BMC channel 2

BMC channel 2 News

14/01/2026

*گودی یاسمین زہری چیئرپرسن حاجی عیدمحمد زہری میموریل ٹرسٹ خضدار نے اپنے مزمتی بیان میں کہا ہیکہ گرینڈ الائنس خضدار کی کال پر قومی شاہراہ کی بندش کے دوران پولیس کی کارروائی میں ضلعی صدر اسلم نوتانی سمیت متعدد سیاسی و سماجی رہنماؤں کی گرفتاری نہایت نامناسب اور قابلِ مذمت عمل ہے۔*
*انہوں نے اس اقدام کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا اور کہا کہ پرامن احتجاج کرنے والے رہنماؤں اور کارکنان کے ساتھ اس طرح کا رویہ غیر قانونی اور غیر مناسب ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری ملازمین اپنے جائز اور قانونی حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، لیکن بلوچستان حکومت ان کے جائز مطالبات کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے خصوصی طور پر انہوں نے DRA الاونس کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ الاؤنس بلوچستان کے ملازمین کا قانونی حق ہے، جو دیگر صوبوں میں ملازمین کو دیا جا رہا ہے، لیکن بلوچستان میں ملازمین کو جان بوجھ کر محروم رکھا جا رہا ہے ، گودی یاسمین زہری نے کہا کہ یہ رویہ نہ صرف ملازمین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ بلوچستان میں انتظامی ناانصافی اور سیاسی اجارہ داری کی عکاسی کرتا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان حکومت فوری طور پر ملازمین کے جائز مطالبات پر عمل درآمد کرے اور ڈی آر اے الاؤنس بلوچستان کے ملازمین کو فوری طور پر فراہم کیا جائے۔*

*انکا کہنا تھا ہم گرینڈ الائینس کے جدوجہد کے ساتھ کھڑے ہیں جو عوامی حقوق، ملازمین کے قانونی حقوق اور جمہوری آزادیوں کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہو، اور کسی بھی قسم کی ناانصافی اور ظلم کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا*

14/01/2026

خضدار *اسپورٹس آفیسر محترمہ رقیہ عبید خضدار* کے اسپورٹس حلقوں کے لیے واقعی باعثِ فخر ہیں۔ انہوں نے خضدار میں کھیلوں کے فروغ کے لیے جس خلوص، محنت اور لگن سے کام کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہی نہیں بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے۔

*عارف گدان اسپورٹس* کے *کپتان اختر شاہ* اور اونر *احمد مرودئی* نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ خضدار میں کرکٹ جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اسی رفتار سے *محترمہ رقیہ عبید* کی کارکردگی بھی نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ چاہے اسپورٹس ٹورنامنٹس کا انعقاد ہو، کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہو یا کرکٹ گراؤنڈز کی بہتری—ہر شعبے میں ان کا کردار مثبت، مؤثر اور قابلِ دید رہا ہے۔

خصوصاً ٹورنامنٹس کے انعقاد میں ان کا تعاون، نظم و ضبط اور بروقت فیصلے کھلاڑیوں اور منتظمین دونوں کے لیے حوصلہ افزا ہیں۔ ان کی سرپرستی اور رہنمائی میں خضدار کے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے بہترین مواقع میسر آ رہے ہیں، جو علاقے میں اسپورٹس کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ *محترمہ رقیہ عبید* اسی جذبے کے ساتھ خضدار میں اسپورٹس کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی اور خضدار کھیلوں کے میدان میں مزید کامیابیاں حاصل کرے گا۔
آخر میں عارف گدان اسپورٹس خضدار اس بات کا اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہے کہ *عارف گدان اسپورٹس خضدار* نے سٹی چیمپئن لیگ کا فائنل جیت کر چیمپئن کا اعزاز اور ٹرافی اپنے نام کی۔ پوری ٹیم کی باہمی مشاورت، عقیدت اور احترام کے ساتھ ہم یہ چیمپئن ٹرافی *اسپورٹس آفیسر محترمہ رقیہ عبید* کے نام منسوب کرتے ہیں، جن کی سرپرستی، رہنمائی اور خلوص نے خضدار اسپورٹس کو نئی بلندیوں سے روشناس کرایا۔ یہ ٹرافی خضدار میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ان کی بے لوث خدمات کے اعتراف کا ایک چھوٹا سا تحفہ ہے۔

