Misali Public School karor Distt. Layyah

  • Home
  • Misali Public School karor Distt. Layyah

Misali Public School karor  Distt. Layyah Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Misali Public School karor Distt. Layyah, Media, .

21/11/2025
29/10/2025

سوال:
پانچویں جماعت کا ایک طالب علم ہے لیکن اسے اردو پڑھنی اور لکھنی نہیں آتی۔ اسے بہتر بنانے کے لیے کیا طریقہ اپنایا جائے؟

جواب:
یہ مسئلہ پاکستان کے بہت سے اسکولوں میں عام ہے، خاص طور پر وہاں جہاں بچوں کی ابتدائی بنیاد (Foundation) مضبوط نہیں بن پاتی۔ پانچویں جماعت کے بچے کو اردو پڑھنے اور لکھنے میں مہارت دلانے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ نئے نصاب سے نہیں بلکہ بنیادی سطح سے آغاز کریں۔
سب سے پہلے، بچے کی موجودہ صلاحیت معلوم کریں۔ اسے ایک چھوٹا سا ٹیسٹ دیں — مثلاً دو سطری جملہ پڑھنے کو کہیں یا چند الفاظ لکھنے کو۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ وہ کہاں کھڑا ہے — یعنی اسے حروف کی پہچان آتی ہے یا نہیں، آوازوں کو جوڑ سکتا ہے یا نہیں۔
پہلا مرحلہ حروف کی پہچان (Letter Recognition) سے شروع کریں۔ روزانہ چند منٹ صرف اردو کے حروف پڑھانے میں لگائیں۔ اسے تصویری کارڈز کے ذریعے حروف سکھائیں جیسے “الف – انار”، “ب – بکری”، “پ – پتنگ”۔ اس سے سیکھنے کا عمل دلچسپ بنے گا۔
دوسرا مرحلہ آوازوں کا ملاپ (Phonics) ہے۔ بچے کو بتائیں کہ دو یا تین حروف مل کر کیسے ایک لفظ بناتے ہیں۔ مثلاً “ب + ا = با”، “با + غ = باغ”۔ اس طریقے سے وہ خود لفظ بنانا سیکھے گا، رٹنے کی بجائے سمجھ کر پڑھے گا۔
تیسرا مرحلہ روزانہ پڑھنے کی مشق (Reading Practice) ہے۔ اسے ہر روز ایک مختصر پیراگراف یا نظم پڑھنے دیں۔ شروع میں اسے آواز کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دیں تاکہ وہ تلفظ درست کر سکے۔ جب وہ روانی سے پڑھنے لگے تو آہستہ آہستہ خاموش پڑھنے کی عادت ڈالیں۔
چوتھا مرحلہ لکھنے کی مشق (Writing Practice) کا ہے۔ پہلے اسے صرف حروف لکھوائیں، پھر الفاظ، پھر جملے۔ لکھنے کو دلچسپ بنانے کے لیے تصویری ڈکٹیٹیشن کروائیں جیسے “میں نے انار دیکھا”۔ آپ خود بولیں، وہ لکھے۔ اس طرح سننے، سمجھنے، اور لکھنے — تینوں صلاحیتیں ایک ساتھ بہتر ہوں گی۔
پانچواں مرحلہ اردو سرگرمیوں (Activities) کو شامل کرنا ہے۔ کھیل، فلیش کارڈز، کہانی سنانے، اور ڈرائنگ والی سرگرمیاں سیکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ مثلاً “لفظ تلاش کرو” کھیل میں کلاس کے سامان پر اردو نام لکھ دیں — جیسے “دروازہ، کرسی، کتاب” — اور اسے پہچاننے کو کہیں۔
آخری مرحلہ حوصلہ افزائی اور تسلسل ہے۔ ایسا بچہ مایوس جلد ہوتا ہے، اس لیے ہر کامیابی پر تعریف کریں۔ “شاباش، آج تم نے تین لفظ صحیح پڑھے” — اس جملے میں وہ اعتماد ہے جو اگلا قدم بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے لیے اردو پڑھنے اور لکھنے کی ایک چار ہفتوں کی عملی پلاننگ بھی بنا سکتا ہوں جس میں روزانہ کا کام، سرگرمیاں، اور الفاظ کی فہرست شامل ہو۔

