ARS Digital

ARS Digital ARS DIGITAL:
ARS DIGITAL is a dynamic social media channel delivering fresh, engaging, and high-quality content every day. Follow ARS Digital

What We Do:
Entertainment Shows –Comedy Programs. 🎤 Podcasts-Creative Content – Short films, storytelling.

01/03/2026

انا للہ وانا اليہ راجعون 😭

خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکا اور اسرائیل نے ایران پر
بحری اور فضائی حملے کیے جن میں 201 ایرانی شہری شہید اور 747 زخمی ہو گئے تاہم اب ایرانی سرکاری میڈیا نے خامنہ ای کی شہادت کی بھی تصدیق کردی۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہو گئے، ایرانی میڈیاانالله وانااليه راجعون💔😭
01/03/2026

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہو گئے، ایرانی میڈیا
انالله وانااليه راجعون💔😭

23/02/2026

سنڌي نعتيه شاعرن جي سرتاج حاجي غلام نبي مھيسر رح جو پسنديدا ڪلام نعت خوان محمد اسماعيل حسيني پڙھندي.
مڪمل پوڊڪاسٽ تمام جلد يوٽيوب تي اپلوڊ ڪيو ويندو.

22/02/2026

محمد اسماعيل چانڊيو حسيني پنھنجي مرشد قمبر واري سائين رح جي اڳيان زندگي جي سڀ کان پھريان ڪھڙي نعت پڙھي؟
تمام جلد مڪمل پوڊڪاسٽ اپلوڊ ڪيو ويندو.

22/02/2026

گیس سیلینڈر یہ مشین آخر ہمارے لوگ کیوں نہیں خیال کرتے گیس استعمال کرنے میں کیوں یہ پریشر بڑھانے گھٹیا قسم کے چائینا کے ائیر پمپ لگاتے ہیں 😭
نارتھ ناظم آباد فائیو اسٹار کے پاس ہائی رائز بلڈ گے کی بالائی منزل میں سحری کے وقت دھماکے کے ساتھ خطرناک آگ لگ گئی😭 اللہ پاک رحم فرمائے آمین یارب العالمین

رمضان کا چاند نظر آگیا۔ تمام اہل اسلام کو رمضاں مبارک ہو۔
18/02/2026

رمضان کا چاند نظر آگیا۔
تمام اہل اسلام کو رمضاں مبارک ہو۔

13/02/2026

ڪراچي: سپر ھاءِ وي تي حادثو، عورت سميت نو ڄڻا فوت
ڪيترائي زخمي

سندھ میں رھنے والے گجراتیوں ' راجستھانیوں اور مراٹھیوں کو خواہ مخواہ مھاجر بنا دیا گیا ھے تحریر: ڈاکٹر مسعود طارقتاریخ: ...
11/02/2026

سندھ میں رھنے والے گجراتیوں ' راجستھانیوں اور مراٹھیوں کو خواہ مخواہ مھاجر بنا دیا گیا ھے

تحریر: ڈاکٹر مسعود طارق
تاریخ: 11 فروری 2026

سندھ کی سماجی اور سیاسی تاریخ میں ایک بڑی غلط فہمی، بلکہ دانستہ طور پر پیدا کی گئی غلط شناخت یہ ھے کہ سندھ میں رھنے والے گجراتیوں ' راجستھانیوں اور مراٹھیوں کو “مھاجر” قرار دے دیا گیا ھے۔ یہ نہ صرف تاریخی حقائق کے منافی ھے بلکہ سندھ کے سماجی توازن اور سندھ میں قوموں کے آپس میں تعلقات کو بگاڑنے کا ایک بڑا سبب بھی ھے۔

اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ھمیں 1846 کی طرف جانا ھوگا۔ جب انگریز نے سندھ کو فتح کرنے کے بعد بمبئی پریذیڈنسی کا حصہ بنا دیا تھا۔ 1846 سے لے کر 1936 تک سندھ ' بمبئی پریذیڈنسی کے اندر ایک صوبہ نہیں بلکہ ایک انتظامی خطہ تھا۔ جس میں موجودہ سندھ ' گجرات ' راجستھان اور مھاراشٹر کے مختلف علاقے شامل تھے۔ اس پورے خطے میں سندھی ' گجراتی ' راجستھانی اور مراٹھی لوگ نہ صرف ایک ھی انتظامی ڈھانچے میں رھتے تھے بلکہ سماجی ' معاشی اور تجارتی سطح پر بھی ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ھوئے تھے۔