عارف گدان اسپورٹس خضدار

14/01/2026
14/01/2026
14/01/2026

*`باہمت بیٹی کی کہانی`**`باہمت بیٹی کی کہانی`*

*تحریر پروفیسر غلام دستگیر صابر*

*میں میرگل خان نصیر لائبریری میں موجود تھاکہ موبائل پرکال آئی۔دوسری جانب سے ایک لڑکی کی آواز آئی دستگیرصاحب آپ اس وقت کہاں ہیں؟*

*میں نے کہاجی میں گل خان نصیر لائبریری میں ہوں۔اس نے فوراً کہا اوکے سرمیں لائبریری آرہی ہوں.*
*اتفاق سے کامریڈحمید،نذیربلوچ اورکچھ دوسرے دوست بھی لائبریری میں موجود تھے ۔*

*تھوڑی دیر بعدروایتی پردے کے ساتھ ایک لڑکی آئی اس کے ساتھ اسکا چھوٹابھانجابھی تھا*

*سلام دعااوربلوچی احوال کے بعداس نے کہا پروفیسرصاحب میری کہانی سنیں۔*

*ہم سب متوجہ ہوگئے۔*

*اس نے دھیمی آوازمیں کہنا شروع کیامیرانام فرح یوسف ہے۔میں 1999 میں کلی غریب آباد نوشکی میں پیداہوئی۔والدصاحب بازارمیں ٹیلر ماسٹر تھے۔میں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول غریب آبادسے حاصل کی اور ہمیشہ فرسٹ آئی ۔بی ایس سی تک گرلزکالج نوشکی میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ویمن یونیورسٹی سے انگریزی میں بی ایس کرنے کے بعدایم فل انگلش لینگویج میں لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈمیرین سائنس اوتھل سے کی ابھی پی ایچ ڈی کی تیاری کررہی ہوں۔میں نے انگریزی میں دوکتابیں بھی لکھی ہیں۔ابھی عارضی طور پر ایس بی کے نوشکی میں انگلش پڑھاتی ہوں*

*میں اسکول میں پڑھ رہی تھی کہ میرے پیارےبھائی جمعہ خان ایک حادثے میں شہیدہوگئے۔*
*فرح کی آنکھوں میں آنسوآگئے وہ کچھ دیر چپ رہی۔*
*پھرکہنے لگی یہ ایک عظیم سانحہ تھامگرمیں نے چھوٹی عمرمیں والدکویہ احساس نہیں ہونے دیاکہ اسکابیٹادنیامیں نہیں۔میں نے آٹھ سال کی عمر میں اپنے باباکی ٹیلرنگ کی دوکان میں کام کرنا شروع کیا۔بارہ سال کی عمرمیں نے گھرمیں دوکان کھولی اوروالدکابوجھ ہلکاکیا۔*

*مجھے بچپن سے ہی تعلیم کے ساتھ کھیلوں کاجنون حدتک شوق تھا۔میری کوشش تھی کہ کھیل میں بھی اپنے شہراوروطن کانام روشن کروں اور دنیاکو دکھاؤں کہ ہم بلوچ اور بلوچستانی کسی میدان میں پیچھے نہیں۔مارشل آرٹس،کرکٹ،فٹ بال،ہائی جمپ،باسکٹ بال،بیڈمنٹن سبھی میں خوب محنت کی۔*

*2010 میں آل بلوچستان جوڈو کراٹے میں گولڈ میڈل حاصل کی۔2016 میں بلوچستان اسپورٹس فیسٹیول میں دوبارہ گولڈمیڈل حاصل کی۔2016 ہی میں آل بلوچستان وومن بیڈمنٹن میں بھی گولڈمیڈل اپنے نام کیا۔2023میں میں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سےکوچنگ کی تربیت لی۔2023 میں فٹبال کی بین الاقوامی تنظیم FIFA کے زیر اہتمام لاہور میں ریفری کورس کے لئے سلیکٹ ہوگئی۔مجھے یہ اعزازبھی حاصل ہے کہ میں بلوچستان کی پہلی لڑکی ہوں جسے فیفانے 2024 میں ریفری کے لئے منتخب کیا۔میں بلوچستان کی واحدلڑکی ہوں جو پاکستان سپورٹس بورڈ میں کراٹے،ٹیبل ٹینس اور بیڈمنٹن کی کوچنگ کی۔*

*سر آپ سمیت کسی کویقین نہیں کہ میں نے اب تک مختلف صوبائی اورقومی کھیلوں میں پچانوے گولڈ اوردیگر میڈلز اور سینتالیس ٹرافیاں اور بیشمار سرٹیفکیٹس حاصل کی ہیں۔اور یہ اعزاز شایدپورے ملک میں مجھے ملاہے۔مگر۔۔۔*

