15/06/2026
شرائط کا مینو اور ادھورا مینڈیٹ
تحریر: منصور علی درانی
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو ایک تلخ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ یہاں عوامی مینڈیٹ ہمیشہ ادھورا اور مقتدر حلقوں کی شرائط ہمیشہ مکمل ہوتی ہیں۔ عوام لائنوں میں لگ کر، گرمی سردی برداشت کر کے ووٹ ڈالتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ملک کی تقدیر کا فیصلہ کر دیا، لیکن حقیقت میں وہ بساط کے صرف مہرے ہوتے ہیں۔ اصل کھیل تو نتائج کے بعد کے بند کمروں میں شروع ہوتا ہے۔ اس ساختی مخمصے (Structural Dilemma) کا سب سے بڑا اور واضح ثبوت 1988ء کے عام انتخابات ہیں۔
جنرل ضیاء الحق کے طیارے کے حادثے کے بعد جب ملک میں جمہوریت کی نئی صبح طلوع ہو رہی تھی، تو دبی ہوئی سیاسی قوتوں اور عوام کو امید تھی کہ اب فیصلہ صرف اور صرف بیلٹ بکس کا چلے گا۔ انتخابات ہوئے، اور محترمہ بینظیر بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کر لیں۔ اصولی، آئینی اور جمہوری طور پر اکثریتی جماعت کو فوری طور پر حکومت سازی کی دعوت دی جانی چاہیے تھی، لیکن اسلام آباد کے سرد ایوانوں میں ایک عجیب سا سکوت طاری تھا۔ دن گزرتے جا رہے تھے، مگر اکثریتی جماعت کو اقتدار منتقل کرنے کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا تھا۔
اس اضطراب، بے چینی اور پسِ پردہ ہونے والی کھینچا تانی کا ایک انتہائی چشم کشا احوال نینسٹلسٹ سیاست کے زیرک رہنما خان عبدالولی خان مرحوم نے ایک ملاقات کے دوران ہمیں بتایا۔ یہ وہ دور تھا جب شدید سیاسی اختلافات کے باوجود رہنما ایک دوسرے کی سیاسی بصیرت کا احترام کرتے تھے اور بحرانوں میں رہنمائی لیتے تھے۔ ولی خان صاحب نے بتایا کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے، جو اس وقت اقتدار کے ہدف کے بالکل قریب پہنچ کر بھی ایک نادیدہ دیوار کی وجہ سے دور تھیں، انہیں فون کیا۔ ان کے لہجے میں حیرت بھی تھی اور پریشانی بھی۔ انہوں نے کہا:
"انکل! اکثریت حاصل کرنے کے باوجود مجھے حکومت بنانے کی کوئی آفر نہیں ہو رہی۔"
کئی دھوپ چھاؤں دیکھے ہوئے اور پاکستانی سیاست کے مزاج شناس خان عبدالولی خان نے مسکرا کر وہ جواب دیا جو آج بھی ہماری سیاست کا سب سے بڑا سچ ہے۔ انہوں نے جواب دیا:
"ابھی انتظار کرو۔ حکومت آفر ہونے سے پہلے اسٹیبلشمنٹ آپ پر اپنے شرائط منگوائے گی۔ جب آپ ان کے شرائط قبول کرو گی، تو پھر آپ کو حکومت بنانا آفر ہوگا۔"
تاریخ گواہ ہے کہ ولی خان صاحب کا یہ تجزیہ لفظ بہ لفظ سچ ثابت ہوا۔ محترمہ کو اقتدار کی کرسی تو ملی، لیکن اس کرسی کے پائے پہلے ہی مخصوص شرائط کے تحت جکڑ دیے گئے تھے۔ صدر غلام اسحاق خان کا منصب پر برقرار رہنا، بیرونی اور سیکیورٹی پالیسیوں پر مخصوص حد بندی، اور مقتدر حلقوں کے مفادات کا تحفظ—یہ وہ قیمت تھی جو عوام کے دیے ہوئے مینڈیٹ کو تسلیم کرانے کے لیے ادا کرنی پڑی۔ یہ سماجی اور سیاسی حقیقت واضح کرتی ہے کہ جب تک طاقت کا سرچشمہ حقیقی طور پر عوام کو نہیں مانا جاتا، تب تک نظام میں استحکام نہیں آ سکتا۔
یہ واقعہ صرف 1988ء تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے سیاسی ڈھانچے کا ایک مستقل نمونہ (Pattern) بن چکا ہے۔ ساڑھے تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی کیا منظرنامہ تبدیل ہوا ہے؟ سائنسی اور سماجی تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ صرف چہرے بدلے ہیں، نظام کا جوہر وہی ہے۔ آج بھی انتخابات کے نتائج کچھ بھی ہوں، حکومت سازی کا پروانہ اسی کو ملتا ہے جو "شرائط کا مینو" ہضم کرنے پر آمادہ ہو۔
ولی خان صاحب کا وہ جملہ صرف بینظیر بھٹو کے لیے نہیں تھا، وہ پاکستان کے ہر اس سیاست دان کے لیے ایک ابدی سبق ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ صرف عوام کا ووٹ اسے خود مختار بنا سکتا ہے۔ جب تک عوامی اکثریت کو بنا کسی شرط، بنا کسی سمجھوتے اور بنا کسی بیرونی دباؤ کے حکومت کرنے کا حق نہیں ملے گا، تب تک اسمبلیاں صرف ایک رسمی کارروائی اور وزرائے اعظم صرف مینیجرز ہی رہیں گے۔ جمہوریت کی بقا اس میں نہیں کہ شرائط کس نے مانیں، بلکہ اس میں ہے کہ فیصلہ صرف عوام کا ہو۔