Omar Habab

Omar Habab Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Omar Habab, Digital creator, Karachi.

کیا ہمارا موجودہ نظامِ تعلیم اکیسویں صدی کے فکری و سائنسی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے؟استعماری دور کے تعلیمی تسل...
28/08/2026

کیا ہمارا موجودہ نظامِ تعلیم اکیسویں صدی کے فکری و سائنسی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے؟

استعماری دور کے تعلیمی تسلط کے اثرات، تاریخی مسلم تجربات اور موجودہ دور میں ایک ’خدا مرکز علمی نظام‘ (God-Centric World Order) کے قیام کی ضرورت پر چند معروضات۔

📝 اسلامی نظامِ تعلیم: تاریخ، تقاضے اور چیلنجز
📰 سہ ماہی مجلہ ’الامام‘

مجلہ کو پڑھنے کے لیے لنک کلک کیجیے۔
https://al-imam-research-institite.lovable.app/


عالمی دعوۃ ایک فریضہانسانی تاریخ کے ہر دور میں حق اور سچائی کو دوسروں تک پہنچانا ایک مقدس فریضہ رہا ہے۔ دینِ اسلام چونکہ...
25/08/2026

عالمی دعوۃ ایک فریضہ

انسانی تاریخ کے ہر دور میں حق اور سچائی کو دوسروں تک پہنچانا ایک مقدس فریضہ رہا ہے۔ دینِ اسلام چونکہ تمام انسانیت کے لیے آخری اور عالمگیر پیغام ہے، اس لیے اس کی اشاعت امتِ مسلمہ کا سب سے بڑا اور بنیادی مقصد ہے۔ عصرِ حاضر میں بعض حلقوں نے دعوتِ دین کو محض ایک اضافی نیکی یا صرف مسلمانوں کی اندرونی اصلاح تک محدود سمجھ لیا ہے۔ ان کے نزدیک غیر مسلم اس پیغام کے براہِ راست مخاطب ہی نہیں، یا عام طور پر یہ گمان کر لیا جاتا ہے کہ جب مسلمان اپنی کامل اصلاح کر لیں گے تو غیر مسلم از خود ان کی طرف راغب ہو جائیں گے اور یوں پوری دنیا حلقہ بگوشِ اسلام ہو جائے گی۔ لیکن اسلام کی نظر میں دعوت کا کام محض مسلمانوں کی اندرونی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ کرۂ ارض پر موجود ہر غیر مسلم تک حق کی آواز پہنچانا اس کا اصل ہدف ہے۔ قرآن مجید نے اس امت کے وجود کا سب سے بڑا مقصد ہی انسانیت کی رہنمائی کو قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
”تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی رہنمائی کے لیے پیدا کی گئی ہو، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔“ (سورۃ آل عمران، آیت ۱۱۰)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کی فضیلت محض کثرتِ عبادت میں نہیں بلکہ پوری انسانیت تک پیغامِ حق پہنچانے کی آفاقی جدوجہد میں پوشیدہ ہے۔ اس بھاری ذمہ داری کی اصل وجہ عقیدۂ ختمِ نبوت ہے۔ ماضی میں ہر قوم کی ہدایت کے لیے الگ رسول بھیجے جاتے تھے، لیکن نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔ اب حق بات کو دوسروں تک پہنچانے کا وہ عظیم کام جو پہلے انبیاء انجام دیا کرتے تھے، براہِ راست اس امت کے کندھوں پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے اس پیغام کی وسعت کو یوں بیان فرمایا ہے:
”اور میری طرف سے یہ قرآن اس لیے وحی کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے میں تمہیں خبردار کروں اور ان کو بھی جنہیں یہ پہنچے۔“۱ اسی عظیم مقصد کے پیشِ نظر نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح ہدایت فرمائی کہ ”میری طرف سے لوگوں تک پہنچا دو، خواہ وہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔“۲
آج کرۂ ارض پر لگ بھگ چھ ارب غیر مسلم آباد ہیں جو دینِ حق کی حقیقی تعلیمات سے ناواقف ہیں۔ ذرا اس ہولناک منظر کا تصور کیا جائے کہ روزِ محشر جب اربوں انسانوں کا احتساب ہو رہا ہو گا، تو اگر وہ اللہ کے حضور یہ سوال اٹھا دیں کہ مسلمانوں نے دنیا میں ہم سے سماجی و تجارتی تعلقات تو رکھے مگر ہمیں اس ابدی آگ سے بچنے کا راستہ کیوں نہ دکھایا یا ان نعمتوں کا ذکر کیوں نہ کیا؟ اس روز اگر یہ سچ ثابت ہو گیا کہ ان تک پیغام نہیں پہنچایا گیا تھا، تو محض ہماری انفرادی عبادات ہمیں اس کڑے احتساب سے کس قدر بچا سکیں گی؟ دنیا کی تمام اقوام تک اس پیغام کو پہنچانا کوئی احسان نہیں، بلکہ اتمامِ حجت کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے اس امت کو پوری انسانیت پر حق کا گواہ مقرر کیا ہے۔ ارشادِ باری ہے:
وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا
”اور اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک امتِ وسط بنایا ہے تا کہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تم پر گواہ ہوں۔“ (سورۃ البقرہ، آیت ۱۴۳)

