17/01/2026
ڈگری بمقابلہ کورسز: ایک خطرناک آدھا سچ جو ہمارے نوجوانوں کو بیچا گیا اور آج بھی بیچا جا رہا ہے
گزشتہ چند برسوں میں، خاص طور پر 2018 کے بعد، پاکستان میں نوجوانوں کی سوچ کے ساتھ ایک عجیب کھیل کھیلا گیا۔ یہ کھیل نہ تعلیمی اصلاح کا تھا، نہ نوجوانوں کے مستقبل کی بہتری کا۔ یہ کھیل دراصل امیدوں، مایوسیوں اور جلدی کامیاب ہونے کی خواہش کو کیش کرنے کا تھا۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب اور فیس بک پر ایک نیا بیانیہ زور و شور سے پھیلایا گیا کہ ڈگری اب بیکار ہو چکی ہے، یونیورسٹی وقت کا ضیاع ہے، اور اصل کامیابی چند مہینوں کے کورسز میں چھپی ہے۔
یہ باتیں اتنی بار دہرائی گئیں کہ آہستہ آہستہ سچ لگنے لگیں۔ نوجوانوں کو بتایا گیا کہ اگر وہ چار سال یونیورسٹی میں گزاریں گے تو پیچھے رہ جائیں گے، اور اگر وہ Amazon، Digital Marketing، Freelancing، Dropshipping یا Crypto کے کورسز خرید لیں گے تو چند ہی مہینوں میں کامیاب ہو جائیں گے۔ سوال یہ نہیں کہ اسکلز ضروری ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ڈگری واقعی غیر ضروری ہو چکی ہے؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ یہ بیانیہ آخر کس کے فائدے کے لیے تھا؟
حقیقت یہ ہے کہ یہ بیانیہ تعلیم کے ماہرین، یونیورسٹی اساتذہ، ریسرچرز یا عالمی تعلیمی اداروں کی طرف سے نہیں آیا۔ یہ بیانیہ زیادہ تر اُن لوگوں نے بنایا جن کا کاروبار ہی کورسز بیچنا تھا۔ ان کا مفاد اسی میں تھا کہ نوجوان ڈگری کو کم تر سمجھے، تاکہ وہ آسانی سے ان کے مہنگے کورسز خرید لے۔ یہ ایک مارکیٹنگ نیریٹو تھا، کوئی تعلیمی انقلاب نہیں۔ عالمی سطح پر، جیسے کہ ورلڈ بینک اور یونیسکو کی ریسرچز بتاتی ہیں کہ تعلیم معاشی ترقی کا بنیادی ستون ہے، اور ڈگری جیسی منظم تعلیم کے بغیر مستحکم ترقی ممکن نہیں۔
یہاں ایک بات بہت واضح ہونی چاہیے: اسکلز بے حد اہم ہیں۔ آج کی دنیا میں عملی مہارت کے بغیر کوئی بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ لیکن اس سچ کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ ڈگری کی کوئی ضرورت نہیں، ایک آدھا سچ ہے — اور آدھا سچ اکثر پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ دنیا کبھی بھی صرف اسکلز پر نہیں چلتی، دنیا علم، سوچ، تربیت، ڈسپلن اور سٹرکچر پر چلتی ہے، اور یہی وہ چیزیں ہیں جو ڈگری فراہم کرتی ہے۔ اسی سے جڑی ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹس، بتاتی ہیں کہ ڈگری ہولڈرز کی بے روزگاری کی شرح نصف ہوتی ہے اور وہ 20-50% زیادہ کماتے ہیں۔ پاکستان میں بھی، ہر سال کی اضافی تعلیم آپ کی آمدنی 7-8% بڑھاتی ہے، جیسا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی ریسرچ سے ثابت ہے۔
ڈگری محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوتی، جیسا کہ ہمیں بتایا گیا۔ ڈگری ایک چار سالہ ذہنی، فکری اور شخصی سفر ہوتی ہے۔ یہ وہ عرصہ ہوتا ہے جس میں انسان صرف ایک مضمون نہیں پڑھتا، بلکہ وہ سیکھتا ہے کہ سوچنا کیسے ہے، سوال کیسے اٹھانے ہیں، دلیل کیسے دینی ہے، تحقیق کیا ہوتی ہے، اور کسی مسئلے کو سطحی نہیں بلکہ گہرائی سے کیسے سمجھا جاتا ہے۔ یونیورسٹی انسان کو فوری پیسہ کمانا نہیں سکھاتی، بلکہ طویل المدت زندگی کے لیے تیار کرتی ہے۔ عالمی ماہرین، جیسے کہ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسرز، کہتے ہیں کہ ڈگری تنقیدی سوچ اور لائف لانگ لرننگ کی بنیاد رکھتی ہے، جو آن لائن کورسز سے مکمل طور پر نہیں مل سکتی۔
