Educators of Khanewal

Educators of Khanewal social information ,Jobs,General Knowledge ,World News,Islamic information,Education etc.

07/11/2025
07/11/2025
31/10/2025

حکومت پنجاب نے *"پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018"* کو ختم کر دیا

اب سے نئی بھرتیاں *بیسک پے اسکیل* کی بجائے *لَمپ سم پے پیکیج* پر کی جائیں گی تاکہ سرکاری خزانے پر پنشن وغیرہ کی مد میں مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔

جو اقدامات 2018 کے قانون کے تحت پہلے ہو چکے ہیں، وہ برقرار رہیں گے۔

حکومتِ پنجاب نے "پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018" کو ختم کرنے کے لیے ایک نیا آرڈیننس جاری کر دیا ہے، جس کا نام *"پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس (منسوخی) آرڈیننس 2025"* رکھا گیا ہے۔

یہ آرڈیننس گورنر پنجاب نے جاری کیا کیونکہ صوبائی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو رہا اور فوری کارروائی ضروری سمجھی گئی۔ اس آرڈیننس کے تحت اب 2018 کا مستقل ملازمت کا قانون منسوخ کر دیا گیا ہے۔

*نافذ العمل تاریخ: 31 اکتوبر 2025*

گزٹ نوٹیفکیشن جاری

    #اسسٹنٹ   *محکمہ پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس میں بطورِ اسسٹنٹ  کی شاندار بھرتیاں**Last Date: 08-09-2025*تعلیم : 16 سا...
06/09/2025


#اسسٹنٹ

*محکمہ پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس میں بطورِ اسسٹنٹ کی شاندار بھرتیاں*
*Last Date: 08-09-2025*
تعلیم : 16 سالہ گریجویشن / ایم اے / بی ایس یا زیادہ
عمر: 21 تا 33 (مرد) 21 تا 36 (خواتین)
ماہانہ تنخواہ: -/236,647 روپے
_📌اس میں پورے پنجاب سے مرد و خواتین اپلائی کر سکتے ہیں_

اس پوسٹ کی تیاری کے لیے ہمارا ان لائن سیشن تین ستمبر 2025 سٹارٹ ہو رہا ہے جس کی ٹائمنگ رات آٹھ سے نو بجے ہے
ہفتے میں پانچ دن زوم پر کلاس ہوگی
پی ڈی ایف میں بکس اور نوٹس فراہم کیے جائیں گے
اہم عنوانات کی ریکارڈنگ بھی آپ کو فراہم کی جائے گی
روزانہ ایک ٹیسٹ ہوگا
ہفتہ وار اسائنمنٹ دی جائے گی
ہفتہ وار ٹیسٹ بھی ہوگا
سیشن کے آخر میں موک ٹیسٹ ہوگا
آج ہی اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور ہمارے اس سیشن کا حصہ بنیں
رجسٹریشن کی تفصیلات کے لیے ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں

یہ ایک *سرکاری مراسلہ* ہے جو *گورنمنٹ آف پنجاب، سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (مانیٹرنگ ونگ)* کی طرف سے 16 مئی 2025 کو جاری کی...
19/05/2025

یہ ایک *سرکاری مراسلہ* ہے جو *گورنمنٹ آف پنجاب، سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (مانیٹرنگ ونگ)* کی طرف سے 16 مئی 2025 کو جاری کیا گیا۔ اس مراسلے کا *عنوان* ہے:

*"SIS (School Information System) میں ڈیٹا کی درستگی سے متعلق ہدایات"*

خلاصہ اردو میں:

1. مشاہدہ کیا گیا ہے کہ CEO صاحبان (DEAs) اساتذہ کی ڈیٹا تصحیح یا اسٹیٹس تبدیلی کی درخواستیں دستی طور پر بھیج رہے ہیں، جس سے اساتذہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں بار بار دفتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔

2. محکمہ تعلیم پنجاب نے اساتذہ کے لیے SIS پورٹل پر "Raise Concern" کی سہولت فراہم کی ہے تاکہ وہ آن لائن اپنی تصحیح سے متعلق درخواست خود جمع کروا سکیں اور متعلقہ دستاویزات بھی منسلک کریں۔

اساتذہ کے لیے:
- ہر استاد اپنی درخواست SIS اکاؤنٹ میں لاگ ان ہو کر "Raise Concern" ٹیب کے ذریعے جمع کروائے اور ساتھ میں ضروری دستاویزات بھی اپلوڈ کرے۔

