07/11/2025
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرا بی نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات گزشتہ روز استنبول میں ثالثوں کی موجودگی اور شمولیت کے ساتھ شروع ہوئے۔
اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستانی وفد نے ثالثوں کو شواہد پر مبنی، جائز اور منطقی مطالبات پیش کیے ہیں، جن کا واحد مقصد سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ثالثوں نے پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید کی ہے جو اسلام آباد کی فراہم کردہ شہادتوں اور بین الاقوامی قانون و اصولوں کی بنیاد پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثالث افغان طالبان کے وفد کے ساتھ پاکستان کے مطالبات پر نقطہ بہ نقطہ بات چیت کر رہے ہیں۔
طاہر حسین اندرا بی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی دیگر اطلاعات، خصوصاً افغان ہینڈلرز یا افغان اکاؤنٹس سے، محض قیاس آرائیاں یا دانستہ گمراہ کن معلومات ہیں۔ انہوں نے درخواست کی کہ ایسی غلط اطلاعات کو نظرانداز کیا جائے۔
بھارت کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس بے بنیاد اور گمراہ کن الزام کو یکسر مسترد کرتا ہے کہ ہندو برادری کے ارکان کو پاکستان میں داخلے سے روکا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ دعوے بالکل بے بنیاد ہیں اور بھارت کی ایک اور کوشش ہیں کہ وہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرے اور ایک انتظامی معاملے کو سیاسی رنگ دے۔
حقائق واضح کرتے ہوئے طاہر حسین اندرا بی نے کہا کہ پاکستان نے بھارت سے تعلق رکھنے والے 2,400 سے زائد یاتریوں، جن میں زیادہ تر سکھ بھائی بہنیں شامل ہیں، کو 4 سے 13 نومبر تک بابا گورو نانک دیو جی کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے ویزے جاری کیے۔ گزشتہ منگل کو 1,933 یاتری اٹاری-واہگہ بارڈر کے ذریعے کامیابی سے پاکستان میں داخل ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ تقریباً 300 یاتری، جن کے پاس درست ویزے تھے، کو بھارتی حکام نے سرحد عبور کرنے سے روک دیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امیگریشن کا عمل مکمل طور پر منظم، شفاف اور کسی بھی رکاوٹ سے پاک تھا۔ چند افراد کے دستاویزات نامکمل تھے اور وہ امیگریشن حکام کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکے، اس لیے انہیں مشترکہ طریقہ کار کے مطابق بھارتی جانب واپس بھیج دیا گیا۔
طاہر حسین اندرا بی نے کہا کہ ان افراد کو دستاویزات مکمل کرنے کے بعد پاکستان میں داخلے کی اجازت دے دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کہنا کہ ان افراد کو مذہبی بنیادوں پر روکا گیا، سراسر غلط اور شرانگیز دعویٰ ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ تمام مذاہب کے یاتریوں کو مقدس مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے خوش آمدید کہتا ہے، اور اس کے لیے ایک مستحکم اور آسان طریقہ کار موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو فرقہ وارانہ یا سیاسی رنگ دینا افسوسناک ہے اور یہ بھارتی حکومت اور میڈیا کے اس متعصبانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے جو دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا افغان طالبان حکومت سے مطالبہ ہے کہ فتنہ الخوارج کے گھس بیٹھیوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے اور بے گناہ پاکستانیوں کو قتل کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی جنگی اشتعال انگیزی جاری ہے۔ بین الاقوامی برادری، بشمول اقوام متحدہ اور امریکہ، کو نئی دہلی سے آنے والی ان جنگی دھمکیوں اور اشتعال انگیزیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔ انہیں بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ ایک مہذب، معمول کے اور پرامن ملک کی طرح برتاؤ کرے، جو اپنے ہمسایوں، خطے اور دنیا میں امن و سلامتی کے لیے پرعزم ہو۔
ایک اور سوال کے جواب میں بھارتی جنگی تیاریوں اور فوجی مشقوں کے حوالے سے طاہر حسین اندرا بی نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی تیاری مضبوط ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج، سیاسی قیادت اور عوام ملک کے دفاع اور اپنی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
طاہر حسین اندرا بی نے شمالی افغانستان میں آنے والے تباہ کن زلزلے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، جس نے قیمتی جانیں لی ہیں اور وسیع پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔
زخمیوں اور متاثرین کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے انہوں نے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین اور افغان عوام سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