29/05/2026
💔 کرک کے عوام کب تک بنیادی طبی سہولیات سے محروم رہیں گے؟ 💔
ضلع Karak کے عوام آج بھی اُس بنیادی حق کے لیے ترس رہے ہیں جو دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں انسان کا سب سے پہلا حق سمجھا جاتا ہے — یعنی “بروقت اور معیاری علاج”۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ضلع میں کئی ایسے دل دہلا دینے والے واقعات پیش آئے جہاں صرف طبی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے غریب، یتیم اور بے سہارا بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
یہ صرف ایک خبر یا واقعہ نہیں، بلکہ ہر اُس ماں کی چیخ ہے جو اپنے بیمار بچے کو گود میں اٹھائے دربدر پھرتی ہے۔ یہ ہر اُس باپ کی خاموشی ہے جو غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنے لختِ جگر کو بچانے کے لیے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اور یہ ہر اُس سفید پوش خاندان کا کرب ہے جو بیماری اور غربت کے دوہرے عذاب میں پس رہا ہے۔
آج بھی اگر کسی امیر آدمی کے گھر میں کوئی ایمرجنسی ہو جائے تو وہ فوراً:
ایمبولینس کا انتظام کر لیتا ہے،
یا اپنی گاڑی میں مریض کو لے کر Khalifa Gul Nawaz Hospital، Kohat Teaching Hospital، یا Peshawar کے بڑے ہسپتالوں تک پہنچ جاتا ہے۔
لیکن غریب آدمی کیا کرے؟
وہ بیوہ ماں کہاں جائے جس کے پاس اپنے بچے کے لیے دو وقت کی روٹی تک مشکل سے ہوتی ہے؟ وہ یتیم بچہ کس دروازے پر دستک دے جس کے سر پر باپ کا سایہ بھی نہ ہو اور علاج کے لیے کرایہ بھی میسر نہ ہو؟
مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے جس نے دل کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ جیل چوک میں ایک مجبور، بے سہارا بیوہ بہن اپنے بیمار یتیم بچے کو گود میں اٹھائے بیٹھی تھی۔ شدید گرمی، بے بسی اور پریشانی اُس کے چہرے سے صاف جھلک رہی تھی۔ جہاں منشی کھڑا ہوتا ہے، وہاں کسی چارپائی پر اپنے بچے کو کسی کے حوالے کرکے وہ ہر آنے جانے والے سے صرف اتنی فریاد کر رہی تھی کہ:
“خدارا! میرے بچے کو پشاور لے جانے کے لیے کرایہ دے دو…”
لیکن افسوس… ہمارے معاشرے کے کئی لوگ اسے پیشہ ور بھکارن سمجھتے رہے۔
کسی نے جھڑک دیا، کسی نے منہ موڑ لیا، اور کسی نے یہ سوچ کر آگے قدم بڑھا دیے کہ “یہ بھی مانگنے والوں میں سے ہوگی”۔
سوچئے! ایک ماں پر اُس وقت کیا گزرتی ہوگی جب اس کا بچہ تڑپ رہا ہو اور لوگ اُس کی مجبوری کو بھی دھوکہ سمجھیں؟
پھر وہی مجبور ماں اپنے بچے کو اٹھا کر KDA Hospital لے گئی، لیکن وہاں بھی ایمرجنسی میں داخل نہ کیا گیا۔ اسے کہا گیا:
“چلڈرن ہسپتال کرک لے جاؤ…”
یہ الفاظ شاید بولنے والوں کے لیے معمول ہوں، مگر ایک غریب ماں کے لیے یہ قیامت سے کم نہیں ہوتے۔ کیونکہ:
اُس کے پاس گاڑی نہیں،
پیسے نہیں،
سفارش نہیں،
اور نہ ہی کوئی ایسا نظام ہے جو اُس کی فوری مدد کر سکے۔
آج ہمارے سوشل ورکر دوست بھی تھک چکے ہیں۔ وہ روزانہ:
مریضوں کے لیے چندہ مانگتے ہیں،
دوستوں کو فون کرتے ہیں،
ایمبولینس ڈھونڈتے ہیں،
پشاور ریفر مریضوں کے لیے منتیں کرتے ہیں،
اور غریب خاندانوں کی مدد کے لیے در در جاتے ہیں۔
یہ صورتحال کسی ایک خاندان یا ایک محلے کی نہیں، بلکہ پورے ضلع کی اجتماعی محرومی ہے۔
آخر کب تک؟ کب تک کرک کے لوگ علاج کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور جائیں گے؟ کب تک راستوں میں مریض دم توڑتے رہیں گے؟ کب تک غریب ماں باپ اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟ اور کب تک ہمارے نوجوان صرف “ریفر ٹو پشاور” سنتے رہیں گے؟
آج وقت آ گیا ہے کہ Karak میں ایک جدید ٹیچنگ ہسپتال قائم کیا جائے۔ ایسا ہسپتال:
جہاں ایمرجنسی سہولیات مکمل ہوں،
بچوں کے ماہر ڈاکٹر موجود ہوں،
ICU اور جدید مشینری دستیاب ہو،
غریب کو عزت کے ساتھ علاج ملے،
اور کسی ماں کو اپنے بچے کے علاج کے لیے سڑکوں پر ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں۔
ٹیچنگ ہسپتال صرف ایک عمارت نہیں ہوتا، بلکہ:
ہزاروں زندگیاں بچانے کا ذریعہ،
نوجوان ڈاکٹروں کی تربیت کا مرکز،
اور پورے خطے کی امید بن جاتا ہے۔
ہم اپنے منتخب نمائندوں، حکام بالا، مخیر حضرات اور ہر صاحبِ اختیار سے اپیل کرتے ہیں کہ:
خدارا! کرک کے عوام پر رحم کریں۔
اس ضلع کو بھی زندگی کا حق دیں۔
یہاں ایک مکمل ٹیچنگ ہسپتال قائم کریں تاکہ مزید معصوم جانیں صرف “سہولیات نہ ہونے” کی وجہ سے ضائع نہ ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے بیماروں کو شفا، غریبوں کو آسانی، اور ذمہ داران کو احساس عطا فرمائے۔ آمین 🤲