CEO (DEA) کی ذمہ داریاں:
- CEO استاد کی درخواست کا جائزہ لے کر "CEO Requests" کے ذریعے اسے جمع کروائے۔
- اگر کوئی تصحیح CEO سطح پر ممکن نہ ہو تو اسے SED کے SIS پورٹل پر اپلوڈ کیا جائے۔
- QR کوڈ والے معاملات بھی متعلقہ دستاویزات کے ساتھ "CEOs Request Tab" میں اپلوڈ کیے جائیں۔

3. تمام اساتذہ اور نگران عملے کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ SIS پورٹل استعمال کریں۔ کوئی بھی دستی درخواست (Manual Request) قبول نہیں کی جائے گی۔

🔺 *یہ ہدایت فوری اور انتہائی اہم نوعیت کی ہے۔*

*دستخط:*
رانا عبد القیوم خان
ڈائریکٹر مانیٹرنگ پنجاب

11/05/2025

سپاہی مقبول حسین کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ دشمنوں کے ذہنوں پر ہتھوڑوں کی طرح لگتے-
آخر انہوں نے اس زبان سے بدلہ لینے کا فیصلہ کرلیا
انہوں نے سپاہی مقبول حسین کی زبان کاٹ دی
اور اسے پھر 4x4 کی اندھیری کوٹھڑی میں ڈال کر
مقفل کردیا-سپاہی مقبول حسین نے 1965ء سے لیکر 2005ء تک اپنی زندگی کے بہترین چالیس سال
اس کوٹھڑی میں گزار دیئے
ستمبر 2005 ء کو واہگہ بارڈر کے راستے بھارتی حکام نے قیدیوں کا ایک گروپ پاکستانی حکام کے حوالے کیا-اس گروپ میں مختلف نوعیت کے قیدی تھے-ان کے ہاتھوں میں گٹھڑیوں کی شکل میں کچھ سامان تھا جو شاید ان کے کپڑے وغیرہ تھے-لیکن اس گروپ میں ساٹھ پینسٹھ سالہ ایک ایسا پاکستانی بھی شامل تھا-جس کے ہاتھوں میں کوئی گٹھڑی نہ تھی-
جسم پر ہڈیوں اور ان ہڈیوں کے ساتھ چمٹی ہوئی اس کی کھال کے علاوہ گوشت کا کوئی نام نہیں تھا-اور جسم اس طرح مڑا ہوا تھا جیسے پتنگ کی اوپر والی کان مڑی ہوتی ہے-خودرو جھاڑیوں کی طرح سرکے بے ترتیب بال جنہیں دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ طویل عرصے تک ان بالوں نے تیل یا کنگھی کی شکل تک نہیں دیکھی ہو گی-اور دکھ کی بات کہ پاکستان داخل ہونے والے اس قیدی کی زبان بھی کٹی ہوئی تھی لیکن ان سارے مصائب کے باوجود اس قیدی میں ایک چیز بڑی مختلف تھی اور وہ تھیں اس کی آنکھیں جن میں ایک عجیب سی چمک تھی-پاکستانی حکام کی طرف سے ابتدائی کارروائی کے بعد ان سارے قیدیوں کو فارغ کردیا گیا-سارے قیدی اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے-لیکن یہ بوڑھا قیدی اپنے گھر جانے کی بجائے ایک عجیب منزل کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا-کانپتے اور ناتواں ہاتھوں سے وہ ٹوٹے ہوئے الفاظ لکھ لکھ کر اپنی منزل کا پتہ پوچھتا رہا اور ہر کوئی اسے ایک غریب سائل سمجھ کر اس کی رہنمائی کرتا رہا-اور یوں 2005 ء میں یہ بوڑھا شخص پاکستان آرمی کی آزاد کشمیر رجمنٹ تک پہنچ گیا وہاں پہنچ کر اس نے ایک عجیب دعوی- کردیا-اس دعوے کے پیش نظر اس شخص کو رجمنٹ کمانڈر کے سامنے پیش کردیا-کمانڈر کے سامنے پیش ہوتے ہی نہ جانے اس بوڑھے ناتواں شخص میں کہاں سے اتنی طاقت آگئی کہ اس نے ایک نوجوان فوجی کی طرح کمانڈر کو سلیوٹ کیا اور ایک کاغذ پر ٹوٹے ہوئے الفاظ میں لکھا