*وہ تھوڑی دیر چپ ہوگئی۔*
*لائبریری میں بیٹھے ہم سب حیرت سے اسکی بے مثال کامیابی کی باتیں سن رہے تھے۔ایک غریب لڑکی؟؟ ایم فل انگریزی کی ڈگری ؟انگریزی میں دوکتابوں کی مصنفہ؟فیفاانٹرنیشنل کے لئے بلوچستان کی واحدریفری لڑکی ؟گولڈمیڈلز سمیت سینکڑوں ایوارڈز؟؟*

*یقین جانیں میں دل میں بڑا شرمندہ ہورہاتھاکہ فرح کے گھراور میرے گھرکافاصلہ صرف دومنٹ کاہے اور مجھے اسکی حیرت انگیزاور تاریخی کارناموں کاعلم نہیں۔ہم سب سوچوں میں گم تھے کہ فرح کہنے لگی بلوچستان کی تاریخ میں اتنی کامیابیوں کے باوجود کسی نے میرے بارے میں ایک لفظ تک نہیں لکھا۔کسی اخبار اور ٹی وی چینل نے میرا ایک انٹرویو بھی نہیں لیا۔کسی بھی سرکاری آفیسراور ادارے نے میری حوصلہ افزائی تک نہیں کی۔مجھے کچھ بھی نہیں چائیے بس میری خواہش تھی کہ میرے لوگ میرے سرپر ہاتھ رکھ کر کہیں بیٹی شاباش۔*

*مگرکسی نے مجھے شاباشی تک نہیں دی۔میں آج آپ کے پاس اس لئے آئی ہوں کہ میں شدید مایوس ہوں۔آپ لکھیں کہ آج کے بعد کسی بھی کھیل میں حصہ نہیں لونگی۔*

*فرح کالہجہ نہایت تلخ اور مایوس کن تھا۔*

*میں نے پوچھا۔کیوں؟؟اتنی کامیابیوں کے بعدآپ اتنا مایوس کیوں ہیں؟*

*اس نے فوراً جواب دیا*

*پروفیسرصاحب میرا خیال تھاکہ میں اپنے شہراوروطن کانام روشن کرونگی،میں پندرہ سالوں سے مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔لیکن جب میں بلوچستان سے باہر جاتی ہوں سب مجھے طعنہ دیتے ہیں کہ فرح تم اپناوقت ضائع کررہی ہو۔کاش تم بلوچ اوربلوچستانی نہ ہوتی تواس وقت سارا میڈیا چیخ چیخ کر تمہیں بریکنگ نیوز بناتا۔فرح تم نے سینکڑوں میڈلزکے ساتھ فیفاکی بلوچستان سے واحد ریفری سلیکٹ ہوئی۔کئی کھیلوں میں گولڈ میڈلز کے ساتھ کوچنگ بھی کی تم بلوچ اوربلوچستانی نہ ہوتی توعوامی اور سرکاری عہدیدار تمہارے گھر کا طواف کرتے۔فرح آج تک کسی اخبار میں تمہارا ایک انٹرویو بھی نہیں چھپا۔فرح اب گھرمیں بھیٹو تمہاری ٹیلنٹ کی قدرکوئی نہیں کریگا۔تم انگریزی میں ایم فل کرچکی ہو اور انگریزی میں دوکتابیں بھی لکھ چکی ہومگران سب کے باوجود ایس بی کے میں عارضی لیکچرار ہو۔تمہارے صوبے یاملک کی بجائے تمہارے شہرکے لوگ بھی تمہیں نہیں جانتے وہ دوبارہ چند لمحے خاموش ہوئی پھر کہنے لگی بلوچستان سے باہرکے کھلاڑی مجھے طعنے دیتے ہیں۔مجھ پرہنستے ہیں۔اب یہ طعنے مجھ سے مزید برداشت نہیں ہوتے۔*

*فرح نہایت مایوسی کی حالت میں نہایت تلخ لہجے میں نہ جانے کتنی دردناک باتیں کرتی رہی اور ہم شرم اور حیرت سے سنتے رہےکہ اتنی عظیم بیٹی کے ساتھ ہم نے کتناظلم کیاہے۔*

*اپنی بات ختم کرکے وہ اٹھی اورکہا اچھاسرخداحافظ۔اس کے آنسوبہہ رہے تھے۔وہ اتناکہہ کر نکل گئی کہ*
*بلوچ اوربلوچستانی ۔۔۔۔۔*

*فرح کے جانے کے بعدہم سب شرمندہ اور گم سم رہے۔*

*ایک ٹیلرماسٹر کی بیٹی نے تاریخ رقم کی مگر ہم اور ہمارے حکمران کتنے بے حس ہیں۔کتنی محنت سے اس نے وطن کانام روشن کیا؟*