گواہی اور اتمامِ حجت کے اس عظیم فریضے کا احساس صحابہ کرام میں اس قدر پختہ تھا کہ خطبہ حجة الوداع کے موقع پر ایک لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل مجمع نے یہ طے نہیں کیا کہ پہلے ہم صرف اپنی اور معاشرے کی کامل تربیت کریں گے اور اس کے بعد دنیا کی طرف نکلیں گے، اور نہ ہی وہ اس خام خیالی میں رہے کہ دنیا خود ان کی طرف لپکے گی۔ اس کے بجائے انہوں نے کارِ نبوت کو آگے بڑھانے اور پیغامِ حق کو عام کرنے ہی کو اپنی اولین ترجیح بنایا، اور اسی جذبے کے تحت وہ اطرافِ عالم میں پھیل گئے۔
گواہی اور اتمامِ حجت کے اس عظیم فریضے کی اہمیت کو سمجھ لینے کے بعد، اب یہ دیکھنا لازم ہے کہ خود نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیغام کو دنیا تک پہنچانے کے لیے کیا عملی طریقہ کار اپنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوتی نظام انتہائی سادہ، فطری اور مؤثر تھا جس نے ہر مسلمان کو دین کا داعی بنا دیا۔ اس دعوتی نظام کو ہم ریاستی اور انفرادی، دونوں سطحوں پر بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔

ریاستی سطح پر مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کا بنیادی مطمحِ نظر ہی اشاعتِ دین تھا۔ آپ ﷺ نے اپنے پیغام کو محض ایک خطے تک محدود رکھنے کے بجائے اطرافِ عالم کے بادشاہوں، سرداروں اور قبائلی عمائدین کو دعوتی خطوط ارسال کیے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق، آپ ﷺ نے کسریٰ، قیصر، نجاشی اور ہر جابر حکمران کو خطوط لکھے جن میں انہیں اسلام قبول کرنے کی طرف دعوت دی گئی٣۔ اس دور کے غزوات کا بھی اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ وہ محض جنگی مہمات نہیں تھے، بلکہ دراصل دعوتی وفود کا ہی ایک حصہ تھے۔ میدانِ جنگ میں بھی سب سے پہلی ترجیح دشمن کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کرنا ہوتی تھی۔ صحیح بخاری میں حضور ﷺ کی طرف سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دی گئی یہ ہدایت موجود ہے کہ جنگ سے پہلے دعوتِ اسلام دی جائے۔ فرمایا: ”اللہ کی قسم، اگر تمہارے ذریعے ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“٤ دشمن اگر جنگی قیدی بن کر آتا، تو اس کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جاتا، اسے دین سکھایا جاتا اور کلمہ پڑھ لینے کی صورت میں اسے فوری معاف کر کے رہائی کی ترغیب دی جاتی۔ گویا جنگ کا مقصد انسانوں پر غلبہ پانا نہیں تھا، بلکہ انہیں جہنم کی آگ سے بچانا اور کلمے کی محبت سے ان کے دلوں کو مسخر کرنا اور اقامتِ دین کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ یعنی ریاستِ مدینہ کے اولین مقاصد میں اشاعتِ اسلام کو ترجیحی اہمیت حاصل رہی۔
ریاستی اقدامات کے شانہ بشانہ، انفرادی سطح پر بھی دین پھیلانے کا یہ عالم تھا کہ روزمرہ کے سماجی مواقع کو بہترین دعوتی مواقع میں ڈھال دیا جاتا تھا۔ عہدِ نبوی میں پڑوسیوں کی خبر گیری، بیماروں کی عیادت اور موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا افراد تک حق پہنچانے کی ایک بے تاب تڑپ نظر آتی ہے۔ اس کی نہایت دردمندانہ مثال اس یہودی بچے کی عیادت ہے، جو نزع کے عالم میں تھا۔ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود چل کر اس کے پاس تشریف لے گئے اور اسے اسلام کی دعوت دی۔ جب اس بچے نے کلمہ پڑھ لیا تو آپ ﷺ نے باہر آ کر قدرے مسرت کا اظہار فرمایا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اسے جہنم کی آگ سے بچا لیا۔٥ اسی تڑپ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب کو ان کے آخری سانس تک کلمے کی تلقین فرمائی۔
اس انفرادی اور سماجی دعوتی مزاج کا سب سے بڑا اعجاز کارخانۂ نبوت کا وہ ماحول تھا جس نے اشاعت دین کے عمل کو حیرت انگیز حد تک تیز کر دیا۔ اس دور میں دین پھیلانے کے لیے طویل اور رسمی کورسز یا کسی مخصوص علمی سند کی شرط نہیں تھی۔ ایک عام شخص بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوتا، چند دن قیام کر کے دین کی بنیادی تعلیمات سیکھتا، اور پھر فوراً اپنی قوم میں جا کر ایک مؤثر مبلغ کا کردار ادا کرنے لگتا۔ جو شخص دین کی جتنی بات جانتا، بغیر کسی تاخیر اور جھجھک کے اسے دوسروں تک پہنچانے میں جت جاتا۔ علم کو مخصوص طبقات تک محدود رکھنے کے بجائے، اس کی یہ کھلی اور تیز ترین اشاعت ہی وہ اصل طاقت تھی جس نے مختصر سے عرصے میں پیغامِ حق کو پوری دنیا میں پھیلا دیا۔ دراصل یہی عام اور سادہ نبوی طریقہ ہی دعوت کا اصل مظہر ہے جس کا تقاضا ہے کہ ہر مسلمان اپنی روزمرہ زندگی کے چوبیس گھنٹوں میں داعیانہ اور مصلحانہ تڑپ رکھے۔ اب یہ سوال ابھرتا ہے کہ آج ہمارے قدم کیوں رک گئے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے دعوت کے اس مبارک فریضے کو کچھ غیر ضروری پابندیوں اور رسمی طریقوں کے سپرد کر دیا ہے؟
آج ہم نے لاشعوری طور پر دین کی دعوت و اشاعت کو مخصوص اداروں، فنڈنگ، این جی اوز، پیشہ ورانہ تنظیموں اور تنخواہ دار طبقے تک محدود سمجھ لیا ہے، جیسے یہ عیسائی مشنریوں جیسا کوئی پیشہ ورانہ کام ہو۔ لیکن اسلام کا اصل دعوتی مزاج اس سے بالکل مختلف ہے۔ ہمارا دین علم کو کسی خاص طبقے، محکمے یا خانقاہ کی چار دیواری میں بند کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ علم کو محدود کرنا رہبانیت اور نو آبادیاتی دور کی سوچ تو ہو سکتی ہے، مگر اسلامی تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ دین کی اصل حفاظت اسے چھپانے اور کتابوں میں قید رکھنے میں نہیں، بلکہ عام اور کثرت سے پھیلانے میں ہے۔
تاریخِ اسلام کا تحقیقی مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اطرافِ عالم میں دین کی اشاعت محض منظم تنظیمی ڈھانچوں کی مرہونِ منت نہیں رہی، بلکہ یہ ان عام تاجروں اور مسافروں کی انفرادی تبلیغ اور اعلیٰ اخلاق کا ثمر ہے۔ صحابہ کرام کا اسوہ بتاتا ہے کہ انہوں نے روزمرہ کے سماجی اور معاشی روابط کو ہی دعوت کا محور بنائے رکھا۔ عصرِ حاضر میں باقاعدہ دعوتی اداروں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن دنیا کے لگ بھگ چھ ارب غیر مسلموں تک پیغامِ حق پہنچانے کا چیلنج اس قدر وسیع ہے کہ چند جماعتیں اور تنظیمیں اکیلے اس خلا کو پُر نہیں کر سکتیں۔ یہ ہدف اسی صورت حاصل کیا جا سکتا ہے جب ہر مسلمان دعوت کو اضافی بوجھ سمجھنے کے بجائے اسے اپنی اخروی نجات کی بنیادی شرط تسلیم کرے، اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کو اس راہ میں بروئے کار لائے اور اپنی کل وقتی زندگی میں دین کے داعی کا کردار ادا کرے۔ اس عظیم مقصد کے لیے امت کو لاحاصل فروعی بحثوں سے نکل کر ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید ذرائع کا بھی بھرپور اور مؤثر استعمال کرنا ہو گا۔ نیز، تعلیمی اداروں کی سطح پر نوجوان نسل کو اس عالمی فریضے کے لیے تیار کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ جب تک امت کا ہر فرد اس دردمندانہ اور مصلحانہ مشن کا عملی حصہ نہیں بنے گا، دنیا میں حقیقی امن کا قیام اور روزِ محشر کی جواب دہی سے بچنا انتہائی مشکل ہو گا۔

