Kohistan News

Kohistan News This platform shares videos and highlights social issues related to the Kohistan region as well as across Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan.
(2)

شرائط کا مینو اور ادھورا مینڈیٹتحریر: منصور علی درانیپاکستان کی سیاسی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو ایک تلخ حقیق...
15/06/2026

شرائط کا مینو اور ادھورا مینڈیٹ
تحریر: منصور علی درانی
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو ایک تلخ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ یہاں عوامی مینڈیٹ ہمیشہ ادھورا اور مقتدر حلقوں کی شرائط ہمیشہ مکمل ہوتی ہیں۔ عوام لائنوں میں لگ کر، گرمی سردی برداشت کر کے ووٹ ڈالتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ملک کی تقدیر کا فیصلہ کر دیا، لیکن حقیقت میں وہ بساط کے صرف مہرے ہوتے ہیں۔ اصل کھیل تو نتائج کے بعد کے بند کمروں میں شروع ہوتا ہے۔ اس ساختی مخمصے (Structural Dilemma) کا سب سے بڑا اور واضح ثبوت 1988ء کے عام انتخابات ہیں۔
جنرل ضیاء الحق کے طیارے کے حادثے کے بعد جب ملک میں جمہوریت کی نئی صبح طلوع ہو رہی تھی، تو دبی ہوئی سیاسی قوتوں اور عوام کو امید تھی کہ اب فیصلہ صرف اور صرف بیلٹ بکس کا چلے گا۔ انتخابات ہوئے، اور محترمہ بینظیر بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کر لیں۔ اصولی، آئینی اور جمہوری طور پر اکثریتی جماعت کو فوری طور پر حکومت سازی کی دعوت دی جانی چاہیے تھی، لیکن اسلام آباد کے سرد ایوانوں میں ایک عجیب سا سکوت طاری تھا۔ دن گزرتے جا رہے تھے، مگر اکثریتی جماعت کو اقتدار منتقل کرنے کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا تھا۔
اس اضطراب، بے چینی اور پسِ پردہ ہونے والی کھینچا تانی کا ایک انتہائی چشم کشا احوال نینسٹلسٹ سیاست کے زیرک رہنما خان عبدالولی خان مرحوم نے ایک ملاقات کے دوران ہمیں بتایا۔ یہ وہ دور تھا جب شدید سیاسی اختلافات کے باوجود رہنما ایک دوسرے کی سیاسی بصیرت کا احترام کرتے تھے اور بحرانوں میں رہنمائی لیتے تھے۔ ولی خان صاحب نے بتایا کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے، جو اس وقت اقتدار کے ہدف کے بالکل قریب پہنچ کر بھی ایک نادیدہ دیوار کی وجہ سے دور تھیں، انہیں فون کیا۔ ان کے لہجے میں حیرت بھی تھی اور پریشانی بھی۔ انہوں نے کہا:
"انکل! اکثریت حاصل کرنے کے باوجود مجھے حکومت بنانے کی کوئی آفر نہیں ہو رہی۔"
کئی دھوپ چھاؤں دیکھے ہوئے اور پاکستانی سیاست کے مزاج شناس خان عبدالولی خان نے مسکرا کر وہ جواب دیا جو آج بھی ہماری سیاست کا سب سے بڑا سچ ہے۔ انہوں نے جواب دیا:
"ابھی انتظار کرو۔ حکومت آفر ہونے سے پہلے اسٹیبلشمنٹ آپ پر اپنے شرائط منگوائے گی۔ جب آپ ان کے شرائط قبول کرو گی، تو پھر آپ کو حکومت بنانا آفر ہوگا۔"
تاریخ گواہ ہے کہ ولی خان صاحب کا یہ تجزیہ لفظ بہ لفظ سچ ثابت ہوا۔ محترمہ کو اقتدار کی کرسی تو ملی، لیکن اس کرسی کے پائے پہلے ہی مخصوص شرائط کے تحت جکڑ دیے گئے تھے۔ صدر غلام اسحاق خان کا منصب پر برقرار رہنا، بیرونی اور سیکیورٹی پالیسیوں پر مخصوص حد بندی، اور مقتدر حلقوں کے مفادات کا تحفظ—یہ وہ قیمت تھی جو عوام کے دیے ہوئے مینڈیٹ کو تسلیم کرانے کے لیے ادا کرنی پڑی۔ یہ سماجی اور سیاسی حقیقت واضح کرتی ہے کہ جب تک طاقت کا سرچشمہ حقیقی طور پر عوام کو نہیں مانا جاتا، تب تک نظام میں استحکام نہیں آ سکتا۔
یہ واقعہ صرف 1988ء تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے سیاسی ڈھانچے کا ایک مستقل نمونہ (Pattern) بن چکا ہے۔ ساڑھے تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی کیا منظرنامہ تبدیل ہوا ہے؟ سائنسی اور سماجی تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ صرف چہرے بدلے ہیں، نظام کا جوہر وہی ہے۔ آج بھی انتخابات کے نتائج کچھ بھی ہوں، حکومت سازی کا پروانہ اسی کو ملتا ہے جو "شرائط کا مینو" ہضم کرنے پر آمادہ ہو۔
ولی خان صاحب کا وہ جملہ صرف بینظیر بھٹو کے لیے نہیں تھا، وہ پاکستان کے ہر اس سیاست دان کے لیے ایک ابدی سبق ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ صرف عوام کا ووٹ اسے خود مختار بنا سکتا ہے۔ جب تک عوامی اکثریت کو بنا کسی شرط، بنا کسی سمجھوتے اور بنا کسی بیرونی دباؤ کے حکومت کرنے کا حق نہیں ملے گا، تب تک اسمبلیاں صرف ایک رسمی کارروائی اور وزرائے اعظم صرف مینیجرز ہی رہیں گے۔ جمہوریت کی بقا اس میں نہیں کہ شرائط کس نے مانیں، بلکہ اس میں ہے کہ فیصلہ صرف عوام کا ہو۔