*بلوچ اور بلوچستان کی عظیم بیٹی ہاتھ جوڑکر آپ سے التماس کرتاہوں کہ مایوس مت ہوں۔*

*ہے کوئی جو ایم پی اے حاجی غلام دستگیر بادینی اورایم۔این۔اے حاجی محمد عثمان بادینی اور ڈپٹی کمشنرنوشکی کو یہ پیغام دینے والاکہ تمہارے شہرکی ایک عظیم بیٹی تم سے کچھ نہیں چاہتی صرف اس کے سرپر ہاتھ رکھ کراسکی حوصلہ افزائی کریں*

*ہے کوئی جو وزیراعلی بلوچستان اور حکومتی عہدیداروں اور اربوں روپے ہڑپ کرنے والےمحکمہ کھیل کویہ پیغام دے کہ اس عظیم بیٹی کو بیشک ارشد ندیم کی طرح کروڑوں روپے نہ دے مگر اسکی حوصلہ افزائی کے لئے دولفظ اپنے منہ سے نکالے۔*

*ہے کوئی ایسا صحافی جوفرح کی کامیابیوں کی کہانی لوگوں تک پہنچائے؟*

*ہے کوئی ایساچینل جو فرح کا انٹرویو کرکے دنیاکودکھائے کہ اس بیٹی نے کتنے اعزازات حاصل کئے؟*

*ہے کوئی ایسا ادارہ جو فرح کے اعزازمیں ایک شاندار تقریب منعقد کرکے اس عظیم بیٹی کی حوصلہ افزائی کرے اور کہے شاباش فرح شاباش؟*

*یاد رکھیں اگربلوچستان کی اس عظیم بیٹی کی ہم سب نے قدر نہیں کی۔اسکی حوصلہ افزائی نہیں کی۔اسکی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کوصاف نہیں کیا تو آئندہ کوئی بھی بیٹی ایسی کامیابی اورمحنت کا سوچ بھی نہیں سکے گی۔اور ہم سب اس عظیم بیٹی فرح کے مجرم ہونگے۔*

*تحریر پروفیسر غلام دستگیر صابر*

*میں میرگل خان نصیر لائبریری میں موجود تھاکہ موبائل پرکال آئی۔دوسری جانب سے ایک لڑکی کی آواز آئی دستگیرصاحب آپ اس وقت کہاں ہیں؟*

*میں نے کہاجی میں گل خان نصیر لائبریری میں ہوں۔اس نے فوراً کہا اوکے سرمیں لائبریری آرہی ہوں.*
*اتفاق سے کامریڈحمید،نذیربلوچ اورکچھ دوسرے دوست بھی لائبریری میں موجود تھے ۔*

*تھوڑی دیر بعدروایتی پردے کے ساتھ ایک لڑکی آئی اس کے ساتھ اسکا چھوٹابھانجابھی تھا*

*سلام دعااوربلوچی احوال کے بعداس نے کہا پروفیسرصاحب میری کہانی سنیں۔*

*ہم سب متوجہ ہوگئے۔*

*اس نے دھیمی آوازمیں کہنا شروع کیامیرانام فرح یوسف ہے۔میں 1999 میں کلی غریب آباد نوشکی میں پیداہوئی۔والدصاحب بازارمیں ٹیلر ماسٹر تھے۔میں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول غریب آبادسے حاصل کی اور ہمیشہ فرسٹ آئی ۔بی ایس سی تک گرلزکالج نوشکی میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ویمن یونیورسٹی سے انگریزی میں بی ایس کرنے کے بعدایم فل انگلش لینگویج میں لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈمیرین سائنس اوتھل سے کی ابھی پی ایچ ڈی کی تیاری کررہی ہوں۔میں نے انگریزی میں دوکتابیں بھی لکھی ہیں۔ابھی عارضی طور پر ایس بی کے نوشکی میں انگلش پڑھاتی ہوں*

*میں اسکول میں پڑھ رہی تھی کہ میرے پیارےبھائی جمعہ خان ایک حادثے میں شہیدہوگئے۔*
*فرح کی آنکھوں میں آنسوآگئے وہ کچھ دیر چپ رہی۔*
*پھرکہنے لگی یہ ایک عظیم سانحہ تھامگرمیں نے چھوٹی عمرمیں والدکویہ احساس نہیں ہونے دیاکہ اسکابیٹادنیامیں نہیں۔میں نے آٹھ سال کی عمر میں اپنے باباکی ٹیلرنگ کی دوکان میں کام کرنا شروع کیا۔بارہ سال کی عمرمیں نے گھرمیں دوکان کھولی اوروالدکابوجھ ہلکاکیا۔*

