Muhammad Musaddiq

Muhammad Musaddiq A Qualified Scholar

رومن اردو ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ کرنے کی ایک بہت بڑی سازش:* رومن اُردو سے مراد "اُردو الفاظ کو انگریزی حروف تہجی ک...
31/08/2026

رومن اردو ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ کرنے کی ایک بہت بڑی سازش:*

رومن اُردو سے مراد "اُردو الفاظ کو انگریزی حروف تہجی کی مدد سے لکھنا" ہے.

مثلاً کتاب کو Kitaab اور دوست کو Dost لکھنا۔

اس طرزِ تحریر کو دشمنِ اردو کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔

اگر قارئین اس بات کو نہیں سمجھے کہ رومن اردو سے اردو رسم الخط کو کیا خطرہ لاحق ہے تو اس کو سمجھنے کے لیے ترکوں کی مثال دی جاسکتی ہے۔

سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد ١٩٢٨ء میں سیکولر ذہنیت کے حامل کمال اتاترک نے کئی طریقوں سے اسلام سے اپنی نفرت کا اظہار کیا۔ جیسے کہ اذان پر پابندی، حج و عمرہ کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا، آیا صوفیہ جیسی عظیم الشان مسجد کو میوزیم میں تبدیل کیاگیا اور یہاں تک کہ ہجری کیلنڈر کی جگہ عیسوی کلینڈر کو نافذ کیاگیا۔

کمال اتاترک نے اسلام دشمنی کا ایک اور ثبوت دیا اور ترکی زبان جو عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی اسے بدل کر رومن حروف میں لکھنے کا حکم دے دیا۔

جواز یہ پیش کیاگیا کہ اس سے شرح خواندگی اوپر آئے گی۔ لیکن اس اقدام کا اصل مقصد آنے والی تُرک نسل کو اسلامی کتب جو عربی رسم الخط میں تھیں ان سے دور کرنا تھا۔ اس بات کا واضح ثبوت ترکی کے پہلے وزیراعظم عصمت انونو کے ان الفاظ سے ہوتا ہے:

*”حرف انقلاب کا مقصد نئی نسل کا ماضی سے رابطہ منقطع کرنا اور ترک معاشرے پر مذہب اسلام کی چھاپ اور اثر و رسوخ کو کمزور بنانا ہے۔”*

(یادداشتِ عصمت انونو، جلد دوئم، ص، 223)

یہ اسلام دشمن منصوبہ کامیاب رہا اور آنے والی نسل دیگر کتب تو دور کی بات قرآن مجید پڑھنے میں بھی دشواری کا سامنا کررہی تھی۔ کیونکہ قرآن مجید بھی عربی رسم الخط میں ہے۔ نتیجے کے طور پر سلطنت عثمانیہ کے زمانے میں لکھی جانے والی بیش بہا کتب کا خزانہ تو موجود تھا لیکن ترک ان کتابوں کو پڑھنے سے قاصر تھے۔

کسی نے ان حالات کا کیا خوب تجزیہ کیا ہے کہ

*ترک قوم رات کو سوئی تو پڑھی لکھی لیکن صبح اٹھی تو انپڑھ ہوچکی تھی کیونکہ ان کا واسطہ ایک ایسے رسم الخط سے پڑا تھا جس سے وہ نابلد تھے۔*

ترک اس حادثے کو اب تک نہیں بھولے اور اسی حوالے سے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا تھا،

*’’دنیا میں مجھے ایسی کوئی قوم بتا دیں جو اپنی تاریخ اور تہذیب کے اصلی نسخوں ہی کو پڑھنے سے محروم ہو؟“*