گریڈ 12 کا ملازم نکلا محل نما گھر کا مالک نکلا مشہورِ زمانہ ڈرامہ "پری زاد" میں دکھائے جانے والے اسلام آباد کے جس عالی ش...
24/05/2026

گریڈ 12 کا ملازم نکلا محل نما گھر کا مالک نکلا
مشہورِ زمانہ ڈرامہ "پری زاد" میں دکھائے جانے والے اسلام آباد کے جس عالی شان محل نما گھر کا اصل مالک خیبرپختونخوا کے محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) کا ایک گریڈ 12 کا ہیڈ کلرک (بابو) قیصر اقبال جدون نکلا
یہ کردار 40 ارب روپے کے کوہستان میگا سکینڈل کی تحقیقات میں سامنے آیا اور جب اس کے اثاثوں کی جانچ ہوئی تو پری زاد ڈرامہ میں استعمال ہونے وال محل اس شخص کا نکلا
اس مرکزی ملزم سی اینڈ ڈبلیو کے ہیڈ کلرک قیصر اقبال نے ایک ارب 23 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے منجمد اثاثے احتساب عدالت میں سرنڈر کر دیے ہیں
جس میں 56 کروڑ روپے نقد، ایک کلو سونا، 5 قیمتی گاڑیاں، اور ہزاروں ڈالرز و پاؤنڈز شامل ہیں۔

خیبر پشتونخواہ براۓ فروخت!‏خیبرپختونخوا میں من پسند اور ارب پتی منشیات فروشوں کو وزیر، مشیر، بنانے کے لیے 18 نئے عہدے تخ...
18/05/2026

خیبر پشتونخواہ براۓ فروخت!‏
خیبرپختونخوا میں من پسند اور ارب پتی منشیات فروشوں کو وزیر، مشیر، بنانے کے لیے 18 نئے عہدے تخلیق
یہ 6 نئے وزراء ، 4 مشیر اور 8 معاونین خصوصی کل گورنر ہاوس میں حلف اٹھائیں گے۔

ایک حکومتی عہدیدار پر اوسطاً ماہانہ خرچ تقریباً 2 کروڑ روپے ائے گا
جبکہ 18 نئے عہدوں کا مجموعی ماہانہ خرچ تقریباً 36 سے 40 کروڑ روپے بنتا ہے، جبکہ سالانہ بنیادوں پر یہ رقم تقریباً 5 ارب روپے ہوگی

