کہ چھوٹی غلطیاں بھی بڑے میچز کا نتیجہ بدل سکتی ہیں۔



















سولر کیوں لگارھے ھو۔ پہلے حکومت سے لائسنس تو لو اور فیس تو بھرو۔ پھر آگے بڑھو۔ پہلے تو یہ خبریں سوشل میڈیا میں آررہی تھی...
24/04/2026

سولر کیوں لگارھے ھو۔ پہلے حکومت سے لائسنس تو لو اور فیس تو بھرو۔ پھر آگے بڑھو۔

پہلے تو یہ خبریں سوشل میڈیا میں آررہی تھیں اور اب مین اسٹریم میڈیا بھی ان خبروں کی تصدیق کررھا کہ پاکستان میں سولر صارفین کو لائسنس حاصل کرنا پڑے گا اور فیس بھی ادا کرنی ھوگی۔
یہ تو سراسر ظلم اور زیادتی ھے کہ اپنے پیسوں سے سولر لگوائیں اور سورج سے بجلی بنائیں اور ٹیکس حکومت کو دیں، یہ ظلم نہیں تو اور کیا ھے۔ پاکستان میں حکومت لوگوں کو کوئی سھولت یا رعایت دینے میں تو ناکام ھوچکی ھے۔ الثا سینکڑوں مختلف ٹیکسوں کی مد میں لوگوں کی جیبوں سے پیسے نکالے جارھے ھیں۔ لوگ بھی بیحس ھوچکے ھیں، یا پھر بھت ہی بھولے ھیں۔ احتجاج کرنے کے بجائے لائنوں میں کھڑے ھوکر ٹیکس اور جرمانے بھررے ھیں۔
یہ ایران اور امریکا میں جنگ کیا لگی ھے، حکمرانوں کی موجیں لگ گئی ھیں۔ مختلف طریقوں سے عوام سے پیسے بٹورے جاررھے ھیں۔ خود تو طیاروں، ھیلیکاپٹروں اور چالیس چالیس گاڑیوں کے قافلے لے کر گھوم رھے ھیں اور لوگوں کو کھہ رھے ھیں کہ بچت کرو۔
پاکستان شاید وہ واحد ملک ھے جھاں ٹیکس تو لیے جاتے ھیں لیکن سھولت کوئی نہیں ملتی۔ تعلیم حاصل کرنی ھے تو پرائیوٹ اسکولوں میں جائو۔ بیمار ھو جائو تو علاج خود کروائو۔ پانی چاھیے تو ٹینکر منگوائو۔ بجلی چاھیے تو سولر لگائو اور اس پر بھی ٹیکس دو۔
یہ جو نیا سولر ٹیکس لگایا گیا ھے یہ کن صارفیں کو بھرنا ھوگا۔ یہ ابھی بات کافی حد تک مبھم ھے۔ حکومت کا کھنا ھے کہ آن گرڈ صارفین کو لائسنس لینا پڑے گا اور ایک ھزار کلو واٹ کے حساب سے ھزار روپے ٹیکس دینا ھوگا، مطلب اگر آپ نے چھ کلو واٹ کا سسٹم لگایا ھے تو چھ ھزار روپے جگا ٹیکس لگے گا۔ اب یہ بھی صحیح طرح سے معلوم نہیں کہ یہ ٹیکس ماھانہ دینا ھوگا یا سالانہ۔
بات بلکل عیاں ھے کہ لوگوں کو مجبور کیا جائے کہ سولر نہ لگائیں بلکہ حکومت سے مہنگے داموں بجلی خریدیں اور بڑے بڑے بل اور جرمانے بھرتے رھیں تاکہ حکمران موج کرتے رھیں۔
آپ ذرا غور کریں تو مہنگی بجلی کی وجہ سے صنعتیں تباھ ھوگئیں۔ ٹیکسوں کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ کا کاروبار تباھ ھوگیا۔ گاڑیوں پر ٹیکسوں کی وجہ سے شورومس والے تباھ حال ھیں۔ مطلب ھر چیز پر حکومت کا کچھ نہ کچھ حصا ضرور ھوتا ھے۔ اب تو کچھ بچا ہی نہیں، جس پر ٹیکس نہ لگایا۔
جو صورتحال لگ رہی اس میں تو ھوسکتا ھے کہ سانس لینے پر بھی ٹیکس لگ جائے۔ بس اب تو حالات بس سے باھر ھیں، اللہ رحم کرے۔

19/04/2026

Hindu Wife of JD Vance

06/04/2026

بھت ہی غیر معمولی حالات ھیں، ایک طرف تو جنگ جاری ھے، دوسری طرف پاکستان میں مذاکرات کی تیاریاں مکمل ھیں۔امریکہ میں ٹرمپ ک...
29/03/2026

بھت ہی غیر معمولی حالات ھیں، ایک طرف تو جنگ جاری ھے، دوسری طرف پاکستان میں مذاکرات کی تیاریاں مکمل ھیں۔
امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف بھت ہی بڑے مظاھرے ھوئے ھیں۔ مختلف ماھرین یہ خدشہ ظاھر کررھے ھیں کہ ٹرمپ ایک طرف تو مذاکرات کا ڈرامہ کررھا ھے۔ لیکن اصل میں وہ ایران کے خلاف ایک بھت بڑی کاروائی کرنے جارھا ھے اور ھوسکتا ھے کہ وہ ایران میں اپنے ٹروپس کو اتارنے کی کوشش کرے۔ بھرحال یہ تو آگے چل کر معلوم ھوگا کہ کیا صورتحال بنتی ھے۔ ٹرمپ پر بھت زیادہ پریشر ھے اور وہ اس جنگ میں بری طرح پھنس چکا ھے۔
ٹرمپ کے خلاف، امریکا کی تاریخ کے سب سے بڑے مظاھرے ھوئے ھیں، امریکہ کے لوگ بھی ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ھوچکے ھیں ۔
پاکستان اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ھوا ھے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراء خارجہ اسلام آباد پہنچ چکے ھیں۔ کہا یہ جارھا ھے کہ نائب صدر جے ڈی وینز یا مارک روبیو بھی پاکستان آئیں گے اور ایران کے وزیر خارجہ اور اسپیکر بھی ھوسکتا ھے کہ پاکستان پہنچ کر مذاکرات میں شرکت کریں۔
امریکہ کسی طرح سے اس جنگ سے جان چھڑانا چارھا ھے، دوسری طرف ایران ان مذاکرات میں اپنی شرائط منوانے کی کوشش کرے گا۔ اگر ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ھے تو صورتحال بھت سنگین ھوجائے گی، انرجی کرائسس پہلے ہی شروع ھوچکا ھے، کھانے پینے کی اشیاء کی بھی قلت ھوچکی ھے، مھنگائی بھی بڑھ رھی ھے، پوری دنیا کو اس جنگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ھے، خدا کرے کہ کوئی ایسی صورت نکل آئے کہ یہ جنگ جلد از جلد ختم ھو۔ اسرائیل کے مکروھ عزائم اور ٹرمپ کے پاگل پن نے دنیا کو تباھی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ھے۔

Address

Karachi
75000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chic Zedd Super Store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share