Pak tv news chanel

30/05/2026

Always believe on if u want to get success ….

29/05/2026

29/05/2026


11/05/2026

ملائیشیا 🇲🇾اور پاکستان 🇵🇰سے اٹلی 🇪🇺 ورک پرمٹ اپلائی کرنے کا مکمل طریقہ ویب سائٹ کے ساتھ۔۔۔۔
ویڈیو کو step by step فالو کرتے ہوئے یورپ کے خواہشمند آسانی سے اپلائی کرکے اپنا یورپ کا خواب پورا کریں ۔۔۔۔

پاکستانیوں مزہ آرہا ہے 😅 پٹرول فی لیٹر 14 روپے 92 پیسے مزید مہنگا کر دیا گیا۔۔ پٹرول کی نئی قیمت 414 روپے 78 پیسے ہو گئی...
08/05/2026

پاکستانیوں مزہ آرہا ہے 😅
پٹرول فی لیٹر 14 روپے 92 پیسے مزید مہنگا کر دیا گیا۔۔ پٹرول کی نئی قیمت 414 روپے 78 پیسے ہو گئی ہے.

02/05/2026

ملایشیا 🇲🇾میں مقیم پاکستانیوں کیلئے یورپ 🇪🇺نے دروازے کھول دیے !۔۔
خصوصا ملیشیا میں کنسٹرکشن اور زمیداری کا ویزہ رکھنے والے پاکستانیوں کیلئے یورپ آنے کا سنہری موقع۔۔ 🥹🇪🇺

تمام پاکستانیو کو مبارک ہو شہباز شریف صاحب نے عوام کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے پٹرول قیمت 400 روپے فی لیٹر کے بجائے 399 روپ...
30/04/2026

تمام پاکستانیو کو مبارک ہو شہباز شریف صاحب نے عوام کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے پٹرول قیمت 400 روپے فی لیٹر کے بجائے 399 روپے ہی کردیا۔۔

30/04/2026

یوکے 🇬🇧 میں موجود پریشان پاکستانی 🇵🇰 students کیلئے بڑی خوشخبری۔

اٹلی نے ورک پرمٹ کے دروازے کھول دیے

uk students کیلئے یورپ میں
permanent settlement کا بڑا موقع۔۔

روایت، خدمت اور سیاست: بونیر کے ایک خاندان کا تسلسلتحریر...  امین اسدبونیر کی خاموش مگر باوقار پہاڑیاں جب اپنی تاریخ کے ...
28/04/2026

روایت، خدمت اور سیاست:

بونیر کے ایک خاندان کا تسلسل

تحریر... امین اسد

بونیر کی خاموش مگر باوقار پہاڑیاں جب اپنی تاریخ کے اوراق الٹتی ہیں تو چند ایسے خانوادوں کی جھلک نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے جن کی پہچان محض اقتدار یا منصب نہیں بلکہ کردار، خدمت اور تسلسل کی وہ روایت ہے جو نسلوں کی رگوں میں گردش کرتی ہے۔ انہی میں ملکپور کے عثمان خیل قبیلے کا وہ خانوادہ بھی ہے جس کی تاریخ 1823ء کے معرکۂ نوشہرہ سے لے کر1863ء کی جنگِ امبیلہ تک پھیلی ہوئی ایک مسلسل جدوجہد کی داستان ہے۔ یہ محض واقعات کا سلسلہ نہیں بلکہ ایک فکر، ایک طرزِ زندگی اور ایک اجتماعی ذمہ داری کا شعور ہے جو وقت کے ساتھ مدھم نہیں ہوا بلکہ ہر دور میں نئے رنگ کے ساتھ سامنے آیا۔ آج اسی روایت کا تسلسل ہمیں صوبیدار میجر سکندر خان کے فیاض حجرے سے لے کر ان کے پوتے ریاض خان کی وزارتِ آب پاشی تک ایک مربوط اور بامعنی سفر کی صورت میں دکھائی دیتا ہے، جہاں سیاست محض اقتدار کا نام نہیں بلکہ خدمت کا ایک تسلسل بن کر سامنے آتی ہے۔