*مجھے بچپن سے ہی تعلیم کے ساتھ کھیلوں کاجنون حدتک شوق تھا۔میری کوشش تھی کہ کھیل میں بھی اپنے شہراوروطن کانام روشن کروں اور دنیاکو دکھاؤں کہ ہم بلوچ اور بلوچستانی کسی میدان میں پیچھے نہیں۔مارشل آرٹس،کرکٹ،فٹ بال،ہائی جمپ،باسکٹ بال،بیڈمنٹن سبھی میں خوب محنت کی۔*

*2010 میں آل بلوچستان جوڈو کراٹے میں گولڈ میڈل حاصل کی۔2016 میں بلوچستان اسپورٹس فیسٹیول میں دوبارہ گولڈمیڈل حاصل کی۔2016 ہی میں آل بلوچستان وومن بیڈمنٹن میں بھی گولڈمیڈل اپنے نام کیا۔2023میں میں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سےکوچنگ کی تربیت لی۔2023 میں فٹبال کی بین الاقوامی تنظیم FIFA کے زیر اہتمام لاہور میں ریفری کورس کے لئے سلیکٹ ہوگئی۔مجھے یہ اعزازبھی حاصل ہے کہ میں بلوچستان کی پہلی لڑکی ہوں جسے فیفانے 2024 میں ریفری کے لئے منتخب کیا۔میں بلوچستان کی واحدلڑکی ہوں جو پاکستان سپورٹس بورڈ میں کراٹے،ٹیبل ٹینس اور بیڈمنٹن کی کوچنگ کی۔*

*سر آپ سمیت کسی کویقین نہیں کہ میں نے اب تک مختلف صوبائی اورقومی کھیلوں میں پچانوے گولڈ اوردیگر میڈلز اور سینتالیس ٹرافیاں اور بیشمار سرٹیفکیٹس حاصل کی ہیں۔اور یہ اعزاز شایدپورے ملک میں مجھے ملاہے۔مگر۔۔۔*

*وہ تھوڑی دیر چپ ہوگئی۔*
*لائبریری میں بیٹھے ہم سب حیرت سے اسکی بے مثال کامیابی کی باتیں سن رہے تھے۔ایک غریب لڑکی؟؟ ایم فل انگریزی کی ڈگری ؟انگریزی میں دوکتابوں کی مصنفہ؟فیفاانٹرنیشنل کے لئے بلوچستان کی واحدریفری لڑکی ؟گولڈمیڈلز سمیت سینکڑوں ایوارڈز؟؟*

*یقین جانیں میں دل میں بڑا شرمندہ ہورہاتھاکہ فرح کے گھراور میرے گھرکافاصلہ صرف دومنٹ کاہے اور مجھے اسکی حیرت انگیزاور تاریخی کارناموں کاعلم نہیں۔ہم سب سوچوں میں گم تھے کہ فرح کہنے لگی بلوچستان کی تاریخ میں اتنی کامیابیوں کے باوجود کسی نے میرے بارے میں ایک لفظ تک نہیں لکھا۔کسی اخبار اور ٹی وی چینل نے میرا ایک انٹرویو بھی نہیں لیا۔کسی بھی سرکاری آفیسراور ادارے نے میری حوصلہ افزائی تک نہیں کی۔مجھے کچھ بھی نہیں چائیے بس میری خواہش تھی کہ میرے لوگ میرے سرپر ہاتھ رکھ کر کہیں بیٹی شاباش۔*

*مگرکسی نے مجھے شاباشی تک نہیں دی۔میں آج آپ کے پاس اس لئے آئی ہوں کہ میں شدید مایوس ہوں۔آپ لکھیں کہ آج کے بعد کسی بھی کھیل میں حصہ نہیں لونگی۔*

