28/03/2023
بچپن کی سہانی یادیں مجھے رہ رہ کر ستاتی ہیں، میں نے سب یادوں کو تہہ لگا کر سینے میں سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔
گندم کی کٹائی کا موسم آتا تو ہم چھوٹے بچوں کی میٹھی عید ہوا کرتی تھی۔مجھے یاد ہے ہم گاؤں کے لڑکے اور لڑکیاں مل کر دور دور گندم کی ڈھیریوں میں سے اپنا حصہ وصول کرنے جاتے تھے۔
"رزق کی فروانی تھی چونکہ دل سخی ہوا کرتے تھے۔"
چاچا عالم خان کے ریشمی لہجے نے مدھر سی دھن بجائی، آواز نے راگ چھیڑے کہ آجاؤ بچو قطار میں لگ جاؤ، ڈھیری لے جاؤ! ڈھیری لے جاؤ!
ہم بھاگم بھاگ قطار میں لگ جایا کرتے تھے اور ننھی ننھی جھولیاں پھیلا لیتے تاکہ زیادہ سے زیادہ ڈھیری ہمارے حصے میں آئے۔
"ڈھیری سے حصہ وصول کرتے ہی ہر طرف خوشی کی رنگ برنگی پتنگیں اُڑنے لگتی تھیں، بسنت رُت اپنا مہینہ چھوڑ بھاگی چلی آئی، ہر طرف رنگ ہی رنگ تھے۔"
خوشیوں کے رنگ جی، محبتوں کے رنگ جی، احترام کے رنگ جی، انسانیت سے عقیدت کے رنگ جی۔
"یار کوئی لوٹا دے میرا بچپن تھک گیا ہوں، اس بے رنگی دنیا سے۔"
اتنے میں بوندوں نے گلی کی جھنڈیوں سے رنگ چُرائے۔ اتنے رنگوں والی اور محبتوں سے لبریز بارش پہلی بار دیکھی تھی میں نے، مینا، طوطا، بلبل چہکتے ہوئے گندم کی ڈھیریوں سے اپنا حصہ وصول کرنے چلے آئے۔
پرندوں اور انسانوں کا دستر خوان مشترک ہوا کرتا تھا، یہ کس نے میرے وطن میں نفرت کے بیج بو دیے ہیں؟
آہ طوطا، مینا، بلبل کب سے میرے وطن سے ہجرت کرگئے اور نفرتوں کے سوداگر ابھی بھی زہر پھیلا رہے ہیں۔
"ہے کوئی جو یہ سب محبتیں، عقیدتیں اور بچپن کی رونقیں واپس لوٹا دے؟ مجھے وہی سادہ خمیر سے گوندھے ہوئے انسان واپس لوٹادے؟