DASTAK NEWS

DASTAK NEWS 10تک
دستک آپ کے دفتر پر،دستک آپ کے گاؤں میں

06/06/2026
انتظار کی گھڑیاں ختم ۔۔۔ !!! پختونخواہ امن فٹبال ٹورنامنٹ کرک گرینڈ فائنل میچ قیدی نمبر 804 اور لتمبر کلب لتمبر کے مابین...
06/06/2026

انتظار کی گھڑیاں ختم ۔۔۔ !!!
پختونخواہ امن فٹبال ٹورنامنٹ کرک گرینڈ فائنل میچ قیدی نمبر 804 اور لتمبر کلب لتمبر کے مابین بروز اتوار 7 جون 2026 کو کھیلا جائیگا۔

جس میں ہمارے معزز مہمانان ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر کرک جناب تنویر احمد، سئنیر وائس پریذیڈنٹ آئی ایس ایف ثناءاللہ شاہ، پریذیڈنٹ ڈی ایف اے کرک جناب روح اللہ صاحب خصوصی طور پر شرکت کریں گے ۔۔۔ اسکے ساتھ ساتھ علاقے کے جیدہ جیدہ مشران بھی آئے گے۔
۔
شائقین فٹبال کو شرکت کی بھرپور دعوت دی جاتی ہے۔ آئیے بروز اتوار اس گریند فائنل میچ میں شرکت کیجئے۔
۔
ایک بڑا مقابلہ ، بڑا ٹاکرا ، بڑا میچ ۔۔۔ کون جیتے گا یہ بازی فیصلہ ہوگا شاھین ایف سی کرک گراؤنڈ پر۔
لوکیشن:
Shaheen FC Ground Karak https://share.google/h95iL4bHUZciOty2w

05/06/2026

کوہاٹ بورڈ واقعہ: سوشل میڈیا کی ادھوری سچائی، پروفیسرز کا کردار اور عہدے کا تقدس

​کوہاٹ تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اور بعض پروفیسرز کے درمیان حالیہ تلخ کلامی اور ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تبصروں کا ایک طوفان کھڑا ہے۔ لیکن کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تصویر کے دونوں رخ دیکھنا نہایت ضروری ہے۔
​ سوشل میڈیا کی ادھوری سچائی اور وائرل کلچر:
آج کل سوشل میڈیا پر چند سیکنڈز کی ویڈیو دیکھ کر عدالتیں لگا دی جاتی ہیں۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اکثر ایسی ویڈیوز ادھورا سچ پیش کرتی ہیں۔ کیمرہ صرف وہ دکھاتا ہے جو ریکارڈ کرنے والا دکھانا چاہتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ویڈیو شروع ہونے سے پہلے پروفیسرز کی طرف سے بھی کوئی ایسی اشتعال انگیز بات یا بدزبانی کی گئی ہو جو کیمرے کی آنکھ سے اوجھل رہ گئی۔ اس لیے محض ایک مختصر کلپ کی بنیاد پر کسی مخلص شخصیت کو ولن بنا دینا سراسر ناانصافی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ انہی پروفیسرز صاحبان میں سے بعض حضرات جو آج مظلوم بن رہے ہیں، ماضی میں اسی چیئرمین صاحب کے قریبی اور ان کے لیے مخبری یا جاسوسی کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں پروفیسرز جیسے معزز پیشے سے وابستہ افراد جب اپنے فرائض چھوڑ کر "جاسوسی" کا حصہ بنتے ہیں، تو ایسے ہی تلخ نتائج سامنے آتے ہیں۔ اپنے ذاتی مفادات کے لیے پہلے کسی کا آلہ کار بننا اور پھر اختلاف ہونے پر اسے عوامی سطح پر رسوا کرنا بھی کوئی اخلاقی عمل نہیں ہے۔

چیئرمین صاحب کی نقل کے خلاف سخت موقف اور تعلیمی نظام کو پاک کرنے کی مخلصانہ جدوجہد سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ تاہم، اس تمام تر دباؤ اور سازشوں کے باوجود، چیئرمین بورڈ کا عہدہ ایک رول ماڈل کا ہوتا ہے۔ اختلاف کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو اور سامنے والے کا اشتعال کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، چیئرمین صاحب کی زبان سے ناگوار الفاظ کا نکلنا ایک غلطی ضرور ہے جس سے بچا جا سکتا تھا۔ تاہم انسان خطا کا پتلا ہے, جذبات واحساسات میں بعض اوقات افراط وتفریط ایسی بشری کمزوری ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔۔
کسی نے سچ کہا تھا کہ "بڑے لوگوں کی غلطیاں بھی بڑی ہوتی ہیں"۔
امید ہے کہ چئیرمین صاحب اخلاقی اصولوں کا پاس رکھ کر معاملے کی اصل صورتحال سامنے لائیں گے اور کم ازکم اپنے بہی خواہوں کی دل آزاری کا ازالہ ضرور کرلیں گے۔