”سپاہی مقبول حسین نمبر 335139 ڈیوٹی پر آگیا ہے اور اپنے کمانڈر کے حکم کا منتظر ہے“کمانڈر کو کٹی ہوئی زبان کے اس لاغر ، ناتواں اور بدحواس شخص کے اس دعوے نے چکرا کے رکھ دیا-کمانڈر کبھی اس تحریر کو دیکھتا اور کبھی اس بوڑھے شخص کو جس نے ابھی کچھ دیر پہلے ایک نوجوان فوجی کی طرح بھرپور سلیوٹ کیا تھا-کمانڈر کے حکم پر قیدی کے لکھے ہوئے نام اور نمبر کی مدد سے جب فوجی ریکارڈ کی پرانی فائلوں کی گرد جھاڑی گئی اور اس شخص کے رشتہ داروں کو ڈھونڈ کے لایا گیا تو ایک دل ہلا دینے والی داستان سامنے آئی اور یہ داستان جاننے کے بعد اب پھولوں، فیتوں اور سٹارز والے اس لاغر شخص کو سلیوٹ مار رہے تھے-اس شخص کا نام سپاہی مقبول حسین تھا-65 ء کی جنگ میں سپاہی مقبول حسین کیپٹن شیر کی قیادت میں دشمن کے علاقے میں اسلحہ کے ایک ڈپو کو تباہ کرکے واپس آرہا تھا کہ دشمن سے جھڑپ ہو گئی-سپاہی مقبول حسین جو اپنی پشت پر وائرلیس سیٹ اٹھائے اپنے افسران کے لئے پیغام رسانی کے فرائض کے ساتھ ہاتھ میں اٹھائی گن سے دشمن کا مقابلہ بھی کر رہا تھا مقابلے میں زخمی ہو گیا-سپاہی اسے اٹھا کر واپس لانے لگے تو سپاہی مقبول حسین نے انکار کرتے ہوئے کہاکہ بجائے میں زخمی حالت میں آپ کا بوجھ بنوں، میں دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے آپ کیلئے محفوظ راستہ مہیا کرتا ہوں-ساتھیوں کا اصرار دیکھ کر مقبول حسین نے ایک چال چلی اور خود کو چھوٹی کھائی میں گرا کر اپنے ساتھیوں کی نظروں سے اوجھل کرلیا دوست تلاش کے بعد واپس لوٹ گئے تو اس نے ایک مرتبہ پھر دشمن کے فوجیوں کو آڑے ہاتھوں لیا- اسی دوران دشمن کے ایک گولے نے سپاہی مقبول حسین کو شدید زخمی کردیا- وہ بے ہوش ہو کر گرپڑا اور دشمن نے اسے گرفتار کرلیا- جنگ کے بادل چھٹے تو دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ ہوا تو بھارت نے کہیں بھی سپاہی مقبول حسین کا ذکرنہ کیا-اس لئے ہماری فوج نے بھی سپاہی مقبول حسین کو شہید تصورکرلیا-بہادر شہیدوں کی بنائی گئی ایک یادگار پر اس کا نام بھی کندہ کردیا گیا-ادھربھارتی فوج خوبصورت اور کڑیل جسم کے مالک سپاہی مقبول حسین کی زبان کھلوانے کیلئے اس پر ظلم کے پہاڑ توڑنے لگی-اسے 4X4فٹ کے ایک پنجرا نما کوٹھڑی میں قید کردیا گیا- جہاں وہ نہ بیٹھ سکتا تھا نہ لیٹ سکتا تھا-دشمن انسان سوز مظالم کے باوجود اس سے کچھ اگلوانہ سکا تھا-سپاہی مقبول حسین کی بہادری اور ثابت قدمی نے بھارتی فوجی افسران کو پاگل کردیا-جب انہوں نے دیکھا کہ مقبول حسین کوئی راز نہیں بتاتا تو وہ اپنی تسکین کیلئے مقبول حسین کو تشدد کا نشانہ بنا کر کہتے ”کہو پاکستان مردہ باد“ اور سپاہی مقبول حسین اپنی ساری توانائی اکٹھی کرکے نعرہ مارتا پاکستان زندہ باد، جو بھارتی فوجیوں کو جھلا کے رکھ دیتا-وہ چلانے لگتے اور سپاہی مقبول کو پاگل پاگل کہنا شروع کردیتے اور کہتے کہ یہ پاکستانی فوجی پاگل اپنی جان کا دشمن ہے اورسپاہی مقبول حسین کہتا ہاں میں پاگل ہوں---ہاں میں پاگل ہوں--- اپنے ملک کے ایک ایک ایک ذرّے کے لئے---ہاں میں پاگل ہوں اپنے ملک کے کونے کونے کے دفاع کیلئے--- ہاں میں پاگل ہوں اپنے ملک کی عزت و وقار کے لئے--- سپاہی مقبول حسین کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ دشمنوں کے ذہنوں پر ہتھوڑوں کی طرح لگتے- آخر انہوں نے اس زبان سے بدلہ لینے کا فیصلہ کرلیا انہوں نے سپاہی مقبول حسین کی زبان کاٹ دی اور اسے پھر 4x4 کی اندھیری کوٹھڑی میں ڈال کر مقفل کردیا-سپاہی مقبول حسین نے 1965ء سے لیکر 2005ء تک اپنی زندگی کے بہترین چالیس سال اس کوٹھڑی میں گزار دیئے اب وہ کٹی زبان سے پاکستان زندہ آباد کا نعرہ تو نہیں لگا سکتا تھا لیکن اپنے جسم پر لباس کے نام پر پہنے چیتھڑوں کی مدد سے 4x4 فٹ کوٹھڑی کی دیوار کے ایک حصے کو صاف کرتا اور ا پنے جسم سے رستے ہوئے خون کی مدد سے وہاں پاکستان زندہ باد لکھ دیتا-یوں سپاہی مقبول حسین اپنی زندگی کے بہترین دن اپنے وطن کی محبت کے پاگل پن میں گزارتا رہا- آئیں ہم مل کر آج ایسے سارے پاگلوں کو سلیوٹ کرتے ہیں.