بمبئی پریذیڈنسی کے دور میں ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں نقل مکانی کوئی غیر معمولی عمل نہیں تھا۔ تاجر ' کاریگر ' صنعت کار ' سرکاری ملازمین اور محنت کش طبقہ سندھ ' گجرات ' راجستھان اور مھاراشٹر کے درمیان آتا جاتا رھتا تھا۔ کراچی ' حیدرآباد ' ٹھٹھہ اور سکھر جیسے شھر گجراتی ' راجستھانی اور مراٹھی تاجروں اور صنعت کاروں کے اھم مراکز تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے بمبئی اور احمد آباد میں سندھی تاجروں کی نمایاں موجودگی تھی۔

اھم بات یہ ھے کہ ان تمام قوموں کی زبان اردو نہیں تھی اور نہ ھی ان کی ثقافت گنگا جمنا تہذیب سے تعلق رکھتی تھی۔ سندھیوں کی اپنی قدیم زبان' ثقافت اور تہذیب تھی۔ گجراتیوں کی اپنی زبان ' لوک روایت اور تجارتی ثقافت تھی۔ راجستھانیوں اور مراٹھیوں کی اپنی اپنی الگ تاریخ ' سماجی ڈھانچہ اور ثقافتی شناخت تھی۔ ان سب کو ایک ھی لسانی یا ثقافتی خانے میں رکھنا تاریخی ناانصافی ھے۔

پاکستان کے قیام کے بعد اصل مھاجر وہ تھے جو یوپی اور سی پی سے نقل مکانی کرکے آئے۔ جن کی نہ سندھ میں زمین تھی۔ نہ قبائلی یا علاقائی بنیاد اور نہ ھی وہ بمبئی پریذیڈنسی کے تاریخی و انتظامی تسلسل کا حصہ تھے۔ اس کے برعکس سندھ میں رھنے والے گجراتی ' راجستھانی اور مراٹھی کئی دھائیوں بلکہ بعض صورتوں میں ایک صدی سے زیادہ عرصے سے اسی خطے میں آباد تھے۔

اس کے باوجود مھاجر قومی موومنٹ (MQM) کے سیاسی بیانیے میں گجراتیوں ' راجستھانیوں اور مراٹھیوں کو زبردستی “مھاجر” بنا دیا گیا۔ درحقیقت MQM بنیادی طور پر یوپی اور سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی سیاسی جماعت ھے۔ جس نے اپنی عددی کمزوری کو پورا کرنے کے لیے گجراتیوں ' راجستھانیوں اور مراٹھیوں کو مھاجر شناخت کے تحت استعمال کیا۔

دلچسپ حقیقت یہ ھے کہ MQM کے قیام سے پہلے یوپی اور سی پی کے اردو بولنے والے خود کو ھندوستانی کہتے تھے۔ گجراتیوں ' راجستھانیوں اور مراٹھیوں کے ساتھ ھوتے تو “مھاجر” بن جاتے اور سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کے ساتھ ھوتے تو خود کو “نان سندھی” کہتے تھے۔ نواب مظفر حسین کی قیادت میں “مھاجر ' پنجابی ' پٹھان متحدہ محاذ” (MPPM) اسی سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ جس کا مقصد سندھ میں رھنے والے مختلف گروھوں کو سندھیوں کے خلاف متحد کرکے یوپی اور سی پی کے اردو بولنے والوں کی سیاسی ' سماجی ' انتظامی ' معاشی ' اقتصادی گرفت کو مضبوط کرنا تھا۔

اس عمل کے نتیجے میں گجراتیوں ' راجستھانیوں اور مراٹھیوں کو مسلسل ایک ایسی شناخت میں قید رکھا گیا جو نہ ان کی تاریخ تھی۔ نہ زبان اور نہ ثقافت۔ MQM کے قیام کے بعد سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کو تو یوپی اور سی پی کے اردو بولنے والوں کے “نان سندھی” کے سیاسی جال سے نجات مل گئی۔ مگر گجراتی ' راجستھانی اور مراٹھی آج بھی “مھاجر” شناخت کے تحت یوپی اور سی پی کے اردو بولنے والوں کے سیاسی اسیر ھیں۔