نئے وزراء مشیر اور معاونین میں نذیر عباسی، شکیل احمد، عدنان قادری، عارف احمد زئی، طارق آریانی، مصور خان، لیاقت علی، ہمایوں خان، عمر کاکا خیل، طارق سعید، مطفیل انجم، افتخار اللہ جان، ملک عدیل اقبال شامل ہیں جو کل حلف اٹھائیں گے
سہیل آفریدی کے قریبی ساتھیوں کے مطابق سہیل آفریدی نے شفیع جان کے زریعے ایک ایک عہدہ 7 کروڑ سے 10 کروڑ میں بیچا
واضح رہے کہ صوبے کی فیکٹریز میں کام کرنے والے مزدوروں کے زیرتعلیم بچوں کی اسکالرشپس کے 20 کروڑ روپے کئی ماہ سے ادا نہیں کیے جا سکے جس کی وجہ ان کی تعلیم رکنے کا خدشہ ہے جبکہ خیبرپختونخوا کی درجن بھر یونیورسٹیاں فنڈ نا ہونے کے باعث بند ہونے کے قریب ہیں
عبدالسلام

18/05/2026
09/05/2026

آج مولانا جمیل طارق صاحب کی یہ وڈیو دیکھ کے دل دکھ سے بھر گیا ۔
کہ ایک معصوم بچہ جو بڑے اشتیاق اور محبت سے آگے بڑھ کے دونوں معصوم ہاتھوں کو پھیلا کر مصافحہ کی سعادت حاصل کرنا چاہتا تھا ۔مگر افسوس ۔۔
میں اس بچہ کے دل پہ گزرنے والی کیفیت کا بخوبی اندازہ کر سکتا ہوں۔ کہ بعین ایسا ہی ایک واقعہ میرے ساتھ بھی پیش آیا تھا۔
اس وڈیو کو دیکھ کے مجھے بھی اوائل نوجوانی کا اپنا ایک واقعہ یاد آ گیا ۔
جس کو یاد کرتے ہوئے میری آنکھیں آج بھی بھیگ جاتی ہیں۔
میں اس سچے واقعہ کا ذکر کرنے سے احتراز کرتا آیا ہوں مگر آج یہ وڈیو دیکھ کے رہا نہیں جا ریا ۔۔اس لیے براہ کرم
جگر تھام کے سنیں اور ایک دفعہ سوچیں ضرور کہ ان نام نہاد مذہبی اکابرین و پیران کے خبث باطن میں "عام مریدین و عقیدت مندوں" کے لیے کیا احساسات ہوتے ہیں۔ ۔ ۔
یہ اُنیس سو ستتر کاواقعہ ہے۔
میں واہ کینٹ میں اپنے چچا کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ ان دنوں بھٹو کے خلاف نظام مصطفی تحریک عروج پہ تھی اور نو ستارے سیاسی افق پہ چھائے ہوئے تھے۔۔
مولانا شاہ احمد نورانی ، مولانا مفتی محمود ، مولانا مودودی اور ائیر مارشل اصغر خان اس تحریک میں پیش پیش تھے۔ مجھے بھی نوجوانی میں انکی اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے چلائی گئی تحریک میں جذباتی تقاریر سننے کا بہت شوق تھا اس لیے اکثر جلسوں میں پہنچ جاتا کرتا تھا۔
مجھے ایک دن معلوم ہوا
کہ واہ کینٹ میں تحریک نظام مصطفی کا ایک بڑا جلسہ عام ہے۔ جس میں مختلف لیڈر تقاریر کریں گے۔ ان دنوں میرے سر پہ ایک اور خبط بھی سوار ہو گیا تھا کہ بڑے سیاسی لیڈروں سے ہاتھ ملاوں اور اس اعزاز پہ اتراتا پھروں۔
۔ چونکہ اس عظیم جلسہ میں میرے جیسے عام سے لڑکے کو سٹیج کے قریب پھٹکنے کا بھی موقع نہیں مل رہا تھا۔ کجا کہ ہاتھ ملانے کی سعادت حاصل کر سکوں۔
المختصر ،
بعض ذرائع سے پتہ چلا کہ جلسہ کے اختتام پر یہ لیڈران ، علماء و اکابرین دین و ملت ، واہ کینٹ کے وسط میں واقع خوبصورت جامع مسجد جو کہ شاہی مسجد لاہور کی طرز پہ تعمیر کی گئی ہے اس میں بعد از جلسہ نماز کے لئے جائیں گے۔
چنانچہ میں جلسہ ختم ہونے سے ذرا پہلے جامع مسجد واہ کینٹ میں پہنچ گیا