۱ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ (سورۃ الانعام، ۱۹)
۲ بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً (صحیح البخاری)
٣ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4609]
٤ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2942]
٥ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1356]

Jamia Imam Noman #مجلہ #الامام

آج کے ڈیجیٹل دور میں 'اندھی تقلید' (Herding) ایک خاموش زہر بن چکی ہے۔ ہم جو شیئر کرتے ہیں، کیا وہ ہماری اپنی سوچ ہوتی ہے...
10/05/2026

آج کے ڈیجیٹل دور میں 'اندھی تقلید' (Herding) ایک خاموش زہر بن چکی ہے۔ ہم جو شیئر کرتے ہیں، کیا وہ ہماری اپنی سوچ ہوتی ہے یا صرف الگورتھم (Algorithms) کا بچھایا ہوا جال؟

اسی متعلق حمدیہ الجورانی تحریر (الترند... حین یصبح الخوض غایۃ) کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔

ماہنامہ مجلہ مشكوة المصباح لابور
شماره | ماه مئی 2026 ء
پی ڈی ایف میں مطالعے کے لیے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

https://drive.google.com/file/d/1vpKK5isfvPNEroX0iRWcuMT5-B3QMUcS/view?usp=drivesdk

قرآنی الفاظ کا تاریخی انسائیکلوپیڈیا: ترکی سے ایک غیر معمولی علمی منصوبہ کا تعارفکیا ہم قرآن کے الفاظ کو واقعی اسی طرح س...
17/02/2026

قرآنی الفاظ کا تاریخی انسائیکلوپیڈیا:
ترکی سے ایک غیر معمولی علمی منصوبہ کا تعارف

