Bilal Ashraf

Bilal Ashraf Daily New Motivational Posts

26/08/2026

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤️🌸

25/08/2026

What would we feel if the Prophet ﷺ welcomed us as brothers he longed to meet? May Allah make us among them.



❤️🌸
25/08/2026

❤️🌸

25/08/2026

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ (جو نبی کریم ﷺ کے خادمِ خاص تھے) کے ایک چھوٹے سوتیلے بھائی تھے جن کا نام عبداللہ تھا، لیکن آپ ﷺ نے ان کی چھوٹی عمر کے باوجود پیار سے ان کی کنیت "ابو عمیر" رکھی ہوئی تھی۔
ابو عمیر نے ایک چھوٹی سرخ چونچ والی چڑیا پال رکھی تھی جسے عربی میں "نُغَیر" (ایک قسم کی بلبل یا چڑیا) کہا جاتا ہے۔ وہ دن بھر اس چڑیا کے ساتھ کھیلا کرتے اور اس سے بہت مانوس تھے۔
نبی کریم ﷺ جب بھی حضرت انسؓ کے گھر تشریف لاتے تو اس چھوٹے بچے کا دل بہلانے کے لیے اس سے مزاق اور دل لگی فرماتے۔ آپ ﷺ ابو عمیر کو دیکھتے ہی مسکرا کر پوچھتے:
"يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟"
(اے ابو عمیر! تمہاری نغیر/چڑیا نے کیا کیا؟)
(جس سے بچہ بے حد خوش ہو جاتا تھا)
ایک دن جب رسول اللہ ﷺ ان کے گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ ابو عمیر ایک کونے میں نہایت غمگین اور اداس بیٹھے ہیں اور ان کا چہرہ اترا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے گھر والوں سے دریافت فرمایا: "ابو عمیر کو کیا ہوا؟ یہ اتنے اداس کیوں ہیں؟"
گھر والوں نے بتایا: "یا رسول اللہ! اس کی وہ چھوٹی چڑیا (نغیر) مر گئی ہے جس سے یہ کھیلا کرتا تھا، اس لیے یہ بہت غمگین ہے۔"
یہ سن کر رحمتِ عالم ﷺ نے بچے کے اس چھوٹے سے غم کو معمولی نہیں سمجھا۔ آپ ﷺ بنفسِ نفیس اس چھوٹے بچے کے پاس گئے، اس کے پاس گھٹنے ٹیک کر/جھک کر بیٹھے، اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کا غم ہلکا کرنے کے لیے نہایت شفقت سے وہی پیار بھرا جملہ فرمایا:
"اے ابو عمیر! تمہاری چڑیا کا کیا ہوا؟"
آپ ﷺ نے اس کے ساتھ وقت گزارا، اس کی بات سنی اور اس کی دل جوئی کی یہاں تک کہ بچے کے چہرے پر دوبارہ مسکراہٹ آ گئ

Address

Khanpur
Khyber Pakhtunkhwa

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bilal Ashraf posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share