13/06/2026
آَنکھ نَہ دِیدَہ کَاڑھے کَشِیدَہ
تفصیلی مفہوم اور پس منظر
یہ کہاوت دو متضاد حالتوں کو ظاہر کرتی ہے:
ایک طرف انتہائی کم علمی یا نااہلی، اور دوسری طرف بہت مشکل یا باریک کام کرنے کا دعویٰ کرنا
پہلا حصہ (آنکھ نہ دیدہ):
اس کا مطلب ہے "نہ آنکھ ہے اور نہ نظر"۔ یعنی انسان کے پاس وہ بنیادی صلاحیت، تجربہ یا بصیرت ہی موجود نہیں جو کسی کام کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
دوسرا حصہ (کاڑھے کشیدہ):
"کشیدہ" کڑھائی (Embroidery) کے انتہائی باریک اور نفیس کام کو کہتے ہیں۔ یہ کام وہی کر سکتا ہے جس کی نظر بہت تیز ہو اور ہاتھ میں صفائی ہو۔
جب ان دونوں باتوں کو ملایا جاتا ہے، تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ "جس کے پاس دیکھنے کے لیے آنکھیں تک نہیں، وہ سوئی دھاگے سے باریک کڑھائی کرنے چلا ہے۔
یہ کہاوت کب بولی جاتی ہے؟
یہ ضرب المثل ایسے مواقع پر استعمال کی جاتی ہے جب:
کوئی شخص کسی کام کا بالکل تجربہ یا علم نہ رکھتا ہو، لیکن وہ اس شعبے کے سب سے مشکل کام کو کرنے کا دعویٰ کرے۔کسی انسان میں بنیادی سلیقہ نہ ہو، لیکن وہ بہت بڑی بڑی باتیں یا نمائش کرے۔جب کوئی اپنی بساط اور حیثیت سے بڑھ کر کسی ایسے کام میں ہاتھ ڈالے جس کا انجام نقصان یا رسوائی ہو
مثال :
تم نے زندگی میں کبھی کچن کا رخ نہیں کیا اور آج شاہی قورمہ بنانے کا دعویٰ کر رہی ہو؟ وہی حساب ہوا کہ آنکھ نہ دیدہ کاڑھے کشیدہ۔