کیا ہم قرآن کے الفاظ کو واقعی اسی طرح سمجھتے ہیں، جیسے نزولِ وحی کے وقت سمجھا جاتا تھا؟
یا ہم بعد کے فقہی، کلامی اور صوفیانہ مفاہیم کے پردے میں دیکھ رہے ہوتے ہیں؟

ترکی میں پروفیسر Şehmus Demir (شیخموس دمیر) کی قیادت میں ایک عظیم منصوبہ جاری ہے:
"الموسوعة الدلالية التاريخية لكلمات القرآن الكريم"
"یعنی قرآن مجید کے کم و پیش 1700 الفاظ کا تاریخی انسائیکلوپیڈیا"

یہ محض لغت نہیں ہے۔ یہ قرآنی الفاظ کے تاریخی ارتقاء کا سائنسی مطالعہ ہے۔ قرآن کریم کے فہم کے لیے علم اللغت اور علم الدلالت (Semantics) کی اہمیت اس وقت سے مسلم ہے جب سے وحی الہی کا نزول شروع ہوا ۔ کلاسیکی دور میں امام راغب اصفہانی کی 'مفردات القرآن' اور ابن قتیبہ کی 'غریب القرآن' جیسی تصانیف نے قرآنی الفاظ کے معانی متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا ۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ الفاظ کے معانی میں جو دلالتی تبدیلیاں (Semantic Shifts) رونما ہوئیں اور جس طرح بعد کے ادوار کی فقہی، کلامی اور صوفیانہ اصطلاحات نے اصل قرآنی مفاہیم پر اپنی تعبیرات کا پردہ ڈال دیا، اس نے ایک ایسے منصوبے کی ضرورت کو جنم دیا جو الفاظ کے 'تاریخی ارتقاء' کا سائنسی مطالعہ کرے۔

اس منصوبے کے تحت قرآن مجید کے منتخب الفاظ کو چار مختلف مرحلوں سے گزارا جاتا ہے۔
1. سامی زبانیں: کیا عبرانی، سریانی یا قدیم سامی زبانوں میں یہ لفظ موجود تھا؟ اور کس معنی میں استعمال ہوتا تھا؟ اس بحث میں پڑے بغیر کہ لفظ عربی سے عبرانی میں گیا یا وہاں سے آیا، بلکہ صرف استعمال دیکھا جاتا ہے۔
2. دورِ جاہلیت: نزولِ قرآن سے پہلے عربی شاعری اور مستند متون میں یہ لفظ کس سماجی یا ثقافتی معنی میں استعمال ہوتا تھا؟
3. عہدِ نزول: قرآن نے اس لفظ کو کیسے استعمال کیا؟ جاہلی دور کے استعمال اور قرآنی استعمال میں کیا فرق آیا؟
4. عصرِ تدوین: حضور ﷺ کے بعد پہلی چار پانچ صدیوں میں جب علوم کی تدوین کا مرحلہ گزرا تو کیا اس لفظ کے عمومی معنی اور استعمال میں کوئی تبدیلی آئی؟

جناب شیخموس دمیر کام کی نوعیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ کام 100% تکنیکی (Technical) ہے۔ محقق اپنی طرف سے کوئی رائے یا تخمینہ شامل نہیں کر سکتا۔ وہ صرف تاریخ سے تصویر کشی کرتا ہے کہ یہ لفظ کب اور کیسے استعمال ہوا۔ یہ ہمیں الفاظ کے ان معانی تک واپس لے جاتا ہے جو نزولِ قرآن کے وقت رائج تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سے الفاظ (جیسے صبر، زکوٰۃ، ولی) مختلف اسلامی علوم (فقہ، تصوف وغیرہم) کی اصطلاحات بن کر محدود ہو گئے۔ یہ کام غیر جانبدار ہے۔ نہ سنی، نہ شیعہ، نہ کوئی اور مسلک۔ درحقیقت یہ موسوعہ محققین و مفسرین کے لیے ایک ٹول (Tool) اور ڈیٹا بیس ہے جو قرآن سے شغف رکھنے والے افراد کو کو غیر جانبدارانہ لغوی حقائق فراہم کرے گا۔ جس سے قرآن کے معنی و مفہوم سے قربت مزید بڑھے گی اور تفسیرِ قرآنی میں نظریاتی (Ideological) بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔

پروفیسر شیخموس دمیر کے مطابق آج کل تفسیر قرآن کے نام پر بعض حضرات اپنے ذاتی یا نظریاتی خیالات قرآن پر تھوپ دیتے ہیں۔ ہمیں "دین" اور "دینی تعبیر و معرفت" (Religious understanding/ المعرفۃ الدینیۃ) میں فرق کرنا چاہیے۔ "دین" مقدس ہے، لیکن "دین کی تعبیر" انسان کی سمجھ ہے جو مختلف ہو سکتی ہے۔ لہذا قرآن کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس معاشرے کو سمجھیں جس میں یہ نازل ہوا۔ جب ہم الفاظ کو اس کے تاریخی اور نزولی سیاق و سباق میں رکھ کر دیکھتے ہیں تو بہت سے اشکالات خود ہی حل ہو جاتے ہیں اور ہمیں قرآن کی اصل روح سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔

اس منصوبے کی علمی اور انتظامی قیادت ڈاکٹر شیخموس دمير کر رہے ہیں، جو یونیورسٹی (GİBTÜ) کے ریکٹر، علمِ تفسیر کے ممتاز پروفیسر اور ترکی بھر کی الہیات اور اسلامی علوم کی فیکلٹیز کے ڈینز (Deans) کونسل کے سربراہ بھی ہیں۔
یہ منصوبہ ترکی کی سرکاری یونیورسٹی
Gaziantep Islam Science and Technology University
کے تحت چل رہا ہے۔ اس کی مالی مدد اور سرکاری سرپرستی ترکی کے حکومتی مذہبی ادارے Diyanet İşleri Başkanlığı کی طرف سے ہو رہی ہے، جو ملک میں دینی امور کا باقاعدہ سرکاری ادارہ ہے۔ اس کے علاوہ ترکی دیانت فاؤنڈیشن (Türkiye Diyanet Vakfı) بھی اشاعتی معاملات اور علمی وسائل فراہم کر رہی ہے۔ یعنی یہ صرف ایک فرد کا منصوبہ نہیں، بلکہ حکومتِ ترکی کی سرپرستی میں ایک باقاعدہ قومی علمی پروجیکٹ ہے جس پر تقریباً 400 محققین کام کر رہے ہیں، جن میں ماہرینِ لغت، مفسرین، مؤرخین، اور سامی زبانوں اور دیگر علوم سے وابستہ ماہرین و پی ایچ ڈیز شامل ہیں۔

یہ انسائیکلوپیڈیا ابھی مکمل طور پر شائع نہیں ہوا غالبا کچھ تاخیر کا شکار ہے۔ ابتدائی طور پر ترکی زبان میں شایع ہوگا اور بعد ازاں عربی اور انگریزی میں ترجمہ کیا جائے گا۔

درج بالا معلومات الشرق کی پوڈکاسٹ سن کر اخذ کی گئی ہیں، جو حضرات عربی سے واقفیت رکھتے ہیں وہ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔
اس پوڈکاسٹ میں شیخموس صاحب نے بہت سی قرآنی آیات و الفاظ اور احادیث مبارکہ سے مثالیں بھی پیش کیں ہیں جو واقعی علمی سرمایہ ہیں اور حقیقی معنوں میں سننے کی محتاج ہیں۔ ان شاءاللہ اگلی تحریر میں ان مثالوں کو آپ کے گوش گزار کیا جائے گا۔

عمر حباب

پوڈکاسٹ کا لنک:
https://youtu.be/ZKU1dldUyeA?si=9Gcmi7FQ3OdcCfH9

#الشرق #رمضان #ترکی #لسانیات

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Omar Habab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share