14/06/2026
اس سال محرم الحرام 2026 میں عباس نقی کی آواز میں پیش کیا جانے والا یہ نوحہ آپ کی سماعتوں کی نذر ہے۔ یہ صرف ایک نوحہ نہیں بلکہ کربلا کے اُس عظیم اور دردناک لمحے کی ترجمانی ہے جسے تاریخِ انسانیت کا سب سے بلند مقامِ وفا و تسلیم کہا جاتا ہے۔
ذیشان عابدی صاحب نے اپنے قلم سے ایک نہایت پُرسوز اور درد بھرا کلام تحریر کیا۔ اس کلام کو رضا شاہ صاحب نے اپنی کمپوزنگ سے مزید اثر انگیز بنا دیا، جس سے اس کی تاثیر اور بھی بڑھ گئی۔
یہ نوحہ ہمیں عاشور کے اُس آخری منظر میں لے جاتا ہے جب امامِ حسینؑ اپنے تمام عزیزوں، جوانوں اور وفادار ساتھیوں کی قربانی پیش کرنے کے بعد تنہا میدانِ کربلا میں کھڑے ہیں۔ چاروں طرف شہیدوں کی لاشیں ہیں، خیموں میں اہلِ حرم کی سسکیاں ہیں، مگر حسینؑ کے لبوں پر شکوہ نہیں، صرف حمدِ خدا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب بندگی اپنی معراج پر ہے اور قربانی اپنی انتہا پر۔
اس نوحے میں اُس روحانی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے جب امامِ حسینؑ اپنے رب کے حضور آخری حاضری دینے جا رہے ہیں۔ گویا کربلا کے میدان میں ایک طرف حسینؑ ہیں اور دوسری طرف اُن کا مالک۔ گردن پہ تیغ لب، پہ تیری حمد ہے خدا، آ دیکھ تیرے نام پہ کٹتا ہے سر میرا۔
اسی احساس، اسی تسلیم اور اسی بے مثال وفا کی عکاسی اس نوحے کے مرکزی مصرع میں ہوتی ہے:
“مالک تیرے دربار میں آتا ہے اب حسین”
“یہ نوحہ سن کر آپ نہ صرف کربلا کے اُس آخری منظر کو محسوس کریں گے بلکہ اُس عظیم بندگی کو بھی سمجھ سکیں گے جس نے شہادت کو عبادت، قربانی کو خدا کی رضا، اور انسانیت کو یہ سبق دیا کہ خدا کی راہ میں سر کٹ تو سکتا ہے، مگر حق کے سامنے کبھی جھک نہیں سکتا۔”