14/09/2026
سندھ ہائی کورٹ — افغان میڈیکل طلبا کیس
سندھ ہائی کورٹ نے پی ایم ڈی سی کی جانب سے میڈیکل کالجز میں زیرِ تعلیم افغان طلبا کو واپس بھیجنے کے احکامات کے معاملے پر تین افغان طلبا کی درخواست پر حکمِ امتناع جاری کردیا۔
عدالت نے درخواست گزار افغان طلبا کو اپنی میڈیکل تعلیم جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے وفاقی حکومت، پی ایم ڈی سی، ایچ ای سی، ڈاو یونیورسٹی سمیت دیگر فریقین سے 22 ستمبر تک جواب طلب کرلیا۔
درخواست گزار طلبا نے علامہ اقبال اسکالرشپ برائے افغان شہری کے تحت ڈاو یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا تھا اور وہ فائنل ایئر کے طالب علم ہیں، وکیل جبران ناصر نے عدالت کو آگاہ کیا۔
جبران ناصر ایڈووکیٹ کے مطابق طلبا کے پاس پاکستانی اسٹڈی ویزے موجود ہیں، تاہم پی ایم ڈی سی نے افغان طلبا کی روانگی کے اقدامات اور این او سی جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وکیل کے مطابق ڈاو یونیورسٹی کے نوٹس میں طلبا کو 14 ستمبر تک این او سی حاصل کرنے اور ہاسٹل خالی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ یونیورسٹی نے افغان طلبا کی فہرست متعلقہ پولیس کو بھی فراہم کردی ہے، جس کے باعث طلبا کو پولیس کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا خدشہ ہے۔
جبران ناصر ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ایم ڈی سی نے طلبا کو کوئی شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا، جبکہ پی ایم ڈی سی، ایچ ای سی اور ڈاو یونیورسٹی تعلیمی و انتظامی ادارے ہیں اور انہیں غیر ملکی شہریوں کے ویزے ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
وکیل کے مطابق محض قومیت کی بنیاد پر زیرِ تعلیم غیر ملکی طلبا کو تعلیم سے محروم نہیں کیا جاسکتا، جبکہ طلبا کو افغانستان واپس بھیجنے سے ان کی میڈیکل تعلیم مکمل کرنے کا موقع ختم ہوجائے گا۔