زندہ_باد_پاٸندہ_باد

11/05/2025

What international media has to say about Pakistan attack on India.

1. Pakistan has shot down their 5 Aircraft including 3 Rafale
2. Pakistan destroyed their S-400 via JF-17 Thunder carrying CM400 Hypersonic Missile
3. Pakistan attacked on 36 Location in India confirmed by India
4. India was shocked by the Scale of Pakistan's attack
5. Due to attack on Pakistan now the World knows much much their media makes fool of Indian people by spreading lies and fabricated news.
6. India rushed to block 8000 Pakistani account
7. Dassaults share dropped after French Intelligence and US Official confirmed the news of Pakistan shooting down Rafales

India can control their media so that they can lie and hide the damages but India cannot control international media

Please share

© National Interest, Financial Review, CNN World, Le Monde, Reuters, The Business Standard, TRT Global, Nikkei Asia, BRICS News, Kaleej Mag, The Wire, The Indian Express, The Hindu, CNN, TRT World, BBC News & The NDTV

موٹر سائیکل چلانے والی بیٹیوں کا احترام کریں ۔۔نا انھیں ڈرائیں نا پریشان کریں کیونکہ وہ شوق سے نہیں مجبوری سے ڈرائیو کرت...
02/05/2025

موٹر سائیکل چلانے والی بیٹیوں کا احترام کریں ۔۔
نا انھیں ڈرائیں نا پریشان کریں کیونکہ وہ شوق سے نہیں مجبوری سے ڈرائیو کرتی ہیں اور ہو سکتا ہے کے کوئی بیٹی والدین کیلئے بیٹے کا کردار ادا کر رہی ہو ۔۔
منقول
#قراةالعین زینب ایڈووکیٹ

22/04/2025

فلسطین کے مظلوم لوگوں کے لیے دنیا بھر میں آواز اُٹھائی جا رہی ہے، اور اس سلسلے میں بائیکاٹ ایک طاقتور ذریعہ بنا ہے۔ لیکن ہر بائیکاٹ برابر نہیں ہوتا۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ اصل نقصان کس کو پہنچ رہا ہے — برانڈز کو، یا سوشل میڈیا ایپس کو؟

جب بات آتی ہے ملٹی نیشنل برانڈز جیسے کہ میکڈونلڈز، اسٹار بکس، کوکا کولا، پیپسی اور پُوما کی — تو یہ وہ کمپنیاں ہیں جن کا اسرائیل کی معیشت یا فوج کو کسی نہ کسی صورت میں فائدہ پہنچتا ہے۔ ان کا بائیکاٹ لوگوں نے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنا کر کیا، اور اثرات دیکھنے کو ملے:
• میکڈونلڈز کی سیلز کئی ممالک میں 40–50٪ تک گر گئیں۔
• اسٹار بکس کی مارکیٹ ویلیو میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، صرف بائیکاٹ کی وجہ سے۔
• کوکا کولا اور پیپسی جیسے برانڈز کو مشرق وسطیٰ اور ایشیا کی مارکیٹ میں زبردست دھچکا لگا۔
• بحرین، کویت، اردن اور ملائیشیا جیسے ممالک میں لوگوں نے مقامی پروڈکٹس کو سپورٹ کر کے ان برانڈز پر معاشی دباؤ ڈالا۔

یہ اصل بائیکاٹ ہے — جہاں صارف کا پیسہ واپس اُن کمپنیوں کو نہیں جا رہا جو ظالموں کا ساتھ دیتی ہیں۔