اور مسجد کے وسیع و عریض صحن کے بیج کھڑا ہو کر شدت سے انتظار کرنے لگا۔
کافی دیر کے بعد۔ ۔
۔مسجد کے صدر دروازے سے مولانا شاہ احمد نورانی اور انکے ساتھ ایک سیاہ رنگ کا چغہ پہنے پیر صاحب جو واہ کینٹ میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار تھے وہ بھی ان کے ہمرکاب تھے۔
اتفاق سے یہ مغرب کی اذان سے ذرا پہلے کا وقت تھا اور مسجد تقریبا خالی تھی۔
میں مولانا شاہ احمد نورانی کو مسجد کے صحن میں عین اپنے سامنے آتا ہوا دیکھ کے بے انتہا خوشی سے نہال ہو رہا تھا۔
جوں جوں ان کے قدم میرے قریب آتے جا رہے تھے میرے دل کی دھڑکن مارے عقیدت و احترام کے بے قابو ہوتی جا رہی تھی۔ ۔۔
آخر کار وہ لمحہ آ گیا۔
جب مولانا شاہ احمد نورانی بالکل میرے قریب آ چکے تھے ۔ اب مسجد میں صرف میں اکیلا ہی استقبال اور مصافحہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے کھڑا ہوا تھا۔
میں نے فرط عقیدت و مودت سے جھک کے مصافحہ کے لیے دونوں ہاتھوں کو آگے بڑھا دیا۔
میری توقع کے برعکس انہوں نے نہایت ہی ناگواری اور رعونت کے ساتھ میرے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کے ایک طرف جھٹک دیا۔
آج بھی یاد کرتا ہوں
تو انکے الفاظ میرے دل میں خنجر کی طرح گھونپتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں
انکے الفاظ تھے
" جاو۔۔ جاو۔۔ کوئی ٹائم ہوتا ہے۔ "
مجھ پر صدمے کے عالم میں سکتہ طاری ہو گیا۔ مجھے ایسا لگا جیسے مسجد کے مینار چاروں طرف گھوم رہے ہوں اور وہ نیچے دھڑام سے گرنے والے ہوں
میری آنکھوں سے بے چارگی و بے بسی میں آنسو رواں ہو گئے تھے ۔
میرے سامنے عقیدت کا ایک سومنات بری طرح پاش پاش ہو رہا تھا۔ ۔
میں نے ملگجے آسمان کی جانب التجاء بھری نظروں سے دیکھا۔
میرا دل شدت جذبات سے لبریز ہو چکا تھا ۔
میں نے دونوں ہاتھوں کے پیالہ کو بھاری پتھر کی طرح دھڑکتے سینے پر ٹکا دیا ۔پھر مجھے پتہ بھی نہیں چلا کہ میرے گالوں سے لڑھکتے ہوئے کتنے زیادہ اشک، قطرہ قطرہ اس میں گرتے جا رہے ہیں۔ ۔۔۔
اور اسی لمحہ میری زبان اور دل سے فریاد کی صورت یہ الفاظ مسلسل نکل رہے تھے۔
۔۔۔کہ اے ۔۔ اللہ ۔۔۔تو گواہ رہنا۔۔۔
اور روز قیامت بھی تجھے ہی گواہ بنا کے عرض کروں گا۔
کہ آج تیرے سامنے تیرے ہی گھر میں ، مغرب کی نماز کی اس سعد گھڑی میں اس دستار و جبہ و عباء پوش شخص نے جس غرور ، تکبر اور رعونت سے میرے عقیدت بھرے ہاتھوں کو بے رحمی سے جھٹک دیا ہے۔
قیامت کے دن میں تجھ سے ہی انصاف کا طلب گار رہوں گا ۔"
ویسے محترم دوستو ۔۔۔
یہ کتنا بڑا کڑوا سچ ہے کہ سیاست و مذہب کی آڑ میں ہمارے ہاں شخصیت و قبر پرستی کا کاروبار ہمیشہ سے بہت منافع بخش رہا ہے ۔یہ لوگ حقیقتا " زمینی خدا " بن بیٹھے ہیں ۔اور اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ شرک کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرے گا "
آپ بھی تعصب کی عینک اتار کر اس کڑوے سچ اور ان" زمینی خداؤں " کے بارے میں ایک دفعہ سوچئے گا ضرور ۔۔۔۔