سیاسی کارکن نہیں، ایک نظریاتی سیاسی رہنما کی آوازسیاست کے افق پر کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو کسی عہدے، منصب یا سرکاری پروٹو...
04/06/2026

سیاسی کارکن نہیں، ایک نظریاتی سیاسی رہنما کی آواز

سیاست کے افق پر کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو کسی عہدے، منصب یا سرکاری پروٹوکول کے محتاج نہیں ہوتے، بلکہ ان کی سیاسی جدوجہد، عوامی وابستگی اور نظریاتی استقامت ہی ان کی اصل پہچان ہوتی ہے۔ جناب ہدایت اللّٰہ خان خٹک بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے سیاست کو اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی نمائندگی اور نظریاتی جدوجہد کا نام سمجھا۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جب ہمارے علاقے میں پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی قوت کے طور پر موجود نہیں تھی، اُس وقت ہدایت اللّٰہ خان خٹک نے اپنی سیاسی بصیرت، عوامی روابط اور تنظیمی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جماعت کے لیے وہ سیاسی میدان ہموار کیا جس کے ثمرات آج بھی پارٹی حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے مشکل ترین حالات میں پارٹی بیانیے کا دفاع کیا، سیاسی مخالفتوں کا سامنا کیا اور عوام کے درمیان تحریک انصاف کی فکری اور نظریاتی بنیادیں استوار کیں۔

عوام نے ان کی قیادت اور خدمات پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں تحصیل کونسلرمنتخب کیا، جو محض ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ ان کی سیاسی ساکھ، عوامی پذیرائی اور قائدانہ صلاحیتوں کا عملی اعتراف تھا۔

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج جماعت کے اندر بعض ضلعی سطح کے رویے ایسے سوالات کو جنم دے رہے ہیں جو ایک سنجیدہ سیاسی جماعت کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ جب تنظیمی معاملات میں نظریاتی وابستگی کے بجائے گروہی سیاست، سیاسی بصیرت کے بجائے خوشامد، اور میرٹ کے بجائے ذاتی ترجیحات کو فوقیت دی جائے تو پھر مخلص اور باوقار سیاسی رہنماؤں کا دل برداشتہ ہونا فطری امر بن جاتا ہے۔

سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جماعتوں کو بیرونی مخالفین سے کم اور اندرونی ناانصافیوں سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ جو لوگ مشکل حالات میں جماعت کی سیاسی شناخت بنتے ہیں، انہیں فیصلہ سازی کے مراکز سے دور رکھنا اور ان کی آراء کو نظر انداز کرنا درحقیقت تنظیمی کمزوری کی علامت ہے۔

ہدایت اللّٰہ خان خٹک کا مؤقف کسی عہدے یا ذاتی مفاد کے حصول کی جدوجہد نہیں، بلکہ ایک نظریاتی سیاسی کارکن اور عوامی رہنما کی وہ آواز ہے جو جماعت کے اندر سیاسی شفافیت، تنظیمی انصاف، کارکنوں کے احترام اور جمہوری مشاورت کا مطالبہ کر رہی ہے۔

ضلعی قیادت کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ سیاسی جماعتیں محض عہدوں کی تقسیم سے نہیں بلکہ نظریاتی وابستگی، تنظیمی انصاف، سیاسی برداشت اور عوامی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر جماعت کے مخلص، تجربہ کار اور بااثر رہنماؤں کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا تو اس کے اثرات صرف افراد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے تنظیمی ڈھانچے پر مرتب ہوں گے۔

ہدایت اللّٰہ خان خٹک آج بھی اس خطے کی سیاست میں ایک معتبر، باوقار اور نظریاتی سیاسی آواز ہیں۔ ان کی جدوجہد، قربانیاں اور سیاسی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ایسے رہنما سیاسی قحط کے دور میں سرمایہ ہوتے ہیں، اور دانشمند قیادتیں اپنے سیاسی سرمائے کو ضائع نہیں کیا کرتیں۔

تحریر کردہ: شیخ اسامہ

علاقہ گڈخیل کے سب طلباء کرام سے شرکت کرنے کی اپیل منجانب ۔ یونٹ شبیر احمد حقانی یونین شنوہ گڈخیل
01/06/2026

علاقہ گڈخیل کے سب طلباء کرام سے شرکت کرنے کی اپیل
منجانب ۔ یونٹ شبیر احمد حقانی یونین شنوہ گڈخیل

Address

Karak

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DASTAK NEWS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to DASTAK NEWS:

Share