Mufti zulqarnain officail

Mufti zulqarnain officail male

17/03/2026

احسن ماشوم
ڈھوڈہ شریف
محلہ نمدار خیل
مسجد ابوبکر صدیق

نصف شعبان  کے بعد روزہ رکھنے کی اجازت ہر اس شخص کے لیے ہے  جس کی روزہ رکھنے کی عادت ہو، یا جو روزہ رکھنے پر قادر ہواور  ...
13/02/2026

نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے کی اجازت ہر اس شخص کے لیے ہے جس کی روزہ رکھنے کی عادت ہو، یا جو روزہ رکھنے پر قادر ہواور ضعف کا اندیشہ نہ ہو،البتہ حدیث میں جونصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے سے ممانعت آئی ہے اس سے مراد وہ شخص ہے، جس کی عادت نہ ہو یا ضعف کا اندیشہ ہوکہ روزہ رکھنے کی وجہ سے رمضان کے فرض روزوں کی ادائیگی میں خلل واقع ہوگا۔

2،3۔شعبان کی انتیس تاریخ کو روزہ رکھنے کی اجازت اس شخص کےلیے ہے جس کی روزہ رکھنےکی عادت ہو، یا پھر کم از کم شعبان کے اخیر میں تین دن روزے رکھتا ہو،البتہ یوم الشک یعنی تیس شعبان کے روزے کےبارے علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ عمدۃ القاری میں لکھتے ہیں کہ اس کی مختلف صورتیں ہیں:

1-اگر اس میں وہ رمضان کے روزے کی نیت کرتا ہے تو ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔

2- اگر اس میں کسی اور واجب روزے کی ادائیگی کی نیت کرتا ہے جیسے رمضان کے قضاءروزے یا نذر یا کفارے کے روزے تو یہ پہلے سے کم درجہ کا مکروہ ہے یعنی مکروہِ تنزیہی ہے ، پھر معلوم ہوا کہ وہ تیس شعبان تھی تو وہ روزہ ادا ہوگا جس کی نیت کی تھی۔

3-اگر اس میں نفل روزہ کی نیت کرتا ہے،تو یہ مکروہ نہیں ہے۔

4-اگر یہ نیت کی کہ اگر کل رمضان ہوگا تو میں کل روزہ رکھوں گا اوراگر شعبان ہوگاتو روزہ نہیں رکھوں گا ، بہر صورت وہ روزہ دار نہیں کہلائے گا۔

5-اگر یہ نیت کی کہ اگر کل رمضان ہوگا تو اس کا روزہ رکھوں گا اور اگر شعبان ہوگاتو کوئی اور واجب روزہ رکھوں گا تو ایسا کرنا مکروہ ہے۔

6-اگر یہ نیت کی کہ اگر کل رمضان ہوگا تو اس کا روزہ رکھوں گا اور اگر شعبان ہوگاتو نفلی روزہ رکھوں گا تو ایسا کرنا مکروہ ہے۔

باقی جس حدیث میں رمضان سے پہلے روزے رکھنے کی ممانعت آئی ہے،اس سے مراد نفلی روزے کے علاوہ ہے، یعنی رمضان سے پہلے ایک دو دن کے رمضان کے روزے رکھ کر اضافہ نہ کرو جیسا کہ اہل کتاب نے اپنے مقررہ روزوں پر اضافہ کیا ۔

جس حدیث میں یہ ہے کہ "جس نے یوم الشک کا روزہ رکھا اس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی "اس سے مرادوہ شخص ہے جس کی عادت نہ ہو یا ضعف کا اندیشہ ہوکہ نفلی روزہ رکھنے کی وجہ سے رمضان کے فرض روزوں کی ادائیگی میں خلل واقع ہو۔ اور جس حدیث میں رمضان کے آخری دن کے روزہ رکھنے کاحکم ہے وہ استحبابی ہے یا اس سےمراد وہ صورت ہے کہ کسی شخص نے اپنے اوپر اس دن نذر کا روزہ لازم کرلیا ہو تو اس کو نذر کے پورا کرنے کا حکم ہے یا اس شخص کی عادت ہو مہینہ کے آخر میں روزہ رکھنے کی اور اس نے رمضان کے استقبال کے لیے روزہ چھوڑدیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند فرمایا کہ وہ اس کی قضا کرلے یعنی بعد میں رکھ لے، لیکن یہاں اصطلاحی قضا مراد نہیں ہے کہ اس پر یہ نفلی روزہ رکھنا واجب ہو۔

4.جس شخص کے ذمہ رمضان کے روزوں کی قضا لازم ہو وہ سال میں پانچ دنوں کے علاوہ کسی بھی دن ان کی قضاءکرسکتاہے،کیوں کہ حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچ دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

12/02/2026
*‏مرنے کے بعد سو لوگ پوچھیں گے"کیسے انتقال ہوا ؟**‏دوران زندگی کوئی نہیں* *پوچھتا "کیسے جی رہے ہو؟**انسانیت ایک بہت بڑا ...
02/02/2026

*‏مرنے کے بعد سو لوگ پوچھیں گے"کیسے انتقال ہوا ؟*
*‏دوران زندگی کوئی نہیں* *پوچھتا "کیسے جی رہے ہو؟*
*انسانیت ایک بہت بڑا خزانہ ہے،اسے لباس میں نہیں انسان میں تلاش کرو__♡🥹*

Address

Dhoda Sharif Kohat
Kohat

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti zulqarnain officail posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category