تحریر :سعید اختر ملک ۔

07/05/2026

جب نمبر کم تھے… اور خواب بڑے
جب میرا میٹرک کا نتیجہ آیا، تو میرے صرف 71 فیصد نمبر تھے۔ نہ کوئی نمایاں پوزیشن، نہ کوئی ٹرافی، نہ کسی اخبار میں میرا نام۔ مگر اُس وقت معاشرہ مختلف تھا۔ لوگ صرف اتنا پوچھتے: "پاس ہوا؟" اور جب جواب میں صرف ایک ہاں ملتی، تو چہرے خوشی سے کھل اٹھتے۔
اُسی دن ہمارے گھر دس کلو بیکری، مٹھائی، چنا چور اور مونگ پھلی لائی گئی۔ رشتہ دار ایسے مبارکباد دینے آئے جیسے میں نے کوئی بہت بڑی جنگ جیت لی ہو۔ اور شاید واقعی جیتی تھی… کیونکہ اُس دور میں جذبہ اور حوصلہ، کامیابی کا اصل معیار تھا — نہ کہ صرف مارکس۔
میں گھر کا سب سے بڑا بیٹا تھا، ماں باپ کی تمام امیدیں میری ذات سے وابستہ تھیں۔ ایف ایس سی میں صرف 58 فیصد نمبر آئے، مگر پھر بھی ابا نے گلے لگایا، ماں نے آنکھیں نم کر کے دعا دی، اور رشتہ دار ایک بار پھر خوشی کے تحفے لے کر آئے۔
ایف ایس سی کے دنوں میں حالات نے کٹھن روپ اختیار کر لیا۔ پڑھائی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے میں چھٹیوں اور اتوار کو درگئ بازار میں کباڑ کی دکان پر مزدوری کرتا۔ زنگ آلود لوہا، ٹوٹے پنکھے، پرانے پرزے، گرد آلود ماحول — یہ سب میری دنیا بن چکے تھے۔
بی ایس سی کے دوران بھی یہی سلسلہ جاری رہا۔ شاید دنیا کبھی نہ جان سکے کہ میرے قلم کو تھامنے والے ہاتھوں پر چھالے تھے — لیکن میں پھر بھی لکھتا رہا، پڑھتا رہا، آگے بڑھتا رہا۔
میرے لیے زندگی کبھی آسان نہیں رہی۔ جب دوسرے طلبہ صبح کے وقت کتابیں کھولتے تھے، میں اُس وقت کباڑ میں جھکا ہوتا تھا — ٹن کے ڈبے، خالی بوتلیں، زنگ آلود پیچ اور دھول میں لپٹے خواب میری حقیقت بن چکے تھے۔
اور انہی چیزوں نے مجھے سکھایا کہ جو چیزیں ٹوٹتی ہیں، وہ ختم نہیں ہوتیں — وہ نئی شروعات کا راستہ بناتی ہیں۔
میرے ہاتھوں نے زنگ آلود لوہا بھی اٹھایا ہے، اور علم کا قلم بھی۔ ایک ہاتھ میں کباڑ کا تولا، دوسرے میں خوابوں کا وزن — میں نے دونوں کو بیک وقت سنبھالا۔
چھٹیوں کی دوپہر ہوتی، سورج درگئی بازار کی سڑکوں کو جھلسا رہا ہوتا۔ بازار کی سڑکوں پر ٹیوشن سینٹرز کے طلباء ہنستے کھیلتے، کتابیں اٹھائے، روشن آنکھوں اور بے فکری قدموں کے ساتھ بازار کی جانب رواں دواں ہوتے۔ اُن کے لباس
اجلا، چہرے مطمئن، اور باتوں میں آنے والے کل کے خواب بستے۔
انہی لمحوں میں، میں ہاتھ گاڑی کی دو زنگ آلود ہتھیوں کو تھامے، کسی بیکری دکان یا ہوٹل سے خالی ٹن کے ڈبوں سے بھری گاڑی کو کھینچتا ہوا اسی بازار سے گزرتا تھا۔ پسینہ میری پیشانی سے بہتا تھا، اور اُن بچوں کے قہقہے میرے دل میں جذب ہو رہے ہوتے تھے۔
جب لوگ پوچھتے: "کیا بننا چاہتے ہو؟"
میں خاموش رہتا، کیونکہ میرے خواب لفظوں میں نہیں سما سکتے تھے، اور میری غربت ان خوابوں کے سامنے بہت چھوٹی تھی۔