افسوس کہ ہماری قوم بھی ہر گزرتے دن اپنے رسم الخط کو فراموش کرتی جارہی ہے اور ہم بھی یہی غلطی دُہرا رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے رفاہِ عامہ کے لئے جاری ہونے والے پیغامات ہوں یا پھر موبائل کمپنیوں کی جانب سے موصول ہونے والے اشتہارات اب ہر جگہ رومن اردو نے پنجے گاڑھ لئے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ رومن اردو کا آغاز کب ہوا لیکن اسے ”عروج“ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے کہ فیس بک، ٹوئٹر اور وٹس ایپ نے بخشا۔ابتدائی ایام میں جب موبائل فونز میں اردو کی بورڈ (Keyboard) میسر نہ تھا تو رومن اردو لکھنا سب کی مجبوری تھی لیکن یہ مجبوری ہماری عادت اور سُستی بن گئی اور اب اردو کی بورڈ موجود ہونے کے باوجود ہم رومن اردو کو چھوڑنے پر راضی نہیں۔

(اگر آپ کے موبائل فون میں اردو کی بورڈ میسر نہیں تو پلے اسٹور سے باآسانی ڈاؤنلوڈ کرسکتے ہیں۔)

کچھ افراد کا کہنا ہے کہ اردو کی بورڈ استعمال کرتے ہوئے اردو لکھنا مشکل اور وقت طلب کام ہے تو ان کے لیے عرض ہے کہ جاپانی اور چینی انٹرنیٹ بلکہ کسی بھی جگہ رومن رسم الخط کا استعمال نہیں کرتے بلکہ اپنے رسوم الخط کو ترجیح دیتے ہیں۔

*کیا اردو اب جاپانی اور چینی زبان سے بھی مشکل ہو گئی ہے جو ہم اس سے دور ہو رہے ہیں؟*

اسی طرح کچھ احباب اردو رسم الخط سے اس لئے بھاگتے ہیں کہ املاء کی غلطی کے باعث کوئی ان کا مذاق نہ اڑائے جیسے کہ اگر لفظ ”کام“ کو رومن اردو میں لکھنا ہو تو یوں لکھا جا سکتا ہے Kaam یا kam بلکہ Km لکھنے سے بھی کام بن جائے گا۔ کیونکہ اس کے لکھنے کا کوئی اصول نہیں۔ لیکن اگر اردو رسم الخط کا استعمال کرتے ہوئے کام کو ”قام“ لکھ دیا تو غلطی پکڑی جاسکتی ہے۔ اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے اگر کوئی ہمارے املاء کی تصحیح کر دے تو ہمیں اس کے لئے ان کا شکر گزار ہونا چاہیئے ۔

رومن اردو کی جانب ہمارے جھکاؤ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم بحیثیت قوم انگریزی زبان سے بیحد مرعوب ہیں۔

ہمیں اس بات کو سمجھنے میں دیر نہیں لگانی چاہیئے کہ کسی بھی زبان کو بننے اور بگڑنے میں وقت لگتا ہے یا پھر یوں کہا جائے کہ آنے والی نسلیں زبان کی صورت بناتے یا بگاڑتے ہیں۔

ہمارے یہاں ایک نسل تو رومن اردو لکھتے بڑی ہوگئی۔

اور اگر اب بھی رومن اردو کا راستہ نہ روکا گیا تو حالات وہی ہوجائیں گے کہ اردو تحریر دیکھ کر لوگوں کو سمجھ ہی نہ آئے گی کہ لکھا کیا ہے اور اس بات پر سارے متفق ہیں کہ

*جس زبان کا رسم الخط نہ رہے تو اس کے دامن میں موجود ادب کا بیش بہا سرمایہ بھی ضائع ہوجاتا ہے۔*

تمام دوستوں سے گزارش ھیکہ اردو رسم الخط کا استعمال کریں شروع میں کچھ دن ٹینشن ھوگی پھر تیزی آ جاۓ گی ۔۔۔

برائے مہربانی اس تحریر کو شئیر یا فاروڈ کیا جائے۔ اس طرح کے پیغام (میسج) کو فارورڈ کرنے کی بجائے نقل کر کے چسپاں کر دیں۔

بشکریہ

ڈاکٹر انوار احمد بگوی

نقل وترسیل فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان

*اسکرین کا غلام یا سجدے کا سپاہی؟*آج کا نوجوان کمزور نہیں ہے… وہ بے سمت ہے۔ اس کے ہاتھ میں موبائل ہے، دل میں خواہشیں ہیں...
06/03/2026

