07/03/2026
⛽ کیا عوام پر 'مہنگائی کا بم' گرانا ناگزیر تھا؟
صحافی بلال غوری نے پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے چند اہم نکات اٹھائے ہیں جو اس وقت ہر شہری کی زبان پر ہیں:
پرانا سٹاک، نئی قیمت: ان کا دعویٰ ہے کہ اگرچہ عالمی مارکیٹ میں نرخ بڑھے ہیں، لیکن ملک میں موجود پیٹرول پرانی (کم) قیمت پر خریدا گیا تھا۔
ٹیکس کا بوجھ: حکومت فی لیٹر تقریباً 100 روپے تک ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے۔
عوامی ریلیف کی کمی: بلال غوری کے مطابق حکومت نے ٹیکسوں میں کمی کر کے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے یکمشت 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ہے، جو کہ پہلے سے پسی ہوئی عوام پر "مہنگائی کا بم" گرانے کے مترادف ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا حکومت کے پاس ٹیکس کم کرنے کی گنجائش موجود تھی یا عالمی مارکیٹ کے دباؤ میں یہ فیصلہ ضروری تھا؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ 💬
ڈس کلیمر: یہ پوسٹ صحافی بلال غوری کے بیان پر مبنی ہے اور اس کا مقصد عوامی بحث کو فروغ دینا ہے۔ یہ کسی بھی حکومتی پالیسی کی توثیق یا تردید نہیں کرتی۔