29/10/2025

سوال :
میں ایک نیا پرائمری ٹیچر ہوں۔ میری کلاس میں ۴۵ بچے ہیں؛ جو چیزیں میں پڑھاتی ہوں وہ چار-پانچ دن میں بھول جاتے ہیں۔ میں مار نہیں سکتى، مگر بچوں کو سنجیدہ کیسے رکھوں اور سبق کا ریویژن کیسے موثر بناؤں؟ نیز میری آواز میں ہکل ہکل پن ہے اور اسٹیج پر بولتے وقت مجھے شدید گھبراہٹ ہوتی ہے — اس کا فوری اور عملی حل کیا ہو سکتا ہے؟

جواب:
پہلی بات — آپ کا مسئلہ عام ہے اور حل “طاقتور مگر سادہ عادات” میں چھپا ہے: مختصر دہرائی، فعال مشقیں، روزمرہ اندازِ سبق اور نرم مگر مستقل نظم۔ بچپن کی یاداشت عارضی ہوتی ہے؛ اس لیے جو چیز آپ آج پڑھائیں وہ صرف اک بار سنانے سے برقرار نہیں رہتی۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ سبق کو بار بار مگر مختلف انداز میں دہرایا جائے: ایک دن بعد، تین دن بعد، اور سات دن بعد مختصر فعال یاد دہانی (spaced repetition) کروائیں۔ ہر کلاس کا ابتدائی پانچ منٹ روزانہ پچھلے سبق کا تیز “یاد کرنے والا کھیل” بنا دیں — ایک طالب علم سے پوچھیں، ایک جملہ لکھوائیں، یا جوڑی میں ایک جملہ تبدیل کروائیں۔ یہ چھوٹے retrievals (یاد کشیدگی) بچوں کی پائیدار یادداشت بنتی ہیں۔
کلاس مینجمنٹ کے عملی طریقے یوں اپنائیں کہ آپ کی “غیر موجودگی” بھی کلاس کو سمت دے سکے: روز کا ایک واضح آغاز-سگنل رکھیے — مثلاً چھوٹا گانا یا ہاتھ کا نشان — اس کے بعد دو سادہ قاعدے روزانہ دہرائیے (مثلاً: بات کرنے سے پہلے ہاتھ اٹھاؤ؛ دوسروں کو تکلیف نہ دو) اور بورڈ پر بڑے حروف میں نمونہ لگا دیں۔ جب بچے اصول مانیں تو فوری تعریف دیں — زبانی تعریف یا چھوٹا ستیکر — اور جو ہفتہ بھر اصولوں پر قائم رہے اسے “ستارہ ہفتہ” دے دیں۔ مثبت انعام اور فوری فیڈبیک خوف سے زیادہ اثر رکھتے ہیں۔
تدریسی ترتیب کو اس طرح مختصر اور مؤثر بنائیں: کلاس کا آغاز ۲ منٹ والا ریہرسل (آج کیا یاد رکھنا ہے)، پھر ۷–۱۰ منٹ نیا خیال چھوٹے عملی نمونے سے دکھائیے (اشیا، تصویری کارڈ، جسمانی عمل)، بعد میں ۸–۱۰ منٹ اشتراکی مشق — جوڑوں میں یا گروپ میں — تاکہ بچے خود بولیں اور دوسروں سے سیکھیں، پھر ۵–۸ منٹ آزاد مشق جس میں ہر بچہ ایک سطر یا جواب لکھے (Exit ticket)، آخر میں ২–۳ منٹ میں دوبارہ خلاصہ اور گھر کے لیے ایک بہت آسان کام۔ یہ دورانیے آپ کی کلاس کے حقیقی وقت کے مطابق تھوڑے بہت کم یا زیادہ کر سکتے ہیں مگر ترتیب اسی طرح رکھیں۔ اس ترتیب سے بچوں کی توجہ برقرار رہتی ہے اور اُن کی یادداشت بہتر بنتی ہے۔