*فرح کالہجہ نہایت تلخ اور مایوس کن تھا۔*

*میں نے پوچھا۔کیوں؟؟اتنی کامیابیوں کے بعدآپ اتنا مایوس کیوں ہیں؟*

*اس نے فوراً جواب دیا*

*پروفیسرصاحب میرا خیال تھاکہ میں اپنے شہراوروطن کانام روشن کرونگی،میں پندرہ سالوں سے مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔لیکن جب میں بلوچستان سے باہر جاتی ہوں سب مجھے طعنہ دیتے ہیں کہ فرح تم اپناوقت ضائع کررہی ہو۔کاش تم بلوچ اوربلوچستانی نہ ہوتی تواس وقت سارا میڈیا چیخ چیخ کر تمہیں بریکنگ نیوز بناتا۔فرح تم نے سینکڑوں میڈلزکے ساتھ فیفاکی بلوچستان سے واحد ریفری سلیکٹ ہوئی۔کئی کھیلوں میں گولڈ میڈلز کے ساتھ کوچنگ بھی کی تم بلوچ اوربلوچستانی نہ ہوتی توعوامی اور سرکاری عہدیدار تمہارے گھر کا طواف کرتے۔فرح آج تک کسی اخبار میں تمہارا ایک انٹرویو بھی نہیں چھپا۔فرح اب گھرمیں بھیٹو تمہاری ٹیلنٹ کی قدرکوئی نہیں کریگا۔تم انگریزی میں ایم فل کرچکی ہو اور انگریزی میں دوکتابیں بھی لکھ چکی ہومگران سب کے باوجود ایس بی کے میں عارضی لیکچرار ہو۔تمہارے صوبے یاملک کی بجائے تمہارے شہرکے لوگ بھی تمہیں نہیں جانتے وہ دوبارہ چند لمحے خاموش ہوئی پھر کہنے لگی بلوچستان سے باہرکے کھلاڑی مجھے طعنے دیتے ہیں۔مجھ پرہنستے ہیں۔اب یہ طعنے مجھ سے مزید برداشت نہیں ہوتے۔*

*فرح نہایت مایوسی کی حالت میں نہایت تلخ لہجے میں نہ جانے کتنی دردناک باتیں کرتی رہی اور ہم شرم اور حیرت سے سنتے رہےکہ اتنی عظیم بیٹی کے ساتھ ہم نے کتناظلم کیاہے۔*

*اپنی بات ختم کرکے وہ اٹھی اورکہا اچھاسرخداحافظ۔اس کے آنسوبہہ رہے تھے۔وہ اتناکہہ کر نکل گئی کہ*
*بلوچ اوربلوچستانی ۔۔۔۔۔*

*فرح کے جانے کے بعدہم سب شرمندہ اور گم سم رہے۔*

*ایک ٹیلرماسٹر کی بیٹی نے تاریخ رقم کی مگر ہم اور ہمارے حکمران کتنے بے حس ہیں۔کتنی محنت سے اس نے وطن کانام روشن کیا؟*

*بلوچ اور بلوچستان کی عظیم بیٹی ہاتھ جوڑکر آپ سے التماس کرتاہوں کہ مایوس مت ہوں۔*

*ہے کوئی جو ایم پی اے حاجی غلام دستگیر بادینی اورایم۔این۔اے حاجی محمد عثمان بادینی اور ڈپٹی کمشنرنوشکی کو یہ پیغام دینے والاکہ تمہارے شہرکی ایک عظیم بیٹی تم سے کچھ نہیں چاہتی صرف اس کے سرپر ہاتھ رکھ کراسکی حوصلہ افزائی کریں*

*ہے کوئی جو وزیراعلی بلوچستان اور حکومتی عہدیداروں اور اربوں روپے ہڑپ کرنے والےمحکمہ کھیل کویہ پیغام دے کہ اس عظیم بیٹی کو بیشک ارشد ندیم کی طرح کروڑوں روپے نہ دے مگر اسکی حوصلہ افزائی کے لئے دولفظ اپنے منہ سے نکالے۔*

*ہے کوئی ایسا صحافی جوفرح کی کامیابیوں کی کہانی لوگوں تک پہنچائے؟*

*ہے کوئی ایساچینل جو فرح کا انٹرویو کرکے دنیاکودکھائے کہ اس بیٹی نے کتنے اعزازات حاصل کئے؟*

*ہے کوئی ایسا ادارہ جو فرح کے اعزازمیں ایک شاندار تقریب منعقد کرکے اس عظیم بیٹی کی حوصلہ افزائی کرے اور کہے شاباش فرح شاباش؟*

*یاد رکھیں اگربلوچستان کی اس عظیم بیٹی کی ہم سب نے قدر نہیں کی۔اسکی حوصلہ افزائی نہیں کی۔اسکی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کوصاف نہیں کیا تو آئندہ کوئی بھی بیٹی ایسی کامیابی اورمحنت کا سوچ بھی نہیں سکے گی۔اور ہم سب اس عظیم بیٹی فرح کے مجرم ہونگے۔*
Balochistan Media Channel BMC BMC channel 2

14/01/2026

بلوچستان حکومت نے صوبے کے تعلیمی نظام میں بہتری لانے کے لیے 'اکیڈمک ایکسی لینس پروگرام' کے تحت 4000 نئے اساتذہ بھرتی کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔

سیکریٹری تعلیم اسفندیار خان کاکڑ کے مطابق، سرکاری اسکولوں میں انگریزی، ریاضی اور سائنس جیسے اہم مضامین کے اساتذہ کی 80 فیصد تک کمی کو پورا کرنے کے لیے گریڈ 17 میں ایڈہاک بنیادوں پر تقرریاں کی جائیں گی۔

اس اقدام کا مقصد نہ صرف تعلیمی معیار کو بلند کرنا ہے بلکہ ان ہزاروں غیر فعال اسکولوں کو بھی مکمل طور پر بحال کرنا ہے جو اساتذہ کی کمی یا غیر حاضری کی وجہ سے بند پڑے تھے۔

04/01/2026

خضدار/چوروں کی گولیوں نے نہ صرف نوجوان احسان اللہ کو نہ صرف ٹانگ سے معذور کردی، بلکہ اس کی چلنے پھرنے کی آزادی بھی چھین لی۔ موٹر سائیکل چھیننے کے دوران مزاحمت پر چوروں کی فائرنگ نے نوجوان کے جسم کو زخمی اور زندگی کو ادھورا کر دیا۔ علاج کا سلسلہ مہنگائی کی نذر ہوگیا، اور غربت کی دیوار نے صحت یابی کا راستہ روک لیا۔
اب احسان اللہ ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے موٹر سائیکل پر اضافی پہیہ لگا کر اپنی روزمرہ کی زندگی گزار رہا ہے، مگر مستقل علاج اور دوبارہ چلنے کی امید دم توڑ رہی ہے۔ نہ علاج کے پیسے ہیں، نہ ہی گھر چلانے کا سہارا۔
ایسے میں الفواد فاؤنڈیشن بلوچستان کی چیئرپرسن محترمہ فرذانہ سحر جاموٹ اس نوجوان کی آواز بن کر سامنے آئی انہوں احسان اللہ کی تکلیف دہ کہانی دنیا کے سامنے رکھتے ہوئے ہمدرد شہریوں اور مخیر حضرات سے علاج میں تعاون کی پرزور اپیل کی ہے۔
یہ صرف ایک ٹانگ کا علاج نہیں، ایک نوجوان کے خوابوں کو دوبارہ پرواز دینے کا موقع ہے، فرذانہ سحر نے کہا کہ اپ کا ایک چھوٹا سا تعاون احسان اللہ کی دنیا بدل سکتا ہے۔
مخیر حضرات احسان اللہ کی مدد اور علاج میں تعاون کے لئے احسان اللہ سے 03368344530 رابطہ کر سکتے ہیں۔ آئیں، مل کر اس ہمت والے نوجوان کو دوبارہ کھڑا ہونے کا موقع دیں۔
BMC channel 2 Balochistan Media Channel BMC .

03/01/2026
03/01/2026
03/01/2026

*خضدار: ٹیم خضدار کے اعزاز میں تقریب، اسپورٹس آفیسر رقیہ عبید کی بطور اعزازی مہمان خصوصی شرکت*

*خضدار میں سماجی خدمات انجام دینے والے چند نوجوانوں پر مختص ٹیم خضدار کے اعزاز میں منعقدہ ایک مختصر لیکن پروقار تقریب میں اسپورٹس آفیسر میڈم رقیہ عبید نے بطور اعزازی مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں ٹیم خضدار کے رضاکاروں کی سماجی خدمات کو سراہا گیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی اس موقع پر اپنے خطاب میں میڈم رقیہ عبید نے کہا کہ نوجوان طبقے کی کارکردگی نہایت متاثر کن اور قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس جذبے اور نظم و ضبط کے ساتھ ٹیم خضدار کے نوجوانوں نے گٹروں کے ڈھکن لگانے، بازاروں کی صفائی اور دیگر فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لیا، وہ خضدار کے لیے ایک مثبت مثال ہے میڈم رقیہ عبید نے مزید کہا کہ خضدار میں مثبت کام کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں، تاہم تنقید کرنے والے بھی بہت ہیں ہم تنقید سے بالاتر ہوکر عملی طور پر میدان میں نکلنے والے نوجوانوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں تاکہ دیگر نوجوان بھی ان سے متاثر ہوکر رضاکارانہ خدمات میں حصہ لیں ، میڈم رقیہ عبید کا کہنا تھا کہ ایسے نوجوان ہی معاشرے کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں اور اگر انہیں درست رہنمائی اور سرپرستی فراہم کی جائے تو یہ شہر اور ضلع کی تقدیر بدل سکتے ہیں آخر میں انہوں نے ٹیم خضدار کے رضاکاروں کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مستقبل میں بھی ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی*