اس خاندان کی عسکری اور سماجی روایت کا باقاعدہ آغاز حمزہ اللہ خان المعروف کچکول خان اور ان کے چچا بابر خان المعروف بابا خان سے ہوتا ہے، جنھوں نے 1823ء میں سکھوں کے خلاف نوشہرہ کی لڑائی میں سلارزو اور گدیزو کے عوام کی قیادت کی۔ ان کی قیادت کا یہ اثر ہوا کہ ان علاقوں کے باشندوں نے سکھوں کو ٹیکس دینے سے مستقل انکار کر دیا، جب کہ بونیر کے کئی دوسرے دیہات باقاعدگی سے خراج دیتے رہے۔ 1836ء میں کچکول خان نے پنجتار کی جنگ میں بھی بھرپور حصہ لیا جس نے خاندان کی مسلسل جدوجہد میں ایک اور باب کا اضافہ کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے مزاحمت کی مثال قائم کی۔

اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کچکول خان کے پوتے سردار درویزہ خان نے برکلی کے ناصر خان کے ساتھ 1862ء کی معروف جنگِ امبیلہ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ یہ معرکہ صرف بونیر تک محدود نہ تھا بلکہ اس میں سوات، دیر، باجوڑ اور پورے خطۂ پختونخوا کے ساتھ ہندوستان اور بنگال سے بھی مجاہدین شامل ہوئے تھے۔ ایک انگریز مؤرخ کے ریکارڈ کے مطابق جنگ اور امن کے سلسلے میں برطانوی کمانڈر چیمبرلین نے جو مذاکرات مجاہدین کے ساتھ کیے، ان کی قیادت اور نمائندگی ملکپور کے درویزہ خان کے ہاتھ میں تھی، جو اس خاندان کی اثر انگیزی اور سفارتی حیثیت کا بین ثبوت ہے۔

درویزہ خان کے بیٹے حیات خان تھے جو نربٹول گاؤں میں اپنی دوسری اہلیہ کے بیٹوں پالش خان اور زرشاد خان کے ساتھ رہائش پذیر ہوئے۔ حیات خان کے بھائی آڑو خان ریاستِ جوناگڑھ سے تعلیم یافتہ تھے، ملکپور میں مقیم تھے اور اپنے علاقے کے بڑے خان شمار ہوتے تھے۔ ان کی ملکیت میں ملکپور، بشونڑی ، نر بٹول، بلوخان، سلطان وس، بٹئ، ایلم، گوکند، کورسر اور دوکڈہ کے وسیع رقبے شامل تھے۔ چونکہ آڑو خان کی کوئی اولاد نہ تھی، اس لیے حیات خان نے اپنے دونوں بیٹوں، سکندر خان (پیدائش 1903ء) اور سمندر خان (پیدائش 1905ء) کو انھی کے سپرد کر دیا، جس نے خاندان کی وراثت اور وسائل کو یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

صوبیدار میجر سکندر خان ریاستِ سوات میں غیر معمولی اثر و رسوخ کے حامل تھے اور "دی گزٹ آف انڈیا" کے مطابق انھیں ریاست سوات کی طرف سے سالانہ بارہ سو روپے کا وظیفہ ملتا تھا، جو اس عہد کا سب سے بڑا وظیفہ تھا جب کہ دیگر منصب داروں کو بمشکل پانچ سو روپے دیے جاتے تھے۔ ان کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو بے مثال مہمان نوازی تھا اور ان کا حجرہ دور دور تک فیاضی اور سخی ہونے کی علامت بن گیا تھا جس نے علاقے کی سماجی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے۔

ان کے مرتبے کا اندازہ ایک تاریخی حوالے سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ تیس کی دہائی میں جب حضرت سید پائندہ شاہ المعروف چڑئی بابا نے جامع مسجد پیربابا کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا تو اس کا سنگِ بنیاد خود صوبیدار میجر سکندر خان اور حضرت چڑئی بابا نے مل کر رکھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ محض دنیاوی اثر و رسوخ ہی نہیں رکھتے تھے بلکہ دینی اور روحانی حلقوں میں بھی ان کا احترام کیا جاتا تھا اور انھیں علاقے کا اخلاقی سرپرست سمجھا جاتا تھا۔

