Star News

Star News sattelite tv channel And Broadcasting ۔۔

07/06/2026
07/06/2026
07/06/2026

ریسکیو 1122 کوہاٹ

کوہاٹ کے علاقہ درہ آدم خیل، قوم زرغن خیل کے گاؤں قاسم خیل میں فائرنگ کے واقعے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی میڈیکل ٹیم نے بروقت رسپانس کیا۔

ریسکیو اہلکاروں نے قاسم خیل ہسپتال پہنچ کر پر پہنچ کر زخمیوں کو مزید طبی علاج کے لئے پشاور منتقل کر دیا۔

واقعے میں تین افراد زخمی ہوئے جن میں دو مرد، وحید اللہ اور ممتاز، جبکہ ایک خاتون مسمات الف ساکنان قاسم خیل شامل ہیں۔

ریسکیو 1122 کی ٹیم ہر قسم کی ایمرجنسی صورتحال میں عوام کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

ترجمان ریسکیو 1122 کوہاٹ

06/06/2026

1922ء میں جب برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر نے فرعون توتن خامون کا مقبرہ کھولا تو وہاں سے سونے، زیورات اور قیمتی نوادرات کے ساتھ کچھ بند برتن بھی ملے۔ ان برتنوں میں موجود ایک گاڑھے سنہری مادے نے بعد میں سائنس دانوں کی خاص توجہ حاصل کی۔

تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ شہد تھا۔

جی ہاں، وہی شہد جو مکھیاں پھولوں کے رس سے بناتی ہیں۔

مزید حیرت کی بات یہ تھی کہ یہ برتن تقریباً تین ہزار سال سے بند پڑے تھے، لیکن ان میں موجود شہد مکمل طور پر خراب نہیں ہوا تھا۔ بعض ماہرین کے مطابق اس میں اب بھی مٹھاس موجود تھی، حالانکہ اسے بنانے والی مکھیاں، وہ پھول، وہ لوگ اور وہ پوری تہذیب صدیوں پہلے تاریخ کا حصہ بن چکے تھے۔

شہد کے اتنی دیر تک محفوظ رہنے کا راز بھی دلچسپ ہے۔ جب مکھی پھولوں سے رس جمع کرتی ہے تو اس میں پانی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔ چھتے میں واپس آنے کے بعد دوسری مکھیاں اس رس کو بار بار ایک دوسرے تک منتقل کرتی ہیں اور اس میں خاص انزائم شامل کرتی ہیں۔ پھر سینکڑوں مکھیاں اپنے پروں کو مسلسل حرکت دے کر ہوا پیدا کرتی ہیں، جس سے اس رس کا زیادہ تر پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔ آخرکار شہد میں پانی کی مقدار اتنی کم رہ جاتی ہے کہ جراثیم اور پھپھوندی اس میں آسانی سے زندہ نہیں رہ سکتے۔

اس کے علاوہ شہد میں قدرتی تیزابیت بھی ہوتی ہے اور مکھیاں اس میں ایسے مرکبات شامل کرتی ہیں جو جراثیم کی نشوونما کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مناسب حالات میں رکھا گیا خالص شہد بہت طویل عرصے تک محفوظ رہ سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم مصری صرف شہد کھاتے ہی نہیں تھے بلکہ اسے زخموں کے علاج میں بھی استعمال کرتے تھے۔ آج جدید سائنس نے بھی ثابت کیا ہے کہ شہد میں قدرتی جراثیم کش خصوصیات موجود ہوتی ہیں، اسی لیے ہزاروں سال پہلے کے لوگ تجربے کی بنیاد پر اس سے فائدہ اٹھاتے تھے، اگرچہ انہیں اس کے پیچھے موجود سائنسی راز معلوم نہیں تھے۔

قرآنِ کریم میں بھی شہد کی مکھی کا خصوصی ذکر موجود ہے۔ سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مکھی کے پیٹ سے مختلف رنگوں کا ایک مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس پر آج بھی دنیا بھر میں تحقیق جاری ہے اور شہد کی افادیت کے نئے پہلو سامنے آ رہے ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ہزاروں سال پہلے کسی شخص نے یہ شہد ایک برتن میں محفوظ کیا ہوگا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ صدیوں بعد جب وہ برتن دوبارہ کھولا جائے گا تو اس کے اندر موجود شہد سائنس دانوں اور پوری دنیا کو حیران کر دے گا۔ واقعی اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اس کائنات میں ایسی بے شمار نشانیاں موجود ہیں جن کے راز انسان آج بھی آہستہ آہستہ دریافت کر رہا ہے۔

پوسٹ اچھی لگے تو آگے تک ضرور پہنچائیے۔

دعا کا طالب
محمد عظیم حیات
لندن

Address

Kohat
26000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Star News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share