*اسکرین کا غلام یا سجدے کا سپاہی؟*

آج کا نوجوان کمزور نہیں ہے… وہ بے سمت ہے۔ اس کے ہاتھ میں موبائل ہے، دل میں خواہشیں ہیں، دماغ میں خواب ہیں — مگر روح خالی ہو رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ کیا بن رہا ہے، سوال یہ ہے کہ وہ کس کا غلام بن رہا ہے؟

ایک چھوٹی سی اسکرین نے اس کی توجہ، اس کا وقت، اس کی نیند، اس کی سوچ سب کو قید کر لیا ہے۔ وہ گھنٹوں سکرول کرتا ہے مگر چند منٹ سجدہ مشکل لگتا ہے۔ وہ ہر نوٹیفکیشن پر فوراً جاگ جاتا ہے مگر فجر کی اذان پر نہیں۔ کیا یہ آزادی ہے؟ یا ایک نیا غلامی کا نظام؟

قرآن ہمیں جھنجھوڑ کر یاد دلاتا ہے:
"أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ"
(کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟) — Quran

جب خواہشات حکم دینے لگیں اور انسان ماننے لگے، تو یہی غلامی ہے۔ فرق صرف زنجیروں کا ہے — پہلے لوہے کی ہوتی تھیں، آج روشنی کی اسکرین کی۔

مگر تاریخ گواہ ہے، جب نوجوان نے سجدہ سیکھا تو دنیا نے اس کے سامنے سر جھکایا۔ Salahuddin Ayyubi بھی کبھی ایک نوجوان تھا۔ اس کی طاقت تلوار نہیں، تہجد تھی۔ اس کا اعتماد لشکر نہیں، اللہ پر یقین تھا۔ سجدہ انسان کو جھکاتا نہیں، اسے بلند کرتا ہے۔

آج کا نوجوان اگر چاہے تو وہی اسکرین علم کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے، دعوت کا ہتھیار بھی، امت کی آواز بھی۔ مسئلہ موبائل نہیں، مقصد کی کمی ہے۔ اسکرین کا غلام بنو گے تو وقت تمہیں کھا جائے گا۔ سجدے کا سپاہی بنو گے تو وقت تمہیں یاد رکھے گا۔

فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔
انگوٹھا سکرول کرے گا یا پیشانی زمین کو چھوئے گی؟
تاریخ تمہیں ایک صارف کے طور پر یاد رکھے گی یا ایک مجاہدِ کردار کے طور پر؟

یاد رکھو…
امت کو ایسے نوجوان نہیں چاہییں جو آن لائن ہوں،
امت کو ایسے نوجوان چاہییں جو اللہ سے لائن میں ہوں۔

اب سوچو — تم کون ہو؟

*کارگزاریِ قبولِ اسلام*  *ادارہ سیدنا مُصعب بن عمیرؓ لِدَعْوَةِ الإِيمَانِ* سندھ بلوچستانمورخہ 4 مارچ 2026ءاللہ تعالیٰ ک...
06/03/2026

*کارگزاریِ قبولِ اسلام*
*ادارہ سیدنا مُصعب بن عمیرؓ لِدَعْوَةِ الإِيمَانِ*

سندھ بلوچستان
مورخہ 4 مارچ 2026ء
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ضلع بدین کے علاقہ گولارچی میں بھیل قوم کے افراد میں نومسلمین کے ذریعہ جاری دعوتِ ایمان کی محنت بابرکت ثابت ہوئی۔

صوبائی صاحب کے دورہ کے موقع پر الحمدللہ 7 خاندانوں کے 29 افراد نے صوبائی صاحب کے ہاتھ پر کلمۂ طیبہ پڑھ کر دائرۂ ایمان میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کی۔

اس خوشی کے موقع پر ضلعی منتظم و دیگر ذمہ داران اور چند محبین کی موجودگی میں نومسلمین کی حوصلہ افزائی اور مبارکباد کے لیے مختصر مگر پُراثر نشست منعقد کی گئی۔