یہی وجہ ھے کہ آج بھی گجراتی ' راجستھانی اور مراٹھی سندھ کی سیاست ' حکومت اور سرکاری نوکریوں میں یوپی اور سی پی کے اردو بولنے والوں کی بالادستی قائم رکھنے ' اردو زبان کی اجارہ داری کو مضبوط کرنے جبکہ کراچی پر یوپی اور سی پی کے اردو بولنے والوں کا سیاسی ' سماجی ' انتظامی ' معاشی ' اقتصادی تسلط قائم رکھنے کے لیے استعمال ھو رھے ھیں۔

کراچی کی آبادی کے اعداد و شمار اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ھیں۔ کراچی میں یوپی اور سی پی کے اردو بولنے والوں کی آبادی تقریباً 20 فیصد ھے۔ جبکہ پنجابی ' پشتون ' سندھی ' بلوچ ' گجراتی ' راجستھانی ' مراٹھی اور دیگر زبانیں بولنے والے مجموعی طور پر تقریباً 80 فیصد ھیں۔ ان میں سے صرف گجراتی ' راجستھانی اور مراٹھی تقریباً 20 فیصد ھیں۔ جنہیں غیر اردو بولنے کے باوجود “مھاجر” قرار دے کر اردو بولنے والوں کی آبادی کو مصنوعی طور پر کراچی کی آبادی کا 40 فیصد دکھایا جاتا ھے۔ اس کے برعکس 60 فیصد پنجابی ' پٹھان ' سندھی ' بلوچ اور دیگر گروھوں کی باھمی تقسیم کا فائدہ اٹھا کر کراچی پر یوپی اور سی پی کے اردو بولنے والوں کا سیاسی کنٹرول قائم رکھا گیا ھے۔

حقیقت یہ ھے کہ سندھ میں رھنے والے گجراتی ' راجستھانی اور مراٹھی نہ مھاجر تھے اور نہ ھیں۔ وہ سندھ کے تاریخی ' سماجی اور معاشی منظرنامے کا فطری حصہ ھیں۔ انہیں مھاجر قرار دینا نہ صرف تاریخ سے انکار ھے بلکہ سندھ کے اندر لسانی اور سماجی تناؤ کو دانستہ طور پر بڑھانے کی ایک سیاسی حکمت عملی بھی ھے۔ جب تک اس مصنوعی شناخت کو چیلنج نہیں کیا جائے گا ' سندھ میں حقیقی سماجی ھم آھنگی ' انتظامی بہتری ' معاشی خوشحالی اور اقتصادی ترقی ممکن نہیں ھو سکے گی۔

09/02/2026

ایس آئی یو ٹی SIUT ہسپتال کراچی میں، پتا نہیں کیوں مریضوں کو دیر رات سے آ کر لائنوں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے؟
At SIUT Hospital Karachi, why patients have to stand in lines from late at night?

04/02/2026

دولت اور طاقت کے نشہ ۔۔۔
کراچی گلستانِ جوہر، منور چورنگی کے قریب میری گاڑی کو
نقصان پہنچایا گیا۔ دولت اور طاقت کے نشے میں کچھ لوگ قانون کو نظرانداز کر دیتے ہیں، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ متعلقہ اداروں سے کارروائی کی امید ہے 🙏🏻

ARS Digital

Shab-e-Barat Mubarak 🌙🤍May Allah forgive our sins,accept our prayers. “شبِ برات مبارک 🌙🤍اللہ تعالیٰ ہمارے گناہ معاف فرما...
03/02/2026

Shab-e-Barat Mubarak 🌙🤍
May Allah forgive our sins,
accept our prayers.

“شبِ برات مبارک 🌙🤍
اللہ تعالیٰ ہمارے گناہ معاف فرمائے،
ہماری دعائیں قبول کرے،
اور ہماری زندگیوں کو سکون اور برکتوں سے بھر دے۔
میری امی کی لمبی اور صحت مند زندگی کے لیے دعا کیجیے۔
آمین

Address

Scheme 33 ( Gulzar/e/Hijri
Karachi
75330

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ARS Digital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share