لیکن جب لوگ کہتے ہیں کہ “سوشل میڈیا ایپس کا بھی بائیکاٹ کرو”، تو وہ اپنی ہی آواز سے محروم ہو جاتے ہیں۔ انسٹاگرام، ٹک ٹاک، اور X جیسے پلیٹ فارمز پر اگر بائیکاٹ ہو گیا، تو پھر وہ آوازیں کہاں جائیں گی جو لائیو اپ ڈیٹس، گراؤنڈ ریئلیٹیز اور فلسطین کے حق میں مہمات چلا رہی ہیں؟

سوچنے کی بات یہ ہے:
کیا ہمیں اُن ٹولز کا بائیکاٹ کرنا چاہیے جو ہمیں حق بولنے کا موقع دیتے ہیں؟ یا اُن برانڈز کا، جو ظلم کو خاموشی سے سپورٹ کرتے ہیں؟

بائیکاٹ کا اصل مقصد معاشی دباؤ ڈالنا ہے — اور یہ تب ہی ہوگا جب ہمیں پتا ہوگا کہ ہمیں کس چیز سے دُور رہنا ہے، اور کس چیز کا استعمال کر کے حق کی آواز بلند رکھنی ہے۔

18/03/2025

ماہرینِ نفسیات کے مطابق ذہانت کی چار اقسام ہیں۔

1) انٹیلیجینس کوشینٹ (IQ)
2) ایموشنل کوشینٹ (EQ)
3) سوشل کوشینٹ (SQ)
4) ایڈورسٹی کوشینٹ (AQ)

1. ذہانت کا حصہ (IQ)
یہ عقل و فہم کی سطح کا پیمانہ ہے۔ آپ کو ریاضی کو حل کرنے، چیزیں یاد کرنے اور سبق یاد کرنے کے لیے IQ کی ضرورت ہے۔

2. جذباتی اقتباس (EQ)
یہ دوسروں کے ساتھ امن برقرار رکھنے، وقت کی پابندی، ذمہ دار، ایماندار، حدود کا احترام، عاجز، حقیقی اور خیال رکھنے کی آپ کی صلاحیت کا پیمانہ ہے۔

3. سماجی اقتباس (SQ)
یہ دوستوں کا نیٹ ورک بنانے اور اسے طویل عرصے تک برقرار رکھنے کی آپ کی صلاحیت کا پیمانہ ہے۔

جن لوگوں کا EQ اور SQ زیادہ ہوتا ہے، وہ زندگی میں ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ آگے بڑھتے ہیں جن کا IQ زیادہ ہوتا ہے لیکن عموماً EQ اور SQ کم ہوتا ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں اس کا کوئی خاص شعور نہیں۔ زیادہ تر اسکول IQ کی سطح کو بہتر بناکر فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ EQ اور SQ پر کم توجہ دی جاتی ہے۔

ایک اعلیٰ IQ والا آدمی اعلیٰ EQ اور SQ والے آدمی کے ذریعہ ملازمت حاصل کر سکتا ہے حالانکہ اس کا IQ اوسط ہو۔
آپ کا EQ آپ کے کردار کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ آپ کا SQ آپ کی کرشماتی شخصیت کی نمائندگی کرتا ہے۔
ایسی عادات کو اپنائیں جو ان تینوں Qs کو بہتر بنائے گی، خاص طور پر آپ کے EQ اور SQ۔

4. مشکلات (مصیبت) (adversity) کا حصّہ (AQ)
زندگی میں کسی نہ کسی مشکل سے گزرنے، اور اپنا کنٹرول کھوئے بغیر اس سے باہر آنے کی آپ کی صلاحیت کا پیمانہ۔
مشکلات کا سامنا کرنے پر، AQ طے کرتا ہے کہ کون ہار مانے گا، کون اپنے خاندان کو چھوڑ دے گا، اور کون خودکشی پر غور کرے گا؟

والدین براہِ کرم اپنے بچوں کو صرف اکیڈمک ریکارڈ بنانے کے علاوہ زندگی کے دیگر شعبوں سے بھی روشناس کرائیں۔ انہیں تنگ دستی میں گزارہ کرنے اور مشقت کو پسند کرنے اور اس سے تحمل کے ساتھ نکلنے کے لیے بھی تیار کریں۔
ان کا آئی کیو، نیز ان کا EQ ، SQ اور AQ تیار کریں۔ انہیں کثیر جہتی انسان بننا چاہیے تاکہ وہ آزادانہ طور پر کام کرسکیں۔
اپنے بچوں کے لیے سڑک تیار نہ کریں بلکہ اپنے بچوں کو سڑک کے لیے تیار کریں.

Address

Khanewal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Educators of Khanewal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share