نمبر کبھی بھی انسان کی قیمت کا پیمانہ نہیں ہوتے۔ اصل قدر اُس کی محنت، ضبط، اور خاموشی میں لڑی گئی جنگوں میں چھپی ہوتی ہے۔
زندگی نے بار بار میرے راستے میں کانٹے بچھائے، لیکن میں نے ہر چیلنج کو قبول کیا۔ اور پھر وہ خواب جنہیں کبھی صرف سوچا تھا، حقیقت کا روپ دھارنے لگے۔
میں نے این ٹی ایس، ایٹا، پی ایس سی کے امتحانات میں وہ کامیابیاں حاصل کیں جو میرے جیسے ایک مزدور کے لیے کبھی محض خواب تھیں:
ایٹا کی لیب اسسٹنٹ کی ٹسٹ میں مالاکنڈ ڈویژن میں پہلی پوزیشن حاصل کی، این ٹی ایس کی ایس ایس ٹی ٹسٹ میں ضلع بھر میں اول آیا سی ٹی میں ضلع میں دوسرے اور پی ایس ٹی میں یونین کونسل سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ڈی ایم میں بھی منتخب ہو گیا۔
سوات کیڈٹ کالج لیکچرر کے لیے این ٹی ایس کے تحریری امتحان میں ٹاپ کر گیا۔ اٹامک انرجی کمیشن کا سائنٹفک آفیسر پوسٹ کا تحریری امتحان پاس کیا۔ پبلک سروس کمیشن کے ایس ایس فزکس کے تحریری امتحان میں کامیاب ہوا اور پبلک سروس کمیشن اے ایس ڈی ای او کے تحریری امتحان میں بھی سرخرو ہوا۔ پبلک سروس کمیشن کے لیکچرر فزکس کے امتحان میں پورے صوبے میں دوسرا پوزیشن حاصل کیا۔ لیکچرر فزکس پوسٹ کے لئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا تحریری
امتحان بھی پاس کیا۔ اللہ کے فضل سے مجھے پانچ سرکاری آسامیوں میں منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔
یہ سب بغیر کسی کوچنگ سنٹر، بغیر کسی مہنگے ادارے، اور بغیر کسی خاص سہولت کے حاصل کیا۔
میرے ساتھ صرف ایک چیز تھی: حوصلہ۔
آج میں گریڈ 17 کا لیکچرر ہوں — ایک گزیٹڈ آفیسر۔
لیکن میری سب سے بڑی پہچان وہ شعور ہے، جو مجھے یہ سکھاتا ہے کہ کم نمبر لینے والا بچہ نکما نہیں ہوتا، وہ صرف زندگی کے کسی کٹھن لمحے سے گزر رہا ہوتا ہے۔
ہر بچہ نمبروں کا غلام نہیں ہونا چاہیے۔ حوصلہ، محنت اور صبر انسان کو مقام دیتے ہیں۔ یہ زندگی کا اصل سبق ہے: انسان کی قدر اس کے نمبر نہیں، اس کی کوشش طے کرتی ہے۔ کم نمبر، کم عقل ہونے کی دلیل نہیں ہوتے۔ اکثر وہ بچے جو نمبروں میں پیچھے ہوتے ہیں، وہ کردار میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔
کامیابی کوئی نتیجہ نہیں، یہ ایک مسلسل سفر ہے۔ وہ سفر، جو اُن قدموں سے شروع ہوتا ہے جو سب سے زیادہ لڑکھڑائے ہوں۔
اور اگر کوئی پوچھے:
"یہ سب تم نے کیسے حاصل کیا؟"
تو میرا جواب بہت سادہ ہے:
"میں رُکا نہیں، حالانکہ میرے پاس رکنے کی ہزاروں وجوہات تھیں۔"
کامیابی صرف پوزیشن ہولڈرز کی میراث نہیں،
بلکہ ہر اُس دل کی امانت ہے۔
جو ہار نہیں مانتا۔
اور آخر میں، میں ہر بچے کو ایک ہی بات کہتا ہوں:
"مایوس نہ ہونا! کیونکہ اکثر وہ بچے جو نمبروں میں پیچھے ہوتے ہیں، اصل زندگی میں سب سے آگے نکل جاتے ہیں۔"
تحریر: سعید علی خان
لکچرر فزکس
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج درگئ

