23/08/2026
کراچی کے مسائل، ماضی کی سیاست اور سندھ حکومت کی کارکردگی پر شرجیل میمن کے اہم دعوے
کراچی کے مسائل، بلدیاتی نظام اور سندھ حکومت کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت دکھاوے، اشتہارات اور پروپیگنڈے کے بجائے حقیقی معنوں میں کام کر رہی ہے۔
شرجیل میمن کے مطابق دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ سندھ حکومت نے شروع کیا ہے، جبکہ شاہراہِ بھٹو پر ہزاروں گاڑیوں کی آمدورفت جاری ہے اور صوبے بھر میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی ترجیح عوام کو ریلیف دینا ہے۔ سکھر اور کراچی کے درمیان ایئر ایمبولینس سروس بھی سندھ حکومت شروع کر چکی ہے۔
سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور عوام جانتے ہیں کہ مشکل وقت میں پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی اقتدار کے لیے منت ترلے یا بیک ڈور کا راستہ اختیار نہیں کرتی۔
شرجیل میمن نے تھرکول کو بھی سندھ اور پاکستان کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماہرین سمجھتے ہیں کہ سستی بجلی تھرکول سے پیدا کی جا سکتی ہے اور تھرکول سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ملک کو معاشی اور دفاعی انقلاب دیا ہے، جبکہ دیگر جماعتوں کی سوچ علاقے اور ذاتی مفاد تک محدود ہے۔
کراچی کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ شہر میں مسائل موجود ہیں تاہم حکومت انہیں حل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق سندھ میں بلدیاتی نظام موجود ہے، جبکہ دیگر صوبے شکست کے خوف سے بلدیاتی انتخابات نہیں کرا رہے۔
انہوں نے کہا کہ جو جماعتیں بلدیاتی انتخابات سے بھاگیں، انہیں شکست نظر آ رہی تھی۔ شرجیل میمن نے بلدیاتی نظام میں ترامیم کا عندیہ بھی دیا۔
ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر نے الزام عائد کیا کہ کراچی کے مسائل کی سب سے بڑی ذمہ دار ایم کیو ایم ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں بلدیاتی کونسلز میں چن چن کر دہشت گردوں کو بھرتی کیا گیا، جبکہ بائیومیٹرک نظام کے ذریعے ایسے افراد بھی سامنے آئے جو بیک وقت دو نوکریاں کر رہے تھے۔
شرجیل میمن نے مزید الزام عائد کیا کہ ایک سازش کے تحت صنعت کو سندھ سے باہر منتقل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں لندن سے ہڑتال کی کال دی جاتی تھی اور کراچی خوف کے ماحول میں تھا، تاہم پیپلز پارٹی نے شہر کو اس صورتحال سے نکالا۔
سینئر وزیر نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں ٹارگٹ کلرز بھی کے ایم سی سے تنخواہیں لے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جن کا مقصد عام آدمی کو براہِ راست فائدہ پہنچانا ہے۔