27/05/2026
اگر جانور کی موت ہی “بدبودار رجحان” ہے تو پھر پوری food chain پر سوال اٹھتا ہے، کیونکہ فطرت میں ہر جاندار کسی نہ کسی جاندار کی خوراک بنتا ہے۔ انسان ہزاروں سال سے livestock پالتا آیا ہے ان کی breeding، خوراک، علاج اور حفاظت پر وسائل خرچ کرتا ہے تاکہ خوراک کا نظام چل سکے۔ دنیا بھر میں روزانہ کروڑوں جانور slaughter ہوتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ عیدالاضحیٰ میں یہ عمل چھپایا نہیں جاتا بلکہ اس کے ساتھ شکر، تقسیمِ رزق اور غریبوں کو گوشت پہنچانے کا تصور بھی شامل ہوتا ہے۔ اگر مقصد صرف “خون” ہوتا تو مذہب جانور پر رحم، کم سے کم تکلیف، بھوکا نہ رکھنے اور گوشت ضرورت مندوں تک پہنچانے کی اتنی تاکید نہ کرتا۔ اصل سوال جانور کے استعمال کا نہیں بلکہ ظلم اور بے حسی کا ہے، اور یہی چیز مذہب بھی منع کرتا ہے۔
cp