کیا کوہستان میں کوئی ایسا اہل بندہ نہیں تھا جسے اس سیٹ پہ بھرتی کیا جاتا ؟ہمارے ممبران کہاں سوئے ھوئے ہیں ایک بندہ مردان...
07/05/2026

کیا کوہستان میں کوئی ایسا اہل بندہ نہیں تھا جسے اس سیٹ پہ بھرتی کیا جاتا ؟
ہمارے ممبران کہاں سوئے ھوئے ہیں ایک بندہ مردان سے اٹھا کر کوہستان میں بھرتی کیا جا رہا ہے ہمارے ممبران اور یوتھ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

25/04/2026
یہ نئی نسل ہے، پرانی کہانی نہیں سنے گےاقبال عیسیٰ خان 25 اپریل 2026آج کا سیاستدان اگر اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ عوام کو پرا...
25/04/2026

یہ نئی نسل ہے، پرانی کہانی نہیں سنے گے

اقبال عیسیٰ خان
25 اپریل 2026

آج کا سیاستدان اگر اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ عوام کو پرانی چالوں، کھوکھلے وعدوں اور جذباتی نعروں سے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے تو وہ خود کو دھوکے میں رکھ رہا ہے۔ یہ وہ دنیا نہیں رہی جہاں بند کمروں میں کہی گئی باتیں دیواروں تک محدود رہتی تھیں۔ آج ہر لفظ کیمرے میں قید ہوتا ہے، ہر بیان سوشل میڈیا پر محفوظ رہتا ہے، اور ہر تضاد لمحوں میں بے نقاب ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں کچھ سیاستدان اب بھی عوام کو کم عقل سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں؟
قیادت اعتماد سے بنتی ہے، ڈرامے سے نہیں۔ اعتماد سچائی سے پیدا ہوتا ہے، چالاکی سے نہیں۔ جب کوئی سیاستدان آج کچھ اور کل کچھ اور کہتا ہے تو وہ صرف ایک بیان نہیں بدلتا، وہ اپنا وقار کھو دیتا ہے۔ آج کا نوجوان یاد رکھتا ہے، اسکرین شاٹ لیتا ہے، ویڈیو محفوظ کرتا ہے اور وقت آنے پر سوال بھی کرتا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو دلیل مانگتی ہے، وضاحت چاہتی ہے اور منافقت کو برداشت نہیں کرتی۔
دنیا کی سیاست کا نقشہ بدل چکا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا نے طاقت کا توازن بدل دیا ہے۔ پہلے بیانیہ صرف طاقتور کے ہاتھ میں ہوتا تھا، آج ہر نوجوان کے ہاتھ میں موبائل فون ہے جو ایک مکمل میڈیا ہاؤس ہے۔ جب 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہو، خصوصاً جنریشن زی، تو ان کو نظر انداز کرنا سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔ یہ نسل عالمی سیاست کو دیکھتی ہے، موازنہ کرتی ہے، سوال کرتی ہے۔ یہ صرف مقامی جلسے سے متاثر نہیں ہوتی بلکہ عالمی رجحانات سے سیکھتی ہے۔
تعلیم اور ٹیکنالوجی نے ذہنوں کو بدل دیا ہے۔ لٹریسی ریٹ میں اضافہ، انٹرنیٹ تک رسائی، آن لائن کورسز، عالمی مکالمہ، یہ سب مل کر ایک باشعور معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں۔ اب جذباتی کارڈ کھیلنا اتنا آسان نہیں رہا۔ قوم پرستی، مذہب یا علاقائیت کے نام پر وقتی جوش تو پیدا کیا جا سکتا ہے، مگر مستقل احترام صرف کارکردگی سے ملتا ہے۔ اگر سیاستدان اپنے بیانیے کو اپڈیٹ نہیں کریں گے، اگر وہ تحقیق، ڈیٹا اور پالیسی کی زبان نہیں سیکھیں گے، تو وہ سنجیدہ قیادت کے بجائے طنز و مزاح کا موضوع بن جائیں گے۔
ہر شعبے میں اپڈیٹ رہنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر نئی تحقیق پڑھتا ہے، انجینئر نئی ٹیکنالوجی سیکھتا ہے، بزنس مین مارکیٹ ٹرینڈز دیکھتا ہے۔ تو پھر سیاستدان کیوں پرانے اسکرپٹ پر چل رہے ہیں؟ قیادت بھی ایک پروفیشن ہے، اور اس میں بھی مسلسل سیکھنا، خود احتسابی اور جدت اپنانا لازم ہے۔ اگر آپ اپنی سوچ کو اپڈیٹ نہیں کریں گے تو وقت آپ کو ریٹائر کر دے گا۔
دنیا بھر میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ جنریشن زی پرانے طرزِ سیاست کو چیلنج کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر طنز، میمز اور تنقید اب ایک طاقت بن چکے ہیں۔ جو سیاستدان نوجوانوں کے سوالوں کا جواب نہیں دے پاتے، وہ مذاق کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہی رجحان اب گلگت بلتستان اور چترال جیسے خطوں میں بھی واضح نظر آ رہا ہے۔ وہاں کا نوجوان بھی عالمی شعور رکھتا ہے، وہ بھی دیکھ رہا ہے کہ دنیا کہاں جا رہی ہے اور اس کا لیڈر کہاں کھڑا ہے۔
اگر کوئی سیاستدان آج بھی عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرے گا تو شاید چند لمحوں کے لیے کامیاب ہو جائے، مگر طویل مدت میں وہ خود ایک “جوکر” بن کر رہ جائے گا، لیڈر نہیں۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو وقت کی نبض پہ ہاتھ رکھے، جو اپنی غلطی تسلیم کرے، جو نوجوانوں کو دشمن نہیں بلکہ طاقت سمجھے۔ جو تنقید سے بھاگے نہیں بلکہ اسے سن کر اپنی حکمت عملی بہتر بنائے۔
یہ وقت ہے کہ سیاستدان اپنی فرسودہ ذہنیت کو تبدیل کریں۔ شفافیت کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھیں۔ نوجوانوں کو خاموش کرانے کے بجائے انہیں شامل کریں۔ کیونکہ اب کیمرے بند نہیں ہوں گے، ریکارڈنگ ڈیلیٹ نہیں ہوگی، اور شعور واپس اندھیرے میں نہیں جائے گا۔ دنیا بدل چکی ہے۔ اگر قیادت نے خود کو نہ بدلا تو تاریخ اسے بدل دے گی۔



