05/06/2026
کوہاٹ بورڈ واقعہ: سوشل میڈیا کی ادھوری سچائی، پروفیسرز کا کردار اور عہدے کا تقدس
کوہاٹ تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اور بعض پروفیسرز کے درمیان حالیہ تلخ کلامی اور ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تبصروں کا ایک طوفان کھڑا ہے۔ لیکن کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تصویر کے دونوں رخ دیکھنا نہایت ضروری ہے۔
سوشل میڈیا کی ادھوری سچائی اور وائرل کلچر:
آج کل سوشل میڈیا پر چند سیکنڈز کی ویڈیو دیکھ کر عدالتیں لگا دی جاتی ہیں۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اکثر ایسی ویڈیوز ادھورا سچ پیش کرتی ہیں۔ کیمرہ صرف وہ دکھاتا ہے جو ریکارڈ کرنے والا دکھانا چاہتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ویڈیو شروع ہونے سے پہلے پروفیسرز کی طرف سے بھی کوئی ایسی اشتعال انگیز بات یا بدزبانی کی گئی ہو جو کیمرے کی آنکھ سے اوجھل رہ گئی۔ اس لیے محض ایک مختصر کلپ کی بنیاد پر کسی مخلص شخصیت کو ولن بنا دینا سراسر ناانصافی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ انہی پروفیسرز صاحبان میں سے بعض حضرات جو آج مظلوم بن رہے ہیں، ماضی میں اسی چیئرمین صاحب کے قریبی اور ان کے لیے مخبری یا جاسوسی کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں پروفیسرز جیسے معزز پیشے سے وابستہ افراد جب اپنے فرائض چھوڑ کر "جاسوسی" کا حصہ بنتے ہیں، تو ایسے ہی تلخ نتائج سامنے آتے ہیں۔ اپنے ذاتی مفادات کے لیے پہلے کسی کا آلہ کار بننا اور پھر اختلاف ہونے پر اسے عوامی سطح پر رسوا کرنا بھی کوئی اخلاقی عمل نہیں ہے۔
چیئرمین صاحب کی نقل کے خلاف سخت موقف اور تعلیمی نظام کو پاک کرنے کی مخلصانہ جدوجہد سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ تاہم، اس تمام تر دباؤ اور سازشوں کے باوجود، چیئرمین بورڈ کا عہدہ ایک رول ماڈل کا ہوتا ہے۔ اختلاف کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو اور سامنے والے کا اشتعال کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، چیئرمین صاحب کی زبان سے ناگوار الفاظ کا نکلنا ایک غلطی ضرور ہے جس سے بچا جا سکتا تھا۔ تاہم انسان خطا کا پتلا ہے, جذبات واحساسات میں بعض اوقات افراط وتفریط ایسی بشری کمزوری ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔۔
کسی نے سچ کہا تھا کہ "بڑے لوگوں کی غلطیاں بھی بڑی ہوتی ہیں"۔
امید ہے کہ چئیرمین صاحب اخلاقی اصولوں کا پاس رکھ کر معاملے کی اصل صورتحال سامنے لائیں گے اور کم ازکم اپنے بہی خواہوں کی دل آزاری کا ازالہ ضرور کرلیں گے۔