ان کی شرافتِ نفس کا ایک اور نادر پہلو یہ روایت ہے کہ والیِ سوات نے انھیں خصوصی استثنائی رعایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ "آپ کا خون معاف ہے" یعنی اگر وہ کسی قتل میں ملوث بھی ہوتے تو ان سے باز پرس نہ کی جاتی۔ لیکن قابلِ غور امر یہ ہے کہ اس غیر معمولی رعایت کے باوجود صوبیدار میجر سکندر خان نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی کا خون نہیں بہایا۔ یہ ضبطِ نفس، رحمدلی اور بلند کردار کی وہ زندہ مثال ہے جس نے انھیں محض ایک صاحب منصب سے بڑھ کر ایک روحانی اور معاشرتی مثال بنا دیا تھا۔

خاندان کی تاریخ میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب سکندر خان کے چچا عاصم خان، جو اپنے وقت کے بااثر خان تھے، میاں گل عبدالودود کے مقابلے میں نوابِ تنولی (امب) کے حامی ہو گئے اور انھوں نے سلارزو کا قلعہ بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔ بعد ازاں سخت کشمکش کے نتیجے میں سکندر خان نے وہ قلعہ دوبارہ حاصل کر لیا، جس کی وجہ سے عاصم خان کو جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ انھوں نے کچھ عرصہ نوابِ امب کے ہاں گزارا اور پھر سدھوم میں زمین خرید کر مستقل رہائش قائم کی جہاں آج بھی ان کی اولاد موجود ہے۔ یہ واقعہ خاندانی سیاست اور ریاستی معاملات میں توازن قائم رکھنے کی ایک مثال ہے۔

صوبیدار میجر سکندر خان کے بعد ان کے فرزند بہادر خان نے عوامی خدمت کی روایت کو آگے بڑھایا اور اپنے حلقے سے کئی مرتبہ ناظم منتخب ہوئے۔ راقم الحروف کو خود یہ موقع ملا کہ انھوں نے بہادر خان مرحوم کے ساتھ ایک ہی یونین کونسل میں بطور ممبر چار سال کام کیا اور اس قریبی تعلق میں ان کی دیانت، عوامی خدمت کے جذبے اور ثابت قدمی کا براہِ راست مشاہدہ کیا۔ آج بھی ان کا حجرہ اسی شان سے قائم ہے اور مہمان نوازی کی وہی روایت برقرار ہے جو صوبیدار میجر سکندر خان کے زمانے میں تھی، گویا یہ خصوصیت نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آئی ہے۔

خدمت کا یہ سلسلہ اب تیسری نسل میں داخل ہو چکا ہے جہاں بہادر خان مرحوم کے تین بیٹے الگ الگ شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ریاض خان اس وقت صوبے کے وزیرِ آب پاشی ہیں، اور آٹھ سال تک پارٹی کی ضلعی قیادت کو خوش اسلوبی سے سنبھالتے رہے جبکہ اس وقت ملاکنڈ ڈویژن کے دس اضلاع کے جنرل سیکرٹری کی ذمہ داریوں کے ساتھ ایک اہم صوبائی وزارت بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان کے بھائی اعجاز خان نادرا میں ریجنل انچارج کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ ان کے چھوٹے بھائی بحیثیت اسسٹنٹ کمشنر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ امر ضلع اور خاندان کے لیے یقیناً باعثِ افتخار ہے کہ ایک ہی گھر کے تین فرزند تین اہم شعبوں میں بیک وقت عوام کی خدمت پر معمور ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ پیشہ ورانہ ذمہ داری خوش اسلوبی اور شرافت سے نبھا رہا ہے۔

میں نے ان تینوں بھائیوں کو بچپن سے بڑھتے دیکھا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ انھوں نے کم عمری میں ہی اپنے بزرگوں کی اعلیٰ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ان میں مزید نکھار پیدا کیا ہے۔ تینوں بہترین اخلاق اور کردار کے مالک ہیں لیکن بھاری سرکاری ذمہ داریوں کے باوجود ریاض خان کی شخصیت میں ایک خاص ٹہراو، دلکشی، نرم خوئی، شگفتگی اور خوش اخلاقی نمایاں ہے۔ وہ انتہائی تحمل کے ساتھ ہر ایک کی بات سنتے ہیں، اگر سخت رویہ بھی سامنے آئے تو صبر و برداشت کا دامن نہیں چھوڑتے اور ہمیشہ محبت اور دل جوئی کا رویہ اپناتے ہیں، جس کی بدولت وہ عوام میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں اور کم عمری کے باوجود بڑے چھوٹے سب ان سے محبت کرتے ہیں۔