Iqbal Essa Khan

دس سیکنڈ کی ویڈیوشہرت کی بلندیوں پرآپ نے سوشل میڈیا پر اس بچے کا بیک وقت رونا اور ہنسنا دیکھا ضرور ہوگا۔ میں نے تھوڑا سا...
24/04/2026

دس سیکنڈ کی ویڈیو
شہرت کی بلندیوں پر

آپ نے سوشل میڈیا پر اس بچے کا بیک وقت رونا اور ہنسنا دیکھا ضرور ہوگا۔ میں نے تھوڑا سا سرچ کیا کہ اس ویڈیو کلپ کی حقیقت کیا ہے۔ لیجئیے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں

یہ ویڈیو 2023 کی ہے اس وقت بچے کی عمر 7 سال تھی۔ بچے کا نام البرٹ اوفوسو نیکیٹا ہے اور یہ افریقی ملک گھانا سے تعلق رکھتا ہے

صرف دس سیکنڈ کی اس عالمی شہرت یافتہ ویڈیو کی کہانی خاصی دلچسپ ہے۔ ایک دن اس بچے کی ماں نے ایک خاص قسم کی ڈش Plantain تیار کی جو بچے کو پسند نہیں تھی اس نے ایک اور ڈش Yam کا مطالبہ کیا۔ ماں نے انکار کیا تو وہ رونے لگا۔ قریب بیٹھی ہوئی اس کی دادی نے مزاحیہ سانگ گانا شروع کیا تو روتا ہوا بچہ اچانک قہقہے لگانے لگا۔

یہ ویڈیو اس کے چچا نے بنائی۔ چچا نے موبائل بیچ دیا تو نئے مالک کو یہ ویڈیو ملی جس نے اس کو ٹک ٹاک پر اپلوڈ کیا تو کروڑوں لوگوں نے اس کو دیکھا اور اب بھی دیکھ رہے ہیں

حال ہی میں اس کی ماں کا انٹرویو چھپا ہے اس نے کہا ہم غریب تھے ہمارا اپنا گھر بھی نہیں تھا۔ البرٹ کو مہلک بیماری بھی تھی اس ویڈیو کے بعد ہمیں دنیا بھر سے مالی مدد آئی اب ہم خوشحال ہیں اور اپنا گھر بھی خرید لیا ہے۔

Address

Kohistan Tikai

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kohistan News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kohistan News:

Shortcuts

Share