یونیورسٹی کا سب سے بڑا فائدہ وہ ایکسپوژر ہے جو کسی آن لائن کورس سے نہیں ملتا۔ مختلف پس منظر سے آئے ہوئے لوگ، مختلف خیالات، اساتذہ کی رہنمائی، بحث و مباحثہ، سیمینارز، ریسرچ، گروپ ورک، ناکامی کا سامنا، مقابلے کا دباؤ — یہ سب مل کر انسان کی شخصیت کو نکھارتے ہیں۔ یہی ایکسپوژر انسان کو ذہنی طور پر بالغ بناتا ہے اور عالمی دنیا میں کھڑے ہونے کے قابل بناتا ہے۔ فوربز میگزین کی 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق، 68% ایمپلائرز ڈگری کو اہم سمجھتے ہیں، اور 86% سرٹیفیکیٹس کو بھی، لیکن ڈگری کی جگہ نہیں۔
یہ بات درست ہے کہ اگر کوئی طالبعلم صرف کورس کی کتابوں تک محدود رہے، صرف امتحان پاس کرنے کو مقصد بنائے، اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش نہ کرے، تو ایسی ڈگری واقعی کمزور ہو سکتی ہے۔ مگر اس کا حل ڈگری کو ترک کرنا نہیں، بلکہ ڈگری کے ساتھ خود سیکھنے کی عادت پیدا کرنا ہے۔ اپنی فیلڈ سے متعلق اضافی کتابیں پڑھنا، عالمی مصنفین اور ریسرچرز کو پڑھنا، Coursera، Udemy، edX جیسے پلیٹ فارمز سے کورسز کرنا، یوٹیوب کو سنجیدگی سے سیکھنے کے لیے استعمال کرنا، اور اپنی فیلڈ کے ماہرین کو سننا — یہی وہ راستہ ہے جو ڈگری کو طاقت میں بدل دیتا ہے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی ریسرچ بتاتی ہے کہ آن لائن ڈگریاں روایتی ڈگریوں کی طرح معیاری ہیں، لیکن روایتی ڈگریاں ایکسپوزر کی وجہ سے برتری رکھتی ہیں۔
میں یہ بات کسی نظری بحث یا سوشل میڈیا ٹرینڈ کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا، بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھی ہوئی حقیقت کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ میں نے ایسے طالبعلم دیکھے ہیں جن کا تعلق انتہائی غریب خاندانوں سے تھا، مگر تعلیم نے اُن کی زندگی کی سمت بدل دی مثلاً میرا ایک طالبعلم آج بارسلونا، اسپین میں ایک ٹیک کمپنی میں کام کر رہا ہے۔ ماشاءاللہ نہ صرف خود اچھی زندگی گزار رہا ہے بلکہ اُس نے اپنے پورے خاندان کی حالت بدل دی ہے۔ ایک اور طالبعلم اٹلی کی ٹاپ رینکڈ انجینئرنگ یونیورسٹی سے Civil Engineering میں ماسٹرز کر رہا ہے، وہ بھی اسکالرشپ پر، جبکہ اُس کا تعلق ایک عام مڈل کلاس خاندان سے تھا۔ اُس کا بڑا بھائی، ماشاءاللہ، صرف 28 سال کی عمر میں تقریباً چار لاکھ روپے ماہانہ کما رہا ہے۔ اسی طرح کئی اور مثالیں ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ تعلیم کوئی نظریہ نہیں، بلکہ ایک عملی حقیقت ہے جو زندگی بدلتی ہے۔
دنیا آج بھی ڈگری کو اہم سمجھتی ہے۔ MBBS، Engineering، Nanotechnology، Biotechnology، Artificial Intelligence، Data Science، Civil، Electrical اور Mechanical Engineering جیسی فیلڈز ایسی ہیں جہاں ڈگری کے بغیر داخلہ ہی ممکن نہیں۔ ڈاکٹر بننے کے لیے، انجینئر بننے کے لیے، ریسرچ کرنے کے لیے، یا عالمی اسکالرشپس حاصل کرنے کے لیے ڈگری ایک بنیادی شرط ہے۔ دنیا نے ڈگری کو ختم نہیں کیا، بلکہ ڈگری کو اسکلز کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ امریکی پبلک یونیورسٹی ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق، بیچلر ڈگری ہولڈرز کی بے روزگاری نصف ہوتی ہے اور وہ لائف ٹائم میں 1.2 ملین ڈالرز زیادہ کماتے ہیں۔ پاکستان میں بھی، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ ہائر ایجوکیشن سے ماہانہ آمدنی میں PKR 24,840 کا اضافہ ہوتا ہے، اور تعلیم کی شرح منافع 10.5% ہے۔
پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا لٹریسی ریٹ اب بھی کم ہے، معیاری تعلیم عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے، اور کیریئر گائیڈنس نہ ہونے کے برابر ہے۔ 2026 کی تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کا لیٹریسی ریٹ 62-63% ہے، جہاں مردوں کا 68-73% اور عورتوں کا 52-60% ہے۔ تقریباً 60 ملین لوگ ان پڑھ ہیں، اور 22-25 ملین بچے سکول سے باہر ہیں۔ یہ کم لیٹریسی ہماری معاشی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ورلڈ بینک اور پاکستانی ریسرچرز کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ لیٹریسی میں 1% اضافہ GDP میں 0.3-0.5% اضافہ کر سکتا ہے۔
دوسری طرف کم لیٹریسی غربت بڑھاتی ہے، نوکریوں کی کمی پیدا کرتی ہے، اور ملک کو عالمی مقابلے میں پیچھے چھوڑتی ہے۔ اسی خلا کا فائدہ اٹھا کر شارٹ کٹ بیچنے والوں نے نوجوانوں کو یہ یقین دلایا کہ تعلیم مسئلہ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو ایک غریب، ایک مڈل کلاس، ایک عام انسان کو اوپر اٹھنے کا موقع دیتی ہے۔ عالمی ماہرین جیسے کہ ہینری پیٹرینوس (ورلڈ بینک) کہتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں تعلیم کی شرح منافع 9.3% ہے، جو پاکستان جیسے ملکوں کے لیے اور بھی اہم ہے۔
کورسز اپنی جگہ اہم ہیں، مگر کورسز تعلیم کا نعم البدل نہیں۔ کورسز آپ کو ایک اسکل سکھا سکتے ہیں، مگر وہ آپ کو وہ فکری پختگی، وہ وسعتِ نظر، وہ نظم و ضبط اور وہ شناخت نہیں دے سکتے جو تعلیم دیتی ہے۔ تعلیم انسان کو صرف کمائی نہیں سکھاتی، بلکہ زندگی سمجھنا سکھاتی ہے۔ نور تھسٹرن یونیورسٹی کی ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ 61% HR لیڈرز آن لائن لرننگ کو برابر یا بہتر سمجھتے ہیں، لیکن روایتی ڈگریاں شخصیت کی ترقی میں برتری رکھتی ہیں۔
ڈگری کوئی جادو نہیں، یہ بات ماننی پڑے گی۔ مگر ڈگری ایک ایسا راستہ ضرور ہے جو انسان کو خواب دیکھنے، انہیں حقیقت میں بدلنے، اور عالمی دنیا میں اپنی جگہ بنانے کا موقع دیتا ہے۔ شارٹ کٹس وقتی فائدہ دے سکتے ہیں، مگر طویل المدت عزت، استحکام اور ترقی ہمیشہ تعلیم سے آتی ہے۔
یہ تحریر کسی بحث یا تکرار کے لیے نہیں، بلکہ ایک آنکھیں کھول دینے والا ریئلٹی چیک ہے۔ اگر ہم واقعی اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل بہتر دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ڈگری اور اسکلز کو لڑانے کے بجائے، دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ کیونکہ تاریخ، تجربہ، عالمی شواہد اور زمینی حقیقت — سب ایک ہی بات کہتے ہیں:
تعلیم آج بھی طاقت ہے،
تعلیم آج بھی امید ہے،
اور تعلیم آج بھی زندگی بدلنے کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔
توصیف اکرم نیازی