*تقریب کے اختتام پر شرکاء نے ٹیم خضدار کے نوجوانوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گا*

03/01/2026
03/01/2026

*دلیری جرت اور بہادری کا دوسرا نام دختر جھالاوان گودی فرزانہ سحر جاموٹ*
*تحریر*
*دردانہ بلوچ*
یہ معاشرہ عجیب ہے، جو نہ خود اشک شوئی کرتا ہے، نہ زخموں پر مرہم رکھتا ہے،
مگر جو ہاتھ بڑھتے ہیں کسی بیوہ کے بجھتے چولہے کو روشن کرنے، یا کسی یتیم کے ہاتھوں میں قلم تھمانے،
انہیں طنز، تہمت اور تنقید کے پتھروں سے زخمی ضرور کرتا ہے۔ایسے میں، جب سب راستے بند دکھائی دیتے ہیں،
ایک لڑکی فرزانہ سحر
تنقید کی تپتی دھوپ میں، خدمت کا خالص سایہ لے کر نکلتی ہے۔ نہ وسائل، نہ سرکاری مدد، بس ایک درد.. اور وہ وعدہ جو اس نے خود سے کیا:
کہ وہ ہر اس در کو کھٹکھٹائے گی جہاں مایوسی بسی ہے،
وہ ہر اُس آنکھ کو جگائے گی جو بے بسی سے نم ہے۔فرزانہ سحر نہ کوئی عہدہ رکھتی ہے، نہ طاقت کی چھتری، لیکن وہ طاقت ہے، ہر اس مجبور ماں کی جو روٹی کی جگہ دعا پکا رہی ہے، ہر اس بچے کی جو بستہ اٹھانے کی عمر میں مزدوری کر رہا ہے۔وہ چپ چاپ اپنے کام میں مصروف ہے۔
نہ کیمروں کی طلب، نہ داد کی آرزو۔تنقید کرنے والے آج بھی بول رہے ہیں، لیکن وہ بولتی نہیں، *کر کے دکھاتی ہے۔یہ ہر اُس شخص کے ضمیر کو جھنجوڑنے کے لیے ہے جو کچھ نہ کر سکے، کم از کم رکاوٹ تو نہ بنے۔کیونکہ اگر ایک لڑکی تنہا، بے سہاروں کا سہارا بن سکتی ہے، تو یہ معاشرہ کیوں نہیں؟ فرزانہ سحر ایک پیغام ہے کہ انسان بننا ہو تو درد محسوس کرواور کسی کے آنسو پونچھ نہ سکو تو کم از کم انہیں بہنے دو، ان پر تنقید نہ کرو۔
فرزانہ سحر وہ نام ہے جو مستقل مزاجی سے اپنے کارواں کے ساتھ تلخی لہجات کو سہتے ہوئے تنقید کا بار اٹھائے ہوئے 2013 سے منزل کی جانب رواں دواں ہیں اور راستے میں آنے والے ہر اس غریب مظلوم محکوم طبقے کی مظبوط آواز بن گئی ہے جو آج کھل کر اظہار کر سکتا ہے اپنے حقوق کی بات کر سکتا ہے۔
فرزانہ سحر جاموٹ کی مثال اس جگنو کی طرح ہے جو ہر اس حالت میں بھی اپنی روشنی برقرار رکھے ہوئے ہے جہاں تعصب نفرت اور جانبداری جنم لے رہی ہو فرزانہ سحر آج وہ نام بن چکی ہیں جسے نہ مٹایا جا سکتا ہے نہ بھلایا جا سکتا ہے کیونکہ فرزانہ سحر نے تب حق کے لیئے آواز اٹھائی تھی جب اچھے خاصے مرد حضرات خضدار کے حالات کی وجہ سے نقل مکانی کر چکے تھے جب کوئی بازار تک جا نہیں سکتا تھا جب ہر چوک چوراہے پہ خون کے دھبے تھے اور ان حالات میں ایک لڑکی کا باہر نکلنا اور ظلم و نا انصافی کے خلاف آواز بلند کرنا وقت کے یزیدوں کو للکارنا تاریخ رقم کر چکا ہے اور تاریخ ایسے ہی لوگوں پہ فخر کرتی ہے فرزانہ سحر جاموٹ تاریخ کے پنوں میں خود کو منوا اور لکھوا چکی ہیں ہمیں ایسی غیور با شعور دلیر بیٹیوں پہ فخر ہے۔
خداوند کریم فرزانہ سحر جاموٹ کا حامی و ناصر ہو۔

Address

Khuzdar
Khuzdar

Telephone

+923468080828

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BMC channel 2 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to BMC channel 2:

Share