مزید برآں مرکز بلال میں دینی تعلیم و تربیت کے لیے 5 افراد کو تیار کیا گیا ہے جو عید کے بعد ان شاء اللّٰہ روانہ ہوں گے۔ اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان سب کو اسلام پر ثابت قدمی عطا فرمائے اور ایمان کی برکتوں سے مالامال فرمائے۔
*اللّٰهُمَّ ثَبِّتْهُمْ عَلَى الْإِيمَانِ وَاجْعَلْهُمْ مِنَ الصَّالِحِينَ* ۔

#قرآن #حدیث

کیا اہلِ قرآن ( منکرینِ حدیث) نے امت کو اختلاف سے پاک دین سکھایا؟ذرا رجوع کرتے ہیں جاوید احمد غامدی صاحب کی طرف۔غامدی صا...
05/03/2026

کیا اہلِ قرآن ( منکرینِ حدیث) نے امت کو اختلاف سے پاک دین سکھایا؟
ذرا رجوع کرتے ہیں جاوید احمد غامدی صاحب کی طرف۔
غامدی صاحب کے قربانی کے بارے میں مذہب کے بارے میں انسانی ذہن کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا کہ غامدی صاحب قربانی کو کیا سمجھتے ہیں سنت، یا نفل یا کچھ اور؟

غامدی صاحب کا فلسفہ پڑھ کر پتہ چلا کہ غامدی صاحب قربانی کے موضوع میں اپنے نظریوں کے ساتھ ہی اختلاف کئے جا رہے ہیں۔ شاید موصوف اکیلے ہی چار پانچ فرقے بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

غامدی صاحب اپنی کتاب میزان ہی کے مختلف مقامات پر قربانی کے بارے میں الگ الگ حکم لگاتے ہیں۔ کبھی اسے قانون کہتے ہیں کبھی سنت اور کبھی اسے نفل قرار دیتے ہیں۔
(1) قربانی ... قانون ہے: چنانچہ غامدی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں کہ قربانی ایک قانون ہے۔ قربانی کا جو قانون مسلمانوں کے اجتماع اور تواتر عملی سے ہم تک پہنچا ہے، وہ یہ ہے۔
(میزان ص 405 طبع سوم مئی 2008 ء، لاہور )

(2) قربانی سنت ہے:
علامہ صاحب ایک اور جگہ رقمطراز ہیں کہ قربانی سنت ہے:
ان ( عیدین) میں جو اعمال سنت کے طور پر جاری کیے گئے ہیں، وہ یہ ہیں: (1) صدقہ فطر (2) نماز اور خطبہ (3) قربانی (4) ایام تشریق میں ہر نماز کے بعد تکبیریں۔
(میزان ص 649 طبع سوم ، مئی 2008ء ، لاہور )

(3) قربانی نفل ہے:
پھر تیسری جگہ پر لکھتے ہیں کہ قربانی نفل ہے: یہی قربانی ہے جو حج و عمرہ کے موقع پر اور عید الاضحٰی کے دن ہم ایک نفل عبادت کے طور پر پورے اہتمام کے ساتھ کرتے ہیں ۔"
(میزان ص 404، طبع سوم مئی 2008ء ، لا ہور )
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ: دروغ گو را حافظه نباشد

ایک تو قارئین یہ فیصلہ کریں کہ:
1: کیا شریعت میں کسی نفلی کام کے ثبوت کے لیے بھی اجماع اور تو اتر عملی کی شرط ہے؟
2: کیا نفلی عبادات بھی امت کے ہاں پورے اہتمام کے ساتھ کی جاتی ہیں؟
3: کیا اسلامی شریعت میں نفل بھی قانون ہوتا ہے؟
4: کیا دنیا میں کوئی قانون بھی نفل ہوتا ہے؟

دوسرا اہل قرآن سے سوال ہے کہ کیا آپ نے کبھی اپنے گرو جی کا یہ فلسفہ میزان پر تولا ہے؟

اور حضور آپ تو اپنے آپ کو (اپنی حقیقت کے بالکل برعکس) امت کے بارے انتہائی فکرمند ظاہر کرتے ہیں۔ اپنے گرو جی کو ذرا سمجھائیں کہ جناب کچھ تو عقل سے کام لیں۔ شریعت میں کوئی ایسا عمل بھی ہے جو نفل بھی ہے، سنت بھی اور قانون بھی؟