45 بچوں والی کلاس میں گروپنگ بہت قیمتی ہے: ہم عمر کے چار بچوں کے گروپ بنائیں — ہر گروپ کا ایک چھوٹا ذمہ دار مقرر کریں — روزانہ بیس منٹ میں گروپ exercise کروائیں جو آپ نے تیار کیا ہو؛ اس طرح آپ ایک ہی وقت میں کئی بچوں پر نظر رکھ سکیں۔ گروپ ٹاسک میں رول واضح رکھیں: ایک بچے کا کام پڑھنا، ایک کا لکھنا، ایک کا بتانا، ایک کا چیزیں ترتیب دینا۔ اس سے بچوں کی شمولیت بڑھے گی اور مزاحمت کم ہوگی۔
یاد رکھنے کے لیے روزانہ چھوٹے چھوٹے طریقے شامل کریں: تصویری کارڈز، ہاتھ سے بنائے جانے والے ماڈل، ریت یا نمک پر حرف لکھوانا، اور گانے یا چُنتی (rhymes) جن میں اہم الفاظ بار بار آئیں۔ مثال کے لیے جب حروف پڑھا رہے ہوں تو ہر حرف کے ساتھ ایک آواز/حرکت رکھیے — بچے حرکت کے ساتھ حرف یاد رکھتے ہیں۔ گھر کے لیے ہوم ورک مختصر رکھیں: ایک لائن لکھوائیں یا ماں/باپ کے سامنے دو جملے سنانے کے لیے کہیں تاکہ والدین بھی شامل ہوں۔
اب آپ کی آواز میں ہکل پن اور اسٹیج پھڑکنے کا عملی حصہ: سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ اکیلی نہیں ــ بہت سے اساتذہ اس کیفیت کا سامنا کرتے ہیں اور بہت سے موثر طریقے ہیں جنہیں آپ روز مرہ میں استعمال کر سکتی ہیں۔ سب سے پہلے سادہ سانس کی مشقیں کریں — ناک سے گہری سانس لیجیے، پیٹ (نیچے) کو بھرئیے، پھر آہستگی سے بولئیے۔ دن میں پانچ منٹ “پیٹ سانس” کی مشق کریں: گہری ناک کی سانس، دو سیکنڈ روک کر منہ سے آہستہ چھوڑیں۔ یہ بولنے کے دوران سانس پر کنٹرول دیتی ہے اور ہکل کو کم کرتی ہے۔ جب بولنا ہو تو جملوں کو چھوٹے ٹکڑوں میں بولنے کی مشق کریں — ایک طویل جملہ نہ بولیں، بلکہ چھوٹے فریکشنز کریں، اور ہر فریکشن کے درمیان ایک مختصر وقفہ لیں۔
روزانہ آہستہ آہستہ مطالعہ کی مشق کریں: آئینہ کے سامنے یا ریکارڈنگ کر کے پانچ منٹ پڑھیں — آسان نظم یا چھوٹا پیراگراف۔ خود اپنی ریکارڈنگ سنیں اور اس میں سے ایک اچھا جملہ چن کر اس پر روزانہ کام کریں۔ یہ “مائیکرو پرفارمنس” سے اعتماد بناتا ہے۔ سادہ لب و لہجہ اور دھیرے بولنے کے ساتھ آپ کی ہکل کم نظر آئے گی اور آپ کا ذہنی دباؤ بھی کم ہوگا۔ اگر ہکل بہت شدت رکھتی ہو تو کسی ماہر گفتار معالج (speech-language pathologist) سے آن لائن یا مقامی طور پر رجوع کریں — وہ مخصوص مشقیں اور علاج بتائیں گے جو قیمتی اور تیز اثر دیں۔

17/04/2025

Address


Telephone

+923074107653

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Misali Public School karor Distt. Layyah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share