صوبائی وزیرِ آب پاشی کی حیثیت سے ریاض خان کی معیادِ کار ابھی چند ماہ پر محیط ہے جبکہ صوبائی بجٹ ان کی تعیناتی سے قبل ہی منظور ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ سابق وزیرِ اعلیٰ اور کابینہ کے ساتھ بعض داخلی وجوہات کی بنیاد پر ان کے ذاتی مراسم بھی بہت کھلے نہ تھے، جس نے وسائل اور منظوریوں کے حوالے سے دباؤ ضرور پیدا کیا۔ تاہم انھوں نے اس مختصر مدت اور محدود گنجائش میں بھی ضلع بونیر کے لیے قابلِ قدر ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کی پوری کوشش کی ہے۔ ریاض خان کا سیاسی نقطۂ نظر انھیں یہ یقین دلاتا ہے کہ ایک منتخب نمائندہ حلقے کے تمام لوگوں کا ہوتا ہے، چاہے ان کا سیاسی تعلق کچھ بھی ہو، اسی لیے ان کی کوشش رہتی ہے کہ بلا تفریقِ رنگ و نسل اور پارٹی وابستگی سب کے ساتھ یکساں خدمت کریں۔

بونیر میں بڑھتی آبادی، سہولتوں کی شدید کمی اور برسوں سے التوا کا شکار منصوبوں کے باعث ترقیاتی ضروریات کا دائرہ بہت وسیع ہے جبکہ وسائل انتہائی محدود ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ مرکزی حکومت کا صوبے کے ساتھ مالی معاملات میں بے رخی کا رویہ ہے۔ اس مشکل صورت حال کے باوجود ریاض خان نے اپنے مختصر دورِ وزارت میں کئی منصوبوں پر کام شروع کروا دیا ہے۔ ان میں کڑاکڑ ٹنل ایک میگا منصوبہ ہے جو سوات اور بونیر کے درمیان رابطے اور تجارت کو فروغ دے گا، گدیزی میں گرلز ڈگری کالج خطیر رقم سے تکمیل کے قریب ہے، ملکپور پاچا بائی پاس، کالا بٹ بائی پاس، قادر نگر روڈ (جہاں پچاس فیصد کام مکمل ہے)، رستم بائی پاس، سور خاوئی روڈ اور موٹر وے سے سور خاوئی تک دو رویہ سڑک کے علاوہ کلیل روڈ کے لیے بھی آئندہ بجٹ میں فنڈز مختص کر دیے گئے ہیں۔ آب پاشی کے شعبے میں حفاظتی پشتوں کے لیے گراں قدر رقوم فراہم کر کے کام کا آغاز کروا دیا گیا ہے جو سیلاب زدہ علاقوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔علاوہ ازیں آنے والے بجٹ
جں بونیر میں تین مقامات پر پانی زخیرہ کرنے کے ریزوائرز یعن چھوٹے ڈیمز کے لیے فنڈز کی ایلوکیشن اور ایسے مزید متعدد ،اسکیموں جس میں سڑک، سکولز، کالجز، پانی کے بڑے منصوبے اور دیگر تعمیرات شامل ہیں۔

پچھلے سال کے تباہ کن سیلاب میں بونیر کے متاثرین کو حکومتی اور غیر سرکاری ذرائع سے جو امدادی رقوم، اشیا اور خدمات فراہم کی گئیں، وہ دیگر متاثرہ اضلاع کے مقابلے میں نسبۃً زیادہ تھیں۔ بے شک بعض متاثرین کے فنڈز کی عدم فراہمی، چیک کے اجرا میں تکنیکی پیچیدگیاں، پی ڈی ایم اے سے رقوم کی منتقلی میں تاخیر اور چند متاثرین کی مسلسل محرومی جیسے چیلنج موجود رہے ہیں، لیکن ریاض خان ان مسائل کے حل کے لیے مسلسل کوشاں نظر آتے ہیں اور ہر وقت صوبائی سیکرثریٹ مین ان کا فالواپ کرتے ہیں۔ حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ ان کوششوں کو ان کے سیاق و سباق میں دیکھا جائے نہ کہ غیر متعلقہ معیارات پر پرکھا جائے۔

انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس حلقے میں دوسری سیاسی شخصیات کے کردار کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔ سابق سپیکر صوبائی اسمبلی بخت جہان خان نے اپنے دور میں وسیع پیمانے پر ترقیاتی کام کیے، الخدمت فاؤنڈیشن نے سیلاب کے دوران کروڑوں روپے کی امدادی سرگرمیاں انجام دیں، سابق ایم پی اے سید رحیم خان مرحوم کی خدمات بھی گراں قدر ہیں اور مولانا مفتی فضل غفور صاحب سابق ایم پی اے نے اپنے دور میں ہر گوشے تک ترقیاتی کام پہنچانے کی کوشش کی اور حالیہ سیلاب میں متاثرین کی بے انتہا خدمت کی۔ ان تمام شخصیات کی کاوشیں اپنی جگہ لائقِ تحسین ہیں اور ان کے اثرات بھی ضلع کی ترقی میں شامل ہیں۔

تاہم اگر مجموعی طور پر سوات اور بونیر کے پاکستان میں ادغام سے لے کر اب تک کے ترقیاتی اعداد و شمار مختلف محکموں سے جمع کیے جائیں اور ریاض خان کے چند سالوں کے کام کو پرکھا جائے، جس میں موجودہ وزارتِ آب پاشی کے چار، پانچ ماہ اور پچھلے دور میں معاون خصوصی کی حیثیت سے تین سال کی خدمات شامل ہوں، تو کام کی نوعیت اور دستیاب وسائل کے حساب سے ترازو کا پلڑا بلا مغالبہ ریاض خان کے حق میں بھاری نظر آئے گا۔ اسے محض "میں نہیں مانتا" کہہ کر رد کر دینا سیاسی تعصب اور چشم پوشی کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ حقائق اور اعداد و شمار جب سامنے آتے ہیں تو ان سے صرفِ نظر ممکن نہیں رہتا۔

واضح رہے کہ راقم کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے، لہٰذا یہ تحریر نہ تو کسی کی ذاتی مدحت ہے اور نہ ہی سیاسی وابستگی کا نتیجہ۔ بونیر جیسے مسائل سے دوچار اور بڑھتی آبادی والے ضلع میں محدود وسائل اور مرکزی حکومت کے سرد مہری بھرے رویے کے باوجود ریاض خان کی مسلسل جدوجہد، انتھک محنت، حوصلہ مندی اور اعلیٰ کردار ہم سب کے اعتراف کا مستحق ہے۔ یہ اعتراف ایک غیر جانب دار مشاہدے پر مبنی ہے جس میں حقائق کو ان کے پس منظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

آخر میں یہ کہنا زیادہ قرینِ انصاف ہوگا کہ اس خاندان کی کہانی محض ماضی کی یادگار نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک روایت کی علامت ہے، جس میں کردار، ذمہ داری اور خدمت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ صوبیدار میجر سکندر خان کے ضبطِ نفس اور فیاضی سے لے کر آج ریاض خان کی عوامی خدمت، بردباری اور متوازن طرزِ عمل تک ایک ایسا ربط قائم نظر آتا ہے جو محض خاندانی تسلسل نہیں بلکہ ایک فکری و اخلاقی وراثت کی نشاندہی کرتا ہے۔ بونیر کی سرزمین پر ایسے خاندانوں کا وجود اس بات کی دلیل ہے کہ اگر روایت کو شعور کے ساتھ زندہ رکھا جائے تو وہ وقت کے ساتھ کمزور نہیں پڑتی بلکہ نئی نسلوں کے لیے راستہ متعین کرتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو اس خاندان کو محض ایک نام نہیں بلکہ ایک مثال بنا دیتی ہے، اور یہی مثال آنے والے وقتوں میں بھی رہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
محمد امین اسد
Riaz Khan

25/04/2026

اٹلی ورک پرمٹ اپلائی مکمل طریقہ۔
سپانسر کیسے ڈھونڈیں، ویب سائٹ کونسے ہے، خرچہ کتنا آئیگا،
کونسے شعبوں میں ویزہ آسانی سے لگ جاتا ہے، خواہشمند افراد کیلئے تمام detail اس ویڈیو میں۔

Address

Bunerwal
Khyber Pakhtunkhwa

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pak tv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category