آپ کا یہ فلسفہ پڑھ کر امت مسلمہ تو انتہائی تذبذب کا شکار ہو جائے گی۔ اور خطرہ ہے کہ تذبذب کیوجہ سے پاگل پن کا شکار ہو جائے۔
#قرآن #حدیث

حدیث رسول ﷺ کا انکار، قرآن کریم کی من مانی تفسیر، اور دین کو نفسانی خواہشات کے تابع کرنے کا ایک خطرناک رجحان ہے، جس سے د...
05/03/2026

حدیث رسول ﷺ کا انکار، قرآن کریم کی من مانی تفسیر، اور دین کو نفسانی خواہشات کے تابع کرنے کا ایک خطرناک رجحان ہے، جس سے دین کی بنیادی قید و بند سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے. یہ رویہ علم و ریسرچ کے فقدان اور دین سے دوری کا نتیجہ ہے.
#قرآن #حدیث #علمـحدیث

بعض حضرات نے خود ترجمان وحی حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیم ہی کو سرے سے دین سے خارج کر دینے کا عزم صمیم ک...
04/03/2026

بعض حضرات نے خود ترجمان وحی حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیم ہی کو سرے سے دین سے خارج کر دینے کا عزم صمیم کر لیا ہے۔ انصاف پسند حضرات بتائیں کہ دین کی قید و بند سے آزاد ہونے کی اس سے بڑھ کر بھی کوئی کامیاب تدبیر ہو سکتی ہے، کہ ایک گروہ صاف صاف کہے کہ ہم قرآن کے ساتھ حدیث رسول کو نہیں مانتے ! یا بالفاظ دیگر حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اقوال، اعمال اور احوال کو دین کی شرح ماننے سے ہمارا انکار ہے۔ اس انکار کے بعد نتیجتاً وہ اپنی مرضی، خواہش نفس اور عقل کے مطابق قرآنی آیات کی من مانی شرح کریں گے اور اسی کو عین دین قرار دینگے۔
#قرآن #حدیث

لینا میڈینا 1933 میں ٹکراپو، کاسٹروویرینا صوبہ، پیرو میں، والدین ٹبریلو میڈینا، ایک چاندی بنانے والا اور وکٹوریہ لوسی کے...
04/03/2026

لینا میڈینا 1933 میں ٹکراپو، کاسٹروویرینا صوبہ، پیرو میں، والدین ٹبریلو میڈینا، ایک چاندی بنانے والا اور وکٹوریہ لوسی کے ہاں پیدا ہوئیں۔ وہ نو بچوں میں سے ایک تھی۔

پیٹ کے بڑھتے ہوئے سائز کی وجہ سے اس کے والدین اسے پانچ سال کی عمر میں پیسکو کے ایک ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے پہلے سوچا کہ اسے ٹیومر ہے لیکن پھر اس نے طے کیا کہ وہ حمل کے ساتویں مہینے میں تھی۔ ڈاکٹر جیرارڈو لوزاڈا کے پاس لیما کے ماہرین حمل کی تصدیق کرتے ہیں۔

کیس میں بڑے پیمانے پر دلچسپی تھی۔ ٹیکساس کے سان انتونیو لائٹ اخبار نے اپنے 16 جولائی 1939 کے ایڈیشن میں اطلاع دی ہے کہ پیرو کے ماہر امراض نسواں اور دائیوں کی ایسوسی ایشن نے اسے قومی زچگی کے اسپتال میں داخل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور پیرو کے اخبار لا کرونیکا میں رپورٹوں کا حوالہ دیا ہے کہ ایک امریکی فلم اسٹوڈیو نے "اختیار کے ساتھ" ایک نمائندے کو بھیجا ہے تاکہ فلم کو 500 ڈالر کی رقم واپس کرنے کی پیشکش کی جائے۔ حقوق، لیکن "ہم جانتے ہیں کہ پیشکش کو مسترد کر دیا گیا تھا"۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ لوزادہ نے سائنسی دستاویزات کے لیے مدینہ کی فلمیں بنائی تھیں اور انھیں پیرو کی نیشنل اکیڈمی آف میڈیسن سے خطاب کے دوران دکھایا تھا۔ کچھ فلمیں لڑکی کے آبائی شہر کے دورے پر دریا میں گر گئی تھیں، لیکن "علما کو تسخیر کرنے" کے لیے کافی تھیں۔

تشخیص کے چھ ہفتے بعد، 14 مئی 1939 کو، مدینہ نے سیزرین سیکشن کے ذریعے بیٹے جیرارڈو کو جنم دیا۔ وہ 5 سال، 7 ماہ اور 21 دن کی تھیں، جو تاریخ میں سب سے کم عمر بچے کو جنم دینے والی تھیں۔ اس کے چھوٹے شرونی کی وجہ سے سیزرین پیدائش ضروری تھی۔ یہ سرجری لوزاڈا اور ڈاکٹر بسالیو نے کی، جس میں ڈاکٹر کولاریٹا نے اینستھیزیا فراہم کیا۔ ڈاکٹروں نے پایا کہ اس کے جنسی اعضاء قبل از وقت بلوغت سے مکمل طور پر پختہ ہو چکے تھے۔ ڈاکٹر Edmundo Escomel نے طبی جریدے La Presse Médicale میں اپنے کیس کی اطلاع دی، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کی ماہواری آٹھ ماہ کی عمر میں واقع ہوئی تھی، پچھلی رپورٹوں کے برعکس کہ اسے تین یا ڈھائی سال کی عمر سے باقاعدہ ماہواری آتی تھی۔

جیرارڈو کا وزن پیدائش کے وقت 2.7 کلوگرام (6.0 lb؛ 0.43 st) تھا اور اس کا نام لینا کے ڈاکٹر کے نام پر رکھا گیا تھا۔ جیرارڈو کو 10 سال کی عمر میں یہ جاننے سے پہلے کہ وہ اس کی ماں ہے، مدینہ کو اپنی بہن مانتے ہوئے پرورش پائی۔ ابتدائی طور پر خاندان کے ساتھ رہنے کے بعد، لوزادہ کو لیما میں لوزاڈا کے گھر پر جیرارڈو کی تحویل میں لینے کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد، اس نے لینا کو لیما میں اپنے کلینک میں ملازم رکھا (جہاں وہ بھی رہتی تھی)، حالانکہ لینا صرف جیرارڈو کو کبھی کبھار ہی دیکھ پاتی تھی۔ Gerardo جلد ہی صحت مند ہو گیا، لیکن 1979 میں بون میرو کی بیماری سے 40 سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔

حوالہ جات:

https://www.legit.ng/1228037-lina-medina-story-youngest-mother-world.html

https://web.archive.org/web/20220629015759/https://vimbuzz.com/lina-medina-children-meet-her-son-gerardo-medina/

#قرآن #حدیث #علمـحدیث

03/03/2026

حدیث پر عمل کرنے والے اربوں کی تعداد میں ہیں اور مسلک زیادہ سے زیادہ چار، پانچ ہیں۔ اہلِ قرآن ( منکرینِ حدیث)سو، دو سو ہوں گے اور ان میں دس فرقے بن گئے۔
اخے اختلاف کیوجہ حدیث ہے۔

پہلی صدی ہجری کی تدوین حدیث ۔ #قرآن    #حدیث    #علمـحدیث
03/03/2026

پہلی صدی ہجری کی تدوین حدیث ۔
#قرآن #حدیث #علمـحدیث

قرآن کریم کو خود سمجھنا آسان ہے یا کسی عالم سے پڑھنا ضروری ہے؟ #قرآن    #حدیث        #علمـحدیث
03/03/2026

قرآن کریم کو خود سمجھنا آسان ہے یا کسی عالم سے پڑھنا ضروری ہے؟
#قرآن #حدیث #علمـحدیث

Address

Miankhel Kohat
Rawalpindi
26000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Musaddiq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share